Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

💖💖💖💖💖بی جان آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں میں آپکو پورے گھر میں تلاش کر رہیں تھی پھر رانی نے بتایا آپ یہاں ہو ردا بی جان کے پاس آتے ہوے بولی جو لوں میں رکھی کرسی پر بیٹھی تھی..
ردا کی آواز سن کر بی جان نے مڈ کر اسکی طرف دیکھا اور اسکا ہاتھ تھام کر اسکو اپنے برابر ہی کرسی پر بیٹھا دیا اور مسکراتے ہوے اسکا چہرہ دیکھنے لگی انکی آنکھوں میں اسکے لیے پیار ہی پیار تھا..
..کیا ہوا بی جان آپ چپ کیوں ہے آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ انکے چپ رہنے پر ردا پریشانی سے دوبارہ پوچھنے لگی..
..میں ٹھیک ہوں میری جان بس اپنے لیے تمہاری فکر مندی دیکھ رہی تھی وہ خوش ہوتے ہوے بولی تو ردا کو کچھ سکوں ملا ورنہ انکی چوپی سے وہ پریشان ہو گئ تھی..
..آپکے لیے ہونگی تو اور کس کے لیے ہونگی بی جان آپ تو میری جان ہے اور آپکے علاوہ میرا ہے ہی کون وہ بی جان کے ہاتھوں پر اپنے لب رکھتے ہوے بولی..
.. میرا بھی تم لوگوں کے علاوہ کون ہے بس تم لوگوں کو دیکھ کر ہی جی رہیں ہوں اور ایک وہ ہے جس نے اتنے دنوں سے اپنی شقل ہی نہی دکھائی ہے اسکو اپنی بی جان کی کوئی پرواہ ہی نہی ہے اس بار بی جان کے لہزے میں شکوہ تھا..
..انکی بات سن کر ردا چپ رہی وہ آخر کہ بھی کیا سکتی تھی یہ شکوہ تو اسکو بھی تھا مگر وہ کہتی بھی تو کس سے..
..میری بات ہوئ ہے بی جان بھائ سے اور میں نے انکو اچھے سے ڈانٹ بھی دیا ہے کی میری پیاری بی جان آپکے لیے پریشان رہتی ہے ذرا کچھ انکے بارے میں بھی سوچے ازلان سامنے سے آتے ہوے بولا وہ بی جان کی باتیں سن چکا تھا..
تمہاری بات ہوئ ہے کیا کہ رہا تھا میرا بچچہ بی جان کے لہزے میں بےچینی صاف جھلک رہی تھی..
..وہ کہ رہے ہے ایک دو دن میں جب آؤنگا تو بی جان کے سارے شکوے دور کر دونگا اتنے آپ میرے حصّے کا پیار ازلان کو دیتی رہے آخری بات اسنے شرارت سے ردا کی طرف دیکھ کر کہی تھی..اور وہ بھی مسکرا دی تھی..
..اسکی پوری بات سن کر بی جان خوش ہو گئ تھی اور اسکی آخری بات سن کر کھل کر مسکرا دی اور انکو مسکراتا دیکھ کر ازلان کو سکوں ملا تھا وہ انکے چہرے پر اداسی برداشت نہی کر سکتا تھا..
..میرا پیار تو تم تینوں کے لیے برابر ہے بس وہ اپنے کام کی وجہ سے دور رہتا ہے تو اس لیے اسکی فکر رہتی ہے..
..بی جان مجھے بہت بھوک لگی ہے اور میں کب سے انتظار کر رہا تھا کی آپ لوگ اندر آؤ تو ہمے خانے میلے وہ بات بدلتے ہوے بولا وہ نہی چاہتا تھا بی جان پھر سے اداس ہو..
..ارے ہاں میں میں تو بھول ہی گئی میں بی جان کو کھانے کے لیے ہی بلانے آئ تھی ردا کو یاد ازلان کی بات سن کر یاد آیا کی وہ کیوں بی جان کو تلاش کر رہی تھی..
..لو اگر میں نہ آتا تو تم دونو ساری رات یہاں باتیں کر نے میں گزار دیتی اور میں وہا بھوک سے بےحال رہتا ازلان برا سا منہ بناتے ہوئے بولا تو اسکی شقل دیکھ کر ان دونو کو ہنسی آ گئی ازلان نے بی جان کا ہاتھ پکڑا اور انکو اندر کی طرف لے جانے لگا اور پھر ردا بھی انکے پیچھے اندر کی طرف چل دی💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖آج وہ بہت خوش تھا اب وہ جیسا چاہ رہا تھا دھیرے دھیرے ویسا ہی ہو رہا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا یہ ڈیل بھی اسی کو ملی تھی یہ ڈیل اسکے لیے ضروری نہی تھی پر جب اسکو پتا چلا کی یہ دلاور خان کے لیے بہت ہی ضروری ہے تو آذان کے لیے یہ ڈیل اہم ہو گئی تھی وہ ہر چیز چھین لینا چاہتا تھا جو خان کو چاہیے تھی ابھی وہ اس وقت ہوٹل میں بیٹھا تھا جہاں آج میٹنگ تھی اور سامنے بیٹھے دلاور خان کو دیکھ رہا تھا جو آج پھر اپنی ہار پر غصّے میں بیٹھا تھا اسکو اس طرح دیکھ کر اسکو بڑا سکوں ملتا تھا..
ایک دن ایسا بھی ہوگا خان جب میں تجھسے تیرا سب کچھ چھین لونگا اور تیرے پاس کچھ نہیں ہوگا اور تو اپنی موت کے لیے تڑپیگا آذان اسکو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا..
تمہیں خوش دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے آذان اب آگے کیا کرنا ہے اب تک تو وہ ہی ہو رہا ہے جیسا تم نے چاہا ہے حارث آذان کی طرف دیکھتے ہوے بولا جسکا سارا دھیان تو سامنے بیٹھے خان کی طرف تھا..
..ابھی تو ہونا شروع ہی ہوا ہے جیسا میں چاہتا ہوں آگے ابھی بہت کچھ ہونا ہے اور جو میں نے تم سے بولا تھا اس کام کا کیا ہوا حارث اس بار اسنے حارث کی طرف دیکھا تھا اسکی آنکھیں ہمیشہ کی طرح لال تھی شاید وہ اپنا غصّہ ضبط کر رہا تھا یہاں بیٹھا ہوا..
..وہ آ چکی ہے اسکو آے کچھ ہی دن ہوے ہے اور میں نے اپنے آدمی لگا رکھے ہے اس کام کے لیے بس تمھرے اشارے کا انتظار ہے حارث اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا حارث سے اسکی دوستی زیادہ پرانی تو نہی تھی مگر وہ آذان شاہ کا کچھ ہی دنوں میں بہت اچھا دوست بن گیا تھا اور وہ آذان کے ستھ ہی رہتا تھا حارث ان لوگوں میں سے ایک تھا جو آذان شاہ کے لیے خاص تھے اور اسکی زندگی میں اہمیت رکھتے تھے..
..ٹھیک ہے مجھے بس سہی وقت کا انتظار ہے جب کرنا ہوگا میں تمہیں بتا دونگا اور تم ایسا کرو گاڑی نکالو ہمے اب یہاں سے چلنا چاہیے..وہ اب مزید یہاں بیٹھنا نہی چاہتا تھا اسکی بات سنکر حارث اٹھ کر چلا گیا تو وہ بھی ایک نظر خان کی طرف دیکھتا اسکے پیچھے پیچھے چل دیا💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖تم اس وقت کہاں سے آ رہی ہو اور میں نے تمہیں منہ کیا ہے تم اکیلے کہیں کیا جایا کرو تم پھر بھی چلی گئ اگر جانا ہی تھا تو گارڈ کو اپنے ساتھ لے جاتی..
..اسنے ابھی گھر میں قدم رکھا ہی تھا کی دلاور خان کی نظر اس پڑی تو وہ غصّے سے بولا آج پھر ایک ڈیل اسکے ہاتھ سے نکل گئی تھی ایسا اکثر ہو رہا تھا ہر بار آذان شاہ ہی اس سے جیت جاتا تھا اب اسکی برداشت سے باہر تھا یہ سب اپر سے اسکو اکیلے آتے دیکھ کر اسکا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا..
..میرا یھا اس بڑے سے گھر میں دم گھٹ رہا تھا میرا دل کہیں باہر جانے کا تھا تو میں چلی گئی اسنے خان کی طرف دیکھا..
..اگر اب آگے سے کہیں باہر جانا ہو تو کسی کو ساتھ لے کر جان اب جاو اپنے کمرے میں دلاور خان کی بات سن کر وہ اپر اپنے کمرے میں جانے لگی ..
اور ہاں کل ایک پارٹی ہے شام میں تیار رہنا تمہیں وہاں جانا ہے میرے ساتھ اسکو روک کر پھر سے بولا..
..پر مجھے کہیں نہیں جانا ہے میں یہیں گھر پر ٹھیک ہوں وہ بیزاری سے بولی تھی..
..تمہیں کہاں جانا ہے کہاں نہیں یہ میں طے کرونگا تم دلاور خان کی بیٹی ہو آیت دلاور خان تو تم اس پارٹی میں ضرور جاؤگی میں نہ سننا پسند نہی کرتا وہ اپنی بات پوری کر کے اپنے روم میں چلا گیا تو وہ بھی پھر سے اپر سیڑھیا چڑھنے لگی اسکو پتا تھا اسکے انکار کی کسی کو کوئ پرواہ ہی نہی ہے کل نہ چاہتے ہوے بھی اسکو پارٹی میں جانا ہوگا 💖💖💖💖💖