No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
💖💖💖💖💖نور تمہارے مجرم کو سزا ملنے والی ہے اور وہ دن دور نہی ہے جب وہ پوری طرح برباد ہو جایگا میں نے وداع کیا تھا نہ کی میں اس سے اسکا سب کچھ چھین لونگا اور وہ تڑپگا جس طرح تم تڑپی تھی اسنے جو تمہارے ساتھ کیا اسکی سزا تو اسکو ملنے والی ہے…
..وہ نور کی قبر کے پاس بیٹھا اسکو اپنا وعدہ یاد دلا رہا تھا اور پچھلے پندرہ سلو سے وہ روز اسکی قبر پر آتا تھا کتنا کچھ بدل گیا تھا ان پندرہ سالوں میں وہ پندرہ سالہ بچچہ آج جوان ہو چکا تھا سب کچھ بدل گیا تھا اسکی زندگی میں آج وہ پہلے کی طرح کمزور نہی تھا آج وہ اتنا طاقتور بن گیا تھا کی کوئ اسکو ہرا نہی سکتا ہے …
…ان گزرے پندرہ سالوں میں اس نے اپنا ایک نام بنایا تھا جسکو دنیا آذان شاہ کے نام سے جانتی تھی وہ بچپن سے ایسا نہی تھا بس زندگی میں ملے دکھوں نے اسکو ایسا بنا دیا تھا اسکی بہن کے ساتھ ہوئے حادثے نے اسکی بہن کے ساتھ ساتھ اسکا بھی سب کچھ چھین لیا تھا اسنے ہسنا مسکرانا چھوڑ دیا تھا وہ پورا بدل گیا تھا صرف ایک چیز تھی جو وہ نہی بھولا تھا اور وہ تھا اسکا بدلہ..
…ایک بار ہر روز کی طرح وہ نور کی قبر پر بیٹھا تھا جب اسکی ملاقات حارث سے ہوئی انہی دنوں اسکے والد کا انتقال ہوا تھا اسکا غم دیکھ کر اذان کو اپنا غم یاد آ گیا تھا اور یوں ان دونو کی ملاقات دوستی میں بدل گئ تھی آذان کا کوئ دوست مل گیا تھا اور پھر اسنے حارث کو اپنے بارے میں بتایا تھا حارث کو نور کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا تھا اور پھر یوں حارث آذان کے ہر کام میں اسکی مدد کرنے لگا تھا یوں حارث ان کے گھر کا ایک ممبر بن گیا تھا…
…صرف بی جان اور ردا آذان کے بدلے کے بارے میں کچھ نہی جانتی تھی اور آذان نے بتانا ضروری نہی سمجھا تھا پر ازلان کو حارث نے سب کچھ بتا رکھا تھا اور یہ بات آذان نہی جانتا تھا وہ ان سب کو ان سب سے دور رکھنا چاہتا تھا اور یہ ہی وجہ تھی کی اسنے شہر سے باہر انکے لئے گھر بنایا ہوا تھا…وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب اسکا فون بجا تھا حارث کا نمبر دیکھ کر اسنے کال ریسیو کی تھی.
💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖ویسے بی جان بھائی نے شادی کر کے بہت اچھا کیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ فایدہ مجھے ہوا ہے ازلان پاس بیٹھی حیا کو دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا تھا..
..اسکی بات سن کر ردا اور بی جان نے نہ سمجھنے والے انداز میں اسکی طرف دیکھا تھا شام کا وقت تھا وہ لوگ لان میں بیٹھے کافی پی رہے تھے جبکی آذان صبح سے ہی اپنے کمرے سے نہی نکلا تھا وہ جب یھاں آتا تھا آفس تو نہی جاتا تھا پر یہیں سے بیٹھے بیٹھے وہ اپنے آفس کا کام کرتا رہتا تھا…
..اچھا کیا فایدہ ہوا ہے ہمیں بھی تو پتا چلے بی جان مسکرا کر بولی تھی…
….میرا فایدہ یہ ہوا ہے کی میں آپ لوگوں کی کمپنی سے بور ہو گیا ہوں اب مجھے نئی کمپنی مل گئ ہے بھابھی کی جو ردا تم سے تو کئی گنہ بہتر ہے اسنے ردا کی طرف منہ بنا کر کہا تھا …
…وہ تینو ازلان کی بات سن کر اسکے جواب کا انتظار کر رہی تھی کی پتا نہی اسکو کیا فایدہ ہوا اسکا یہ جواب سن کر بی جان تو ہنس پڑی تھی اور حیا بھی مسکرا دی تھی جبکی ردا کا منہ بن گیا تھا…
…کتنے برے انسان ہو تم ازلان ہمارے ہی منہ پر ہمری برائی کر رہے ہو تم اب آنا کسی کام کے لئے میرے پاس پھر دیکھتی ہوں تمھیں تو میں ردا نے ایک مکّہ اسکے بازو پر مرتے ہوے بولی ازلان اور وہ دونوں ایسے ہی آپس میں لڑتے رہتے تھے..
..یہ تو غلط بات ہے ازلان ردا اور بی جان کی کمپنی میں کوئی بور ہی نہی ہو سکتا ہے حیا نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوے کہا تھا اور یہ سچ بھی تھا ان کچھ ہی دنون میں وہ ان لوگوں کے بہت قریب ہو گئ تھی..
اور میرے بارے میں کیا خیال ہے آپکا اس بار ازلان نے اپنے بارے میں جاننا چاہا تھا..
..تم سب سے الگ ہو کیوں کی تم اپنے ساتھ ساتھ دوسرو کو بھی خوش رکھتے ہو سبکے چہروں پر خوشی لاتے ہو اور یہ بات تمھیں سب سے الگ بناتی ہے اس نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی تھی اسکی بات سن کر بی جان اور ردا نے مسکرا کے اسکی طرف دیکھا تھا جیسا بھی تھا ردا وہ کو بہت اچھی لگی تھی اتنا خوبصورت ہونے کے بعد بھی اس میں کوئ بناوٹ کوئ دیکھاوا نہی تھا…
..بھابھی بس آپ یہیں رہیں اور روز میری تعریف کرتی رہے یہ ردا تو جل جل کر راخ ہو جاےگی اسنے ردا کو پھر چڑایا تھا..
…ایسا تو فلحال ممقن نہی ہے کیوں کی تمہاری بھابھی جا رہی ہے واپس آذان سامنے آتا بولا تھا اسکی آواز سن کر تینوں نے اسکی طرف چونک کر دیکھا تھا وہ سمجھے نہی تھے اسکی بات جب کی حیا نے اسکی طرف نہی دیکھا تھا وہ جانتی تھی وہ کیا بات کرنے والا ہے..
..کیا مطلب ہے آذان کہاں جا رہی ہے حیا بی جان نے اسکے پاس آتے ہی پوچھا تھا..
..صرف حیا نہی بی جان میں بھی دراصل میری کل ایک بہت ضروری میٹنگ ہے جس کی وجہ سے ابھی ہمے جانا ہوگا..
..وہ بی جان کے پاس آکر بیٹھا تھا اور سامنے ردا اور ازلان کے ساتھ بیٹھی حیا کو دیکھا..
..بلیک اینڈ ریڈ کلر کے سوٹ میں سر پر اچھی طرح دوپٹہ لئے وہ ہمیشہ کی طرح اسکو خوبصورت لگی تھی ہر کلر اس پر کھلتا تھا…
..اگر تمہاری میٹنگ اتنی ضروری ہے تو میں نہی روکوں گی لیقن میں حیا کو نہی جانے دوں گی ابھی تو میں اپنی بیٹی کے ساتھ ٹھیک سے رہی بھی نہی ہوں تم بعد میں آکر لے جانا فلحال نہی..
… بی جان کی بات سن کر حیا کو خوشی ہوئی تھی اسنے محبت بھری نظروں سے بی جان کی طرف دیکھا انجانے میں وہ اسکی مدد کر رہی تھی جبکی آذان کو اسکے چہرے پر اسکے ساتھ نہ جانے کی خوشی دیکھ کر بہت برا لگا تھا..
..آپ ٹھیک کہ رہی ہے بی جان پر میں سوچ رہا تھا کی کل کی میٹنگ کے بعد میں اور حیا کہیں گھومنے جاینگے کچھ دن کے لیے پھر واپسی پر میں حیا کو آپکے پاس چھوڑ دونگا..
..اسنے انکو اپنے آگے کے پلان کے بارے میں بتایا تھا..
..اسکی بات سن کر بی جان خاموش ہو گئ تھی وہ کیا کہ سکتی تھی جب وہ سب کچھ سوچ کر بیٹھا تھا اور سہی بھی تھا شادی کے بعد تو ہر کوئ گھومنے پھرنے جاتا ہے اور یہ بات انہونے انکے لئے سوچی ہی نہی تھی جبکی یہ کام انکا تھا انکو برا لگا تھا کی یہ بات خود انکو آذان سے کرنی چاہیے تھی..
…بی جان کو خاموش دیکھ کر حیا کی ساری خوشی ختم ہو گئ تھی ایک امید کی کرن تھی جو اس میں جاگی تھی پر آذان نے اس سے یہ ایک چوٹی سی خوشی بھی چھین لی تھی..
..بھائی آپ سیدھی طرح بولو نا کی آپ بھابھی کو ہنیمون پر لے جانا چاہتے ہو ویسے کہاں لے جانے کا ارادہ ہے ازلان کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھا ایک دم بولا تھا..
..یہ تو میں بس اپنی بیوی کو ہی بتاؤنگا اسنے جیسے بات ہی ختم کی تھی اور حیا کی طرف دیکھا جو اسکو نذر انداز کیے بی جان کی طرف دیکھ رہی تھی..
..آذان کی بات سن کر ایک درد سا تھا جو ردا کے دل میں ہوا تھا اپر سے آذان کا حیا کو بار بار دیکھنا ردا کو درد میں ڈال رہا تھا اسکو حیا سے جلن نہی ہو رہی تھی بس اپنے خواب ٹوٹ جانے کا درد تھا جسکو دبا کر وہ بیٹھی تھی..
..حیا بیٹا تم جو اپنا سامان پیک کر لو جا کر پھر تمھیں نکلنا بھی ہے بی جان اسکو بولا تھا..جو اب چپ چاپ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی …
.اسکی ضرورت نہی ہے بی جان سب پیکنگ ہو چکی ہے میں نے رانی سے کروا لی ہے بس اب ہمے نکلنا ہوگا وہ اٹھ تے ہوے بولا تھا..
..اسکی جھوٹی بات سن کر حیا حیرت سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی کتنا جھوٹا ہے یہ شخص اپنے پریوار والوں سے جھوٹ بول کر اسکو ذرا برا نہی لگتا ہے اس نے جل کر سوچا تھا..
..ابھی سے جا رہے ہو کھانا کھا کر جانا اتنی بھی جلدی کیا ہے اس بار بی جان ناراضگی سے بولی تھی..
..نہی بی جان کھانے کے لیے رکے تو رات ہو جاےگی کھانا ہم وہا جاکر ہی کھا لینگے حیا تم تیار ہو کر آ جاؤ ہم بس اب نکلتے ہے اسنے حیا کو بولا تو وہ بنا کچھ کہے چلی گئ تھی اور کچھ ہی دیر بعد وہ لوگ شاہ ہاؤس سے آذان ویلا کے لئے چل دیے تھے.💖💖💖💖💖
……………………………………………………..
💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖پہلے کی طرح اس بار بھی سفر خاموشی سے کٹا تھا پہلے وہ وہاں جانا نہی چاہتی تھی اور اب وہا سے آنا نہی چاہتی تھی بہت ہی ستمگر تھا اسکا ہمسفر اسکے ساتھ وہ ہی کرتا تھا جو وہ نہی چاہتی تھی..
انکو آتے آتے رات ہی ہو گئ تھی..انکی گاڑی پورچ میں آکر رکی تو وہ اس سے پہلے گاڑی سے نکل کر اندر کی طرف چل دی تھی اسنے اس بڑے سے گھر میں قدم رکھا تو اسکے زخم پھر سے ہرے ہو گیے تھے وہا کچھ دن اسکے سکوں سے گزرے تھے پر یھا پھر واپس آکر اسکو بلکل اچھا نہی لگا رہا تھا وہ دھیرے دھیرے چلتی اندر آئ تو سبھی ملازم اپنے کام میں لگے ہوئے تھے..
..السلام عليكم بڑی بیگم آپکے لیے پانی لاؤں ایک ملازمہ اسکے پاس آتے بولی تھی..
…رحمت خالہ بی جان کی ہی خاص ملازمہ تھی جو یہاں آذان کے پاس کام کرتی تھی اور اب بی جان نے انکو فون کر کے ہدایت دی تھی کی وہ اسکا اچھے سے خیال رکھے..
..وعلیکم السلام نہی میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں اس وقت اسکا کچھ بھی کھانے یا پینے کا دل نہی کر رہا تھا وہ انکے سلام کا جواب دیتی رکی نہی تھی اپنے کمرے کی طرف چل دی تھی اسی گیسٹ روم میں جس میں وہ یھا رہ رہی تھی..
کہاں جا رہی ہو..ابھی اس نے پہلی سیڑھی پر قدم ہی رکھا تھا جب آذان کی آواز اسکو اپنے پیچھے سنائی دی تھی..
..اپنے کمرے میں وہ نیچے زمین کو دیکھتے ہوئے بولی تھی ..
..میرا روم نیچے ہے اپر نہی آذان اسکے جھکے سر کو دیکھ کر بولا تھا وہ سمجھ گیا تھا کی وہ گیسٹ روم کی بات کر رہی ہے..
..پر میں تو اپنے کمرے جا رہی ہوں وہ اپر ہے وہ اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا وہ اپنے روم کی بات کیوں کر رہا تھا..
..میں نے بولا کی میرا روم نیچے ہے اور تم آج سے اسی روم میں رہوگی میرے ساتھ اسنے حیا کے سر پر بم پھوڑا تھا اسکو لگا تھا بی جان کی وجہ سے وہ اسکو اپنے ساتھ رہنے کے لیے مجبور کر رہا ہے مگر یھا تو ایسا کچھ نہی تھا پھر کیوں وہ ایسا کر رہا ہے حیا سمجھی نہی تھی..
..میں اسی روم میں رہنا چاہتی ہوں حیا نے اس بار اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا…
…میں نے کیا بولا ہے تم سے تم میرے روم میں رہوگی بات سمجھ نہی آتی تمھیں اس بار ازاں نے اپنا لہزا نارمل رکھا ہوا تھا..اور اس بار میں انکار نہی سننا چاہتا ہوں وہ حیا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا …
..پر میں..آ جاؤ اس سے پہلے کی وہ کچھ کہتی آذان اسکو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا اپنے روم کی طرف بڑھا تھا وہ اب کر بھی کیا سکتی تھی چپ چاپ اسکے پیچھے چل دی تھی..
..اسکے پیچھے ہی اسنے آذان کے روم میں قدم رکھا تھا تو دیکھتی ہی رہ گئ تھی اسکا یہ روم بی جان کے گھر والے روم سے بھی بہت زیادہ خوبصورت تھا سامنے ہی کنگ سائز بیڈ تھا اور اسی طرح واشروم اور ڈریسنگ روم تھا ایک الگ چیز جو تھی وہ گلاس وال جس سے پورا لان نظر آتا تھا وہ اس روم کی ایک ایک چیز کو دیکھ رہی تھی..
..وہ چلتی ہوئ گلاس وال کے پاس آئ تھی رات میں لائٹ کی روشنی میں لان بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا..
..کتنا خوبصورت ہے بلکل خوابوں کی طرح وہ بےدھیانی میں بول گئ تھی اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ ایک دم چپ ہو گئ تھی..
..ہان بہت ہی خوبصورت ہے وہ اسکی کمر پر بیکھرے بالوں کو دیکھتے ہوئے بولا تھا آج پہلی بار اسنے حیا کے کھلے بال دیکھ تھے جو کافی لمبے تھے آذان کو حیا کا اپنے روم کو اس طرح دیکھ کر کھونا اور بےساختہ تعریف کرنا اچھا لگا تھا..
..آذان کی آواز اپنے قریب سن کر وہ ایک دم مڑی تھی اور آذان کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ گھبرا گئ تھی..
..مجھے اچھا لگا تمھیں یھا بھی کچھ تو اچھا لگا وہ اسکی جھکی پلکوں کو دیکھ رہا تھا اسنے اسکے بہت روپ دیکھ تھے ہر روپ سب سے الگ تھا..
..غلط لگا تمھیں مجھے یہاں کچھ اچھا لگ ہی نہی سکتا ہے وہ پھر اسکی بات سے انکار کر رہی تھی
.. اور اسکا ایسا کرنا ہمیشہ اسکو غصّہ دلا دیا کرتا تھا. اب بھی ایسا ہی ہوا تھا اسنے جھٹکے سے اسکے بالوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا..
..آج تم یہ آخری بار بول رہی ہو اگر آج کے بعد تم نے مجھے آپ کہ کر مخاطب نہی کیا تو یاد رکھنا تمہارے لیے اچھا نہی ہوگا اسنے ایک جھٹکے سے اسکو آزاد کیا تھا آذان کو حیا کا اسکو تم کہ کر بلانا شروع سے ہی اچھا نہی لگتا تھا اسنے سوچا تھا وہ آرام سے یہ بات اسکو سمجھا دیگا مگر ایک تو پھر اسکی بات کا انکار کرنا اپر سے تم کہ کر مخاطب کرنا آذان کو مزید غصّہ دلا گیا تھا وہ چاہتا تھا کی وہ اس پر سختی نا کرے مگر وہ ہر بار کچھ ایسا کر جاتی تھی کی اسکو نہ چاہتے ہوے بھی اس پر سختی کرنی پڑتی تھی ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا…
..ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ خوش ہوا تھا کی حیا کو اس سے جڑی کوئ چیز اچھی لگی تھی مگر پھر اسکا مکر جانا اس سے برداشت نہی ہوا تھا..
وہ ایک نظر اسکو دیکھتا واشروم میں گھس گیا تھا جبکی حیا وہیں گلاس وال سے لگ کر بیٹھ گئ تھی اور اب وہ تھی اور اسکے نہ رکنے والے آنسو..
..جب وہ واشروم سے باہر آیا تو وہ ابھی بھی ایسے ہی بیٹھی ہوئ تھی وہ باہر چلا گیا کچھ ہی دیر بعد حارث بھی آ گیا تھا راحت بی اسکی کھانے کے لیے بلانے آئ تھی پر اسنے منا کر دیا تھا اسکی بھوک مر چکی تھی اس وقت اسکو بی جان بہت یاد آ رہی تھی اس لیے وہ یھا نہی آنا چاہتی تھی وہ کچھ دیر تو ایسے ہی بیٹھی رہی پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی بیڈ پر آکر لیٹ گئ تھی کیوں کی یھا بیڈ کے علاوہ کوئ اور چیز نہی تھی لیٹنے کے لیے..
جب وہ کمرے میں آیا تو حیا کو بیڈ کے بلکل کونے میں سوتا پایا تھا اسنے اسکے ساتھ کھانے کے لیے زبردستی نہی کی وہ جانتا تھا بی جان کے پاس سے آنے کے بعد حیا تھوڑا اداس تھی اور پھر کچھ دیر ہونے والی بات کی وجہ سے بھی اسنے زیادہ زور نہی دیا تھا وہ کپڑے چینج کر کے آیا اور اپنی سائیڈ پر آکر لیٹ گیا کچھ دیر تو اسکی پیٹہ تو دیکھتا رہا پھر کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگا تھا اسکو بار بار آج والی اپنی حرکت یاد ا رہی تھی اسکو حیا کے ستہ ایسا کر کے برا لگا تھا پر وہ کیا کرتا اس کو اپنا غصّہ برداشت کرنا نہی آتا تھا جو اسی پر اتار کر ختم ہوتا تھا کچھ دیر بعد اپنی سوچوں میں ڈوبا وہ بھی گافل ھو گیا تھا
