No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
💖💖💖💖💖اس وقت اسکی کار بہت تیز رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی اس وقت اسکا غصّہ کار کی تیز رفتار سے بھی خطرناک حد تک بڑھا ہوا تھا …
..اسکا غصّہ صرف اور صرف حیا کی وجہ سے بڑھا ہوا تھا جس نے ان لوگوں سے اتنی بڑی بات چھوپائی تھی ان لوگوں نے اس سے اپنے بارے میں کچھ نہی چھپایا تھا اور اسکو سب کچھ بتایا تھا کچھ بھی اس سے راز نہی رکھا تھا…..
…اور ایک وہ تھی جس نے ان سے اتنی بڑی بات راز رکھی ہوئی تھی جتنا وہ اس بارے میں سوچ رہا تھا اتنا ہی اسکا غصّہ مزید بڑھ رہا تھا اسکو حیا سے یہ امید نہی تھی…
..آذان کو غصّہ اس بات پر بھی زیادہ آ رہا تھا کی اسکو یہ بات دلاور خان سے پتا چلی تھی..
…وہ جب بھی یہ سوچتا تھا کی وہ حیا کے ساتھ اب اچھے سے رہےگا تب ہی کچھ ناں کچھ ایسی بات ہو جاتی تھی…
…کل بھی اسنے حیا کی بات چپ چاپ برداشت کی تھی ورنہ اسکا دل چاہ رہا تھا کی اسکی غلطفہمی ایک پل میں ہی ختم کر دیں پر اسنے اس وقت اپنے غصّے پر بہت کنٹرول کیا ہوا تھا….
…انہی سوچوں میں گھر بھی آ گیا تھا وہ جلدی سے کار سے نکلا اور اسنے اندر کیطرف قدم بڑھا دئے تھے…
…وہ بس حیا سے اتنا پوچھنا چاہتا تھا کی اس نے اتنی بڑی بات وں لوگوں سے کیوں چھوپائی تھی…
….کیا ہوا ہے آذان تم اتنی جلدی میں گھر کیوں آۓ ہو اس نے ابھی پہلی سیڑھی پر قدم ہی رکھا تھا کی اسکو اپنے پیچھے سے حارث کی آواز سنائی دی تھی….
..حارث اسکو غصّے میں آفس سے نکلتا ہوا دیکھ چکا تھا حارث کو اسکا اس طرح سے نکلتا دیکھ کر کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا تو وہ بھی اسکے پیچھے اپنی کار لے کر نکلا تھا….
…حارث میں اس وقت کچھ اور بات کرنے کے موڈ میں نہی ہوں پلز بعد میں بات کر لے ناں تم آذان اسکو جواب دے کر پھر سے اپر کیطرف بڑھا تھا…
..آذان بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا ہے تم اتنے غصّے میں کیوں ہو حارث نے اسکا بازو پکڑتے ہوئے کہا تھا…
…جاننا چاہتے ہو نا تم کی میں اتنے غصّے میں کیوں ہوں تو سنوں تمہری پیاری بہن جسکو تم معصوم سمجھتے ہو قتل کر کے آئ ہے وہ کسی کا قاتل ہے وہ آذان اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کرواتا ہوا بولا تھا..
دوپہر کا وقت تھا پورا گھر بھی سنسان ہو رہا تھا ملازم بھی اپنے اپنے قؤٹر میں آرام کرنے گئے ہوئے تھے پر اسکی آواز اتنی تیز نہی تھی کی اپر اپنے کمرے میں موجود حیا سن سکتی..
…آذان اپنی بات کہ کر اب حارث کی شقل دیکھنے لگا تھا جو ایسا کھڑا تھا جیسے اس بات سے کوئی فرک ہی نہی پڑتا ہو…
…میں نے کیا کہا شاید تم نے ٹھیک سے سنا نہی ہے آذان اسکا اس طرح کھڑے رہنا کچھ عجیب لگا تھا…
…میں جانتا ہوں آذان یہ میرے لئے کوئی نئی بات نہی ہے حارث بڑے اطمینان سے آذان کو بتا رہا تھا جبکی حارث کی بات سن کر آذان نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا تھا…
…حیا نے مجھے اسی دن سب سچ بتا دیا تھا اس نے مجھ سے کچھ بھی نہی چھوپایہ تھا کی کیسے اس دن اپنی عزت بچانے کی خاطر اس سے یہ قتل ہوا تھا…
…اور یہ بات میں نے تم سے اس لئے چھپائی کیونکہ اس وقت تم بہت غصّے میں تھے اور پھر شاید م اس وجہ سے حیا کو غلط سمجھتے اس لئے میں نے یہ بات تمھیں بتانی ضروری نہی سمجھی تھی…حارث نے ساری بات اسے کھل کر بتا دی تھی…
….حارث کی بات سن کر آذان کے اندر جیسے سکون سا اترا تھا…
….شکر ہے حارث تم وقت پر آ گئے ورنہ آذان نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تھا….
…ورنہ یہ سارا غصّہ بیچاری حیا پر اترنا تھا حارث نے اسکا جملہ پورا کیا تھا…
..حارث کی بات سن کر آذان مسکرایا تھا وہ سہی تو کہ رہا تھا اگر آج وہ وقت پر نہ آتا تو آج وہ پھر سے حیا کو تقلیف دے بیٹھتا…اور حیا پھر اس سے ایک قدم اور دور ہو جاتی جو وہ اب بلکل نہی چاہتا تھا…
…آذان تم جانے انجانے میں حیا کے ساتھ بہت غلط کر چکے ہو میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کی اسکے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور ہاں اپنے گناہ کی معافی مانگ لو تو اور اچھا ہوگا حارث اسکو سمجھا رہا تھا جبکی اسکے جواب میں آذان خاموش ہی رہا تھا….
…وہ خود بھی تو یہ ہی چاہتا تھا اور اب اسکو آگے کیا کرنا ہے اس نے سوچ لیا تھا…💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖…
…….
💖💖💖💖💖💖ایک سائن کرنے میں اتنا کیوں سوچ رہی ہو بےفکر ہوکر سائن کر دو مجھے اپنے دونوں بھائیوں پر پورا بھروسہ ہے کی وہ تمہارے ساتھ کچھ برا نہی ہونے دیں گے….
..ازلان اسکے ہاتھ میں فائل دیکھ کر بولا جو ابھی کچھ دیر پہلے حارث اسکو دے کر گیا تھا اور وہ بس جب سے اسکو لے کر بیٹھی تھی ….
…ازلان کی بات سن کر آیت نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا ….
…جہاں تک اسکو پتا تھا آذان حارث اور حیا کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہی جانتا تھا کی وہ کون ہے اور کس لئے یہاں موجود تھی….
….اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہی ہے میں شروع سے جانتا ہوں کی تم کون ہو کس کی بیٹی ہو اور اس وقت یہاں ہمارے گھر میں کس مقصد کی لئے موجود ہو مجھے ہر بات کا علم ہے…
…وہ اس سے بات کرتا ہوا اسکے سامنے والے صوفہ پر آکر بیٹھ گیا تھا اس وقت دونوں لاؤنج میں موجود تھے…
…شاید تمھیں ہم پر بھروسہ نہی ہے ازلان اسکی خاموشی کا یہ ہی مطلب سمجھا تھا….
…ایسی بات نہی ہے اگر مجھے آپ لوگوں پر بھروسہ نہی ہوتا تو میں اس وقت یہاں آپکے سامنے موجود ناں ہوتی…
…آیت کو اسکی بات اچھی نہی لگی تھی اس وقت وہ تو صرف اپنی ماں کے بارے میں سوچ رہی تھی اور پھر ازلان کی بات سن کر حیران ہوئی تھی کیونکہ وہ اسکو اتنا سلجھا ہوا اور اتنا سیریس نہی لگتا تھا پر وہ ایسا بھی ہو سکتا ہے اس نے سوچا نہی تھا….
…مجھے بہت خوشی ہوئی تمہاری بات سن کر کی تم نے ہمیں اپنے بھروسے کے قبل سمجھا ازلان اپنی زون میں واپس آتے ہوئے بولا تھا….
…ازلان کو خوشی ہوئی تھی اسکا جواب سن کر اسکو یہ کم بولنے والی لڑکی کب اتنی اچھی لگنے لگی تھی اسکو پتا ہی نہی چلا تھا…
…ازلان کی شرارت سمجھ کر آیت بھی مسکرا دی تھی..ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ کچھ پریشان سی تھی یہ ہی وجہ تھی کی یہاں چپ چاپ بیٹھی تھی لقین ازلان اور اسکی باتوں سے اسکی پریشانی دور ہو گئی تھی آیت کو بھی ازلان اپنی ہنس مکھ عادت کی وجہ سے بہت پسند آیا تھا بہت ہی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود بھی خوش رہتے ہیں اور اپنے ساتھ دوسرو کو بھی خوش رکھتے ہیں….
…کیا ہوا مجھے نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا….ازلان اسکو اپنی طرف دیکھتا پاکر بولا تھا….اور شرارت سے اس نے اپنی ایک آنکھ دبائی تھی….
…آیت جو اسکی طرف دیکھتے ہوئے سوچے جا رہی تھی ازلان کے اس طرح کرنے سے گڑبڑا کا اسنے اپنی نظریں جھکا لی تھی …..
……اسکے اس طرح سے گھبرا کر نظریں جھکا لے نے سے ازلان کا کہکا پورے لاؤنج میں گونجا تھا…
….ردا سہی کہتی ہے بہت ہی برے ہو تم آیت اپنی جھیپ مٹانے کے لئے بولی تھی اور وہاں سے اٹھ کر جانے میں اس نے دیر نہی کی تھی…
…لقین وہاں سے نکلنے کے بعد بھی آیت کو اپنے پیچھے بھی اسکو ازلان کے زور زور سے ہنسنے کی آواز سنائی دی تھی….💖💖💖💖💖
………….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖……………
💖💖💖💖💖وہ ابھی بی جان کے روم سے نکلی ہی تھی کی سامنے سے آتے وجود سے بری طرح ٹکرائی تھی…
….ارے سمبھل کر کن سوچوں میں گم ہو کی سامنے سے آتے اتنے لمبے چوڑے شخص کو بھی نہی دیکھ سکی…
..ردا جو ابھی اپنی ہوئی اس اچانک ٹکر سے بھی نہی سمبھلی تھی کی حارث کی آواز اپنے بہت ہی قریب سن کر ایک دم سے چوکی تھی…
…آپ….وہ اسکو دیکھ کر بس اتنا ہی کہ سکی تھی….کیونکہ اسکو اس وقت یہاں دیکھ کر حیران ہوئی تھی…
…جی میں….حارث بھی اسی کے انداز میں بولا تھا…جب سے اس نے آذان سے بات کی تھی اور آذان کو بھی کوئی اعتراض نہی تھا تبھی سے حارث کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہی تھا….
….سوری وہ درعصل میں کچھ سوچ رہی تھی تو میں نے آپکو دیکھا نہی…. اس لئے ردا نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی…
….اچھا کوئی بات نہی آپنے نہی دیکھا لقین مجھے امید ہے کی تمہاری سوچوں میں میں ہی تھا حارث نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا…
….حارث کی بات سن کر ردا خاموش ھو گئی تھی اب ووہ اسے کیا بتاتی کی وہ سچ ہی تو کہ رہا تھا جب سے اس نے اپنے پیار کا اظھار کیا تھا تب سے بس ردا کے دماغ میں اسی کی باتیں گھومتی رہتی تھی ہر وقت ہر پل…
… اسے اسکی چاہت پر یقین بھی تھا اور یہ سب اسی کی باتوں کا اصر تھا کی وہ اسکی طرف جھکنے لگی تھی…
……سچ کہ رہا ہوں ناں میں حارث اسکو خاموش دیکھ کر پھر سے پورے یقین سے بولا تھا….کیونکہ وہ ردا کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ چکا تھا اور اب اسکو لگنے لگا تھا کی اسکی منزل قریب ہے….
….آپ بی جان سے ملنے آۓ تھے نہ وہ اندر ہی ہیں ردا اسکی بات کو نظرانداز کرتی بولی اور وہاں سے جانے لگی تھی جب اسکو حارث کے الفاظ سنائی دئے تھے..
….ردا بس میں تم سے اتنا کہنا چاہتا ہوں کی بی جان اگر تم پر کوئی فیصلہ چھوڑے تو تم انکو جواب سوچ سمجھ کر دینا کیونکہ تمہارے اس ایک جواب میں کسی کی زندگی بھر کی خوشیوں کا سوال ہوگا..اتنا کہ کر حارث بی جان کے روم میں چلا گیا تھا…
…جبکی اسکے جانے کے بعد ردا باہر کھڑی اسکی باتوں کا مطلب سمجھتی رہی تھی….💖💖💖💖💖
…………
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖…
…….
💖💖💖💖💖💖وہ لاؤنج میں اکیلی بیٹھی ٹیوی دیکھ رہی تھی آج حارث بھی بی جان کے پاس گیا ہوا تھا اسکا بھی بہت من تھا بی جان سے ملنے کا پر وہ آذان کی اجازت کے بغیر نہی جا سکتی تھی…
…اس دن آذان سے اتنے بری طرح بات کرنے کے بعد اب اس میں اتنی ہمّت نہی ہو رہی تھی کی وہ آذان سے جاکر پوچھ سکے اور کچھ آذان بھی آج کل اسکو نظر انداز کر رہا تھا اور اسکا برتاؤ دیکھ کر حیا کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہو گئی تھی…
..کافی دیر ٹیوی دیکھتے رہنے کے بعد جب وہ بور ہو گئی تو وہ اٹھی اور ٹیوی بند کر کے اپنے کمرے کی طرف چل تھی..اس نے سوچا تھا کی اب تک تو آذان بھی سو چکا ہوگا…
…وہ اپنے روم کا دروازہ بند کر کے جیسے ہی مڑی تو روم کو دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی..
..کیونکہ پورا روم بہت ہی خوبصورتی سے ڈکوریٹ کیا گیا تھا ہر طرف کنڈل لگی ہوئی تھی کینڈل لگی ہوئی تھی روم میں جگہ جگہ پھولوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھی …
یہ سب کب اور کس نے کیا ہے اسکے من میں جو پہلا سوال جو آیا تھا وہ یہ تھا…
….مانتا ہوں کی تیرا گنہگار ہوں میں…
…پر تیری معافی کا بھی طلبگار ہوں میں…
….جبھی آذان کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی آواز پر اسنے گردن موڑ کر دیکھا جو قدم قدم چلتا ہوا اسکے قریب آ رہا تھا….
….اسکی باتوں کا مطلب سمجھنے کے بعد حیا سمجھ گئی تھی کی یہ سب آذان نے ہی کیا ہے….
…میں بہت چھوٹا تھا جب میرے ماں باپ ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے …
…اس دن میں بہت رویا بہت تڑپا تھا پر میری نور نے مجھے سمبھالا تھا اگر اس وقت وہ ناں ہوتی تو پتا نہی میرا کیا ہوتا کچھ وقت گزرا تو ہم پھر سے خوش رہنے لگے تھے بی جان اور دادا جان نے ہماری پرورش کی ہماری ہر چیز کا خیال رکھا…
…آذان حیا کو اپنی زندگی کے بارے میں بتا رہا تھا جو چپ چاپ کھڑی اسے سن رہی تھی…
….پھر ایک دن میری نور کے ساتھ بہت ظلم ہوا اس شخص نے میری بہن کو کہی کا نہی چھوڑا تھا میری نور دن رات تڑپتی رہی روتی رہی اور پھر ایک دن دادا جان کے بعد وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی اور اس دن بھی میں بہت رویا بہت تڑپا تھا پر مجھے سمبھالنے والا کوئی نہی تھا جو تھے وہ جا چکے تھے دلاور نے میرا سب کچھ چھین لیا تھا اور اس دن میں آخری بار رویا تھا میں نے سوچ لیا تھا کی میں اپنی بہن کے ساتھ ظلم کرنے والے سے بدلہ ضرور لونگا اور اس بدلے کی آگ میں میں سب کچھ بھولتا چلا گیا سہی غلط غم خوشی میں یہ سب محسوس کرنا بھول گیا تھا بس یاد تھا تو بس اپنا بدلہ ….
…پر اس دن جب تم گھر سے چلی گئی تھی تو اس دن بہت وقت بعد مجھے ایسا لگا تھا کی کوئی اپنا مجھسے پھر سے دور جا رہا ہے اس دن مجھے یہاں درد ہوا تھا…یہاں…
…آذان نے حیا کا ہاتھ پکڑ کر اپنی سینے پر رکھتے ہوئے کہا تھا…جبکی حیا تو بس اسے دیکھے ہی جا رہی تھی وہ اسکے الفاظوں میں چھپا درد محسوس کر سکتی تھی…
…اس دن مجھے ایسا لگ رہا تھا کی اگر تم مجھے ناں ملی تو میرے سینے میں دھڑکتا یہ دل بند ہو جائے گا….آذان نے حیا کے ہاتھ پر اب اپنا بھی ہاتھ رکھ دیا تھا…
…اور جب تم مجھے ملی تو مجھے لگا جیسے پورا جہاں مجھے مل گیا ہو میں مانتا ہوں کی میں نے تمہارے ساتھ ہمیشہ غلط کیا ہے تمھیں تقلیف دی ہے پر تمھیں تقلیف دے کر درد مجھے بھی ہوتا تھا…
…مجھے نہی پتا میں کب اور کیسے تمھیں اتنا چاہنے لگا محبت تو مجھے تم سے پہلی نظر میں ہی ہو گئی تھی جسکا ایتراف میرے دل نے بعد میں کیا تھا…تم سوچتی ہونگی کی میں تمھیں تقلیف دے نے کے لئے یہاں لایا ہوں پر ایسا نہی تھا مجھے تمھیں دیکھ کر سکوں ملتا ہے اور اس لئے میں تم کو خود سے دور نہی کرنا چاہتا تھا….
…اسکا ایک ایک حرف حیا کے دل میں اتر رہا تھا آذان کی باتیں سن کر حیا کی آنکھوں میں آنسو جمع ہو رہے تھے جن کو اسنے بڈی مشقل سے بہنے سے روکا ہوا تھا….
….میں مانتا ہوں کی میں تمہارا گنہگار ہوں تمہارے ساتھ بہت ظلم کئے ہے میں نے ہو سکے تو مجھے معاف کر دو حیا میں یہ بھی جانتا ہوں یہ تمہارے لئے بہت مشقل ہے….پر پھر بھی میری تم سے گزارش ہے مجھے معاف کر دو…
…آذان نے حیا کا ہاتھ چھوڑا اور اسکے قدموں میں زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس سے اپنے گناہ کی معافی مانگ رہا تھا ….
…آذان کو اس طرح دیکھ کر حیا کو یقین ہی نہی ہو رہا تھا کی وہ اس طرح سے اس سے اپنے گناہ کی معافی مانگے گا اسکے جانے کب سے رکے ہوئے آنسو اب اسکا چہرہ بھیگو رہے تھے…
….مجھے معاف کر دو حیا اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کی کبھی ایسا نہی ہوگا میں تمھیں کبھی تقلیف نہی دوں گا میں تمہارے ساتھ ہسی خوشی زندگی گزرنا چاہتا ہوں اسنے اب حیا کے دونوں ہاتھ تھام لئے تھے….💖💖💖💖💖💖💖…جاری ہے…..
