No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
💖💖💖💖💖💖 وہ پچھلے تین دنوں سے فرقان کے ڈر کی
وجہ سے اسکول نہیں جا رہی تھی لیکن ایسا بھی کب تک چلتا اسکو کبھی نہ کبھی تو گھر سے بھر تو جانا ہی تھا کب تک وہ اسکے ڈر کی وجہ سے گھر میں بیٹھی رہتی اسلیے آج اسکو اسکول جاتے ہوئے تھوڑا ڈر لگ رہا تھا پر اگر وہ اس طرح ڈر کر رہیگی تو کیسے چلیگا یہی سوچتے ہوئے وہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو گئ تھوڑا ڈرتے ڈرتے وہ باہر نکلی تھی پار کچھ دور چل کر اسکا ڈر ختم ہو گیا تھا ابھی اسکو خوش ہوئے کچھ پل ہی ہوئے تھے کی ایک کار اسکے پاس آکر رکی اور اسکو کچھ بھی کرنے کا موقع دے بغیر ایک آدمی نے اسکے منہ پر رومال رکھا اور اسکو گاڑی میں ڈال کر گاڑی آگے بھگا لے گیا…
..اسکی جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک کمرے میں بیڈ پر لیٹا پایا اسکا دماغ ابھی ٹھیک سے بیدار نہی ہوا تھا سر میں بھی درد تھا اسنے جیسے ہی دماغ پر زور تو ایکدم سب یاد آنے پر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئ تھی..
..اٹھ گئ میری جان میں کب سے تمہارے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا کسی کی آواز سن کر اس نے جیسے ہی گردن موڈ کر دیکھا تو سامنے فرکان کو سامنے بیٹھا پایا اسکو دیکھ کر اسکے ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا..
..ت..تم کیوں لایہ ہو مجھے یہاں کیا چاہتے ہو آخر اسکی آواز بھی ڈر سے کانپ رہی تھی..
..کیا چاہتا ہوں جلد ہی تمھیں بتا دونگا میری جان اتنی بھی کیا جلدی ہے وہ کمینگی سے مسکراتا اسکے قریب بڑہنے لگا تھا..
..دور رہو مجھ سے میرے قریب مت آنا ورنہ اچھا نہی ہوگا اسکو اپنے قریب آتا دیکھ کر آیت کی جان نکل رہی تھی..
..اچھا تو تم نے نہی کیا تھا مجھے تھپڑ مار کر اب اسکا بھی تو حساب دینا ہوگا نہ اسنے ایک جھٹکے سے اسکا بازو پکڑ کر اسکو اپنے قریب کھنچ کر بیڈ پر پٹخہ تھا..
..اسکے زور سے پٹخنے سے اسکا سر بہت زور سے بیڈ کراوں سے لگا تھا پر وہ پھر بھی ہمّت کر کے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جب اسنے پھر سے اسکو بیڈ پر گرا دیا تھا..
..کہاں چلی ابھی تو سارے حساب باقی کرنے ہے تمہیں فرقان اس پر جھکتے ہوے بولا تھا…
…آیت کے آنسوں آنکھوں سے بہ رہے تھے وہ خود کو اس کی پکڑ سے آزاد کرانے لگی تھی کی اسکو بیڈ کے پاس رکھی میز پر کانچ کا واس نظر آیا اسنے ہمّت کر کے اسکو زور سے دہککا دیا اور واس اٹھا کر زور سے اسکے سر پر مار دیا..واس اتنی زور سے لگا تھا کی فرقان کے سر سے خون نکلنا شروع ہو گیا تھا پر اسکے پاس وقت کم تھا وہ جلد سے جلد یھا سے بھگ جانا چاہتی تھی اس سے پہلے کی اسکے آدمیوں کو خبر ہو وہ جلدی سے دروازے کی طرف آئ اور اسکو کھول کر وہاں سے بھاگتی چلی گئی تھی.
💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖 تم لوگوں سے ایک کام ٹھیک سے نہی ہوتا ہے آج تیسرا دن ہے اور تم لوگ پتا نہی لگا سکے ہو کی میری بیٹی کہاں ہے آج آیت کو اغوہ ہوے آج تیسرا دن تھا اور دلاور خان ابھی تک کچھ پتا نہی لگا سکا تھا اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا آخر ووہ شخص ہے کون اور اس سے کیا چاہتا ہے اتنا تو وہ سمجھ گیا تھا کی وہ کوئ عام شخصیت نہی ہے دلاور خان کی بیٹی کو اغوہ کرنا اتنا آسان نہی تھا اس لیے وہ ابھی تک پولیس کے پاس بھی نہی گیا تھا اسکو اپنی اذّت کھونے کا بھی بہت ڈر تھا..اور اوپر سے وہ اسکا نام تک نہیں جانتا تھا ..واسے بھی وہ جب بھی کال کرتا تھا تو اسکو اپنا نام نہیں بتاتا تھا..اگر اسکو اسکا نام پتا ہوتا تو وہ پھر بھی کچھ کر لیتا.. یا پھر وہ اسکے بارے میں کچھ جانتا ایک انجان شخص سے اسکی کیا دشمنی ہو سکتی ہے وہ سمجھ نہی پا رہا تھا …
..خان ہمے اتنا تو پتا چلا ہے کی بی بی جی گھر کے پاس والے پارک سے اغوہ ہوئی ہے آپ ہمے کچھ وقت اور دے وہ آدمی ڈرتے ہوئے بولا تھا..
..ٹھیک ہے دو دن اور دے رہا ہوں اگر ان دو دن میں تم نے کچھ پتا نہی کیا تو وہ تمہارا آخری دن ہوگا اب جاؤ یہاں سے اپنا کام کرو جاکر وہ اسکی طرف دیکھتے ہوے بولا اسکا حقم سنتے ہی آدمی وہاں سے چلا گیا تو دلاور خان نے پاس رکھی میز پر زور سے ٹھوکر مار کر اپنے غصّے کو کم کرنا چاہا تھا..آخر کون ہو تم وہ اپنی سوچ میں اس سے مخاطب تھا …💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖 ….وہ آئنے کے سامنے کھڑا اپنی ٹائی بندہ رہا تھا اسکے چہرے سے کہی سے بھی یہ نہیں لگ رہا تھا کی جو کل رات وہ کر چکا ہے اسکو اسکا ذرا سا بھی دکھ ہے بلکی وہ اپنی پہلی کامیابی پر خوش تھا ویسے بھی وہ دلاور خان کو برباد کرنا چاہتا تھا اسکو تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا اسکو اپنی دولت اور اپنی بیٹی صرف دو ہی چیزے پیاری تھی اور وہ اس سے یہ دونو چیز چھین لینا چاہتا تھا اور آج اسکی بیٹی کو تڑپتا ہوا دیکھ کر اسکو بہت سکوں محسوس ہو رہا تھا ..دلاور خان جو اسکے ساتھ کر چکا تھا اسکی نظر میں جو اسنے آیت کے ساتھ کیا وہ کچھ بھی نہیں تھا ..
تم رڈی ہو اذان ہم میٹنگ کے لئے لیٹ ہو رہے ہے …وہ اپنی سوچو میں گم تھا جب حارث کی آواز سن کر وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلا تھا…
ہاں میں رڈی ہوں چلو ..وہ اپنے اپر پرفیوم چھڑک کر مسکراتے ہوئے بولا ..
کیا بات ہے آج بہت خوش لگ رہے ہو ..حارث اسکو کھوجتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ..کیوں کی وہ جانتا تھا کی اذان کبھی بھی بے وجہ نہیں مسکراتا تھا ..
ایسا ہی سمجھ لو کیوں کی وہ دن اب دور نہیں ہے جب میں دلاور خان سے اسکا سب کچھ چھین لونگا ..اذان نے گاڈی کی چابی اٹھاتے ہوئے نفرت سے کہا..
انشااللہ ایسا ہی ہوگا اچھا چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے ..حارث نے سچے دل سے کہا اور پھر وہ دونو روم سے نکل گیے💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖تم سچ کہ رہے ہو حارث بھائی ایسا کر سکتے ہے میں سوچ بھی نہی سکتا ہوں تم نے انکو روکا کیوں نہی حارث کی بات سن کر ازلان کو شاک لگا تھا حارث اس وقت ازلان کے پاس آیا تھا وہ اکثر اس سے ملنے آتا رہتا تھا اور دونوں میں بہت اچھی دوستی بھی تھی جب حارث نے اسکو بتایا کی کیسے آذان نے دلاور خان کا بدلہ لینے کے لئے آیات کو اغوا کروا کر اپنے گھر رکھا ہوا ہے تو حارث کی بات سن کر تو اسکو یقین ہی نہی ہوا تھا وہ یہ تو جانتا تھا کی اسکا بھائی دلاور خان کو برباد کرنا چاہتا ہے پر وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے وہ سوچ بھی نہی سکتا تھا..
..تم جانتے ہو تمہارے بھائی کو روکنا نہ ممکن ہے اور وہ غلط نہی ہے پر اسکا تریکہ غلط ہے میں نے کتنی بار اسکو سمجھانا چاہا ہے پر آگے وہ اور کچھ کہتا کی سامنے سے آتی ردا کو دیکھ کر چپ ہو گیا تھا. وہ ان لوگوں کے لیے کافی بنا کر لائی تھی..آج بہت دن بعد اسکو دیکھ کر اسکے دل کو سکوں ملا تھا کام میں بیزی رہنے کی وجہ سے وہ ازلان کے پاس بھی نہی آ سکا تھا اور نہ ہی اسے دیکھ نے کا موقع ملا تھا وہ نہی جانتا تھا کب اور کیسے وہ اسکے لیے اتنی عزیز ہو گئی تھی وہ اسکو بتانا چاہتا تھا کی اسنے اسکے دل پر اپنا کبزہ کر لیا ہے پر اسکو سہی وقت کا انتظار تھا..
..ارے ردا تم بھی بیٹھو نہ جب وہ جانے لگی تو ازلان نے اسکو روکا حارث کی نظریں بھی اسی پر تھی..
نہی ازلان میں بی جان کے پاس جا رہی ہوں انکی دوائی کا وقت ہو چکا ہے تم لوگ باتیں کرو اگر کچھ چاہیے تو آواز دے دینا کیوں کی رانی اس وقت اپنے قواٹر میں چلی گئی ہوگی اسنے ایک نظر حارث کو دیکھا پھر بی جان کے کمرے کی طرف چل دی پتا نہی کیوں وہ حارث کے سامنے بیٹھ نہی سکتی تھی اسے اسکی نظروں سے بےچینی سی ہوتی تھی جب بھی وہ آتا تھا تو وہ کوئی کام کا بہانہ بنا کر وہا سے چلی جاتی تھی..
..چلی گئی ہے وہ واپس یہیں آ جا حارث کی نظریں ابھی بھی وہی تھی جہاں سے وہ ابھی گئ تھی ازلان کی آواز سن کر وہ کھل کر مسکرایا تھا ازلان جانتا تھا کی وہ ردا کو پسند کرتا ہے اور اسکی نظر میں ردا کے لیے حارث سے اچھا اور کوئی ہو ہی نہی سکتا تھا..
..تو کہیں تو میں ردا سے بات کر لوں اب ازلان شرارت کے موڈ میں آ چکا تھا وہ بھول گیا تھا کی وہ تھوڑی دیر پہلے کیا بات کر رہے تھے..
…نہی میں اس سے خود بات کرونگا تو خود کو تقلیف مت دیں اور ابھی ہم کس بارے میں بات کر رہے تھے اور ت بات کو کہاں لے کر چلا گیا ہے حارث سنجیدگی سے بولا تھا ازلان بھی خاموش ہو گیا تھا اور پھر دونو دیر تک آذان کے بارے میں باتیں کرتے رہے تھے پھر جب کافی رات ہو گئ ہو گئ تو حارث اس سے اجازت لیتا چلا گیا
