No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
……..
💖💖💖💖💖💖آج ہم یوں اچانک بی جان کے پاس کیوں جا رہیں ہیں آج وہاں جانے کی کوئی خاص وجہ….
…حیا نے کار ڈرائیو کرتے آذان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا…اس وقت وہ بلیک جینس اور وائٹ شرٹ میں نظر لگ جانے کی حد تک اچھا لگ رہا تھا….
…کتنا خوبصورت تھا اسکا ہمسفر….
…آذان اسکی زندگی اور دل میں آنے والا پہلا مرد تھا ورنہ آج تک تو اسنے تو کبھی سوچا ہی نہی تھا کی اسکی زندگی میں کوئی آۓ گا یا پھر اس نے اس سب کے بارے میں سوچا ہی نہی تھا… حیا اسکو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اسکی نظر اتری تھی…
….کیا میں اپنی بی جان سے بنہ کسی وجہ کے ملنے نہی جا سکتا ہوں ہر بار کوئی وجہ ہونی ضروری ہے کیا آذان نے غصّے سے کہا تھا جب کی اسکی نظریں سامنے سڑک پر تھی….
….آذان کی بات اور آواز سن کر حیا اپنی جگہ پر بیٹھی بیٹھی ہی کانپنے لگی تھی اس نے تو صرف وہ بولا تھا جو اسکے دل میں سوال آیا تھا…
…. اس میں غصّہ ہونے والی کیا بات تھی حیا بس اپنے دل میں سوچ کر ہی رہ گئی تھی…
…..کیا ہوا ڈر گئی ..تبھی اسکے کانوں میں آذان کی آواز آئ تھی…
….اسکی آواز سن کر حیا نے گردن موڑ کر دیکھا تو آذان اسکی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا…
…حیا حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی کیا چیز تھا یہ شخص وہ سمجھ نہی پائی تھی..
….مذاک کر رہا ہوں یار اتنا کیوں ڈرتی ہو آذان نے اسکی حیران نظروں میں دیکھتے ہوئے کہا اور ہاتھ بڑھا کر اسکی چھوٹی سی ناک دبائی تھی…
…آذان کو اسکی اس طرف بدلتی حالت پر ترس آیا تھا اسکے غصّے سے کیسے حیا کا مسکراتا چہرہ بجھ سا گیا تھا…
…آذان کی اس حرکت سے حیا مسکرا دی تھی ابھی کچھ دیر پہلے والا ڈر کہیں غایب ہو گیا تھا ….
…بتاؤ ناں کیوں ڈرتی ہو اتنا آذان نے پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا….
..یہ آپ پوچھ رہے ہو مجھے تو لگتا ہے کی مجھے آپکو کچھ بتانے کی ضرورت نہی ہے…
…آپکو کب اور کس بات پر غصّہ آ جائے پتا ہی نہی لگتا حیا نے منہ بنا کر آذان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا…
…اب کبھی نہی کروں گا بےفکر رہو آذان مسکرایا تھا…
..میں کیسے مان لوں حیا کو یقین نہی آیا تھا اسکی بات پر ..
…جب دیکھو گی تب خود ہی یقین کر لوگی آذان نے اس بار پورے یقین سے کہا تھا ….
….اسکا جواب سن کر حیا خاموش ہو گئی تھی وہ تو اس پر تب بھی یقین کرتی تھی جب جانتی بھی نہی تھی کی وہ آذان کو چاہنے لگی ہے اور اب اسکا اظہار سن کر وہ کیوں ناں اس پر یقین کرتی….
…..ویسے میں آج بی جان سے ایک ضروری بات کرنے والا ہوں اسکو خاموش دیکھ کر آذان پھر سے بولا تھا اسکو حیا سے بات کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا …..
….کس بارے میں ..حیا نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا تھا..
….میں آج بی جان سے حارث اور ردا کے بارے میں بات کرنے والا ہوں مجھے ردا کے لئے حارث بہت اچھا لگتا ہے تمہاری کیا راۓ ہے اس بارے میں آذان نے اسکی پسند پوچھی تھی…
….مجھے بھی حارث اچھے لگتے ہے اور ردا انکے ساتھ خوش رہے گی کیونکہ حارث بہت اچھے دل کے مالیق ہے حیا نے پورے دل سے کھا …
….آذان کی بات سن کر حیا بہت خوش ہوئی تھی وہ خود بھی تو یہ ہی چاہتی تھی اور اس نے بھی بی جان سے اس بارے میں بات کرنے کا سوچ رکھا تھا….
….یہ تو اچھی بات ہے کی ہم دونوں کی پسند ملتی ہے اسکا جواب سن کر اذان کو خوشی ہوئی تھی…
….جب کی حیا جواب میں بس مسکرا دی تھی…
….اسکے بعد پورا راستہ خاموشی سے کٹا تھا لقین آذان بار بار اس پر نظر ڈال لیتا تھا جو باہر کے منظر دیکھنے میں کھوئی ہوئی تھی…..💖💖💖💖💖
………….
……
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖…………….
💖💖💖💖💖💖ازلان تم کہیں جا رہے ہو ….ردا ازلان کو باہر جاتا ہوا دیکھ کر اسکے پیچھے آتے ہوئے بولی تھی….
….ہاں جا رہا ہوں پر تم اس خوشی میں مت رہنا کی میں تمہارا کوئی کام کر دوں گا …
…ازلان اسکے ہاتھ میں موجود فائل دیکھتے ہوئے بولا تھا…وہ ایسا ہی تھا کبھی ردا کا کوئی کام نہی کرتا تھا بیچاری ہزار منت کر کے اس سے اپنا کام کرواتی تھی …
..میں اپنے کام کے لئے نہی روکا ہے تمھیں آیت کے کام کے لئے روکا ہے ردا نے اسکی غلطفہمی دور کی تھی ….
…آیت کے کام کے لئے کیا کام ہے اسکا …ازلان نے اب جاننا چاہا تھا..
…اچھا جی آیت کے کام میں بڑی دلچسپی ہے تمہیں ورنہ میرے بولنے سے پہلے ہی تم منا کر چکے تھے کی میرا کچھ کام نہی کروگے ردا نے منہ بنا کر کہا تھا….
….ہاں تو وہ مہمان ہے ہماری اسکا کام میں کیوں نہ کروں ازلان ن بڑے آرام سے بات بنائی تھی…
….اچھا جی مہمان ہی ہے یا پھر اس سے بھی بڑھ کر کچھ اور ہو گئی ہے تمہارے لئے ردا نے ازلان کی بات پکڑتے ہوئے اپنی بات کہی تھی جو وہ کچھ دن سے اس سے کہنا چاہ رہی تھی….
…ایسا کچھ نہی ہے تم اپنے دماغ پر اتنا زور مت ڈالا کرو ایک تو پہلے ہی کم ہے اس نے اسکا پھر سے مزاخ بنایا تھا….
….بات کو مت ٹالو ازلان میں سیریس ہوں ردا نے اس بار سنجیدہ سا چہرہ بنا کر کہا تھا جبکی اسکی آنکھیں مسکرا رہی تھی….
….تم تو ایک بات کے پیچھے ہی پر جاتی ہو اس بار وہ جھنجلا کر بولا تھا…
..تو پھر بتا تو دو نہ میں کیا اسکو جا کر بتا دوں کی جو تم اتنا ڈر رہے ہو ردا اپنی بات پر بضد تھی…
….ہاں کرتا میں اسکو پسند کرنے لگا ہوں پتا نہی کب سے شاید پہلی نظر میں ہی وہ مجھے اچھی لگی ہے شانت اور سلجھی ہوئی بلکل ویسی ہی جیسی مجھے پسند ہے ازلان نے کھل کر اپنے دل کی بات کہی تھی…
…تو معملا یہاں تک پہونچ گیا ہے ردا اسکی بات سن کر مسکرائی تھی..
…ہاں میری ماں اب تو بتاؤ کیا کام تھا اسکا حارث پھر سے پہلی بات پر آ گیا تھا ….
….یہ فائل تم حارث کو دے دینا آیت نے دی ہے میں نے اس سے بولا تھا کی تم جا کر ازلان کو دے آؤ پر وہ مانی ہی نہی اس لئے مجھے آنا پڑا تمہارے پاس…
….ردا نے تفصیل سے اسکو ساری بات بتائی تھی….
…ویسے آیت حارث کو فائل کیوں دے رہی ہے اس کو حارث سے کیہ کام ردہ نے اپنے دل میں آیا سوال اس سے پوچھ لیا تھا….
…وہ شاید حیا بھابھی کو دینا چاہتی ہوگی اس لئے حارث کو بولا دے نے کے لئے تم ان فالتو باتوں میں اپنا چھوٹا سا دماغ مت لگایا کرو ازلان نے بات بنائی تھی اب وہ اسکو کیا بتاتا کی اس فائل میں کیا ہے….
….اسکی بات سن کر ردا خاموش ھو گئی تھی…💖💖💖💖💖💖
…………
…………
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖……………
💖💖💖💖💖💖انکی گاڑی شاہ ہاؤس کے پورچ میں آ کر رکی تھی…
….حیا آذان سے پہلے کار سے نکلی تھی…اور اندر کی طرف بڑھی تھی اس نے آذان کا بھی انتظار نہی کیا تھا
اسکو بی جان سے ملنے کی بہت جلدی تھی اسکو بہت دنوں سے بی جان کی بہت یاد آ رہی تھی ….
….اسکی جلدبازی پر آذان ہولے سے مسکرایا تھا….
….حیا بات سونو …آذان نے اگے آگے چلتی حیا کو بہت ہی محبت سے پکارا تھا….
…حیا بی جان سے ملنے کی خوشی میں جلدی جلدی چلتی جا رہی تھی جب آذان کی آواز پر اسکے قدم رکے تھے اس نے مڑ کر دیکھا تو آذان اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا…
….جی کیا بات …. اسکو کھڑا دیکھ کر حیا بولی تھی…
….جس طرح ہم دونوں ساتھ جا رہے ہے نہ اسی طرح ساتھ بھی واپس جائے گے آذان اسکے قریب آکر بولا….
…..حیا نے ناں سمجھی سے اسکی طرف دیکھا تھا….
…میں بس اتنا کہنا چاہ رہا ہوں اگر تمھیں بی جان نے رکنے کے لئے کہا تو تم انکو منا کر دینا کیونکہ میں بی جان کو اچھی طرح جانتا ہوں جو بات ہم کرنے جا رہے ہے اسکے بعد وہ تمھیں ضرور روک لیں گی اور میں اس بار انکو منا نہی کر سکتا پر تم کر سکتی ہو…..آذان نے اپنی بات اسکو سمجھائی تھی…
…پر میں کیسے منع کروں گی انکو حیا اب کچھ پریشان ہوئی تھی….
….مجھے نہی پتا بس تم میرے ساتھ ہی واپس جاؤ گی یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو کی میں پہلے بھی نہی چھوڑتا تھا اور اب تو بات ہی کچھ اور ہے …
…میں ہر وقت تمھیں اپنی نظروں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں اپنے پاس اپنے بلکل قریب آذان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتا بول رہا تھا…
…اسکی بات سن کر حیا کی دھڑکنے ایک دم بہت ہی تیز ہوئی تھی ایک تو وہ اسکے اتنے قریب کھڑا تھا اپر سے اسکی باتیں حیا کو اس سے نظریں جھکانے پر مجبور کر گئی تھی…
….تم سمجھ گئی نا میں نے کیا کہا آذان پھر سے اس سے مخاطب ہوا تھا..
…حیا نے صرف گردن ہلانے پر اتفاق کیا تھا….اب وہ کیا کہتی اسکی بولتی تو آذان کی باتوں سے ہی بند ہو گئی تھی..
…چلو چلتے ہیں ازان اسکا ہاتھ چھوڑ کر بولا…
…اسکے اس طرح صرف گردن ہلا دینے سے آذان کو ہنسی آئ تھی…
.. اب وہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے….
….السلام عليكم بھائی سب سے پہلے ان پر ازلان کی نظر پڑی تھی ازلان کی ساتھ ساتھ ردا نے بھی سامنے دیکھا تو سامنے سے آتے آذان اور حیا کو اسنے بھی سلام کیا….
….وعلیکم السلام اذان حیا انکے سلام کا جواب دیا تھا ….حیا ردا سے گلے ملی تھی .. اب وہ چاروں ایک ساتھ کھڑے تھے….
….کیا بات ہے بھائی آج تو آپنے ہمیں سرپرائز ہی کر دیا ہے یوں اچانک آ کر ازلان خوشی سے بولا تھا….
…وہ لوگ اب اندر لاؤنج میں آکر بیٹھ گئے تھے..
..میں نے سوچا کافی دیں ہو گئے ہے تو بس اس لئے چلا آیا بی جان کہاں ہیں آذان نے اسکی بات کا جواب دے کر ردا سے پوچھا تھا…..
…بی جان اپنے روم میں آرام کر رہیں ہے میں رانی کو بہیج تی ہوں ردا اٹھی تھی…
…نہیں رہنے دو ہم دونوں انکے روم میں ہی چلے جاتے ہیں حیا نے ردا کو کھڑا ہوتے دیکھ کر بولا تھا …
…ہاں وہیں چلتے ہے آذان بھی حیا کی بات سن کر اٹھا تھا..
..ردا کچھ دیر بعد اچھی سی کوفی بھیجوہ دینا رانی کے ہاتھ آذان نے جاتے جاتے ردا کو کہا اور پھر حیا کے ساتھ بی جان کے روم کی طرف چل دیا تھا….
…..بی جان ان دونوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی ورنہ تو انکو لگا تھا کی فون کر کے ہی اسکو بلانا پڑے گا کیونکہ انکو بھی حیا کی بہت یاد آ رہی تھی فون پر تو روز ہی بات ہو جاتی تھی پر سامنے دیکھنے کی خوشی کچھ اور ہی ہوتی ہے….
….اور جب آذان نے اپنے آنے کا مقصد بتایا تو ایک پل کے لئے بی جان خاموش ہو گئی تھی اس لئے نہی کی انکو حارث پسند نہی تھا…..انکو آذان کے منہ سے حارث کا نام سن کر خوشی ہوئی تھی بی جان کو لگا تھا کی پھلے انکے من میں یہ بات کیوں نہی آئ حارث بھی انکو ازلان اور آذان کی طرح ہی عزیز تھا…
…سب کچھ انہیں پسند تھا پر ساری بات ردا کی تھی …
….مجھے تمہری بات سے کوئی عتراض نہی ہے بیٹا لقین میں ردا سے پہلے اسکی مرضی جاننا چاہتی ہوں کیوں کی زندگی اسکو گزارنی ہے…تو فیصلہ بھی اسی کا ہونا چاہئے…
..بی جان نے آذان اور حیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا اس وقت صرف وہ دونوں ہی ان کے روم میں موجود تھے..
….وہ جانتی تھی کی ردا انکی پسند کو کبھی منع نہی کرے گی پر وہ پھر بھی اس پر کوئی زور زبردستی نہی کرنا چاہتی تھی….
….ہاں بی جان آپ پہلے ردا سے بات کر لیں ہم اسکے ساتھ کوئی زور زبردستی نہی کریں گے آخری فیصلہ اسی کا ہوگا آذان بھی انکی بات سے صحمت تھا….حیا کو بھی انکی بات سہی لگی تھی…
….حیا بیٹی میں چاہتی ہوں تم اس سے بات کرو اگر میں اس سے بات کروں گی تو وہ صرف مجھ پر فیصلہ چھوڑ دے گی اور میں ایسا نہی چاہتی ہوں بی جان نے حیا کو کہا جو بیڈ پر انکے برابر ہی بیٹھی ہوئی تھی..
…پر بی جان میں کیسے کروں گی ردا سے بات ….حیا پریشان ہوئی تھی بی جان کی بات سن کر…
….تم کر لوگی بیٹا مجھے بھروسہ ہے تم پر بی جان نے حیا کے ہاتھوں کو تھام کر کہا تھا…
….اس نے بے بس ہو کر آذان کی طرف دیکھا تھا جو اسکو اشارے سے ہاں ہی کرنے کے لئے بول رہا تھا….اور اسکی مرضی جان کر حیا کو بھی ہاں کرنی ہی پڑی تھی…💖💖💖💖💖💖💖.
………….
………….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖……………
💖💖💖💖💖💖💖کیا میں اندر آ سکتی ہوں حیا نے ردا روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھا تھا…
….ردا جو بیڈشیٹ کو ٹھیک کر رہی تھی حیا کی آواز پر مڑ کر اسکی طرف دیکھا اور خوشدلی سے مسکرا دی تھی..
…اس میں اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے حیا تم کبھی بھی آ جا سکتی ہو میرے روم میں ردا مسکراتی ہوئی اسکو اندر لے کر آئ تھی….
… اور اسکو بیڈ پر بیٹھا کر خود بھی اسکے پاس بیٹھ گئی تھی..
….تم بہت اچھی ردا حیا نے دل سے اسکی تعریف کی تھی اسکی بات سن کر ردا مسکرا دی تھی….
…ویسے تم یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو نیچے چلو سب ساتھ بیٹھے ہیں حیا نے اسکو دیکھ کر کہا…
….ہاں وہ میں بس آ ہی رہی تھی کی تم آ گئی..ردا نے اسکی بات کا جواب دیا تھا….
…ویسے میں تم سے کچھ خاص بات کرنے کے لئے آئ ہوں…
…کیسی خاص بات حیا کی بات پر ردا نے اسکی طرف دیکھا تھا…
….ردا اگر بی جان اور آذان اگر تمہارے لئے کوئی فیصلہ کریں تو تمھیں کوئی عتراض تو نہی ہوگا نا …حیا نے اسکی چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا…
….کیسا فیصلہ….حیا کی بات سن کر ردا کچھ کچھ تو سمجھ گئی تھی پر بھی بھی اچھی طرح جاننا چاہتی تھی اس لئے اس سے پوچھا….
….آذان نے تمہارے لئے حارث کا انتخاب کیا ہے اور بی جان سے اس بارے میں بات کی پر انکا اور آذان کا بھی یہ کہنا ہے کی جو تمہاری مرضی ہوگی وہ ہی ان لوگوں کی بھی حیا نے اب اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تھا….
…حیا کی بات سن کر ردا کو حارث کی کچھ دیں پہلے ہوئی بات کا مطلب سمجھ آ گیا تھا تو وہ اس بارے میں بات کر رہا تھا ردا نے دل میں کہا تھا…اسکو امید نہی تھی کی حارث اتنی جلدی یہ سب کر دےگا….
….میں جانتی ہوں ردا یہ تمہارے لئے مشقل ہے اپنے پیار کو بھول جانا اتنا آسان بھی نہی ہوتا ہے…
….ردا کو خاموش دیکھ کر حیا پھر سے بولی تھی جبکی اسکی بات سن کر ردا نے چونک کر حیا کی طرف دیکھا تھا….
…..میں جانتی ہوں ردا کی ازان تمہاری پہلی محبت ہے اور مجھے بہت دکھ ہے کی میں تمہارے بیچ آ گئی ہوں..
ایک دن انجانے میں تمہاری اور بی جان کی میں نے باتیں سن لی تھی…
… حیا یہ کہنا تو نہی چاہتی تھی پر اسکی خاموشی کا اس نے کچھ اور ہی مطلب نکالا تھا…
…..نہی حیا تم غلط سوچ رہی ہو آذان میری پہلی محبت ضرور تھا پر تم یہ بھی جانتی ہو کی یہ محبت ایکطرفہ تھی…
….اور جب آذان تم سے شادی کر کے یہاں آیا تو یہ ایکطرفہ محبت بھی ختم ہو گئی تھی جانتی ہوں یہ میرے لئے مشقل تھا پر نہ ممقین نہی …
اور اب تم دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر مجھے بھی خوشی ہوتی ہے….یہ بات اپنے دل سے نکال دو کی تم ہمارے بیچ آئ ہو تم آذان کی قسمت میں تھی تو تم اسے مل گئی اگر آذان میری قسمت میں ہوتا تو وہ مجھے پہلے ہی مل جاتا…..
…..ردا اسکے دل سے یہ بات نکالنا چاہتی تھی کی وہ اب بھی آذان کو پسند کرتی ہے یا وہ انکے بیچ آ گئی ہے…..
….ردا کی بات سن کر حیا کے دل میں اسکے لئے اور عزت بڑھ گئی تھی…..وہ جو سوچتی تھی کی ردا شاید اب بھی آذان کے لئے اپنے دل میں جگہ رکھتی ہے اسکی یہ غلطفہمی بھی دور ہو گئی تھی….
…..حیا تم بی جان سے جا کر کہنا کی مجھے انکا ہر فیصلہ منظور ہے کیونکہ میں جانتی ہوں آج تک انہونے میرے بارے میں کبھی غلط فیصلہ نہی لیا ہے ….ردا نہ ایک فیصلہ کرتے ہوئے حیا کو کہا تھا اور اسکی بات سن کر حیا کو خوشی ہوئی تھی کیونکہ حارث سے زیادہ اسکو اور کوئی پیار کر ہی نہی سکتا تھا اور اسکو اتنا پیار کرنے والا شوہر ہی ملنا چاہئے تھا……
….ردا تم پر کوئی زور زبردستی نہی تم آرام سے سوچ کر جواب دینا…حیا نے ایک بار اور اسکو سوچنے کا وقت دیا تھا…
….نہی حیا یہ میں پورے دل سے کہ رہی ہوں مجھے انکی پسند سے کوئی عتراض نہی ہے ردا نے پوری سچائی سے کہا..
….اسکی بات سن کر حیا نے اسکو گلے لگا لیا تھا اسے خوشی ہوئی تھی ردا کا جواب سن کر..
…تم دیکھنا ردا اپنے اس فیصلے سے کبھی کوئی مایوس نہی ہو گی حیا نے یقین کے ساتھ کہا اور خوشی خوشی اسکو وہیں چھوڑ کر بی جان کے پاس گئی تھی…..
….اسکے جانے کے بعد ردا اکیلے میں مسکرا دی تھی اسنے سہی فیصلہ کیا تھا یہ اسکے دل نے بھی کہا تھا….
…..حیا کے منہ سے ردا کا جواب سن کر بی جان بہت خوش ہوئی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ بات گھر میں سب کو معلوم ہو گئی تھی ….
…حارث نے جب سنا تو اسکو یقین ہی نہی آیا تھا اور آذان نے ایک ہفتے بعد شادی کی تاریخ فکس کی یہ سن کر تو حارث کی خوشی ڈبل ہو گئی تھی…
بی جان نے حارث کو بھی یہیں بلوا لیا تھا… اس وقت شاہ ہاؤس میں سبھی لوگ بہت خوش تھے اور پریشان بھی کی اتنی جلدی سارے انتظام کیسے ہوگے یہ سوچ کر💖💖💖💖💖💖…..جاری ہے…..
