Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

………………
💖💖💖💖💖💖اب آپ آگے کیا کرنے والے ہیں خان…
….بشر دلاور کیطرف دیکھ کر بولا تھا جو ہاتھ میں فون لئے کھڑا مسکرا رہا تھا …..
….اسکی یہ شیطانی مسکراہٹ آج بشر نے بہت دن بعد دیکھی تھی اور وہ جانتا تھا کی اسکے خان کے دماغ میں کچھ تو غلط چل رہا ہے…..
…بس تم دیکھتے جاؤ بشر کی کیسے میں سب کچھ دوبارہ حاصل کر لونگا جو سب کچھ میں کھو چکا ہوں وہ اب پھر سے دوبارہ میرے پاس ہوگا….
…. دلاور بولے جا رہا تھا اور بشر اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا اسنے جیسا سوچا تھا وہ ہی دلاور خان بول رہا تھا اس بات کی پرواہ کئے بغیر کی اسکا اس بار کیا انجام ہونے والا ہے…
…..خان آپ کچھ نہ کریں پچھلی بار تو آپ بچ گئے تھے کیونکہ آیت بی بی نے پولیس کو کوئی خبر نہی کی تھی آپ میری مانے تو کچھ دن صبر سے گزار لیں پھر اسکے بعد دیکھتے ہیں کی کیا کرنا ہے بشر اسکو سمجھاتے ہوئے بول رہا تھا اور وہ اپنی جگہ بلکل سہی کہ رہا تھا….
…..نہی بشر میں کچھ دن صبر نہی کر سکتا ہوں وہ سب میرا ہے میں نے اس بزنس کو اتنا بڑا کیا اور میں اس طرح آسانی سے کسی اور کے ہاتھ نہی لگنے دوں گا دلاور خان غصّے سے داہڈا تھا….
….اسکی دہاڈ سن کر اک پل کے لئے بشر بھی ڈر گیا تھا…
…خان آپکو یقین ہے کی وہ آۓ گی…..
…بشر نے اس بار کچھ ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا تھا جو غصّے میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا…
….بشر کی بات سن کر غصّے میں بھی دلاور کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی…..
…وہ آۓ گی ضرور آۓ گی کیونکہ وہ بھی اپنی ماں کی طرح ہی بےوقوف اسی کی طرح لوگوں پر جلدی بھروسہ کرنے والی دلاور نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا اور سگريٹ کا ایک گہرا کش لیا تھا …..
….اب بس اسکو کل کا انتظار تھا اسنے سوچ لیا تھا اسکو آگے کیا کرنا ہے اور آذان شاہ سے کیسے بدلہ لے نہ ہے پر کل کیا ہونے والا تھا یہ کوئی نہی جانتا تھا اسکی جیت ہونی تھی یا پھر سے ہار💖💖💖💖💖💖💖
…………….
…………….
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤………………
💖💖💖💖💖💖💖تم اتنی جلدی میں کہاں جا رہی ہو جو تمھیں سامنے سے آتا اتنا بڑا وجود بھی نہی نظر آیا…..
…آیت جو جلدی جلدی میں اپنے فون کو دیکھتی مین گیٹ کیطرف جا رہی تھی سامنے سے آتے ازلان کو دیکھ نہی سکی تھی جسکا انجام یہ ہوا کی وہ ازلان سے بری طرح ٹکرا گئی تھی…..
…..سوری وہ میں نے آپکو دیکھا نہی دراصل میرا دھیان کہیں اور تھا…..
…آیت اس سے جلدی جلدی معذرت کرتی سائیڈ سے نکلنے لگی تھی…
…جا کہاں رہی ہو تم ویسے اتنی جلدی میں…ازلان نے اسکو اپنے سائیڈ سے نکلتا ہوا دیکھا تو اسکی کلائی تھام کر اسکو پھر سے اپنے سامنے کھڑا کر کے بولا …
…..ایک بہت ضروری کام ہے میں کچھ دیر میں واپس آ جاؤں گی وہ اسکی گرفت میں موجود اپنی کلائی چھوڑا کر بولی تھی…
….کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ازلان کی اس حرقت سے تھوڑی گھبرا جاتی کیونکہ آج تک ازلان نے اس طرح سے اسکا ہاتھ نہی تھاما تھا….
…لقین اس وقت وہ اپنی پریشانی میں اس بات کو محسوس ہی نہی کر پائی تھی…
….مجھے بتاؤ کہاں جانا ہے تمھیں میں لے کار چلتا ہوں تمھیں آج ڈرائیور بھی نہی ہے اکیلی کیسے جاؤگی تم ازلان تھوڑا فکرمندی سے بولا تھا….
…نہی نہی میں خود چلی جاؤں گی مجھے ویسے بھی زیادہ دور نہی جانا ہے آیت اپنے قدم بڑھاتے ہوئے بولی تھی جبکی اسکی جلدبازی سے ازلان کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا ورنہ وہ کبھی ایسا برتاؤ نہی کرتی تھی…..
….تم روکو ذرا میں بس ابھی کار نکال کر لاتا ہوں ازلان اسکی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بولا اور اپنی کار کی طرف بڑھا تھا وہ اسکا پریشان چہرہ دیکھ کر خود بھی پریشان ہو گیا تھا…..
…میں نے کہا نہ میں خود چلی جاؤں گی مجھے کسی کی کوئی مدد کی ضرورت نہی ہے اور کتنی بار بولوں میں آیت اس بار سختی سے بولی اور بنا اسکی طرف دیکھ گیٹ پار کر گئی تھی…
….جبکی ازلان تو بس حیران پریشان سا کھڑا اسکے الفاظ اور اسکے برتاؤ پر غور کرتا رہ گیا تھا اب اسکو پورا یقین ہو گیا تھا کی کچھ تو غلط ہوا ہے آیت کے ساتھ پر کیا ایک یہ سوال وہ وہاں کھڑا سوچ رہا تھا 💖💖💖💖💖💖💖
……………….
………………
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤…………………
💖💖💖💖💖💖💖اگر تم میری زندگی میں نہ آتی حیا تو میری زندگی بےرنگ ہی رہتی اگر تم نہ ہوتی تو آج بھی میں وہ پہلے والا آذان ہی رہتا…..جو ہر احساس کو بھول چکا تھا….تم نے میری زندگی میں آکر میری بےرونق زندگی میں خوشیاں بھر دی ہیں…
وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا اپنے ہاتھ میں موجود فوٹو فریم کو دیکھ کر بول رہا تھا….
..یہ فوٹو اسکی اور حیا کی حارث کے نکاح کے وقت کی تھی اس میں وہ دونوں ساتھ بیٹھے کتنے اچھے اور مکمل لگ لگ رہے تھے یہ اسکے دل نے بھی کہا تھا…
…وہ بہت خوش رہنے لگا تھا ہر چیز اسکو اب خوبصورت لگنے لگی تھی حیا کے ساتھ نے اسکے پیار نے اسکو پوری طرح بدل کر رکھا دیا تھا ورنہ تو وہ ہنسنا بھی بھول چکا تھا….اور اگر آج حیا اسکی زندگی میں نہ آتی تو اور اس سوچ پر آکر وہ رک جاتا تھا ……
…وہ اپنی انہی سوچوں میں گم تھا جب اسکا فون بجا تھا سکرین پر حیا کا نام دیکھ کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی تھی….
…..میری محبت میں کتنی شدّت ہے کی میں بلکل ابھی تمھیں ہی یاد کر رہا تھا اور تمہرا فون بھی آ گیا …..
….وہ اپنا سر سیٹ کی بیک سے ٹیکا کر فوٹو فریم کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اسکی کال ریسیو کرتے ہوئے بولا تھا…..
…..آذان وہ میں حیا اسکی بات کے جواب میں بس اتنا ہی بول پائی تھی…
…ہاں بولو آذان کی جان میں سن رہا ہوں آذان اپنے لہجے میں محبت سمیٹ کر بولا…
…آذان وہ آیت گھر پر نہی ہے میں نے ہر جگہ تلاش کر لیا اسکو ردا سے پوچھ لیا پر وہ مجھے گھر پر کہیں نہی ملی ہے….حیا ایک سانس میں بس بولتی چلی گئی تھی ..
….تو اسمے اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے جان کسی کام سے باہر گئی ہوگی تم فون کر کے پتا کر لو نہ آذان اسکو سمجھتے ہوئے بولا….
…آذان یہ ہی تو پریشانی والی بات ہے اسکا فون بند جا رہا ہے مجھے کچھ عجیب لگ رہا ہے آذان آیت نے کبھی ایسا نہی کیا ہے وہ بنا بتاۓ کہیں نہی گئی اور اسکا فون بھی بند نہی ملتا ہے…..حیا کی اس بار آواز میں پریشانی تھی جسکو آذان اچھے سے محسوس کر سکتا تھا…
…تم پریشان مت ہو میں ازلان کو کال کرتا ہوں اور ہاں حیا تم بی جان کے سامنے کچھ ذکر مت کرنا وہ پریشان ہو جایں گی وہ ابھی اسکو سمجھا ہی رہا تھا جب اسکے روم میں حارث داخل ہوا تھا اسکے چہرے پر بھی پریشانی وہ دیکھ سکتا تھا….
….اچھا حیا سنو میں بعد میں کال کرتا ہوں اور جو میں نے کہا ہے وہ یاد رکھنا وہ حیا کو ہدایت دیتا فون کٹ کر چکا تھا اب وہ سامنے کھڑے حارث کی طرف دیکہا جو اس کی بات ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
…اور حارث نے جو اسکو بتایا اس سب کو سن کر آذان کا غصّے سے برا حال ہول گیا تھا۔۔۔وہ غصّے میں اپنی چیئر سے کھڑا ہوا تھا…
…آذان تم اکیلے نہی جاؤگے میں بھی چل رہا ہوں تمہارے ساتھ حارث اسکے غصّے سے لال چہرے کو دیکھ کر بولا تھا….وہ اچھے سے جانتا تھا آذان غصّہ میں کسی چیز کی پرواہ نہی کرتا تھا ہر ایسے میں اسکے ساتھ اسکا ہونا ضروری تھا…..
….نہی حارث تم یہیں رہو میں نے جو کہا ہے بس جلد سے جلد وہ کرو اور مجھے اس جگہ کا ایڈریس دو آذان اسکو روکتے ہوئے بولا تھا…
…نہی آذان تمہارا وہاں اکیلے جانا ٹھیک نہی ہے تم سمجھتے کیوں نہی ہو حارث اسکے وہاں اکیلے جانے پر راضی نہی تھا….
…حارث اب میں کچھ نہی سننا چاہتا ہوں وہ کرو جو میں بول رہا ہوں آذان نے اس سے کہا اور اپنے روم سے نکل گیا تھا جبکی حارث نے اپنے دوست کی خیریت کی لئے دعا مانگی تھی..💖💖💖💖💖💖.
……………
…………..
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤…
…………
💖💖💖💖💖💖💖💖میرا بہت دل گھبرا رہا ہے ردا میں ایسے نہی بیٹھ سکتی مجھے جانے دو تم حیا نے ردا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا….
….حیا ڈر تو ہمیں بھی لگ رہا ہے ہمیں بھی آذان اور آیت کی بہت فکر ہے مگر تم خود ہی سوچوں کی تم وہاں جا کر کیا کروگی ردا اسکو سمجھاتی ہوئی بولی تھی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر پھر سے اسکو صوفہ پر بیٹھایا تھا….
…ہاں بھابھی ردا بلکل ٹھیک کہ رہی ہے ویسے بھی ہم کچھ نہیں کڑ سکتے ہیں حارث نے سختی سے مجھے منا کیا ہے کی آپ لوگوں کو کہیں نہ جانے دوں تو بہتر ہے ہم یہاں بیٹھا کر بس دعا کر سکتے ہے کی اللّه بھائی اور آیت کی حفاظت کرے ورنہ آپ تو جنتی ہی ہیں آپ سے پہلے میں وہاں موجود ہوتا…پر مجھے پورا یقین ہے کی وہ میرے بھائی کا کچھ نہی بگاڑ سکتا ہے ازلان پورے یقین سے بولا تھا…
…ازلان بھی اسکو سمجھا رہا تھا جو دونوں میں سے کسی کی سننے کو تیار ہی نہی تھی….
…جب سے حارث نے ان لوگوں کا آیت کا دلاور کے پاس جانے کا بتایا اور پھر یہ بھی کی آذان بھی وہاں جا چکا ہے تو یہ سن کر وہ تینوں اس وقت سخت پریشان تھے…
…ویسے بھی اب کوئی راز باقی نہیں رہا تھا ان لوگوں کے بیچ ازلان تو پہلے سے ہی سب کچھ جانتا تھا اور اب ردا سے بھی یہ بات راز نہی رہی تھی …ردا اور ازلان نے حیا کو بتا دیا تھا کی وہ دونوں سب کچھ جانتے ہے بس ایک بی جان تھی جو اس راز سے محروم تھی اور ان لوگوں کا کوئی ارادہ بھی نہی تھا انکو بتانے کا……
….تم دونوں نہی جانتے ہو وہ کتنا خطرناک شخص ہے پلز مجھے آذان کے پاس جانے دو میں یہاں ایسی ہی نہی بیٹھ سکتی مجھے انکے پاس جانا ہے ….
…حیا اب روتے ہوئے بولی تھی اسکا بس نہی چل رہا تھا کی وہ پل میں آذان کے پاس پھوچ جاتی اسکا دل بری طرح گھبرا رہا تھا…..
…ازلان بلکل ٹھیک که رہا ہے وہ آذان کا کچھ نہی بگاڑ سکتا..حیات تم پلز ایسا مت کرو سب ٹھیک ہوگا آذان اکیلے نہی ہے حارث بھی تو ہیں انکے ساتھ بس تم دعا کرو کی وہ لوگ آیت کو لیکر ہی واپس آۓ ردا اسکو اپنے گلے سے لگاتے ہوئے بولی تھی وہ خود بھی بہت پریشان تھی …..
….میری سمجھ نہی آ رہا ہے آیت آخر گئی ہی کیوں ہے اسکے پاس..وہ ہمیں بھی تو کچھ بتا سکتی تھی…ازلان کو آیت پر بھی اس وقت بہت غصّہ آ رہا تھا وہ بنا بتاۓ کیوں گئی اور وہ بھی جھوٹ بول کر….
….دلاور نے ہی کچھ کہا ہوگا اسکو اور وہ ہم لوگوں کو مزید پریشان نہی کرنا چاہتی تھی تم نے دیکھا نہی کچھ دنوں سے وہ کتنا چپ چپ رہنے لگی تھی کچھ یاد آنے پر ردا بولی تھی جبکی حیا بھی اسکی بات سے متفق ہوئی تھی اسکو بھی وہ الجھی الجھی سی لگی تھی …
…ازلان بھی ردا کی بات سن کر چپ ہو گیا تھا اسکی نظروں کے سامنے کچھ دیر پہلے والا منظر گھوم گیا تھا کاش وہ اسکو صبح روک لیتا تو اب وہ لوگ اس وقت اس حال میں نہ ہوتے…..💖💖💖💖💖💖💖
……………..
……………..
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤..
…………….
💖💖💖💖💖💖💖💖وہ دلاور کے بتائے ہوئے پتا پر پھوچی تھی …
وہ ایک گھر کے اندر داخل ہوئی تھی یہ ایک سنسان سی جگہ تھی….
…تو آخر تم آ ہی گئی مجھے یقین تھا تم ضرور آؤگی …..
….دلاور خان آیت کو سامنے سے آتا ہوا دیکھ کر بولا تھا اور ایک شاتر مسکراہٹ اسکے ہونٹھوں پر تھی….
…جبکی اسکی بات سن کر آیت کو بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا….پر اب تو وہ آ گئی تھی اور اسکو یہ بھی جاننا تھا کی اسنے اسے یہاں کیوں بلایا ہے..
…تم بھی اپنی ماں کیطرح ہی نکلی جس طرح وہ میری باتوں میں آسانی سے آ گئی تھی آج اسی طرح تم بھی میری باتوں میں آ گئی ….
….دلاور خان شیطانی مسکراہٹ ہونٹھوں پر سجا کر بول رہا تھا …
….جبکی اسکی بات سن کر آیت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کی وہ کیسے بھول گئی تھی یہ شخص کبھی نہیں بدل سکتا ہے ….اسکو اپنی بےوکوفی پر جی بھر کر غصّہ آ رہا تھا…اس نے یہ کیسے سوچ لیا تھا کی اسنے اس سے معافی مانگنے کے لئے یہاں بلایا ہے….
…..تمہیں کیا لگا میں نے تمھیں یہاں مافی مانگنے کے لئے بلایا ہے ….
..دلاور خان ایک جھٹکے میں اسکے پاس آکر اسکو بالوں سے پکڑ کر بولا تھا….
ایسا کرنے سے آیت کی چیخ نکل گئی اور اسکی انکھو میں آنسو آ گئے …..
…نہ نہ ابھی نہیں ان آنسو کو ابھی برباد مت کرو کیوں کی انکی تمہیں باد میں بہت ضرورت پڑے گی….
……دلاور نے اسکو ایک جھٹکے سے چھوڑا ….
دیکھو مجھے جانے دو.. …ورنہ تمہارے لئے اچھا نہی ہوگا.. ..آیت نے روتے ہوئے دلاور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ….
….چلو ٹھیک ہے میں تمھیں جانے دونگا لیکن …
…دلاور خان سامنے سوف پر بیٹھتے ہوئے بولا ….
….آیت اسکی بات سن کر ایک پل کو خوش ہی تھی …..
لقین کیا….
….آیت نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا کچھ کچھ تو وہ سمجھ رہی تھی پر پھر بھی وہ اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی ….
…لقین بدلے میں تمھیں اپنا سب کچھ اپنی ساری دولت میرے نام کرنی ہوگی بولو منظور ہے….
…..اگر نہیں ہے تب بھی میں تم سے سب کچھ چھین لونگا ….دلاور نے آیت کو وارن کرتے ہوئے بشر کو پیپر لانے کا اشارہ کیا ….
..جبکی اسکی بات سن کر آیت کا شک یقین میں بدل گیا تھا کی دلاور صرف اس سے اسکی سری دولت لینا چاہتا تھا …..اسکو رہ رہ کر اب بہت رونا آ رہا تھا اور وہ بہت پچھتا بھی رہی تھی کی کیوں وہ اسکی باتوں میں آ گئی تھی….
..نہیں وہ میری ماں کی دولت اور میں اپنی ماں کے قتل کو یہ سب واپس نہی دوں گی میں یہ سب اس شخص کو کبھی نہیں دونگی کبھی نہی .. …..
….میں ایسا کبھی نہیں کرونگی سمجھے تم ….آیت نے غصے سے کہا ……
تم کیا تمہارے تو اچھے بھی ان پیپر پر سائن کریں گے اگر اپنی خیر چاہتی ہو تو شرافت سے کر دو ورنہ مجھے زبردستی بھی کرنی آتی ہے….
……دلاور نے دہاڈتے ہوئے کہا ..
…..اتنے میں بشر بھی پیپر لیکر وہا آ گیا تھا ……
چل چپ چاپ سائن کر ورنہ تو مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہی ہے…
…دلاور نے گن اسکے سر پر رکھتے ہوئے شیطانی مسکراہٹ سے کہا …….
….جبکی آیت اسکے ہاتھ میں گن دیکھ کر ایکدم سے گھبرا گئی تھی …..اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے…
نہیں آیت تم سائن نہیں کرو گی ….
…..آیت جو دلاور سے ڈر کر پیپر پر سائن کرنے ہی والی تھی جانی پہچانی آواز سن کر آیت کے ساتھ ساتھ دلاور اور بشر نے بھی آنے والے کی طرف دیکھا تھا …….💖💖💖💖💖💖جاری ہے…..