Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

💖💖💖💖اسکی جیسے ہی آنکھ کھلی تو اسکی کچھ سمجھ ہی نہی آیا کی وہ کہاں ہے سر میں بھی ہلکا سا درد محسوس ہو رہا تھا پر جب دھیرے دھیرے اسکے دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو کل کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا وہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور کمرے کے چاروں طرف دیکھا یہ ایک بہت ہی شاندار کمرہ تھا پر اس پر اس وقت خوف سوار تھا وہ دروازے کی طرف گئی تو وہ لوکڈ تھا خوف اسکے پورے بدن میں پھیل چکا تھا اسکا پورا بدن پسینے میں نہایا ہوا تھا ووہ سمجھ چکی تھی اسکو کڈنیپ کیا گیا ہے..
.کوئ ہے دروازہ کھولو مجھے یہاں کیوں بند کیا ہوا ہے آخر مجھسے کیا چاہتے ہو کوئی ہے وہ زور زور سے دروازہ پیٹ نے لگی تھی جب کوئی جواب نہی ملا تو وہ کمرے کے چاروں طرف دیکھنے لگی لیکن اسکے بھاگنے کا کوئ راستہ نہی تھا اسکو ایک دروازہ دکھا مگر وہ واشروم تھا اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا وہ کیا کرے آنسوں اسکی آنکھوں سے لگاتار بہ رہے تھے..
یا اللّه میری مدد فرما مجھے اس مشقل سے نکل دے وہ واپس بیڈ پر آکر روتے ہوے اللّه سے دعا کرنے لگی تھی اسکی اب سمجھ آ گیا تھا کی کیوں اسکا دل بار بار گھبرا رہا تھا پر اب کچھ نہی ہو سکتا تھا وہ کچھ نہی کر پا رہی
تھی💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖میں نے تم لوگوں سے کہا تھا کی ہمیشہ اسکے ساتھ رہنا اسکو اکیلے کہیں مت جانے دینا جب وہ جا رہی تھی تو تم سے کوئ اسکے ساتھ کیوں نہی گیا دلاور خان کا غصّے سے برا حال تھا آیت کو غایب ہوے پوری رات بیت چکی تھی مگر اسکا کچھ پتا نہی چل رہا تھا اسنے اپنے آدمی اسکو ڈھونڈھنے کے لیے لگا رکھے تھے مگر کچھ ہاتھ نہی لگا تھا..
وہ پولیس کے پاس نہی جانا چاہتا تھا اسے پولیس سے زیادہ خود پر بھروسہ تھا وہ آیت کو جلد سے جلد ڈھونڈھ لینا چاہتا تھا
وہ کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا اسکی واپسی رات کو ہوئی تھی جب وہ گھر واپس آتا تھا تو آیت اسکے پاس آکر ضرور بیٹھ تی تھی جب وہ آیا تو کچھ دیر اسکا انتظار کرتا رہا تھا پر جب وہ نہی آئ تو ملازمہ سے پوچھنے پر پتا چلا کی وہ شام سے گھر ہی نہی آئ ہے ملازمہ کی بات سن کر اسکے ماتھے پڑ بل پڑ گیے تھے اور اسکو جب پتا چلا کی وہ اکیلی گئ ہے تب اسکا غصّے سے برا حال ہو گیا تھا اسنے اپنے آدمیوں کو اسکو تلاش کرنے کے لیے بھیجا پر بہت اسکا کچھ پتا نہی چلا تھا اسکا غصّہ اب مزید بڑھ گیا تھا اسکو کچھ غلط ہونے کا ڈر تھا اور اب پوری رات اسکو ڈھونڈھنے میں بیت گئ تھی پر اسکا کچھ پتا نہی چلا تھا 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖اسکو روتے ہوے کتنا وقت بیت چکا تھا اسکو نہی معلوم تھا رو رو کر اسکا سر درد کرنے لگا تھا آنکھیں رو رو کر لال ہو چکی تھی وہ رونے میں اتنی مشغول تھی کی اسکو دروازہ کھلنے کی بھی آواز نہی آئ تھی..
..رونے سے کچھ حاصل نہی ہوگا کیوں کی تمہاری یھا سے آزادی ناممکن ہے کسی کی آواز آئ تو اسنے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو سامنے کھڑی شخصیت دیکھتی ہی رہ گئ..
..ایسے کیا دیکھ رہی ہو اب رونا ہی ہے تمہیں ساری عمر وہ اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا اور اسکا لہزہ آگ برساتا ہوا تھا..
..ت..تم کیا چاہتے ہو اور کیوں لایں ہو مجھے یھا م..میں .نے کیا بگاڑا ہے تمہارا اسکا لہزہ لڑکھڑاتا ہوا تھا اسکی سمجھ نہی ا رہا تھا آخر یہ شخص اس سے کیا چاہتا ہے اسے اسکی لال ہوتی آنکھوں سے خوف آ رہا تھا..
..بہت کچھ بگاڑا ہے تمہارے باپ نے اور اب تم تیار ہو جاؤ اپنے باپ کا کرض اترنے کے لیے ایک ایک کر کے سارے حساب برابر کرنے ہے مجھے اسنے اپنی لال ہوتی آنکھیں اسکی ڈری سہمی بڑی بڑی آنکھوں میں گاڑتے ہوے کہا..
تم جھوٹ بول رہے ہو میرے بابا کسی کے ساتھ کچھ غلط نہی کر سکتے تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے وہ اب کانپ نے لگی تھی..
..اسکی بات سن کر وہ زور سے ہنسا تمہاری یہ غلط فہمی بھی دور ہو جایں گی کی تمہرا باپ کیا کر سکتا ہے اور کیا کر چکا ہے آذان اپنی آنکھیں اس پر رکھے ہوے تھا..
..پلیز مجھے جانے دو میرے بابا پریشان ہو رہے ہونگے دیکھو میں کسی کو کچھ نہی بتاؤ گی بس مجھے جانے دو وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر اس سے اپنی آزادی مانگ رہی تھی..
..یہ تم اب ہمیشہ کے لیے بھول جاؤ کی تم یھا سے جا سکتی ہو تمہارے واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے ہے تمہارے لیے اور یہ راستے آذان شاہ نے بند کیے ہے آج جس طرح تم مجھسے رحم کی بھیک مانگ رہی ہو نہ ایک دن تمہارا باپ بھی ایسے ہی بلکل اسی طرح کھڑا ہوگا میرے سامنے وہ اسکی حالت کو دیکھ کر سکوں محسوس کار رہا تھا
..کیا بگڑا ہے ہم نے تمہارا جانے دو مجھے یھا سے آیت کو اب اپنے آنسو پڑ قابو کرنا مشقل لگ رہا تھا..
کیا بگاڑا ہے یہ جلد ہی تمھیں پتا چل جایگا اور یھا سے اب تمہاری آزادی ناممکن ہے وہ ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھتا وہا روکا نہی تھا
کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا اور وہ اسکے جانے کے بعد پھر سے روتے ہوے دروازہ بجاتی رہی تھی