Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

💖💖💖💖💖میرا سرپرائز کیسا لگا خان کہا تھا نہ میں نے کی تیری بیٹی تیرے پاس نہی رہنے دونگا تو تڈپےگا اسکی شقل دیکھنے کے لیے اور میں اسکو اتنا تڑپاونگا ہر دن ہر پل تو کچھ نہی کر پاۓ گا اور پھر تو خود اپنے مرنے کی بھیک مانگے گا مجھسے اسکی آواز سن کر خان کچھ پل تو خاموش ہی رہ گیا تھا وہ یہ آواز اور یہ بات تو کبھی بھولا ہی نہی تھا جس کا اسکو ڈر تھا وہ ہی ہوا تھا اسکو بس جلد سے جلد آیت کا پتا لگانا تھا اس سے پہلے کی سب ختم ہو جائے..
..کیا ہوا خان خاموش کیوں ہو میرا سرپرائز پسند نہی آیا تمہیں آذان کو اب اسکی حالت سوچ کر ہی سکوں مل رہا تھا..
..تم آخر ہو کون اور کیا چاہتے ہو دلاور خان کو اب اپنا غصّہ کنٹرول کرنا مشقل لگ رہا تھا..
..میں کون ہوں اور کیا چاہتا ہوں جلد ہی پتا چل جایگا تمہیں بس تم دعا کرو اپنی بیٹی کے لیے آذان نے زور سے ہنستے ہوئے کہا اور فون کاٹ دیا دلاور خان نے فون دور پھینک کر مارا تھا آخر یہ ہے کون اور اتنے وقت سے کیا چاہتا ہے اسکا غصّہ کم نہی ہو رہا تھا💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖بیٹا صبر کرو اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے دعا کرو کی تمہارے باپ کو اللّه قبر میں سکوں دے موہللے کی ایک عورت اسکے سر پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تھی آج اسکی پوری دنیا ہی ختم ہو گئی تھی اسکو کیسے صبر آ جاتا آج اسکی ماں کے بعد آج اسکا باپ بھی اسکو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے گیے تھے اسکا باپ بہت دنوں سے بیمار تھا گھر کے حالات اور تنگدستی کی وجہہ سے انکی بیماری کا سہی سے علاج نہیں ہو پا رہا تھا بیماری کا سہی سے علاج نہ ہونے کی وجہ سے آج وہ اس دنیا سے ہی رخصت ہو گئے حیا کی تو آج ساری دنیا ہی ختم ہو گئی تھی اسکا اپنے ماں تو اسکو بہت پہلے ہی چھوڑ کر چلی گئی تھی اور آج اسکا باپ بھی اسکو اس پوری دنیا میں تنہا چھوڑ کر چلا گیا تھا اسکے ماں اور باپ کے علاوہ اسکا اور کوئ اس دنیا میں نہی تھا وہ اپنے ماں باپ کی ایکلوتی اولاد تھی اور آج اسکا کچھ بھی نہی بچا تھا اسکو کیسے صبر آ جاتا..
..کیسے صبر کروں خالہ میرے پاس تو کچھ بچہ ہی نہی ہے کون ہے اس بھری دنیا میں میرا وہ انسے گلے مل کر زور زور سے رو دی تھی خالہ اسکو چپ کرواتی رہی تھی مگر اسے ہوش ہی کب تھا..
..دھیرے دھیرے کر کے سب اپنے گھر چلے گیے تھے اب وہ اس چھوٹے سے گھر میں اکیلے تھی رشتےدار بھی کوئی نہی تھا وہ لوگ بہت غریب سے لوگ تھے انکی عام سی زندگی تھی وہ اٹھی اور اپنے ماں باپ کے کمرے میں آئ اور پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی..
میں کیسے رہونگی آپکے بغیر آپ کس کے سہارے چھوڑ کر گئے ہے مجھے ..وہ اپنے ماں باپ کی فوٹو کو سینے سے لگا کر روتی ہی جا رہی تھی …
..وقت اچھا ہو یا برا وقت کا کام ہے گزرنا گزر ہی جاتا ہے اسکی زندگی اب پہلے جیسی نہی تھی پر اسکو جینا تھا اور وہ جی رہی تھی اٹھارہ سال کی کم عمر میں ماں باپ کے بنا جینا بہت مشقل تھا پر وہ جی رہی تھیاسکے اسکے پڑوس کی جو ٹیچر تھی انہونے اسکو اپنے اسکول میں جاب دلوا دی تھی وہ ایک چھوٹے سے اسکول تھا جس وجہ سے اسکو آسانی سے جاب مل گئی تھی..آج بھی وہ اسکول سے آکر سیدھا اپنے ماں باپ کے کمرے میں آکر بیٹھ گئی یہ اسکا روز کا معمول تھا کی وہ جب بھی گھر آتی نہ جانے کتنے وقت وہ ایسے ہی بیٹھی رہتی تھی ..اور نہ جانے کتنے ہی آنسو اسکا چہرہ بھیگوں دیتے تھے ..
💖💖💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖..کہاں سے آ رہے ہو تم اور یہ کھانا کس کے لیے ہے حارث کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے دیکھ کر آذان نے اس سے پوچھا تھا..
..آذان اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے ملاذمہ دو بار کھانا لے کر گئ تھی پر وہ منا کر دیتی ہے حارث نے اسکو تفصیل سے آیت کے بارے میں بتایا تھا اسکو دکھ تھا کی وہ ایک بےقصور کے ساتھ غلط کر رہے ہیں پر وہ کچھ نہی کر سکتا تھا..
..لاؤ مجھے دو یہ ایسے نہی مانے گی آذان اسکے ہاتھ سے ٹرے لے کر بولا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسکے کمرے تک پھونچا تھا حارث بھی اسکے پیچھے چلا تھا..
..تمہارے یہ ڈرامے یھا نہی چلے گے یہ سب اپنے باپ کے گھر کرنا یھا جو بولا گیا ہے صرف تم وہی کروگی اگر کھانے کو بولا ہے تو چپ چاپ کھانا کھا لو سمجھی وہ روم میں آتے ہی غصّے سے بولا تھا ٹرے بیڈ پر رکھ کر اسکو بازو پکڑ کر نیچے سے اٹھا یا تھا..
..مجھے نہی کھانا ہے مجھے صرف اپنے بابا کے گھر جانا ہے پلز مجھے جانے دو میں نے کیا بگاڑا ہے آخر تمہارا وہ اپنا بازو اس سے چھوڑا رہی تھی پر بےسود اسکی پکڑ مضبوط تھی..
..تم نے شید سنا نہی میں نے تم سے کیا بولا ہے چپ چاپ کھانا کھا لو ورنہ مجھسے برا کوئ نہی ہوگا اسکا لہزہ سنجیدہ تھا ..
..میں نے بولا نہ کی مجھے نہی کھانا تو نہی کھانا مجھے بس اپنے بابا کے پاس جانا ہے جانے دو مجھے اس نے آذان کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا..اور یھی کہنا اسکے لیے اچھا نہی رہا آذان کا ہاتھ اٹھا اور اسکے گال پر اپنے نشان چھوڑ گیا تھا اور تھپڑ اتنی زور کہ تھا کی وہ زمین پر جاکر گری تھی..
..میری کوئی بات نظر انداز کرے مجھے بلکل برداشت نہی ہے تمہاری سمجھ نہی آتا جو میں بول رہا ہوں وہ کرنا ہے اگر نہی کیا تو ووہ پھر سے اسکی طرف بڑھا تھا کی حارث نے آکر اسکا بازو تھام لیا…
..آیت تو اسکے ابھی ایک تھپڑ سے ہی نہی سمبھل سکی تھی اسکو دوبارہ ہاتھ اٹھا تا دیکھ اسنے اپنی زور سے آنکھیں بند کر لی تھی
..یہ کیا کر رہے ہو آذان چھوڑو اسے حارث اس کو آیت سے دور کرتے ہوئے بولا تھا..
..سمجھا دو اسکو حارث اسکو اب وہی کرنا ہوگا جو میں کہونگا ورنہ انجام یہ خود جانتی ہے وہ ایک غصّلی نظر اس پر ڈالتا چلا گیا تھا اور حارث بھی اسکے ساتھ نکل گیا تھا اس وقت وہ آیت کو اکیلے رہنے دینا چاہتا تھا..
..ان دونو کے جانے کے بعد وہ نیچے ہی بیٹھی بیٹھی زور زور سے رونے لگی تھی…..💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖بی جان کیا ہوا آپ اتنی چپ کیوں ہے ..ازلان بی جان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا ..نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میرے بچچے …بی جان نے مسکرا نے کی نہ ممکن سے کوشش کی ..بی جان آپ جانتی ہے کی آپ مجھسے کچھ نہیں چھپا سکتی ہے تو اسلئے جلدی سے بتایہ کی آپ کیوں پریشن ہے اور آپ نے آج کھانا بھی نہیں کھایا ہے ..ازلان نے انکے ہاتھ تھامتے ہوئے فکرمندی سے انکی طرف دیکھا .
.ایسا کچھ نہیں ہے بیٹا اور آج میرا دل نہیں تھا کھانا کھانے کا بس اسلیے نہیں کھایا …بی جان نے اسکو ٹالنا چاہا …
….بی جان میں جانتا ہوں کوئی بات تو ہے جو آپکو پریشن کر رہی ہے اور آپ یہ بھی جانتی ہے کی جب تک آپ مجھے نہیں بتایگی کی کیا بات ہے جو آپکو پریشن کر رہی ہے تب تک میں یہاں سے نہیں جاؤنگا ..ازلان نے ضدی لہزے میں کہا اور انکے بیڈ پر اچھی ترہ بیٹھ گیا جسے وہ اپنی بات کا انکو یقین دلا رہا تھا کی جو وہ کہ رہا ہے کریگا بھی ..
…ازلان مجھے اذان کی بہت فکر رہتی ہے ..بی جان نے ہار مانتے ہوئے اسکو اپنی پریشانی بتائی جبکی انکی آواز سن کر ردا جو بی جان کے لئے کھانا لا رہی تھی اذان کا نام سون کر دروازے پر ہی روک گئی ..
..کیوں کیا ہوا بھائ کو بی جان ..ازلان کو بھی اب فکر ہونے لگی تھی ..
..اللہ نہ کرے اسکو کچھ ہو ..مجھے بس اسکی فکر رہتی ہے وہ بلکل اپنے باپ کی طرح ہے بہت ضدی اور غصے والا ہے وہ غصے اور ضد میں اچھا اور برا سب بھول جاتا ہے ..بی جان نے اپنے دل کی پریشانی ازلان کو بتائی جسے سون کر ازلان بھی پریشن ہو گیا تھا لیکن پھر سمبل کر بولا …
..بی جان آپ بھائ کی فکر مت کرے وہ اپنا اچھا اور برا جانتے ہے ..ازلان نے انکو تسلی دی ..
..میں جانتی ہوں لیکن میں کیا کرو مجھے بس ایک ڈر ہی کھایہ جاتا ہے کی
جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے ..
…دیکھ بی جان میں آپکے لئے کھانا لائی ہوں اور آپکو کھانا پڑیگا …اس سے پہلے کے بی جان کچھ کہتی ردا خانے کی ٹرے لیکر انکے روم میں آتی ہوئی بولی …
ارے میرے بیٹی منے کہا نہ کی مجھے بھک نہیں ہے ..بی جان نے مسکراتے ہوئے ردا کی طرف دیکھا ..
ہمیں پتا ہے کے آپکو بھوک نہیں ہے پر پھر بھی ہمرے لئے تھوڑا سا تو کھالیں ..ردا نے کھانا انکی پلیٹ میں نکالا اور پھر انکو کھانے کو کہا جس پر بی جان مسکراتے ہوئے کھانا کھانے لگی ..جبکی ازلان بی جان کی بات سن کر سہی میں پریشن ہو گیا تھا کیوں کی وہ اپنے بھائ کو بہت اچھے سے جانتا تھا وہ جو ایک بار سوچ لیتا ہے تو پھر کچھ بھی ہو جائے کوئی اسکو نہیں روک سکتا تھا…💖💖💖💖💖