Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

💖💖💖💖💖💖آذان بیٹا یہ بریانی لو نا آج تمہاری بیوی نے خاص صرف تمہارے لئے بنائی ہے….
…وہ لوگ اس وقت بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جب بی جان اسکی طرف بریانی کی ڈیش کرتے ہوئے بولی تھی…..
….بی جان کی بات سنکر آذان نے محبت بھری نظروں سے حیا کیطرف دیکھا تھا جو بی جان کی بات سن کر شرم سے سر جھکا گئی تھی….
…آج اسنے آذان کے لئے بریانی بنائی تھی پر اسکو کہلاتے ہوئے اب شرم آ رہی تھی کیونکہ آج اسنے پہلی بات آذان کے لئے کچھ بنایا تھا ….
..بی جان نے اسکی شرم دیکھ کر خود آذان کو مخاطب کیا تھا ورنہ وہ تو کبھی کہتی ہی نہی….
…کیا بات ہے بھابھی کبھی ہمیں بھی کچھ بنا کر کھلا دینا ہماری پسند کی کوئی چیز…
…ازلان شرارت سے حیا کیطرف دیکھتے ہوئے بولا تھا..
…اپنی پسند تو تم اپنی بیوی کو بتانا وہ بناکر کھیلا دے گی تمھیں ازان ازلان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا…
…اب وہ پہلے سے خوش رہنے لگا تھا پہلے کی طرح سنجیدہ اور غصّے میں بھی کم ہی رہتا تھا اور ازلان کی شرارتوں کا جواب مذاک میں دے دیتا تھا ….وہ بدل گیا تھا حیا کی محبت میں …..
…اسکا مطلب ہے بھائی آپکی بیوی صرف آپکے لئے ہی کھانا بنایا کرےگی…ازلان اسکی بات کا مطلب سمجھ کر منہ بنا کر بولا تھا….
….ہاں یہ ہی سمجھ لو اسنے ازلان کی بات کا جواب دے کر سامنے بیٹھی حیا کو دیکھ کر آنکھ دبائی تھی….
…سبکے سامنے آذان کی اس حرکت سے حیا نے شرما کر نظریں جھکا لی تھی …اسکو امید نہی تھی وہ سب کے سامنے بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے…
….پتانہی وہ دن کب آۓ گا جب کوئی صرف میرے لئے کھانا بناۓ گی ازلان نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا اور ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی آیت کو دیکھا وہ اپنا کھانا کھانے میں مصروف تھی ازلان کو تو ایسا ہی لگا تھا….
…جبکی آیت اپنے اپر ازلان کی نظریں محسوس کر رہی تھی اپنی پریشانی میں وہ ازلان کی باتیں اور اسکی نظروں کو نظرانداز نہی کر سکتی تھی..
…پہلے تم اپنی بڑھائی پر اچھے سے دھیان دو وہ بعد میں سوچنا ان سب کے بارے میں اب کی بار خاموش بیٹھی بی جان بولی تھی اور انکی بات سنکر ازلان بس منہ بنا کر رہ گیا تھا اور اسکی شقل دیکھ کر سب لوگ مسکرا دئے..💖💖💖💖💖💖
…………..
…………..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
………….
💖💖💖💖💖💖کیا ہوا تھک گئی آج….حارث نے ردا کے بالوں میں اپنا ہاتھ چلاتے ہوئے کہا تھا..
..ردا اپنا سر حارث نے کندھے پر رکھ کر اسکے پہلو میں بیٹھی ہوئی تھی…
…وہ لوگ ابھی باہر سے ڈنر کر کے لوٹے تھے اور ان لوگوں کو بھیجنے والا ازان تھا کیونکہ جب آذان نے بولا تو حارث نے منا کر دیا تھا اسکو سب لوگوں کے ساتھ رہنا اچھا لگتا تھا…
…آذان تو چاہتا تھا کی وہ لوگ ہنئیمون بر بھی جائے پر حارث اسکو اکیلا چھوڑنا نہی چاہتا تھا آذان نے کئی بار اسکو سمجھنے کی کوشش کی پر اسکی نہ ہاں میں نہی بدلی تھی…
…ہاں تھوڑی سی تھکن ہو گئی ہے کیونکہ عادت نہی ہے نہ لیٹ نائٹ گھومنے کی ردا نے آنکھیں بند کئے اسکی بات کا جواب دیا تھا وہ اسکی انگلیوں کا لمس اپنے بالوں میں محسوس کر رہی تھی ایک سکون سا تھا جو اسکو اپنے اندر تک اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا…
….اسکی ساری تھکن مانوں ایکدم ختم سی ہو گئی تھی….
…ردا تم خوش ہو نہ اس رشتے سے حارث نے آج پھر کتنی بار پوچھا گیا سوال اس سے پھر پوچھا تھا…وہ روز ہی اس سے یہ ہی سوال پوچھتا اور اسکا جواب سن کر ہی حارث کو سکون ملتا تھا..
…..حارث کی بات سن کر ردا کے ہونٹھ مسکراے تھے اس نے اپنی آنکھیں کھول کے سر اٹھا کر حارث کیطرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا…..
…..میں آپکے ساتھ بہت بہت زیادہ خوش ہوں حارث اسنے بہت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا….
آپکو ہر بار یقین کیوں نہی آتا ردا نے بھی ہر بار کی طرح اپنا سوال دوہرایا تھا….
…مجھے تمہاری ہر بات پر یقین ہے ردا بس مجھے اس بات پر یقین نہی آتا کی تم مجھے مل گئی ہو یہ سب مجھے ایک خواب کی طرح لگتا ہے جیسے میں آنکھیں کھولوں گا اور سب غایب ہو جائے گا…حارث نے ردا کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ….
…یہ سب سچ ہے حارث کوئی خواب نہی ردا نے حارث کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا….
…اسکی بات سنکر حارث مسکرایا تھا..
…ردا ایک بات پوچھوں حارث نے اسکا سر پھر سے اپنے کندھے پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا….
…جی پوچھے آپ مجھ سے کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں آپکو اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہی ہے…ردا کے ہاتھوں میں حارث کا ہاتھ ابھی بھی موجود تھا….
….تمھیں برا تو نہی لگا میں نے آذان کو منا کر دیا کی ہم کہیں گھومنے نہی جائے گے تم تو جانتی ہو نہ کی کیا وجہ ہے میری نا جانے کی…..
…حارث نے ردا کو دلاور سے لے کر آیت حیا کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا اور ردا کو حیا کے بارے میں سن کر بہت دکھ ھوا تھا اسکے دل میں حیا کے لئے اور عزت بڑھ گئی تھی کی اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اس نے آذان کو معاف کر دیا تھا وہ ہوتی تو شاید کبھی ایسا نہ کر پاتی….
….نہی مجھے برا نہی بلکی یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کی آپ اور آذان ایک دوسرے کا کتنا خیال رکھتے ہو خود سے پہلے ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے ہو ردا نے دل سے یہ بات کی تھی ووہ سمجھتی تھی حارث کے نہ جانے کی وجہ ہر سب کچھ جان کر وہ خود بھی نہی چاہتی تھی کی وہ لوگ کہیں جائے….
…..مطلب تمھیں خوشی ہے کی ہم لوگ کہیں نہیں گئے ہیں حارث نے اسکو تھوڑا غصّے سے کہا تھا….
…..نہی میں نے ایسا کب کہا میں تو یہ کہ رہی تھی کی….ردا کو لگا کی حارث اسکی بات کا غلط سمجھ گیا ہے اس لئے وہ جلدی سے گھبرا کر بولی تھی…
….جبکی وہ اسکی مسکراہٹ نہی دیکھ سکی تھی….
…اچھا تو مطلب تم جانا چاہتی ہو میرے ساتھ اسنے ردا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا …
..ردا نے نظریں اٹھا کر حارث کیطرف دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسی کو دیکھ رہا تھا حارث کی شرارت سمجھ کر ردا بھی مسکرا دی اور ہاں میں گردن ہلا کر اسکے سینے پر سر رکھ لیا تو حارث نے بھی مسکراتے ہوئے اس پر اپنا گھیرا مزید تنگ کر لیا تھا💖💖💖💖💖💖
………..
………..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖..
………..
💖💖💖💖💖💖کیا چاہتے ہیں آپ….بار بار مجھے فون کرنے کا کیا مطلب ہے….
….آیت نے اس بار غصّے میں ا کر کہا تھا وہ اپنی آواز اونچی بھی نہی کر سکتی تھی اسکو ڈر تھا کی کوئی سن نہ لے….
…..میں بس تم سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں صرف ایک بار مل لو مجھ سے آکر…
….دلاور نے ہمیشہ کی طرح اپنی بات دوہرائی تھی…
…اور میں بول چکی ہوں کی مجھے آپسے نہی ملنا کوئی نہی لگتے آپ میرے پیچھا چھوڑ دے میرے آیت اپنا غصّہ ضبط کر رہی تھی ورنہ تو اسکی آواز بھی نہی سننا چاہتی تھی….
….اور وہ گھر پر کسی کو بتا کر پریشان بھی نہی کرنا چاہتی تھی ابھی تو سب لوگوں کے چہروں پر خوشیاں لوٹی ہیں….
…یہ تم اچھی طرح جانتی ہو کی تم کیا لگتی ہو میری سوتیلا ہی سہی پر باپ ہوں تمہارا اور جن لوگوں کے پاس م رح رہی ہو نہ اصل میں تو وہ کچھ نہی لگتے تمہارے…
..دلاور اسکو اپنی باتوں میں لا رہا تھا…
….پر وہ آپ سے کئی گناہ بہتر ہیں آپ نے جو کیا ہے میرے ساتھ اور جو کرنے والے تھے اسکے بعد سے تو آپ باپ کہلانے کے لایق نہی ہیں اس بار آیت کی آواز تیز ہوئی تھی….
….پر تم اس حقیقت کو نہی بدل سکتی آیت اور بس ایک بار مل لو آکر مجھ سے میں مانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ تمہاری ماں کے ساتھ بس اسی کی معافی مانگنا چاہتا ہوں دلاور اب اپنے مطلب کی بات پر آیا تھا….
…مجھے نہی ملنا آپسے یہ آخری بار کال کر رہے ہیں آپ اگر آئندہ کی تو اگلی بار میں آپکی نہی سنوگی….
…تم آؤگی اور ضرور آؤ گی مجھے اس بات کا پورا یقین ہے میں تمھیں اڈریس سینڈ کر رہا ہوں اور وقت بھی دلاور نے کہ کر فون کاٹ دیا تھا جبکی آیت پریشانی میں روم سے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی اسکی سمجھ نہی ا رہا تھا کی وہ کیا کرے …
…وہ آذان اور حارث کو بتا کر پریشان نہی کرنا چاہتی تھی ان لوگوں نے اسکے لئے اتنا کچھ کیا ہے آج تک اور اب وہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے انکو مزید پریشان نہی کرنا چاہتی تھی ….
…اسکی سمجھ نہی ا رہا تھا کی وہ کیا کرے… وہ کیوں اس سے ملنا چاہتا ہے اور ایکدم اسکو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اسنے اتنا تو سوچ لیا تھا اب جو کرنا ہے اسی کو کرنا ہے وہ اب کسی پر بوجھ نہی بننا چاہتی تھی 💖💖💖💖💖💖
………..
………..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…………
💖💖💖💖💖💖💖آپ اب تک جاگ رہے ہیں مجھے لگا تھا کی آپ سو گئے ہونگے ….
…حیا جیسے ہی روم میں داخل ہوئی تو آذان کو صوفہ پر بیٹھا دیکھ کر بولی جو لیپ ٹاپ لئے بیٹھا تھا…
…تو تم میرے سونے کا انتظار کر رہی تھی اس لئے جان کر دیر سے آئ ہو..
…آذان لیپ ٹاپ بند کرکے اسکو سائیڈ پر رکھ کر حیا کے پاس آتے ہوئے بولا تھا …
…نہی ایسی بات نہی ہے وہ بی جان سے باتیں کرتے ہوئے وقت کا پتا ہی نہی چلا تو بس دیر ہو گئی اور مجھے لگا کی آپ اب تک سو گئے ہونگے تو بس اس لئے پوچھا تھا ….
…حیا نے اسکو تفصیل سے اپنے لیٹ آنے کی وجہ بتائی تھی کیونکہ اسکا کوئی بھروسہ نہی تھا کی کب اسکو غصّہ آ جائے اور ویسے بھی اسکا غصّہ وہ ابھی تک بھولی نہی تھی……
….آذان کو اس وقت وہ کوئی مجرم لگی تھی جو نظریں نیچی کئے اپنا گناہ کا عتراف کر رہی ہو اسکو اس طرح کھڑا دیکھ کر آذان کو اس ٹوٹ کر پیار آیا تھا اسنے مسکرا کر حیا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو خود سے قریب کیا تھا….
…میں نے کتنی بار بولا ہے کی مجھ سے مت ڈرا کرو بس پیار کیا کرو اتنا پیار کی میں خود کو بھی بھول جاؤں ..
…..آذان نے جھک کر اسکے گلابی رخساروں کو چوما تھا…..
….حیا جو ابھی اسکے غصّہ ہونے سے ڈر رہی تھی اب اسکی جسارتوں سے ایکدم سے بھوخلا گئی تھی….
…ویسے تم نے بریانی تو بہت اچھی بنائی تھی اور اسکے لئے تمہیں انام تو ضرور ملنا چاہئے آذان اتنا کہ کر جھکا اور حیا کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔۔
..نہی آذان مجھے نہی چاہئے کچھ آپ بس مجھے نیچے اتارےــ
…حیا جو اسکو جھکتا دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی خود کو اسکی باہوں میں محسوس کر کے آنکھیں کھول کر گھبرا کر بولی تھی اسکو ــ
…پر مجھے تو دینا ہے آخر تم نے پہلی بار کچھ بنایا ہے میرے لئے اور اسکی تم حقدار بھی ہو آذان اسکو بیڈ پر بیٹھا کر بولا اور ڈریسنگ کی دراز سے کچھ نکال کر لایا تھا…..
….حیا بس اسکو دیکھ رہی تھی جو ہاتھ میں ایک باکس لئے اسکے پاس آکر گھوٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا تھا…
….تمھیں بہت شوق ہے نہ مجھسے دور جانے کا تو اب ایسا کبھی نہی ہوگا جب بھی تم مجھسے دور جانے کی کوشش کروگی یہ آواز کر کے مجھے بتا دیا کریں گی…اور میں تمہاری کوشس کو ناقام بنا دیا کروں گا..
…آذان اسکے پیروں میں پائل پہناتے ہوئے حیا کی طرف دیکھ کر بولا..
…اسکو اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر حیا کی آنکھوں میں آ گئے تھے اسنے تو کبھی سوچا بھی نہی تھا کی وہ اس سے اس قدر محبت کرنے لگے گا…..کی اسکی ذرا سی دوری بھی وہ برداشت نہی کر سکتا ….
….آپ مجھسے اتنا پیار کرتے ہیں حیا بےیقینی سے اس سے پوچھ بیٹھی تھی….
…میں تمہیں چاہتا ہوں حیا اور کس قدر یہ تو میں بھی نہی جانتا ….میں جب جب تمہارا چہرہ دیکھتا ہوں تب تب تمسے محبت بڑھتی ہے تمھیں نہ دیکھوں تو مجھے سکون نہی ملتا…آذان حیا کا ہاتھ تھام کر اسکو اپنے مقابل کھڑا کرکے اسکی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا تھا…
…..اور اس محبت کا اظہار میں بار بار بھی کروں میرے لئے کم ہے یہ بات الگ ہے کی تم نے اپنی محبت کا اظھار اب تک نہی کیا پتا نہی تم مجھسے محبت کرتی بھی ہو یا نہی….مجھے تو لگتا ہے تم….آذان نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تھا….
…نہی آذان ایسا نہی نہی میں بھی آپسے بہت محبت کرتی ہوں وہ تو میں …..اذان کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر حیا کی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی اسکو اپنی جلدبازی پر جی بھر کر غصّہ آیا تھا کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی اسنے جان کر ایسا بولا تھا …
…میں ٹھیک ہی کہتی ہوں بہت برے ہیں آپ حیا نے اسکے سینے پر مکّہ مار کر اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا تھا….
…اب بولو نہ کیا بول رہی تھی اپنا جملہ مکمل کرو آذان اسکا چہرہ اپنے سامنے کر کے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا کے بولا ….
…اسکی آنکھوں میں گزارش تھی جیسے آج وہ سچ میں اس سے سننا چاہتا ہو کی وہ اسکو کتنا چاہتی ہے ..
…بہت چاہتی ہوں میں آذان آپکو اتنا کی آپ سوچ بھی نہی سکتے …
…جس طرح آپکو مجھے دیکھ کر سکون ملتا ہے اسی طرح آپکو دیکھ کر میرا دن شروع ہوتا ہے آپکے بنا میرا کوئی وجود نہی ہے ..وہ اسکی التجا کو رد نہی کر سکی تھی آج اسنے اپنی محبت کا عتراف کر ہی دیا تھا….
…اسکے کہے ایک ایک لفظ سے آذان کو اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا …وہ پہلے سے جانتا تھا وہ بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی ہے بس وہ اسکے اظھار کے انتظار میں تھا جو آج ختم ہوا تھا…
…اسکا اظھار سننے کے بعد آذان مسکرایا تھا اور اسکو اپنی باہوں میں سختی سے بھیچ لیا تھا اور حیا نے بھی پرسکون ہو کر اپنی آنکھیں بند کر لی تھی 💖💖💖💖💖💖…..جاری ہے …..