Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

💖💖💖💖💖💖 وہ اپنے کمرے میں بیڈ سے نیچے بیٹھی آنسو بھا رہی تھی شاید اب یہ ہی سب تو تھا اسکی قسمت میں اور اب وہ آنسو بہانے کے صوا اور کر بھی کیا سکتی تھی اسکا روز کا یہ ہی معمول تھا گھنٹو بیٹھ کر روتی رہتی تھی جب رونے سے دل نہی بھرتا تھا زور ذور سے چیخنے لگتی تھی یہ جانے بغیر کی دو معصوم آنکھیں اسکے دیکھتی رہتی تھی اسکے درد اور تڑپ دیکھ کر وہ دو آنکھیں بھی روتی تھی پر وہ بھی بے بس تھی کچھ نہی کار سکتی تھی صرف اسکا درد اپنے اندر اتارتی رہتی تھی…
…وہ اب بھی بیٹھی اپنی قسمت پر رو رہی تھی جب کوئ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا..اور چل کر اسکی اسکی برابر میں ہی بیٹھ گیا تھا..
..اس آنے والی ہستی کو دیکھ کر اسکے رونے میں مزید روانگی آ گئ تھی کیوں کی وہ بھی اسی کی طرح بے بس تھی..
…مجھے بتایں نا صرف کمزور اور بے بس لوگوں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ہر بار ایک کمزور کی ہی ہار ہوتی ہی آخر ایسا کیوں ہوا ہم نے تو آج تک کسی کا برا نہی کیا تو ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا مجھے جواب چاہیے اب بقایدہ رونے سے اسکی ہیچکی بند گئ تھی اور وہ روتے روتے اس ہستی کے گود میں سر رکھ کر لیٹ گئ تھی…
…یہ تو دنیا کی ریت ہے کی ظلم تو بے بس اور کمزور پر ہی ہوتا آیا ہے اور یہ دنیا بھی بس طاقتور لوگوں کا ساتھ دیتی ہے اور ہم اتنے طاقتور نہی ہے کی دنیا ہمرا ساتھ دے ہم جیسے کے پاس ظلم سہنے کے علاوہ اور کوئ راستہ بھی تو نہی ہے چپ رہینگے تو اپنی اور اپنے گھر والو کی حفاظت کر پاینگے وہ اور مجھے معاف کر دو میری جان میں تمہارے لئے کچھ نہی کڑ سکا اس دنیا کی غلط نظروں سے تمھیں بچا نہی سکا وہ بھی اسکے ساتھ ساتھ رونے لگے تھے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی دو آنکھیں یہ منظر دیکھ رہی تھی اور اسکی آنکھوں سے بھی آنسو بہ رہے تھے…
…نہی آپ کیوں مافی مانگ رہے ہیں اپنے آج تک جو کچھ ہمرے لئے کیا ہے وہ کم نہی ہے یہ تو میری قسمت میں لکھا تھا وہ انکے آنسو صف کرتی ہوئی بولی تھی..
…اسکی بات سن کر وہ بھی چپ ہو گئے تھے اور کہتے بھی کیا کچھ تھا ہی نہی کہنے کو انکے پاس بس دعا تھی جو وہ اسکے لئے کر سکتے تھے💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖حارث تم نے پتا لگایا ہے کی نہی جس کام کا میں نے تم سے بولا تھا وہ اپنے کمرے کی گلاس وال کے پاس کھڑا لاں میں بیٹھی حیا کو دیکھ رہا تھا اسکے روم سے پورا لان نظر آتا تھا…
.. تھوڑی دیر پہلے حارث ہی اسکو زبردستی لان میں لیکر آیا تھا اسکا من نہی تھا کہیں بھی جانے کا پر اسکو حارث کی بات ماننی ہی پڑی تھی کیوں کی حارث کی اور اسکی ایک دو بار بات ہو چکی تھی اور اس سے بات کرنے کے بعد حیا کو کافی اچھا لگا تھا…
باہر کا موسم کافی اچھا ہو رہا تھا اور وہ اس موسم کی دیوانی تھی اس لیے لان میں آکر بیٹھ گئ تھی کچھ دیر حارث اسکے پاس بیٹھا رہا پھر آذان سے بات کرنے کے لئے اسکے روم میں آ گیا تھا..جب کی آذان کب سے کھڑا ان دونو کو ہی دیکھ رہا تھا..
… اس وقت وہ آذان کو گرین کلر کے سوٹ میں بہت ہی نکہری نکہری سی اور اسی ماحول کا ایک حصّہ لگی تھی …
..ہاں پر ابھی کچھ پتا نہی چلا ہے لیکن میں پوری کوشش کرونگا کی جلد سے جلد یہ کام ہو..حارث نے آذان کی بات کا جواب دیا جو آذان کے پیچھے ہی کھڑا تھا..
..کوشش نہی تمھیں یہ کام کرنا ہے اور کم وقت میں سمجھ گیے وہ بات حارث سے کر رہا تھا پر اسکی نظریں باہر اسی کو دیکھ رہیں تھی جو اس وقت آسمان میں دیکھتی پتانہی کیا تلاش کر رہی تھی..
..ٹھیک ہے…. وہ آذان تم بی جان کو کب بتاؤگے یہ بات کیوں کی یہ بات چھپا نے والی نہی ہے..حارث اسکی بات کا جواب دے کر کچھ سوچتے ہوئے اس سے بولا تھا ….
..حارث کی بات سن کر اسنے اب اپنا رخ اسکی طرف کیا تھا…
..ہاں میری بی جان سے کل بات ہوئی تھی اور میں تمھیں یہ ہی بتانے والا تھا کی میں آج ہی جا رہا ہو بی جان کے پاس آیت کو لے کر اسنے اپنا فیصلہ سنایا تھا میں جانتا ہو بی جان کو دکھ تو ہوگا مگر میں انکو سمجھا دونگا اور ہاں حارث بی جان کو اسکے بارے میں کچھ پتا نہ چلے تم سمجھ رہے ہو نہ..
..اسکی بات پر حارث نے ہاں میں گردن ہلا دی تھی وہ جانتا تھا اگر وہ نہ بھی کہتا تو بھی وہ اپنی زبان بند ہی رکھتا..پر حارث تم نے حیا سے بات کی حارث نے اپنے من میں آیا سوال آذان سے پوچھا تھا…
…مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہی ہے حارث وہ وہی کریگی جو میں بولونگا آذان کا لہزا سخت تھا اسکی بات سن کر حارث چپ ہو گیا تھا وہ کہ بھی کیا سکتا تھا…
..میں جا رہا ہو اگر تم نے آنا ہے تو آ جانا وہ اسکو بتا کر لان کی طرف چل دیا تھا جبکی حارث صرف اپنی گردن ہلا کر رح گیا تھا💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖اس وقت کار میں بلکل خاموشی تھی آذان کار ڈرائیو کرتے وقت اس پر ایک نگاہ بھی ڈال رہا تھا وہ کھڑکی کے بہار دیکھ رہی رہی تھی…
…جب آذان نے اسکو اپنے ساتھ چلنے کے لئے بولا تو پہلے تو اسنے سوچا منا کر دے پر آذان کی آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر اپنے انکار کو اسنے اپنے اندر ہی دبا دیا تھا…
آذان نے اسکو وہا پر کسی کو کچھ بھی بتانے سے منہ کیا تھا جس پر وہ صرف خاموش ہی رہی تھی..
پورا سفر خاموشی سے کٹا تھا انکی گاڑی ایک بہت ہی بڑے بنگلو کے پورچ میں آکر رکی تھی وہ حیرت سے اس خوبصورت منزل کو دیکھ رہی تھی اسکا یہ گھر بھی اس گھر جتنا ہی بڑا اور خوبصورت تھا جس میں وہ رہتا ہے..اسکا یہ گھر شہر سے باہر بنا ہوا تھا جب کی دوسرا گھر اسنے شہر میں بنایا تھا
..وہ اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر باہر آیا اتنے میں وہ بھی کار سے نکل چکی تھی اسکو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا وہ آگے بڑھ گیا تو وہ بھی اسکے پیچھے چل دی تھی..یہ گھر اندر سے بھی اتنا اچھا تھا جتنا باہر سے تھا ڈرائنگ روم میں آکر وہ رکا اور اسکو ایک صوفہ پر بیٹھ نے کا کہ کر وہ چلا گیا..
.. جب واپس آیا تو اسکے ساتھ ایک بزرگ سی خاتون تھی وہ خوش ہوتے ہوے اسکے ساتھ آ رہی تھی پر اسکو دیکھ کر ایک پل کے لیے رکی تھی..
..اور انکے پیچھے آتی ردا اور ازلان نے سوالیہ نظروں سے آذان کی طرف دیکھا تھا..اسنے پہلے ہی فون کر کے بی جان اور باقی سب کو بتا دیا تھا کی وہ سب کو کسی سے ملاوانا چاہتا ہے..
..تم اس سے ہمیں مل وانا چاہتے تھے پر کون ہے یہ سوال بی جان کی طرف سے آیا تھا…
…یہ حیا آذان شاہ ہے بی جان کچھ پل خاموش رہنے کے بعد وہ بولا تھا اس وقت وہ بی جان سے نظریں نہی ملا پا رہا تھا..
..اسکی بات سن کر وہا ڈرائنگ روم میں کچھ پل کے لیے خاموشی چھا گئ تھی…
تم نے ہمیں بن بتایے شادی کر لی اپنی بی جان کو کچھ بھی بتانا ضروری نہی سمجھا بی جان کی آواز میں گہرا دکھ تھا وہ گرنے کے انداز میں صوفہ پر بیٹھی تھی وہ تو آج خود آذان سے اسکی شادی کے بارے میں بات کرنے والی تھی پر انکو کیا خبر تھی کی آذان انکے سامنے ایک انجن لڑکی کو لاکر کھڑا کریگا اور کہیگا کی وہ اسکی بیوی ہے…انکو تو یقین ہی نہی آ رہا تھا.. آذان انکے قدموں میں آ بیٹھا تھا..
….اور ایک طرف ..ردا کے لیے یقین کرنا مشقل لگ رہا تھا ابھی تو اسے لگنے لگا تھا کی اسکے ایک طرفہ پیار کو منزل مل جاےگی ابھی تو اسکو یقین ہو چلا تھا کی اسکا خواب پورا ہونے والا ہے اسکے لیے خود کو سمبھالنا مشقل تھا مگر اسکو سمبھالنا تھا ابھی کے لیے جب تک وہ یہاں کھڑی تھی جبکی ازلان سب جانتا تھا اسکو خوشی بھی تھی اور غم بھی اس لڑکی کے لیے…
..بی جان یہ سب اتنا جلدی ہوا کو میں خود بھی سمجھ نہی سکا تھا میں حیا کو بہت چاہتا ہوں بی جان اور اسکا اس دنیا میں کوئ نہیں ہے اور جہاں یہ رہتی تھی وہ لوگ حیا کو پریشان کرنے لگے تھے تو بس مجھے جلدی جلدی میں یہ سب کرنا پڑا مجھے معاف کر دیں بی جان آپکو بتانے کا موقع نہی ملا آذان نے بہت اچھے سے بات سمبھالی تھی
… جبکی اسکی جھوٹی کہانی سن کر حیا کو اسکی چالاکی پر بہت غصّہ آیا تھا خود کو بچانے کے لیے کیسے جھوٹی کہانی سنا رہا ہے اپنے گھر والوں کو ظالم انسان وہ دل ہی دل میں اسکو سنا رہی تھی..
..ردا کو اسکے منہ سے محبت لفظ سن کر وہا کھڑے رہنا مشقل لگ رہا تھا..اسکو لگ رہا تھا اگر وہ کچھ دیر ایسے ہی کھڑی رہی تو اپنے بندھے گئے آنسو بہنے لگے گے..
..آپ ہی بتایے بی جان کیا میں نے غلط کیا اپنی محبت کی حفاظت کر کے اسنے بی جان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا…
..حیا کے لیے اسکی باتیں سن نا برداشت سے باہر ہو رہا تھا پر کیا کر سکتی تھی چپ چاپ کھڑی رہی..
..اسکی بات سن کر بی جان نے اسکی طرف دیکھا تھا پھر کچھ ہی فاصلے پر کھڑی حیا کو دیکھا گرین کلر کے خوبصورت سے سوٹ میں سر پر صلیکے سے لیا گیے دوپٹے میں وہ بہت ہی خوبصورت لگی تھی انکو آذان کی پسند پر فخر ہوا تھا…اسنے کچھ غلط نہی کیا تھا اپنے پیار کی حفاظت کر کے پر اسنے حیا کے بارے میں ان سے چھپا کر رکھا تھا اس بات کا انکو بہت افسوس تھا پر وہ اسکو کہنا نہی چاہتی تھی…
…اور …تبھی انکی نظر پاس کھڑی ردا پر پڑی جو خود کو سمبھالے کھڑی تھی اسکو دیکھ کر انکو بہت ہی افوس ہوا تھا لیقن وہ کیا کر سکتی تھی وہ مجبور تھی..اپنے جان سے پیارے پوتے کا بھی دل نہی توڑ سکتی تھی..
..رانی جاؤ جاکر بڑی بیگم کو آذان صاحب کے کمرے میں لے کر جاؤ بی جان نے ملاذمہ کو آواز دے کر کاہا تو وہ حیا کو اپنے ساتھ اپر آذان کے کمرے کی طرف لے کر چلی گئ…
..تم نے جو کیا ٹھیک کیا تھا پر تمہارا طریقہ غلط تھا خیر اب جو ہو گیا ہے اسکو ہم بدل تو نہی سکتے ہے ہمیں خوشی ہے کی تم نے اپنے بارے میں سوچا ہم تمہری شادی بڑی دھوم دھام سے کرنا چاہتے پر اللّه کو جو منظور اب تم شادی تو کر ہی چکے ہو پر ولیمہ ہم ضرور کرینگے آخر ہمارے پوتے کی شادی ہوئی ہے آخر میں وہ مسکرا کر بولی تھی اور آذان کو اپنے برابر میں بیٹھایا تھا انکی بات سن کر آذان کو کچھ پرسکوں ہوا تھا ورنہ اسکو لگا تھا بی جان اس سے ناراض نہ ہو جائے اس لیے وہ اب ہلکا فلکا ہو گیا تھا….
..بی جان آپ میری ایک اور آخری بات مانے گی وہ ان سے التجا کرتے ہوے بولا تھا..
..ہاں بولو میری جان انکے لہزے میں پیار ہی پیار تھا..
..بی جان میں چاہتا ہوں آپ بڑا نہی بس چوٹا سا فنکشن کرے بس کچھ خاص لوگ وہ بڑا فنکشن نہی چاہتا تھا حیا کو ابھی سب کے سامنے نہی لانا چاہتا تھا وہ..
..ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری مرضی بس مجھے تمہاری خوشی کرنی ہے چھوٹی ہی سہی وہ راضی ہوتے ہوے بولی تھی..
..تھنک یو بی جان آپ بہت اچھی ہے وہ انکے گلے لگتے ہوے بولا..
..آج میں بہت خوش ہو کم سے کم گھر میں ایک ممبر کا تو اضافہ ہوا ہے بہت دیر سے چپ کھڑا ازلان بولا تھا اسکی بات سن کر بی جان مسکرا دی تھی جب کی ردا بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئ تھی بی جان نے اسکو جاتے دیکھا تو وہ افسوس کر کے رہ گئ تھی..وہ مجبور تھی وہ آذان کی محبت اس سے نہی چھین سکتی تھی وہ جانتی تھی اس سے ردا کو بہت تقلیف ہوگی پر انکے ہاتھ میں کچھ نہی تھا انہونے تو بس اپنے بچچو کی خوشی چاہی تھی پر انجانے میں ایک کا دل بھی ٹوٹ گیا تھا..💖💖💖💖💖