No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
💖💖💖💖💖کیا ہوا آیت تم یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو…
ردا جو کچن میں کسی کام سے جا رہی تھی آیت کو لاؤنج میں اکیلا بیٹھا دیکھا تو وہ اسکے پاس صوفہ پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی….جو کسی گہری سوچ میں گم تھی …
…نہی نہی ایسی کوئی بات نہی ہے وہ میں روم میں بور ہو گئی تھی تو سوچا یہاں آکر تھوڑا ٹیوی دیکھ لیتی ہوں آیات ردا کی بات سن کر بولی تھی…
…آیت اگر تم بور ہو رہیں تھی تو میرے پاس آ جاتی میں بی جان کے روم میں ہی تھی ایسے اکیلے مت بیٹھا کرو آیت..
…تم ہماری مہمان ہو اور تمہارا خیال رکھنا میرا فرض ہے اگر تمھیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تم مجھ سے کہ سکتی ہو ردا نے بہت ہی اپنے پن سے کہا تھا….
….آیت سے اسکی اچھی دوستی ہو گئی تھی ردا اسکا ہر طرح سے خیال رکھتی تھی اسکو کسی چیز کی کمی نہی ہونے دیتی تھی پر اسکی آیت بہت ہی چپ لگی تھی وہ بہت ہی کم بولتی تھی اور ی بات ردا بی جان سے بھی کہ چکی تھی…
…. پر ایسا نہی تھا کی وہ یہاں رہ کر ہی ایسا کر رہی تھی آیت شروع سے ہی ایسی تھی اسکو وہ بہت کم بولنے والی لڑکی تھی کچھ وہ بچپن سے اکیلی بھی رہی ہے تو اسکو عادت نہی تھی زیادہ بولنے کی پر یہ بات ردا اور بی جان نہی جانتی تھی کی وہ کون ہے اور کہاں سے آئ ہے…
…جی ٹھیک ہے اگر مجھ کچھ بھی چاہئے ہوگا تو میں آپسے ہی کہوں گی آیت ردا کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی تھی…
…مجھ سے بھی کہ دینا اگر تمھیں کچھ چاہئے ہوگا…یہ آواز سامنے سے آتے ازلان کی تھی جو انکی یہ باتیں سن چکا تھا اور اپنا نام لینا اسنے ضروری سمجھا تھا…
….بس تم سے اپنے تو کام ہوتے نہی کسی اور کی ضرورت کیا پوری کروگے تم ردا نے بھی اسی کے انداز میں ازلان کو جواب دیا تھا جبکی ردا کی بات سن کر آیت پھر سے مسکرا دی تھی کیونکہ وہ جب سے آئ تھی ان دونوں کو اسی طرح لڑتا جہگڑتا ہوا دیکھ رہی تھی…
…..میری یہ افر صرف خاص لوگوں کے لئے ہوتی ہے اور تم اس لسٹ میں نہی آتی ہو ردا جی ازلان بھی کہاں چپ رہنے والا تھا…اپنی بات کہ کر اس نے آیت کی طرف دیکھا جو اسی تو دیکھ رہی تھی ازلان کے دیکھنے سے اس نے ازلان سے ایکدم نظریں ہٹا لی تھی..
..اسکے ایسا کرنے سے ازلان کے ہونٹھوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی…
…مجھے تمہاری لسٹ میں آنا بھی نہی ہے ردا نے بھی جل کر کہا تھا….
…اچھا تو اور کس کی لسٹ میں آنا چاہتی ہو تم وہ اپنی آنکھیں گھمہتے ہوئے بولا اور دھپ سے ردا کی برابر میں بیٹھ گیا جیسے اسے پورا یقین ہو کی وہ بتا دےگی کی وہ کس کی لسٹ میں آنا چاہتی ہے…
…ازلان کی بات سن کر ردا کی نظروں کے سامنے ایکدم سے ہی کسی کا چہرہ آیا تھا جبھی اس نے ایکدم سے اپنا سر جھٹکا تھا…
..جبکی …..ردا سے بات کرتے ہوئے وہ ایک دو بار آیت پر بھی نظر ڈال رہا تھا…ازلان کو آیت پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگی تھی…
…..اس بات سے انجن کی ردا اسکی چوری پکڑ چکی ہے اور وہ من ہی من میں بس مسکرا دی تھی….
..مجھے کسی کی لسٹ میں نہیں آنا ہے تم بس زیادہ بکواس مت کیا کرو وہ جل وہاں سے اٹھ گئی تھی اور وہاں سے سیدھا کچن میں جا کر رکی تھی جبکی اسکے اٹھتے ہی ازلان نے زور زور سے ہسنہ شروع کر دیا تھا…
…ردا کے اٹھ تے ہی آیت بھی مسکراتے ہوئے اسکے پیچھے چلی گئی تھی💖💖💖💖💖💖
……..
.💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖.
……..
💖💖💖💖💖💖وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوا اسکو حیا کہیں نظر نہی آئ تھی…حیا اسکو نیچے بھی نہی دکھائی دی تھی اسنے سوچا وہ روم میں ہوگی پر وہ اسکو روم میں بھی کہیں نظر نہی آئ تھی…
وہ بلکل ابھی آفس سے لوٹا تھا اور وہ ہمیشہ جب بھی آفس سے آتا تھا تو حیا اسکو یا تو لاؤنج میں یا پھر روم میں ہی بیٹھی ہوئی ملتی تھی…
….آفس سے واپس آکر وہ اسکو ہی دیکھنا چاہتا تھا پر آج واپسی پر وہ اسکو کہیں نظر نہی آئ تھی آذان کو برا بھی لگا تھا اور تھوڑا پریشان بھی ہوا تھا کی وہ جا کہاں سکتی ہے..
…اس دن رات والی بات کے بعد سے حیا نے اسکے سامنے زیادہ آنا بھی بند کر دیا تھا جب وہ صبح کو اٹھتا تو وہ اسکو روم میں نہی ملتی تھی…
…حیا اسکے اٹھنے سے پہلے ہی روم سے نکل جاتی تھی..
اور یہ دیکھ کر اسکو بہت برا لگتا تھا جب وہ تیار ہو کر نیچے ناشتہ کرنے کے لئے آتا تو وہ حارث کے ساتھ باتوں میں مصروف ملتی تھی اور وہ اس دوران بھی اسکو ایسے نظرانداز کئے بیٹھی رہتی تھی جیسے وہ یہاں موجود ہی ناں ہو..
..حیا کا یہ برطاو دیکھ کر آذان کو اور برا لگتا تھا وہ جب بھی سوچتا تھا کی وہ واپسی پر آکر اس سے بات کرے گا پر ایسا نہی ہوتا تھا …
…رات کا کھانا کھانے کے بعد حیا روم میں جلدی چلی جاتی تھی اور جب آذان روم میں جاتا تو وہ سو چکی ہوتی تھی اور اس سے بات کرنے کے بارے میں وہ بس سوچ کر ہی رہ جاتا تھا…
…آج اس نے سوچ لیا تھا کی وہ اس سے بات کرکے ہی رہے گا کی وہ اسکے لئے کتنے ضروری ہو گئی ہے اور نہ جانے کب اور کیسے اسکے دل میں بھی بس چکی ہے آذان اسکو بتانا چاہتا تھا کی وہ اسکو کتنا چاہنے لگا ہے حیا کو اپنے دل کی ہر بات بتانا چاہتا تھا….
وہ حیا کو یہ بھی بتاتا کی اسکو اسکا اگنور کرنا کتنا برا لگتا ہے اسکو تقلیف ہوتی ہے جب وہ اسکو نظرانداز کرتی ہے اس لئے وہ آج آفس سے جلدی ہی گھر آ گیا تھا ….
….ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کی وہ کہاں ہو سکتی ہے کی جبھی واشروم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئ تھی…
..آذان نے سامنے دیکھا تو حیا نکلتی ہوئی نظر آئ تھی اسنے تو سوچا بھی نہی تھا کی وہ واشروم میں بھی ہو سکتی ہے…
آذان بس اسکو ہی دیکھے جا رہا تھا..
…حیا اپنے بالوں کو ٹاول سے صاف کر رہی تھی وہ ابھی نہا کر ہی نکلی تھی اس وقت وہ بلیک کلر کے سوٹ میں آذان کو بہت ہی خوبصورت لگی تھی وہ بس ایکٹک حیا کو ہی دیکھ رہا تھا…
..حیا جو مگن سی اپنے بالوں کو خشک کرتی ہوئی نکلی تھی سامنے آذان کو کھڑا دیکھ کر ایک پل کے لئے اسکے چلتے ہاتھ رک گئے تھے …
…آج اسکو اتنی جلدی گھر دیکھ کر حیا بہت ہی حیران ہوئی تھی کیونکہ آج ایسا پہلی بار ہوا تھا کی وہ آفس سے جلدی گھر لوٹہ تھا ….
…آذان کو جب ایسے ہی خود کو دیکھتے پایا تو وہ نظریں جھکا کر ڈریسنگ کے پاس چلی گئی تھی حیا نے ہاتھ میں پکڑا تولیہ بیڈ پر رکھا اور آئنے میں کھڑی ہو کر اپنے بال سلجھانے لگی تھی…
..اور اس دوران اس نے پھر سے آذان کی موجودگی کو نظرانداز کیا ہوا تھا…
…آذان وہیں کھڑا حیا کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا وہ کچھ دیر تو بس اسکو دیکھا رہا پھر چلتا ہوا بلکل اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا…
…حیا جو اپنے بال سلجھا رہی تھی آئنے میں اپنے پیچھے اسکا عکس دیکھ کر حیا ایک پل کے لئے گھبرا گئی تھی …
حیا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہی پل میں وہاں سے ہٹی تھی اور اس سے دور جاکر کھڑی ہو گئی تھی…
….میں تمھیں کھا نہی جاؤں گا جو تم یوں دور ہوئی ہو آذان کو اسکا پل میں اس سے یوں دور جانا اچھا نہی لگا تھا…
…آپ سے کسی بھی چیز کی امید کی جا سکتی ہے کیونکہ آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور آپکو اس بات سے بھی کچھ فرک بھی نہی پڑتا ہے کی آپکی وجہ سے کسی کو کتنی ہوئی ہے….اتنا کہ کر وہ وہاں سے جانے لگی تھی یہ اسکا غصہ تھا جو شاید آج باہر نکلا تھا…
….تم یہ کیسے کہ سکتی ہو کی مجھے کوئی فرک نہی پڑتا…
…آذان نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو پکڑ کر حیا کو اپنے مقابل کیا تھا اسکے ایسا کرنے سے وہ دونوں ایک دوسرے کے بےحد قریب ہو گئے تھے….لقیں آج آذان کی پکڑ میں سختی نہی تھی اور ی بات حیا نے بھی محسوس کی تھی…
….میں یہ ایسے ہی نہی کہ رہی ہوں مجھے اس بات کا پورا یقین بھی ہے کی آپ جیسے لوگ جو صرف دوسرو کو درد دینا جانتے ہیں انکو کسی کی تقلیف سے کوئی فرک نہی پڑتا ہے ….اگر فرک پڑتا بھی تو کبھی ایسا ناں کرتے کسی کی تقلیف کی وجہ نہی بنتے….
… حیا بھی اس بار تلخی سے بولی تھی آج حیا نے بھی چپ نہی رہنا چاہا تھا آج اسکے دل میں جو تھا وہ سب کہ دیا تھا..
…. اسکو آذان کے قریب ہونے یا پھر اسکے غصّے کا بھی ڈر نہی تھا…یہ سب اثر دو دن پہلے ہوئی بات کا تھا جو آج دیکھ رہا تھا…
…جب کسی بات کا علم نہ ہو تو اسکے بارے میں بات بھی نہی کرنی چاہئے حیا کی بات سن کر آذان کو غصّہ تو آیا تھا مگر وہ اس وقت اس پر غصّہ نہی ہونا چاہتا تھا اگر وہ غصّہ ہو جاتا تو اسکی بات سچ سبط ہو جاتی جو وہ اس سے کہ رہی تھی…اس لئے وہ اپنے غصّے کو دبا کر بولا تھا…جبکی حیا اسکی لال ہوتی آنکھوں سے اندازہ لگا سکتی تھی کی اس وقت وہ اپنا غصّہ برداشت کر رہا ہے..
…مجھے جس بات کا علم ہے میں اسی کے بارے میں بات کر رہی ہوں بہتر ہوگا کی آپ بھی یہ بات تسلیم کر لیں وہ ایک جھٹکی سے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کرواتی ہوئی بولی تھی اور پھر وہ رکی نہی تھی روم سے بھی باہر چلی گئی تھی…
…جبکی آذان آج اسکے روائیے کے بارے میں سوچتا رہ گیا تھا وہ جو آج اس سے کہنا چاہتا تھا وہ تو کہ ہی نہی پایا تھا اس سے الگ وہ ہی اسکو اتنا کچھ سنا کر چلی گئی تھی کی اسکو کچھ بھی کہنے کا موقع ہی نہی دیا تھا….
….اسکے بعد بھی آذان نے کئی بار حیا سے بات کرنے کی کوشش کی تھی پر حیا نے موقع ہی نہی آنے دیا تھا اور روز کی طرح آج بھی وہ نقام ہو گیا تھا💖💖💖💖💖💖
…….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
……..
💖💖💖💖💖وہ اس وقت آفس میں بیٹھا کل ہونے والی اپنی اور حیا کی بات کے بارے میں سوچ رہا تھا..
…حیا نے آج اتنے وقت بعد اس سے اس طرح بات کی تھی پر اسنے جو سب کہا تھا سب سچ ہی تو کہا تھا وہ مانتا ہے کی وہ اسکو تقلیف دیتا ہے ہر بار اسکے درد کی وجہ بنتا ہے اسکے آنسو کی وجہ بنتا ہے پر وہ یہ نہی جانتی تھی کی اسکو تقلیف دے کر اسکو بھی تو درد ہوتا ہے..وہ مانتا ہے کی اس سے اپنا غصّہ برداشت نہی کرنا آتا ہے اور یہ ہی وجہ تھی کی اسکا غصّہ حیا کی تقلیف کی وجہ بن جاتا تھا….
…وہ حیا کو بتانا چاہتا تھا کی وہ اسکے بارے میں ہر بار کی طرح اس بار بھی غلط سمجھ رہی ہے وہ یہ ہی بات اسکو سمجھانا چاہ رہا تھا پر اسنے تو آذان کو کچھ بھی کہنے کا موقع ہی نہی دیا تھا …
…آذان یہ دیکھو میں نے یہ فائل بھی کمپلیٹ کر لی ہے اور وقیل سے بھی سب بات ہو چکی ہے بس اس فائل پر آیت کے سائن ہونے باقی ہے پھر ہمارا کام پورا ہو جائے گا تمہارا بدلہ پورا ہو جائے گا جسکے لئے تم نے اتنے محنت کی ہے ….حارث اسکے روم میں بولتا ہوا داخل ہوا تھا….
….حارث کی بات سن کر آذان ایک دم خوش ہوتے ہوئے اپنے اپنی سیٹ سے کھڑا ہو گیا تھا حارث کے آنے سے پہلے جو اداسی اسکے چہرے پر تھی وہ اب کہیں نہی تھی….
….یہ تو تم نے بہت ہی اچھی خبر سنائی ہے حارث آذان حارث کے گلے لگتے ہوئے بولا تھا آج کتنے وقت بعد وہ اندر سے خوش ہوا تھا ورنہ اسکو کوئی خوشی محسوس ہی نہی ہوتی تھی وہ بس اپر سے ہنستا مسکراتا رہتا تھا…..
…بس حارث کچھ وقت اور پھر بس خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی آذان اس سے الگ ہوتے ہوئے بولا تھا…
..آمین میرے بھائی تم ہمیشہ خوش رہو اور بس تمہاری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہو حارث نے اسکے لئے دل سے دعا کی تھی..
…حارث مجھے آج ایسا لگ رہا ہے کی میری نور بھی بہت خوش ہوگی آج میں اسکے پاس جاؤں گا ویسے بھی بہت دن ہو گئے ہے میں اس سے ملنے نہی گیا ہوں ….
…ہاں ضرور جانا اور آج میں بھی جاؤں گا تمہارے ساتھ حارث بھی اسکی خوشی میں شامل ہونا چاہتا تھا……
…ہاں ٹھیک ہے میں پہلے یہ سب کام ختم کر لوں پھر ساتھ چلتے ہیں….
…ٹھیک ہے ازان کی بات سن کر حارث اسکے فری ہونے کا انتظار کرنے لگا تھا حارث نے سوچا تھا وہ آج آذان سے اپنے اور ردا کے بارے میں بھی بات کر لے گا کیونکہ آج آذان بہت خوش تھا اور اب اسکا بدلہ بھی پورا ہونے والا تھا اسنے سوچا یہ سہی وقت ہے اس سے بات کرنے کا….
…کیا ہوا حارث خاموش کیوں بیٹھے ہو کچھ کہنا ہے تمھیں آذان حارث کو خاموش دیکھ کر بولا تھا…
…ہاں آذان میں تم سے بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں کافی وقت سے کرنا چاہ رہا تھا پر مجھے سہی وقت کا انتظار تھا حارث ازان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا اسکو آذان سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کچھ اجیب لگ رہا تھا جو بھی تھا ردا اسکی بہن تھی پر وہ یہ بات پہلے اس سے ہی کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ راضی ہے تو بی جان سے پھر وہ خود ہی بات کر لےگا…کیونکہ اسکے لئے بی جان سے بات کرنا آذان سے بات کرنے سے زیادہ مشقل تھا …
…..میں جانتا ہوں تم کس بارے میں بات کرنا چاہتے ہو حارث بےفکر رہو مجھے جب بھی موقع میلے گا میں بی جان سے خود بات کر لونگا آذان اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا….
…جبکی آذان کی بات سن کر حارث حیران ہوا تھا وہ کیسے جانتا ہے کی وہ کس بارے میں بات کرنا چاہتا تھا اس سے..
…اتنا حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہی ہے تم نے مجھے اتنا انجن سمجھا ہوا ہے کی میں اپنے بھائی کے دل کی بات نہ جان سکوں میں جانتا ہوں کی میں جانتا ہوں کی میرے لئے میرا بدلہ سب سے زیادہ ضروری ہے پر میں اپنے قریبی لوگوں سے اتنا بھی غفل نہی ہوں کی انکے دل کی بات نہ جان سکوں آذان بڑے آرام سے اپنی چیئر پر بیٹھا آج حارث کو حیران کر رہا تھا…
…سچ میں تمھیں کوئی اعتراض نہی ہے اس بار حارث بھی خوش ہو گیا تھا اسکی بات سن کر…
…مجھے اس بات سے کیا اعتراض ہوگا حارث کیونکہ مجھے لگتا ہی نہی اس بات کا پورا یقین بھی ہے کی ردا کو تم سے بہتر کوئی نہی مل سکتا ہے آذان کھڑا ہو کر اسکے پاس آیا تھا اور اسکی بات سن کر حارث اپنی جگہ سے اٹھا اور آذان کے گلے لگ گیا تھا….
….تم نہی جانتے آذان تم نے آج مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے میں یہ لفظوں میں بیان نہی کر سکتا ہوں حارث اسکے گلے لگے لگے بولا تھا…
…تم نے آج تک جو میرے لئے کیا ہے نہ اسکے آگے یہ تو کچھ بھی نہی ہے آذان دل سے بولا تھا…
..کیوں نہ اس خوش کو اور کسی کے ساتھ بھی باٹ لیں آذان اس سے الگ ہو کر بولا تھا اسکی بات کا مطلب سمجھ کر حارث مسکرا دیا تھا 💖💖💖💖💖💖
……..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
……..
💖💖💖💖💖میں نے کہا تھا تم سے جب تک تمھیں اسکے بارے میں کچھ پتا نہی چل جاتا تب تک تم اپنی شقل بھی مت دکھانا مجھے پھر کیوں آئے تم دلاور خان اس وقت اپنے سامنے کھڑے بشر پر اپنا غصّہ نکال رہا تھا….
…خان ہمنے ہر ممقن کوشش کر لی پر بی بی کا کچھ پتا نہی چلا ہے اس لئے مایوس ہو کر ہمیں واپس آنا پڑا بشر آج ہی واپس لوٹہ تھا اور اب اپنے مالق کا غصّہ برداشت کر رہا تھا…
…کہاں چلی گئی ہے آخر کہاں وہ ابھی اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اسکا فون بجا تھا….
….کیا ہوا خان ابھی تک ملی نہی تمہاری بیٹی آذان کی آواز اسکی کانوں میں گنجی تھی….
….کیا بکواس کر رہے ہو میں جانتا ہوں وہ تو تمہارے پاس ہے نہ دلاور اسکی بات نہی سمجھا تھا….
….میں حیا کی نہی تمہاری اصلی بیٹی آیت کی بات کر رہا ہوں اس بار آذان نے کھل کر بات کی تھی …
…آذان کی بات سن کر دلاور ایک پل کے لئے خاموش ہو گیا تھا وہ تو اب تک اس دھوکے میں رہ رہا تھا کی آذان کو کچھ معلوم نہی ہے پر یہاں تو وہ سب جانتا تھا…
….کون حیا دلاور انجن بنتے ہوئے بولا تھا…
…حیا کون ہے یہ تو تم اچھی طرح جانتے ہو زیادہ انجن بھی مت بنو خان….
….آذان کی بات سن کر اب دلاور سمجھ چکا تھا کی حیا اسکو سب بتا چکی ہے اور آیت اس وقت کہاں ہے وہ یہ بھی سمجھ چکا تھا.. اب سارا کھیل اسکے سمجھ میں آ گیا تھا…
…کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئے خان اب یاد آ گیا سب کچھ آذان اسکو جلانے کے لئے ہنسا تھا…
…تم مجھسے کبھی جیت نہی سکتے آذان شاہ یہ بات یاد رکھنا دلاور اس بار غصّے سے بولا تھا…
…کون جیتے گا اور کون ہار جائے گا ابھی کچھ وقت میں تمھیں پتا چل جائے گا…
…کہا تھا ناں میں نے کی تجھے برباد کر دونگا وہ وقت آ گیا ہے خان اب تو کچھ نہی کر سکتا میری بہن کے قتل کو سزہ ضرور ملےگی اور میری نظر میں ہر قاتل کو سزہ ملنی چاہئے اس بار آذان کی آواز میں بھی غصّہ تھا….
مجھے سزہ ملےگی یا نہیں یہ تم بعد میں سوچنا پہلے تمہارے گھر میں جو قاتل موجود ہے اسکے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا….دلاور خان کو پورا یقین تھا کی حیا نے اس قتل کے بارے میں اسکو کچھ نہی بتایا ہوگا جو اس سے انجانے میں ہوا تھا ….
….کس قاتل کی بات کر رہے ہو تم آذان اسکی بات سمجھا نہی تھا اسکے گھر میں کون قاتل تھا اسکو جسکے بارے میں خبر ہی نہی تھی….
….اوہ تو تمہاری بیوی نے تمھیں کچھ نہی بتایا ہے کی وہ کسی کا قتل کر کے آئ ہوئی ہے دلاور نے اسکا غصّہ مزید بڑھا دیا تھا….
….دلاور خان کی بات سن کر آذان نے غصّہ سے فون دیوار پر بہت زور سے دے مارا تھا….
….وہ بہت غصّے میں اپنے آفس سے نکلا تھا….
….جبکی دوسری طرف دلاور خوش ہو گیا تھا اسکا اسکا اندھیرے میں چلایا تیر کامیاب ہوا تھا..💖💖💖💖💖💖جاری ہے ….
