Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

💖💖💖💖💖ہم کل لندن جا رہے ہیں تم اپنی تیاری کر لو وہ گلاس وال کے پاس کھڑی تھی جب وہ اسکے پاس آکر بولا تھا..
..لندن لیقن کیوں اسکی بات سن کر وہ چونکی تھی اور اس نے ایک دم جھٹکے سے مڑ کر اسکی طرف دیکھتے ہوے پوچھا تھا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا جب اس نے خود سے آذان سے کچھ پوچھا تھا اور وہ بھی اسکی طرف دیکھ کر..اور یہ بات آذان نے ہی محسوس کی تھی..
..تم اچھی طرح سے جنتی ہو ہم لندن کیوں اور کس کے لئے جا رہے ہیں آذان نے دو ٹک جواب دیا تھا..
…میں کہیں نہیں جا رہی ہوں آذان کی بات سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی تھی کیوں کی وہ سمجھ گئ تھی کی وہ کس کے لیے وہاں جا رہا ہے..
میں نے تمہاری مرضی نہی پوچھی ہے تمھیں بتایا ہے سمجھ گئ..آذان کو اس کے اس جواب کی امید تھی اس لیے وہ اپنا غصّہ برداشت کر کے بولا تھا جو اسکے لیے زیادہ دیر تک کرنا ممکن نہی تھا..
…میں نے بولا نا آپسے کی میں کہیں نہیں جاؤنگی جو آپ چاہتے ہے اس بار وہ نہی ہوگا حیا اس سے ڈر تو رہی تھی پر ہمّت کر کے بولی تھی..
…جو میں چاہتا ہوں وہی ہوگا اور تم کچھ نہی کر سکتی اس بار آذان سے برداشت نہی ہوا تھا اس نے ایک جھٹکے سے اسکے بالوں کو اپنی سخت گرفت میں لیا تھا اور گرفت اتنی سخت تھی کی حیا کے منہ سے کرہ نکلی تھی…
…نہی اس بار نہی ہوگا اس بار نہی میں ایک معصوم کی زندگی برباد نہی ہونے دونگی تم کچھ بھی کر لو میں نہیں جاؤنگی اور تم اس تک نہی پہونچ پاؤگے حیا کے اندر اتنی ہمّت کہاں سے آ گئ تھی وہ خود نہی جانتی تھی اور اسکا اس طرح سے بولنا آذان کو اور غصّہ دلا رہا تھا اسکے ماتھے پر بہت سے بل پڑ چکے تھے…
…کیا کہا تم نے پھر سے بول نا آذان اسکے بالوں کو ایک جھٹکے سے چھوڑتا ہوا بولا تھا..
…آپ نے جو میرے ساتھ کیا ہے میری اذّت میرا سب کچھ چھین لیا میں بےگناہ تھی اور اب میں اس معصوم بے گناہ کے ساتھ کچھ غلط نہی ہونے دونگی چاہے آپ میرا قتل بھی کر دو پر جو آپ چاہ رہے ہو وہ میں نہی ہونے دونگی میں سب سمجھ گئ ہوں آپ بدلے کی آڑ میں اپنی ہوس..
…اس سے پہلے کی وہ اور کچھ غلط کہتی آذان کا ہاتھ اٹھا تھا اور اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا ابھی وہ ایک تھپڑ سے سمبھلی نہی تھی کی ایک اور تھپڑ اسکے گال پر پڑا تھا دوسرا تھپڑ اتنی زور کا تھا کی اسکا ہونٹ فٹ گیا تھا اور اس سے خون بھی نکلنے لگا تھا…
…اور تھپڑ کی آواز اتنی زور کی تھی کی باہر کھڑا حارث حیا کی تقلیف کا اندازہ کر سکتا تھا وہ اپر اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اسکو آذان کی تیز آواز سنائی دی وہ اسکو روکنے کے لیے اسکے کمرے کی طرف چل دیا تھا پر حیا کے منہ سے جو لفظ اسنے سنے تھے ان الفاظ کو سن کر حارث کو آذان پر بہت غصّہ آیا تھا اسنے کبھی سوچا بھی نہی تھا کی آذان کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے…
…حارث کو اس وقت حیا پر بہت ترس آ رہا تھا اسکو سزا ملی تھی بنا کسی گناہ کے…
وہ اندر جانا چاہتا تھا پر آذان کے غصّے کو سوچ کر وہیں رک گیا تھا اور اب تھپڑ کی آواز سن کر اس سے وہا اور کھڑا رہا نہی گیا تھا …
… تو وہ بے بسی سے اپنے کمرے کی طرف چلا دیا تھا اگر وہ جاتا تب بھی آذان اسکی نہی سننے والا تھا..
خاموش اب ایک لفظ اور مت بولنا تم جانتی کیا ہو میرے بارے میں بولو کیا جانتی ہو آذان کو اسکے ہونٹھ سے نکلتا خون دیکھ کر ایک پل کے لیے افسوس ہوا تھا اور یہ افسوس بس ایک پل کے لیے تھا اور وہ پھر سے غصّے میں داہاڈا تھا..
..کیوں خاموش ہو جاؤں میں بولوں گی ..سب جان گئ ہوں میں آپکے بارے میں آپ ایک جھوٹے اور دھوکےباز انسان ہے کس طرح آپ اپنی فیملی کو دھوکھا دے رہے ہیں وہ لوگ تو کچھ بھی نہی جانتے آپ یھا رہ کر کیا کیا کام کرتے ہیں اور آپنے میرے ساتھ کیا کیا ہے اور اب ایک اور معصوم کو اپنا شکار بنا رہے ہو وہ آج پہلی بار اس سے تیز آواز میں بولی تھی…آج حیا اسے سب کچھ سنا دینا چاہتی تھی جو اتنے دنوں سے اسکے اندر بھرا ہوا تھا..
…بس خاموش اب ایک لفظ اور نہی اور اتنا مت بولو کی تمھیں بعد میں اپنی کہی باتوں پر افسوس ہو آذان نے غصّے سے اسکا منہ اپنے ہاتھوں میں جکڑتے ہوے کہا تھا حیا کی آواز ایک دم سے بند ہو گئ تھی اسکا پورا چہرہ آنسوں سے تر تھا..
…مجھے چپ کرانے سے کچھ نہی ہوگا آذان شاہ…وہ اپنا منہ اسکے ہاتھ سے چھڑواتے ہوے بولی تھی…
…حیا میری نظروں کے سامنے سے ابھی اور اس وقت چلی جاؤ اس سے پہلے کی میں کچھ ایسا کر دوں کی بعد میں مجھے پچھتانا پڑے دفا ہو جاؤ یہاں سے..
..آذان نے اس کو زور سے دھکا دیا تھا جس کی وجہ سے وہ گرتے گرتے بچی تھی..
..اور اس ظالم شخص کو دیکھنے لگی تھی…کتنا ظالم ہے یہ شخص اسکے ساتھ اتنا برا کرنے کے بعد بھی اسی کو چپ کروا رہا تھا جبکی حیا کی نظر میں جو اسنے آذان کو بولا تھا غلط نہی بولا تھا…
…تم نے سنا نہی دفا ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے جب حیا کو وہیں کھڑے دیکھا تو آذان کا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا آذان کی آواز سے حیا ڈر گئ تھی اسنے آذان کی طرف دیکھا جسکی آنکھیں اس وقت لال ہو رہی تھی حیا کو اس وقت آذان سے خوف محسوس ہوا تھا وہ بھاگنے کے انداز میں روم سے نکلی تھی..
…اسکو کمرے سے باہر نکلنے کے بعد آذان نے پاس پڑا گلدان زمین پر زور سے دے کر مارا تھا…
..جسکی آواز روم سے بھاگتی حیا نے سنی تھی اور اسکی رفتار مزید تیز ہو گئ تھی…
💖💖💖💖💖💖💖💖💖 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖وہ کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا اسکو رہ رہ کر آیت پر بہت غصّہ آ رہا تھا جو کم ہونے کا نام ہی نہی لے رہا تھا حیا نے اسکے بارے میں جو بھی کچھ غلط بولا تھا وہ ناقبل برداشت تھا وہ بنا اسکے بارے میں جانے کیسے کچھ بھی بول سکتی تھی ہاں وہ مانتا ہے کی اسنے اسکے ساتھ غلط کیا ہے اپنی فیملی سے جھوٹ بولا ہے مگر اس سب کی کیا وجہ ہے وہ نہی جانتی تھی اور اب بھی وہ دلاور خان کی بیٹی کے ستہ کچھ غلط نہی کرنے والا تھا ایک غلطی وہ کر چکا تھا ایک بےگناہ کو سزہ دے کر اب وہ غلطی پھر سے نہی کرنا چاہتا تھا اور آیت بنا کچھ جانے ہی اسکو اتنا کچھ کہ چکی تھی..
..آذان کہاں کھوے ہوئے ہو میں کب سے تمھیں آواز دے رہا ہوں یہ روم کی کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے حارث کے لہزے میں غصّہ تھا..
.. وہ اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کی حارث کا اسکے روم میں آنا اور اسکو آواز دینا اسنے سنا ہی نہی تھا جب حارث نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے چونک کر حارث کی طرف دیکھا تھا..
…کیا ہوا اس معصوم پر اپنا غصّہ نکال کر تمہارا دل نہی بھرا جو تم نے ان بے جان چیزو کو بھی نہی چھوڑا حارث کی آواز پہلے سے کچھ تیز ہوئی تھی….
حارث اس وقت میرا بلکل بھی موڈ نہیں ہے تمہاری بکواس سننے کا اس لئے مجھے اکیلا چھوڑ دو …
..حارث کی بات کا مطلب سمجھکر اس نے اپنا غصہ کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ..
کیوں چلا جاؤ میں یہاں سے …..میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کی تم کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اتنا برا کر سکتے ہو ..حارث دکھ سے بولا تھا..
…کیا مطلب تمہارا میں سمجھا نہی حارث کی بات سن کر آذان انجان بنتے ہوئے بولا تھا…
…تم اچھی طرح سمجھ رہے ہو میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں جو بات تم نے مجھسے چھپائ تھی لیقیں آج وہ بات حیا کے منہ سے پتا چلی ہے تم تو کبھی بتاتے ہی نہی کیوں کی تم میں اتنا حوصلہ ہی نہی ہے کی تم اپنی غلطی کا عتراف کر سکو آج حارث کو پہلی بار آذان پر غصّہ آ رہا تھا اور اسنے اپنے غصّے کو آذان سے چھپانے کی کوشش بھی نہی کی تھی…
….تم اچھی طرح جانتے ہو حارث کی اس وقت ہمیں پتا نہی تھا کی وہ کون ہے آذان اپنے بچاو میں بولا تھا…اس وقت بھی وہ خود کو غلط نہی سمجھ رہا تھا…
…پتا ہونے یا نہ ہونے سے فرک نہی پڑتا بات ایک لڑکی کی عزت کی ہے اور تم اپنے بدلے کی آگ میں اتنا جل رہے تھے کی تم نے یہ تک نہی سوچا کی تم ایک لڑکی کے ساتھ کتنا برا کر رہے ہو ..چاہے وہ حیا ہے یا آیت غلط تو تم ایک لڑکی کے ساتھ کر رہے تھے…حارث کو یقین نہی آ رہا تھا کی آذان ایک لڑکی کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے جسکی بہن کے ساتھ خود اتنا برا ہوا وا تھا…
…پتا ہے آذان سب سہی کہتے ہے ہم بدلے کی آگ میں سب کچھ بھول جاتے ہے کی کیا سہی ہے اور کیا غلط ہے اور ایسا تمہارے ساتھ ہوا ہے مجھے بہت افسوس ہے اس بات کا کی تم نے ایسا کیا حارث نے بہت ہی دکھ سے بولا تھا..
….جبکی آذان بس چپ کھڑا اسکی باتیں سن رہا تھا اسکے پاس حارث کو کہنے کے لئے الفاظ نہی تھے اور وہ سہی ہی تو کہ رہا تھا کچھ بھی تو غلط نہی کہا تھا اس نے…
….مجھے یہ کہتے ہوئے تو برا لگ رہا ہے لیقیں آج مجھے تم میں اور دلاور خان میں کوئ فرک نہی لگ رہا ہے….حارث نے اسکی طرف افسوس سے دیکھتے ہوئے کہا تھا…
…میں اس جیسا نہی ہوں حارث اسنے جو کیا اس سے صرف ایک زندگی برباد نہی ہوئی حارث ہم سب برباد ہو گئے تھے میں نے اپنے اپنو کو کھویا ہے صرف اس دلاور کی وجہ سے…
میں مانتا ہوں گناہ میں نے بھی کیا ہے لیقیں میں نے حیا کو پل پل تڑپنے کے لئے نہی چھوڑا اس سے شادی کی اسکو اپنا نام دیا یہ سب جاننے کے بعد بھی تو تم کیسے کہ سکتے ہو کی مجھ میں اور دلاور میں کوئ فرک نہی ہے آذان حارث کی ہر بات چپ چاپ سن رہا تھا پر اسکی اس آخری بات سے اسکا خون کھول اٹھا تھا وہ مانتا ہے اسنے غلط کیا پر وہ دلاور خان جیسا بلکل نہی تھا..
…آذان کی بات سن کر حارث چپ ہو گیا تھا اسکو اپنے غصّے میں کہے الفاظ کا اب اندازہ ہو رہا تھا وہ آذان کو اتنا کچھ نہی کہنا چاہتا تھا پر غصّے میں سب کچھ کہ گیا جو اسکو کہنا نہی تھا…
…آذان مجھے معاف کر دو مجھے وہ نہی کہنا چاہیے تھا پر جب مجھے پتا لگا کی تم نے حیا کے ساتھ اتنا غلط کیا ہے تو مجھسے برداشت نہی ہوا تھا وہ اپنی آخر کی کی گئ بات پر شرمندہ تھا…
…حارث مجھے اس وقت پلز اکیلا چھوڑ دو میں کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہوں آذان اسکی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا…
..آذان میری بات تو سنو حارث پھر سے بولا تھا….
…حارث میں نے کہا نا مجھے اکیلا رہنا ہے جاؤ یہاں سے اس بار آذان رخ موڑ کر بولا تھا تو حارث روم سے باہر چلا گیا تھا وہ جانتا تھا ابھی آذان غصّے میں ہے جب اسکا غصّہ ٹھنڈا ہو جایگا تو وہ اسکی بات ضرور سنے گا💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖کیا ہوا ردا بیٹی میں کچھ دن سے دیکھ رہی ہوں تم بہت چپ چاپ رہنے لگی ہو…
..کوئ پریشانی ہے تمہیں بی جان ردا کے پاس آکر بولی تھی…
..وہ کافی دیر سے اسکو لان میں اکیلا بیٹھا ہوا دیکھ رہی تھی جو آسمان میں دیکھتے ہوئے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی..
..بی جان کو آذان کی شادی کے بعد اتنی چپ نہی لگی تھی کیوں کی اسنے خود کو سمبھال لیا تھا اپنی قسمت سے سمجھوتا کر لیا تھا اور سہی بھی تھا جو چیز ہماری قسمت میں نہی ہوتی ہے تو وہ ہمیں نہی ملتی اور ردا نے یہ ہی سوچ کر صبر کر لیا تھا…
…ایسی کوئ بات نہی ہے بی جان میں چپ کہاں رہتی ہوں ایک میں ہی تو ہوں جو سارا دن آپسے باتیں کرتی رہتی ہوں اور بی جان اگر مجھے کوئ پریشانی ہوگی تو میں سب سے پہلے آپکو آکر بتاؤگی آپ میری فکر نا کیا کریں وہ بی جان کی آواز سن کر اپنی سوچوں سے باہر آئ تھی اور انکا پریشان چہرہ دیکھ کر مسکرا کڑ بولی تھی اب وہ انکو کیا بتاتی کی وہ کس وجہ سے پریشان ہے اسکی سوچ میں بر بار حارث کی باتیں آ جاتی تھی وہ کبھی آذان اور حارث کا مقابلہ کرنے لگتی اپنی سوچوں میں ایک اسکا پیار تھا اور اسکے پیار کا طلبگار اسکی کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا کی وہ کیا کریں اسکے لئے اپنا پیار بھولنا بھی آسان نہی تھا اور حارث کی باتیں اسکا پیچھا نہی چھوڑ رہی تھی اور یہ ہی وجہ تھی اسکی پرشانی کی لیقیں وہ بی جان کو کیا بتاتی اس لئے بات بناتے ہوئے بولی تھی…
….مجھے پتا ہے تم جھوٹ بول رہی ہو تاقی میں پریشان نا ہو جاؤ بی جان کو اسکی بات پر یقین نہی آیا تھا…
..نہی بی جان میں جھوٹ نہی بول رہی ہوں اور آپ بتاؤ آج تک میں نے آپسے کوئ بات چھپائ ہے اس بار ردا نے انکے دونو ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اور انکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی…
…اسکی بات سن کر بی جان کچھ نہی بولی تھی ووہ سچ ہی تو کہ رہی تھی آج تک ردا نے ان سے کچھ نہی چھپایا تھا پر اس بار انکو ایسا لگ رہا تھا کی اس بار وہ ان سے کچھ چھپا رہی ہے…
…چلے بی جان اندر چلتے ہے یہ ٹھنڈ آپکی صحت کے لئے اچھی نہی ہے وہ بی جان کو چپ دیکھ کر بولی تھی اور اپنے ساتھ اندر کی طرف چل دی تھی اسکو لگ رہا تھا اگر اس بار بی جان نے اس سے کچھ پوچھا تو وہ اس بار کچھ چھپا نہی سکے گی اور وہ یہ بات بی جاں کو بتانا نہی چاہتی تھی…💖💖💖💖💖
.
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
.
💖💖💖💖💖جب سے حارث اسکے پاس سے گیا تھا وہ اپنے روم میں ادھر سے ادھر ٹھل رہا تھا بار بار اسکے کانوں میں کبھی حارث تو کبھی حیا کے الفاظ گونج رہے تھے..
…آذان جبھی حارث اسکے روم میں داخل ہوا تھا اسکا پریشان چہرہ دیکھ کر آذان اسکے پاس آیا تھا…
..کیا ہوا حارث سب ٹھیک تو ہے وہ اسکے پاس جاتے ہوئے بولا تھا….
..آذان وہ..وہ حیا گھر میں کہیں نہیں میں نے سوچا وہ گیسٹ روم میں ہوگی تو میں اسکے لئے کھانا لے کر گیا تھا پر وہ روم میں نہی تھی میں نے پورا گھر دیکھ لیا وہ مجھے کہیں نہی ملی ہے حارث نے آذان کے سر پر جیسے دھماکا کیا تھا…
…کیا بکواس کر رہے ہو حارث وہ یہیں کہیں ہوگی تم کسی سے پوچھو حارث کے بات سن کر آذان غصّے سے بولا تھا مگر اسکا دل بےچین ہوا تھا..
..آذان میں نے ملازمہ گارڈ سب سے معلوم کر لیا ہے کسی نے اسکو نہی دیکھا ہے وہ یھا نہی ہے مجھے لگتا ہے آذان وہ چلی گئ ہے جو آج تم نے اسکے ساتھ کیا ہے شاید اس لیے حارث نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا…
…چلی گئ آذان کے کانوں میں بس یہ دو الفاظ ہی گھوم رہے تھے… ایسے کیسے جا سکتی ہے وہ..
..نہی وہ نہی جا سکتی حارث ہمیں اسے ڈھونڈھنہ ہوگا وہ کہتا ہوا باہر کی طرف نکلا تھا حارث بھی اسکے پیچھے پیچھے آیا..
..کہاں ڈھونڈھگے ہم اسے کہاں جا سکتی ہے وہ حارث پریشان سا بولا تھا اور یہ ہی سوال آذان کے من میں بھی آیا تھا..
…کہیں بھی حارث کہیں سے بھی میں اسکو ڈھونڈھ کر لاؤنگا آذان کے ہر ایک انداز میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی..
..ہاں آذان ہمیں اسے ڈھونڈھنا ہوگا تم جانتے ھو دلاور کے آدمی ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے اگر حیا اسکے ہاتھ لگ گئ تو پتا نہی وہ اسکے ساتھ کیا کریگا…حارث بھی پریشانی سے بولا تھا…
…حارث کی بات سن کر آذان کا ڈیل بے چین ہوا تھا…ہاں حارث ہمیں جلدی کرنی چاہیے حیا کو کوئ نکسن نہی ہونا چاہیے آذان جلدی سے بولا تھا..
..ٹھیک ہے میں الگ جاتا ہوں تم الگ جاؤ حارث بھی دوسری گاڑی کی طرف بڑھتے ہوے بولا تھا اسکی بات سن کر آذان حارث سے پہلے ہی اپنی گاڑی بھگا لے گیا تھا …
…آذان کی جلدبازی اور پریشانی کو دیکھ کر حارث کو اچھا بھی لگا تھا اسکی بےچینی سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کی وہ حیا کے لیے کتنا پریشان ہے…
…گاڑی سڑک پر آتے ہی اسکی نظریں چاروں طرف آیت کو تلاش کرنے لگی تھی …
..کہاں ھو تم حیا آذان اس سے اپنی سوچ میں مخاطب تھا آذان کو ایسا لگ رہا تھا کی اگر اسکو حیا نہی ملی تو اسکی سانسیں رک جائے گی کب اور کیسے حیا اسکے لیے اتنی ضروری ہو گئ تھی اسکو پتا ہی نہی چلا تھا کب اسکا دل حیا کو چاہنے لگا تھا اسکو خبر ہی نہی ہوئی تھی یا پھر جب اسنے حیا کو پہلی بار دیکھا تھا اور اسکا دل پہلی نظر میں ہی حیا کا ہو گیا تھا …
…اور اب وہ اس سے دور چلی گئی تھی تو اسکو ایسا لگ رہا تھا کی زندگی اس سے دور چلی گئ ہو..
..وہ حیا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا اور بار بار گاڑی کے باہر دیکھ رہا تھا کی جبھی اسکا فون بجا حارث کا نمبر دیکھ کر اسنے کار ایک دم روک کر کال پک کی تھی…
..ہاں حارث کچھ پتا چلا اسنے حارث کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس سے پوچھا …
..نہی اسکا کچھ پتا نہی چلا ہے میرے لوگ بھی اسکو ڈھونڈھ رہے ہیں تم فکر مت کرو آذان مل جاےگی وہ حارث نے اسکو تسللی دی تھی…
…جیسے ہی کچھ پتا چلے حارث تم مجھے فورن کال کروگے اسکی بات سن کر آذان کو مایوسی ہوئ تھی ..
…کہاں ہو تم حیا آذان نے آنکھیں بند کر کے سر سیٹ کی بیک سے ٹیکا دیا..
…اسکو آج حیا کے ساتھ کیا ہوا اپنا ایک ایک ظلم یاد آ رہا تھا آذان کو اب لگ رہا تھا کی جو آج اس نے حیا کے غصّے میں کیا تھا وہ بہت غلط کیا ہے وہ تو ہر بات سے انجن تھی اسمے اسکی کوئ غلطی نہی تھی پر اپنے غصّے میں اس نے یہ سوچا ہی نہی تھا…وہ کچھ دیر ایسے ہی آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا تھا ..
.. اچانک کچھ یاد آنے پر اسنے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تھا اور کار کو سٹارٹ کی تہی اب اسکی کار تیز رفتار سے دوڑ رہی تھی …
لیقیں آذان کی نظریں اب بھی حیا کو باہر تلاش کر رہی
تھی💖💖💖💖💖
.