Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

………
💖💖💖💖وہ اس وقت کمرے میں بیٹھی گلاس وال سے باہر لان کو دیکھ رہی تھی لائٹس کی روشنی کی میں لان اس وقت بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا….
وہ لوگ آج ہی واپس آیے تھے حارث تو کل ہی آفس کے کام کی وجہ سے واپس آ گیا تھا اور آج آذان اسکو گھر چھوڑ کر خود بھی آفس چلا گیا تھا راحت بی سے اسکو پتا چلا تھا کی وہ لوگ آج دیر سے آینگے…
..وہ اس وقت وہ اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی اسکو بی جان اور باقی سب کی بہت یاد آ رہی تھی..
…کتنا روکا تھا بی جان نے اسکو اور انکے روکنے سے وہ کتنا خوش ہو گئ تھی کی اسکو آذان کے ساتھ نہی جانا پڑیگا مگر اس ظالم سے تو اسکی اتنی سی خوشی کہاں برداشت ہوتی تھی پتا نہی بی جان سے کیا کیا بہانے بنایے کی بی جان چپ ہو گئی تھی اور پھر اسکو دوبارہ سے رکنے کے لئے نہی کہا تھا اور پھر ایک بار اسکو زبردستی نا چاہتے ہوئے بھی اسکے ساتھ آنا پڑا تھا….
…وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اسکی نظر بیڈ پر بیٹھی حیا پر پڑی تھی اس وقت وہ گرین کلر کے سوٹ میں بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی جب کی اسکا دوپٹہ سائیڈ پر رکھا ہوا تھا وہ باہر دیکھنے میں اتنی مگن تھی کی اسکو آذان کی موجودگی کا پتا ہی نہی چلا تھا جبکی آذان اسکو دیکھتا اپنے دل میں اتار رہا تھا ….
…..آذان کے دل نے ایک دم یہ خواہش کی تھی کی حیا بھی کبھی اسکو اسی طرح دیکھتے ہوئے کھو جائے کی وہ آس پاس کی سب چیزو کو بھول جائے جس طرح اس وقت وہ باہر لان کو دیکھنے میں کھوئی ہوئی تھی…
…آذان بےخودی میں اسکو دیکھتا اسکے پاس آ رہا تھا جب اسکا پیر ٹیبل سے ٹکرایا تھا اور وہ ہوش میں آیا تھا…
..کھٹکے کی آواز سن کر حیا نے جیسے ہی گردن موڑ کڑ دیکھا تو آذان اسکے پیچھے ہی کھڑا تھا…ازان کو دیکھ کر حیا نے جلدی سے پاس پڑا دوپٹہ خود پر فہلایا تھا….اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئ تھی اور پھر اسکو نظرانداز کرتی روم سے باہر جانے لگی…
…اسکی جلدبازی کو آذان نے اچھے سے نوٹ کیا تھا..
…ایک کپ کوفی مل سکتی ہے اسکو روم سے باہر جاتا دیکھ کر آذان ایک دم سے بولا تھا…
…اسکے بڑھتے قدم ایک دم رکے تھے اسنے موڑ کر حیران نظروں سے آذان کی طرف دیکھا تھا جو اسکو ہی دیکھ رہا تھا…
….میں تم سے ہی کہ رہا ہوں اس روم میں تمہارے علاوہ کوئ اور تو نہی ہے نا وہ اسکی حیران نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے پھر سے بولا تھا…
…جبکی حیا کو یقین ہی نہی ہوا تھا کی اس نے حیا کو کسی کام کے لئے بولا تھا اور آج یہ پہلی بار ہوا تھا اس لئے اسکا حیران ہونا بنتا تھا….
….اگر نہی بنانی ہے تو منا کر دو اسکو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر اس بار آذان اپنے ماتھے پر بل ڈال کر بولا تھا …
…میں نے منا تو نہی کیا ہے آذان کو اپنی طرف گھورتا ہوا پاکر وہ ڈرتے ہوئے بولی تھی…اسکو آذان کے غصّے کا اچھی طرح علم تھا…
…پر تم نے ہاں بھی تو نہی کہا تھا آذان نے اپنی ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کرتے ہوئے بولا…
…میرے ہاں یا نا کرنے سے کیا ہوگا ہونا تو وہی ہے جو آپ چاہتے ہو حیا نے پھر سے تلخی لہجے میں کہا اور روم وہ اتنا کہ کر رکی نہی تھی روم سے نکلتی چلی گئ تھی…
…جبکی اسکی بات سن کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے آذان کے ہاتھ وہیں رک گئے تھے آج وہ پھر اپنے باتوں سے اسکو وہی سب یاد دلا گئ تھی جو اسکے لئے بھولنا مشقل تھی وہ یہ سب بول کر خود کو بھی تقلیف دیتی تھی اور اسکو بھی….. 💖💖💖💖💖
……
……
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖کیا بکواس کر رہے ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے …..
بشر کی بات سن کر دلاور خان فون پر اتنی زور سے دہاڈا تھا کی اسکی دہاڈ پورے خان ولا میں گنج گئی تھی ……
…..جبکی اسکی دہاڈ سن کر فون کے دوسری طرف موجود بشر بھی کانپ گیا تھا …..
خان میں سچ کہ رہا ہو آیت بی بی یہاں پر نہیں ہیں…..
…بشر نے پھر سے ڈرتے ڈرتے دلاور کو بتایا اس سے اتنی دور ہونے کے باوجود بھی وہ اسکی آواز سن کر کانپ گیا تھا…….
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہاں جا سکتی ہے وہ اور جہاں تک میں جانتا ہوں اسکا تو وہاں کوئی دوست بھی نہیں ہے پھر وہ کہا جا سکتی ہے…
…….دلاور خان غصے سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے بشر سے بولا …
…. تم پتا کرو کی اسکو کسی نے کہی جاتے ہوئے دیکھا تھا کی نہیں ..
…..دلاور خان کا سوچ سوچ کر برا حال ہو رہا تھا کی آخر آیت جا کہاں سکتی ہے ….
…خان ہم نے پتا لگوایا ہے کی کچھ دن پہلے بی بی جی کچھ دن پہلے کچھ لوگوں کے ساتھ گئی تھی اور اب تک واپس نہی آئ ہیں اور وہ کہاں گئ ہے یہ بھی کسی کو معلوم نہی ہے …
…بشر نے اسکو تفصیل سے ساری بات بتائی ……
جسے سن کر دلاور خان اور بھی پریشان ہو گیا تھا کی وہ کس کے ساتھ چلی گئ ہے …..
اسکو سمجھ نہی آ رہا تھا کی یہ سب کیا ہو رہا ہے اسکے ساتھ …..اسنے تو سوچا تھا کی آیت کو یہاں بلا کر اس سے ساری دولت اپنے نام کروا لے گا اور پھر اسکو بھی ہمیشہ کے لئے اسکی ماں کے پاس بہج دے گا ….
…….کیوں کی ابہی فلحال حیا تو اسکے ہاتھ نہی آنے والی تھی…
لیکن یہاں تو بازی ہی الٹی پڑ گئ تھی پتا نہیں آیت کہا چلی گئ تھی ………
خان ہم اور پتا لگانے کی کوشش کرتے ہے …..بشر نے اتنا کہ کر فون رکھ دیا ………..
آخر کس کے ساتھ جا سکتی ہے آیت ……
دلاور خان انہی سوچوں میں گم تھا جب ایک دم سے اسکے ذہین میں جھمکہ ہوا ……….
کہی آذان تو نہیں لے گیا آیت کو …. یہ ہی سوچ اسکے ذہن میں سب سے پہلے آئ تھی…
..نہیں نہیں اسکو تو پتا ہی نہی ہے کی آیت یہاں نہیں لندن میں….وہ تو اب تک جانتا بھی نہی ہے کی جس کو وہ آیت سمجھتا ہے وہ حیا ہے دلاور خان کو اب تو یہ ہی لگاتا تھا کی آذان اب تک سچ نہی جان پایا ہے اور یہ اسکی سب سے بڑی غلطفہمی تھی…

….یہ سب سوچ کر دلاور کچھ مطمعین ہو گیا تھا جب کی اسکو تو کچھ پتا ہی نہی تھا جس سوچ کو وہ غلط سمجھ رہا تھا اصل میں وہ سوچ اسکی بلکل سچ تھی آیت آذان کے ہی پاس تھی اور وہ اس بات سے انجن تھا💖💖💖💖💖💖 …….

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖💖وہ کچن میں کھڑی آذان کے لئے کوفی بنا رہی تھی جب اسکو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا..
…اسکو ایک پل کے لئے لگا تھا کی شاید آذان ہے اسنے جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو حارث کو دروازے میں کھڑا پایا جو اسی کو دیکھ رہا تھا…
….حیا کو اس وقت کچن میں دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا …
…حیا جو اسکو دیکھ رہی تھی اس کے دیکھنے پر وہ مسکرایا تھا تو حیا بھی اسکی طرف دیکھ کر مسکرا دی تھی….
….تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو اپنے من میں آیا سوال جو اس وقت اسکو دیکھ کر آیا تھا وہ پوچھ بیٹھا تھا….
…آذان کے لئے کوفی بنا رہیں ہوں تمہارے لئے بھی بنا دوں حیا نے اسکو بتانے کے ساتھ ساتھ اس سے پوچھ بھی لیا تھا حیا کو لگا تھا کی شاید وہ بھی کچن میں اسی لئے آیا ہے..
…نہی میرا ابھی موڈ نہی ہے وہ میں نے کچن کی لائٹ جلی ہوئی دیکھی تو میں یہ دیکھنے چلا آیا کی کون ہے…
…حارث کو یہ سن کر بہت اچھا لگا تھا کی وہ آذان کے لئے کوفی بنا رہی ہے اسکو یقین تھا کی دھیرے دھیرے ہی سہی ایک دن ان دونوں کے بیچ سب ٹھیک ہو جائے گا…
…ایک بات بولوں حارث تمھیں حیا نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا…
…ہاں بولو تم مجھے کچھ بھی کہ سکتی ہو اسکے لئے تمھیں مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہی ہے حارث خوشدلی سے بولا تھا وہ حیا کی ڈیل سے عزت کرتا تھا اور یہ بات حیا بھی اچھے سے جانتی تھی…
..تم بہت اچھے انسان ہو حارث مجھے لگتا ہی نہی مجھے اس بات کا پورا یقین بھی ہے کی جس بھی لڑکی سے تمہاری شادی ہوگی نا تم اسکو ہمیشہ خوش رکھو گے حیا نے یہ بات پورے دل سے کہی تھی اتنے وقت میں ووہ جان گئی تھی کی حارث کتنا اچھا انسان ہے…
…اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے حارث اسکی بات پر کھل کر مسکراتے ہوئے بولا تھا..
…بس لگتا ہے…کیا تمھیں خود کے بارے میں نہی لگتا ایسا اس بار حیا نے اس سے ہی سوال کر ڈالا تھا…
..حیا کی بات سن کر حارث کی نظروں کے سامنے ردا کا چہرہ ایا تھا وہ سچ ہی تو کہ رہی تھی اسنے بھی تو ردا کے بارے میں یہ سب ہی سوچ رکھا تھا….
…میں نے سچ کہا تھا نا اسکو خاموش دیکھ کار حیا شرارت سے بولی تھی اور پھر دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دئے تھے…
..اور کچن کے دروازے پر کھڑے آذان کا یہ منظر دیکھ کر غصّہ مزید بڑھ گیا تھا…
…وہ بہت دیر سے حیا کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا کچھ دیر تو روم میں انتظار کرتا رہا پر جب وہ نہی آئ تو وہ غصّے میں وہ خود ہی اسکو دیکھنے کے لئے کچن میں آ ہی رہا تھا اور اندر کا منظر دیکھ کر اسکا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا وہ غصّے سے وہیں سے پلٹ گیا تھا💖💖💖💖💖
……..
…….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖💖جب وہ روم میں اسکے لئے کوفی لے کر آئ تو آذان صوفہ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا…آذان کو پتا چل گیا تھا کی وہ آ گئی ہے پر پھر بھی وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اسکو اسکے آنے کی خبر ہی نا ہو..
…حیا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی اسکو آذان کو مخاطب کرنا مشقل لگ رہا تھا …
…حیا نے سوچا تھا کی وہ اسکو دیکھ لےگا اس لئے وہ چپ چاپ کوفی ہاتھ کا مگ ہاتھ میں لئے کھڑی رہی تھی..کچھ وقت یوں ہی گزر گیا تھا نا حیا نے کچھ کہا تھا اور نہ ہی آذان نے اسکی طرف دیکھا تھا…
…آپکی کوفی آخر حیا کو ہی بولنا پڑا تھا کیوں کی اسکو لگ رہا تھا اگر وہ ایسے ہی کھڑی رہی تو رات یوں ہی گزر جائے گی..
…حیا کی آواز سن کر آذان نے اسکی طرف دیکھا تھا وہ یہ ہی تو چاہتا تھا کی وہ خود سے اسے مخاطب کرے اس لئے وہ جان بوجھ کر خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا…
….یہ ٹھنڈی ہو گئی ہے دوسری بنا کر لاؤ آذان نے کھڑے ہو کر اسکے ہاتھ سے کوفی لے کر ایک گھونٹ بھرنے کے بعد کہا تھا….
…اسکی بات سن کر حیا پھر سے حیران ہو کر اسکی طرف دیکھنے لگی تھی اسکے متابِک کوفی اتنی بھی ٹھنڈی نہی تھی کی اسکو پیا نہ جا سکے…
…مجھے لگتا ہے میں نے اپنی بات ختم کڑ دی ہے اسکو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر آذان بولا تھا اور اسکی بات سن کر حیا پھر سے کوفی بنانے کے لئے چلی گئی تھی…
….اسکے جانے کے بعد آذان پھر سے اپنے کام میں لگ گیا تھا…
….آپکی کوفی ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کی حیا کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی…اس بار حیا نے اسکو مخاطب کرنے میں دیر نہی کی تھی کیا پتا اس بار بھی اسکو دوبارہ جانا پڑ جاتا….
…حیا کی بات سن کر آذان اٹھا اور چلتا ہوا اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا..
…گرم ہی ہے نا آذان اسکی جھکی نظروں کو دیکھ کر بولا تھا….
…جی اس بار گرم ہی ہے آپ خود چیک کر لیں آذان نے ایسے ہی نظریں جھکا کر کہا تھا اسکو آذان کی نظروں سے گھبراہٹ ہو رہی تھی…
…ٹھیک ہے چیک کر لیتا ہوں آذان نے حیا کا دوسرا ہاتھ پکڑا اور ایک انگلی کافی کے مگ میں ڈال دی تھی…
…ایک چیخ حیا کے منہ سے نکلی تھی اور جلنے کی جلن سے اسکی آنکھوں سے آنسو بھی آ گئے تھے…
..گرم ہی ہے آذان اسکے آنسو دیکھ کر بولا تھا اور اسکے ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کر کے کوفی کا مگ اسکے ہاتھ سے لے کر آرام سے صوفہ پر بیٹھ گیا تھا …
…جبکی حیا اس ظالم شخص کی اس ہرقت پر بس اسکو دیکھ کر ہی رہ گئی تھی اسکی انگلی میں اب بھی جلن ہو رہی تھی جب جلن اس سے برداشت نہی ہوئی تو وہ واشروم میں گھس گئی تھی…
….واشروم میں بہت دیر تک آنسو بہانے کے بعد وہ نکلی تھی پھر اسنے آذان کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اپنے کام میں مصروف تھا ایسے جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو اور حیا کو اس وقت آذان پر بہت ہی زیادہ غصّہ آ رہا تھا اسکے ساتھ ہمیشہ برا کڑ کے ووہ اسی طرح انجن بں جاتا تھا وہ آذان پر یوں ہی دل ہی دل میں غصّہ ہوتی بیڈ پر لیٹ گئی تھی جب انگلی کی جلن ختم ہوئی تو نیند بھی اس پر مہربان بع گئی تھی….
…آذان جو باظاہر تو اپنا کام کر رہا تھا پر اسکا سارا دھیان حیا پر تھا وہ کتنی دیر سے اسکے آنے کا انتظار کر رہا تھا اسکو ایک خوشی سی ہوئی تھی کی حیا اسکا کچھ کام کرنے جا رہی ہے اسکو کوفی کی اتنی طلب نہی تھی پر ووہ حیا سے اپنا کام کروانا چاہتا تھا اور وہ جب اس سے انتظار نہی ہوا تو وہ اسکو دیکھنے کچن تک چلا گیا اسکو حارث کے ساتھ بات کرتا دیکھ کر آذان کا خون کھول اٹھا تھا ایک تو وہ اتنی شدّت سے اسکا انتظار کر رہا تھا اور وہ تھی کی اپنی باتوں میں مصروف تھی اسکے آنے کے بعد آذان نے اس پر جو غصّہ تھا اسی پر نکال دیا تھا اس وقت تو اسکو کچھ برا نہی لگا تھا مگر اب اسکو بہت دکھ ہو رہا تھا بر بار اسکی آنکھوں کے سامنے حیا کی آنسو سے بھری آنکھیں آ رہی تھی وہ چلتا ہوا بیڈ تک آیا…
…حیا اس وقت گہری نیند میں سو رہی تھی آذان اسکا چہرہ دیکھنے لگا یہ چہرہ ووہ روز دیکھنا چاہتا تھا اور یہ ہی وجہ تھی بی جان کے کہنے پر بھی وہ اسکو وہاں نہی چھوڑ سکا تھا کب وہ اسکو اتنا چاہنے لگا تھا اسکو خبر ہی نہی ہوئی تھی…
…ازان نے اسکا ہاتھ تھامہ اور اسکی اس انگلی پر اپنے لب رکھ دئے جس کو اس نے ابھی جلایا تھا….
…میں تمھیں کبھی تقلیف نہی دینا چاہتا ہوں حیا پر جب تم مجھے یا میری بات کو اگنور کرتی ہو تو مجھ سے برداشت نہی ہوتا ہے اور میرا سارا غصّہ تمہی پر نکل جاتا ہے اور پھر میں ہر بار نہ چاہتے ہوئے بھی تمہارے درد کی وجہ بن جاتا ہوں اور تمھیں درد دے کر مجھے بھی تقلیف ہوتی ہے حیا پلز مت کیا کرو ایسا وہ حیا کے چہرے کو دیکھ کر بول رہا تھا…وہ اسکو سوتے ہوئے ادل کی بات کہ رہا تھا جاگتے ہوئے کبھی موقع ہی نہی ملا تھا اسکو…
….وہ اس وقت آذان کو سوتے ہوئے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی وہ جھکا تھا اور اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئے تھے…کچھ دیر تو وہ ایسے ہی اسکے لمس کو محسوس کرتا رہا تھا پر اسکے اٹھ جانے کے ڈر سے آذان اس دور ہوا اور پھر واپس سے صوفہ پر جا کر اپنا کام کرنے لگا تھا لیقن اس بار اسکا دھیان کام پر نہی تھا 💖💖💖💖💖💖….جاری ہے ….