No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
💖💖💖💖💖💖جب سے حارث اسکے پاس سے گیا تھا وہ بس ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی ہوئ تھی..
آنسو تھے جو رکنے کا نام ہی نہی لے رہے تھے وہ تو یہ سوچتی تھی کی آج تک بس اسکے ساتھ ہی برا ہوتا آیا ہے اسکو لگتا تھا تھا کی اسکا غم بہت بڑا ہے…
..جب سے حارث نے اسکو نور کے بارے میں سب کچھ بتایا تھا حیا کو یہ سب سن کر بہت دکھ اور افسوس ہوا تھا ….
..اسکو یہ تو پتا تھا کی آذان دلاور خان سے بدلہ لینا چاہتا ہے شاید دلاور نے اسکے ساتھ کچھ غلط کیا ہوگا لیقیں جب حارث سے اسکو پتا چا چلا کی دلاور نے آذان کی بہن کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا تھا اسکو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کی وہ ایک گھٹیا شخص کی مدد کر رہی تھی…
…حیا کو اپنی کل کی ہوئ ہر بات یاد آ رہی تھی اس نے کیسے کیسے الزام آذان پر لگایے تھے بنا سچ جانے کی اس بار آذان آیت کو کچھ نکسن نہی پھچانا چاہتا تھا وہ اس بار آیت کی جان بچانے کے لئے اس تک جانا چاہتا تھا اسکے باپ سے جو اسکا سگا باپ تھا ہی نہی…
…اور یہ بات بھی حارث اور آذان کو ابھی کچھ دن پہلے ہی معلوم ہوئ تھی…
اور وہ کتنا کچھ بول گئ تھی حیا کو اپنی کہی ہر بات پر افسوس ہو رہا تھا…
…یہ الگ بات تھی کی آذان نے جو حیا کے ساتھ کیا تھا حیا کے لئے یہ سب بھول جانا یا آذان کو معاف کرنا اتنا بھی آسان نہی تھا..اور یہ بات حارث نے بھی اسکو بولی تھی کی وہ بس انکا ساتھ دے…
…. اور آذان نے جو اسکے ساتھ کیا ہے اسکو معاف کرنا ہے یا نہی یہ اسکی مرضی تھی اور حارث نے اسکو بولا تھا کی وہ جو بھی فیصلہ لے اس میں وہ اسکے ساتھ تھا …ویسے بھی حارث نے اسکو دل سے بہن مانا تھا…
…حارث کی بات سن کر حیا کی آنکھوں میں آنسو آ گیں تھے کی کوئ تو تھا جو اسکے بارے میں سوچتا تھا …
..اور حارث کی یہ سب باتیں سن کر حیا کے دل میں حارث کے لئے عزت اور بڑھ گئ تھی…
جبکی یہ بات الگ تھی کی آذان نے اس بات کے لئے اس سے اب تک معافی بھی نہی مانگی تھی…
…وہ اپنی انہی سوچوں میں بیٹھی تھی اور اسنے ایک فیصلہ بھی کر لیا تھا کی وہ نور کے ساتھ غلط کرنے والے انسان کو سزا دلانے میں آذان کی مدد ضرور کریگی اور وہ آیت کے ساتھ بھی کچھ نہی ہونے دے گی….💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖…….
💖💖💖💖💖وہ اس وقت اپنے آفس میں موجود تھا اسنے اپنا سر سیٹ سے لگا کر آنکھیں بند کی ہوئ تھی….
..اور کل کا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا حیا کی گھبراہٹ اسکا خود سے دور کرنا حیا کا دوڑتے ہوئے اسکے پاس آنا ایک ایک پل وہ اپنی بند آنکھوں میں دیکھ رہا تھا….
کل حیا کا ایک دم سے گھر سے چلے جانے سے یہ بات اس پر کھلی تھی کی وہ ان چند دنوں میں اسکے لئے کتنی ضروری ہو گئ ہے…
…حیا کا اسکے ساتھ رہنا آذان کو اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوتا تھا …
….آذان کو ایسا لگتا تھا اگر وہ حیا کو نا دیکھ تو اسکو سکون نہی ملےگا …
….اسکا دل کہتا تھا کی اسکو حیا سے محبت ہو گئ ہے مگر اسکا دماغ یہ بات مانتا ہی نہی تھا …
وہ انہی سوچوں میں گم تھا جب اسکا فون بجا تھا…اسنے آنکھیں کھول کر فون کو دیکھا تو..
..حارث کی کال تھی…
…ہاں بولو حارث کہاں ہو تم میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں…
.. وہ اپنی سیٹ سے کھڑے ہو گیا تھا اور چلتے ہوئے اپنے آفس کی گلاس ونڈو کے پاس آکر کھڑا ہو گیا تھا….
….وہ جانے کے لئے مان گئ ہے اور میں ابھی گھر پر ہی ہوں..
…حارث کی بات سن کر آذان ایک پل کے لیے خاموش ہو گیا تھا اسکو برا لگا تھا کی حیا نے اسکو بتانا ضروری نہی سمجھا تھا…
….ٹھیک ہے میں گھر ہی آ رہا ہوں باقی باتیں وہیں کرتے ہیں آکر آذان نے اتنا کہ کر فون رکھ دیا تھا 💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖اسکے کمرے کی قیمتی چیزے جگہ جگہ ٹوٹی ہوئ پڑی تھی ہر چیز بکھری ہوئ تھی کوئ بھی دیکھ کر یہ نہی کہ سکتا تھا کی یہ ایک الشان کمرہ تھا ….
…. اتنی ساری قیمتی چیزے باربار کرنے کے بھی اسکا غصہ کام ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اسکا سوچ سوچ کر برا حال ہو رہا تھا کی جس چیز کے لئے اسنے اتنا سب کیا تھا آج وہ اسکے ہاتھوں سے نکلتی ہوئ محسوس ہو رہی تھی…
….اسنے کیا کچھ نہیں کیا تھا اس دولت کو پانے کے لئے صرف اس دولت کے خاطر ہی تو اسنے اسما سے شادی کی تھی جو دو ماہ کی بیٹی کی ماں تھی …
….اور بہت ہی امیر بھی تھی جسکا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا اسکے شوہر کا انتقال ہوا وہ تھا …
دلاور خان ہی جانتا تھا کی اسنے کتنی چالاکی سے اسما بیگم سے شادی کی تھی اسکو اپنے پیار کے جال میں فساکر ..وقت گزرتا گیا اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اسما کو یہ لگنے لگا تھا کی انکا انتخاب کتنا غلط ہے دلاور اسکی دولت سے ایش کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسکی دولت کو غلط تریقے سے استمال کرتا تھا…
…اسنے آیت کو کبھی اپنی بیٹی مانا ہی نہی تھا دلاور کو صرف دولت سے محبت تھی اور یہ بات اسما بیگم جان گئ تھی…
…اسما بیگم نے دلاور کا برطاؤ اپنی بیٹی کے ساتھ دیکھ کر انہونے ایک فیصلہ کیا تھا جو انکی جان لے گیا تھا …
..انہونے اپنی ساری دولت کمپنی سب کچھ اپنی بیٹی آیت کے نام کر دیا تھا اور جب دلاور کو یہ پتا چلا تو اسنے غصّے میں آ کر آسما بیگم کی جان لے لی تھی اور یہ جان بنا کی دو معصوم آنکھیں اسکا یہ وحشی روپ دیکھ رہی تھی….
…وہ تو آیت کے ساتھ بھی یہ سب کرنا چاہتا تھا پر جب اسکو پتا چلا کی اگر آیت کو کچھ ہوا تو اسکے ہاتھ کچھ نہی لگے گا اس لئے اسنے آیت کو باہر لندن بھیج دیا تھا اسکو بس سہی وقت کا انتظار کرنا تھا….
…اسنے بہت بار آیت سے سب کچھ اپنے نام کروانے کی کوشش کی تھی پر آیت نے اسکو صاف انکار کر دیا تھا ….جس وجہ سے وہ بہت پریشن رہنے لگا تھا…..
… پھر انہی دنوں اسکی ملاقات حیا سے ہی تھی اسکے شیطانی دماگ میں ایک پلان آیا تھا جس سے وہ اپنا کام آسانی سے کر سکتا تھا پر ازان کی وجہ سے سب کچھ ختم ہوتا چلا گیا …..
اگر وقت رہتے سب کچھ اسنے اپنے نام نہ کروایا تو یہ سب دولت اس سے چھین لی جاےگی ………
…کیوں کی یہ سب کچھ آیت کا تھا جس پر وہ آج تک ایش کرتا آیا تھا ……وہ یہ سب کچھ کھونا نہی چاہتا تھا اسکو جلد سے جلد کچھ کرنا تھا 💖💖💖💖💖💖
…..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
……
💖💖💖💖💖💖بیٹا جیسے یہ گھر حیا کے لئے ہے اتنا ہی تمہارے لئے بھی ہے حیا میری بیٹی جیسی ہے اور تم اسکو عزیز ہو تو ہمرے لئے بھی تم اتنی ہی عزیز ہو.. تم جتنا وقت چاہوں یہاں رہ سکتی ہو بی جان آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی…
وہ سب لوگ اس وقت لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے آیت دو دن پہلے ہی حیا اور آذان کے ساتھ آئ تھی..
…حیا کو اتنے وقت بعد اپنے سامنے دیکھ کر آیت بہت حیران ہوئی تھی اور پھر جب حیا نے اسکو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا تو ایک پل کے لئے وہ خاموش ہو گئ تھی اسکو خاموش دیکھ کر حیا اسکو سب بتاتی چلی گئی تھی اور اسکی بات سن کر آیت کو بھی بہت دکھ ہوا تھا کی دلاور نے اسکی ماں کے ساتھ ساتھ نور کا بھی قاتل تھا…اور اب اسکی جان کے پیچھے بھی پڑا ہوا تھا…
.. وہ تب تو چھوٹی تھی اپنی ماں کے لئے کچھ نہی کر سکی تھی پر اسنے سوچ لیا تھا وہ دلاور کو سزہ ضرور دلوا کر رہیگی..حیا نے یہاں آکر سب کو یہ ہی بولا تھا کی وہ اسکی دوست ہے اور کچھ دن یہیں رہنا چاہتی ہے…
…جی ٹھیک ہے بی جان آپ بہت اچھی ہیں اس نے مسکرا کر بی جان کی طرف دیکھا تھا وہ بہت ہی سادہ سی لڑکی تھی کوئ اسکو دیکھ کر یہ نہی کہ سکتا تھا کی وہ لندن سے آئ ہے اور یہ بات ازلان نے اپنے دل میں سوچی تھی…کیوں کی وہ جانتا تھا کی آیت ہے کون اور کہاں سے آئ ہے…
…بی جان کھانا لگ گیا ہے جبھی ردا کی آواز حارث کے کانو میں پڑی تھی اسنے گردن موڑ کڑ دیکھا تو وہ بی جان کی طرف دیکھ رہی تھی اسکو آج اتنے دنوں میں دیکھ کر حارث کو بہت اچھا لگا تھا ایک بےچینی تھی اسکے اندر جو آج اسکو دیکھ کر ختم ہو گئ تھی…
…وہ اسکو دیکھنے میں اتنا کھویا ہوا تھا کی اس بات سے بے خبر کی دو آنکھوں نے اسکو بہت غور سے دیکھا تھا…
…ہاں ٹھیک ہے چلو بیٹا سب چلتے ہے ی آذان کہاں ہے دکھائی نہی دے رہا بی جان نے آذان کی کمی کو اب محسوس کیا تھا…
…بی جان وہ اپنے روم میں ہیں جواب ازلان کی طرف سے آیا تھا…
..حیا بیٹا جاؤ اسکو بلا کر لے آؤ اس بار بی جان حیا سے مخاطب تھی..
…انکی بات سن کر حیا نے انکی طرف دیکھا تھا یہ کیسا کام بتا دیا تھا بی جان نے اسکو جسکو کرنا اسکے لئے مشقل تھا..
..کیا ہوا بیٹا ایسے کیوں بیٹھی ہو جاؤ جا کر بلا لاؤ اسکو سب ساتھ ہی کھانا کھا لینگے بی جان نے اسکو ایسے ہی بیٹھا دیکھ کر کہا تھا..انکی بات سن کر مجبورن اسکو اٹھنا پڑا تھا اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی آذان کو بلانے چل دی تھی….💖💖💖💖💖💖💖..جاری ہے ..
……
