No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
💖💖💖💖💖💖 ….مجھے معاف کر دو حیا اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کی کبھی ایسا نہی ہوگا میں تمھیں کبھی تقلیف نہی دوں گا …
….آذان اسکو اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا اور حیا بس اسکو سنے جا رہی تھی ….
…آذان کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ اسکے ڈیل میں اتر رہا تھا اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے …
..میں تمہارے ساتھ ہسی خوشی زندگی گزرنا چاہتا ہوں حیا …. اسنے اب حیا کے دونوں ہاتھ تھام لئے تھے…
….جبکی حیا تو بس کھڑی آنسو بھا رہی تھی اسنے تو کبھی سوچا ہی نہی تھا کی آذان اس سے اس طرح سے معافی مانگے گا اور ساتھ میں وہ اس سے اپنی محبت کا بھی عتراف کر رہا تھا ..
….اور اسکے منہ سے اپنے لئے یہ سب سن کر حیا کو خوشی بھی ہوئی تھی آج اسکو پتا چل گیا تھا کی محبت کے اس سفر میں وہ اکیلی نہی تھی وہ بھی اسکو چاہتا ہے …
…. اسے تو خود بھی نہی پتا چلا تھا کی کب وہ اس ظالم شخص کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی …
…اسکے ساتھ اتنے ظلم ستم کرنے کے بعد بھی وہ آذان کو اپنے دل میں بسہ بیٹھی تھی…
….میں نے آپکو معاف کیا آذان اس گناہ کے اور ہر اس ظلم کے لئے جو اپنے میرے ساتھ کئے ہے حیا نے روتے ہوئے آذان کی طرف دیکھ کر کہا تھا جو اسکے ہاتھ تھامے ابھی بھی زمین پر اسکے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا…
…وہ کیوں ناں اسے معاف کرتی جو اسکے قدموں میں بیٹھا اسکی معافی کا طلبگار تھا اور اللّه بھی ٹو معاف کرنے والو کو پسند کرتا ہے تو اسنے بھی اسکو معاف کر دیا تھا….
….حیا کی بات سن کر آذان ایک دم اسکے قدموں سے اٹھا تھا اور اسکے مقابل کھڑا ہوا اسکو یقین نہی آیا تھا جو اس نے سنا ہے وہ سچ ہے یا نہی…
….تم سچ کہ رہی ہو حیا تم نے مجھے معاف کر دیا آذان نے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لےکر کہا تھا….
….ہاں میں نے آپکو معاف کیا حیا نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا جن میں وہ اپنا عکس آرام دیکھ سکتی تھی ….
….تم بہت اچھی ہو حیا بہت آذان نے کہتے کے ساتھ ہی حیا کو اپنی باہوں میں بھر لیا تھا….
….حیا کو بھی اس وقت سہارے کی ضرورت تھی اسکی باہوں میں آتے ہی اسکے آنسوں میں تیزی آ گئی تھی اسکو ایک سکون سا محسوس ھو رہا تھا اسکی باہوں میں …
…..آذان بھی آج بہت خوش تھا اسکو آج ایک ساتھ دو دو خوشیاں ملی تھی آج اسکے اتنے دن کی بےچینی بھی ختم ہو گئی تھی…
…تم نے آج مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے حیا آذان اس سے الگ ہوا تھا اور اسکا چہرہ پھر سے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا تھا….
….آپ پھر کبھی اس طرح سے تنگ تو نہی کرو گے ناں مجھے حیا نے کچھ ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا تھا اسکا کیا بھروسہ کب غصّہ ہو جائے….
…حیا کی بات سن کر اذان کو اس پر بہت پیار آیا تھا….وہ اسے اس وقت ایک چھوٹے بچچے کی طرح لگی تھی…
…میں آذان شاہ تم سے آج وعدہ کرتا ہوں کی تمھیں اتنی خوشی دوں گا کی تم پچھلے ہر غم بھول جاؤ گی آذان اتنا کہ کر اس پر جھکہ اور اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھ دئے تھے….
…حیا جو اسکے جواب کا انتظار کرتی اسکی طرف دیکھ رہی تھی آذان کی اس حرکت سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی…
…اور اس بار اسنے آذان کو خود سے دور بھی نہی کیا تھا وہ بس آنکھیں بند کئے اسکا لمس محسوس کر رہی تھی …..
…آذان نے دیکھا جو ابھی بھی آنکھیں بند کئے کھڑی تھی تبھی اسکی نظر حیا کے لبوں پر پڑی تھی …
..وہ اس پر پھر سے جھکنے ہی لگا تھا جب اسکا فون بجا تھا فون کی آواز سے آذان بہت بدمزہ ہوا تھا….وہ حیا سے دور ہوا اور مڑا تھا بیڈ کی طرف….
…وہیں حیا نے بھی اپنی آنکھیں کھولی تھی اس نے دیکھا آذان بیڈ پر پڑا اپنا موبائل اٹھا رہا تھا جس پر کسی کی کال آ رہی تھی…
…ہاں حارث بولو کیا بات ہے آذان کال ریسیو کرتے ہی بولا تھا…جبکی اسکی نظریں حیا کو ہی دیکھ رہی تھی..جو اب نظریں جھکہ کر کھڑی تھی…
….اچھا ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں حارث کے جواب میں آذان نے اتنا کہ کر فون رکھ دیا تھا اور فون رکھ کر پھر سے حیا کے پاس آیا تھا….
….مجھے بہت ضروری کام ہے حیا تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا پھر آکر بات کرتا ہوں جہاں سے ختم ہوئی ہے وہیں سے شروع کریں گے ٹھیک ہے…
… آذان حیا کے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا اور ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھ کر روم سے چلا گیا تھا…..
….اسکے جانے کے بعد حیا کتنی ہی دیر بس اسکا لمس اپنے ماتھے اور اپنے کان کی لؤ پر محسوس کر رہی تھی…
..اسنے آج تک آذان کا ظالم والا روپ دیکھا تھا یہ روپ حیا کے لئے نیا اور انوکھا تھا.. …وہ آذان کے بارے میں سوچتی پہلی بار کھل کر مسکرائی تھی💖💖💖💖💖💖
………
……….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖آج وہ پوری طرح برباد ہو گیا تھا جو آذان شاہ نے اس سے کہاہ تھا وہ سب اسنے پورا کر دیا تھا…
آذان شاہ نے دلاور خان سے اسکا سب کچھ چھین لیا تھا… …..اسکے پاس اب کچھ نہیں بچا تھا..
…جس دولت کو پانے کے لئے اسنے اپنی بیوی کو بھی مار دیا تھا
..لیکن پھر بھی وہ دولت اسکو نہ مل سکی کیوں کی وہ سب آیت کے نام ہو چکا تھا …
….پھر اسنے آیت کے بڑے ہونے کا انتظار کیا اسنے سوچا تھا کی وہ بڑے ہونے کے بعد اس سے سب کچھ اپنے نام کروا لےگا پر ایسا ہو نہ سکا کیوں کی اسنے سائن کرنے سے منا کر دیا تھا اس وقت تو دلاور کو بہت غصّہ آیا پر وہ غصّے سے کام نہں لینا چاہتا تھا ..
…اسی وقت اسکی ملاقات حیا سے ہوئی اور پھر اسنے سبکے سامنے جھوٹ بولا کی حیا اسکی بیٹی ہے…
…. حیا سے سائن کروا کر آیت کو مروا دیتا اور حیا کو اپنی بیٹی بنا کر اپنے پاس رکھتا …
..کیوں کی کسی کو نہیں پتا تھا کی یہ سب آیت کا ہے اور آیت کو کسی نے دیکھا بھی نہیں تھا…
… دلاور کو اپنا پلان کامیاب ہونے کی پوری امید تھی… …لیکن آذان شاہ کے بیچ میں آ جانے سے اسکا سارا پلان برباد ہوتا چلا گیا تھا ..
…اور آج آذان نے سب سچ کر دکھایا تھا اسکے پاس کچھ بھی نہیں رہنے دیا تھا …یہاں تک کی اسکو اس گھر سے بھی نکالا جا چکا تھا جہا وہ اب تک رہتا آ رہا تھا ….
جتنا خوش ہونا ہے ہو لو آذان شاہ میں بہت جلد تمہاری یہ سری خوشیاں چھین لوں گا ..
…..تم سے تمہاری سب سے پیاری چیز چھین لونگا…دلاور خان اپنی سوچوں میں آذان سے مخاطب تھا
..دلاور خان کا اس وقت غصے سے بہت برا حال تھا وہ اس وقت بشر کے گھر موجود تھا اور اپنی آج ہوئی بربادی کے بارے میں سوچ رہا تھا…
..خان ابھی کچھ بھی غلط کرنے کے بارے میں مت سوچے ابھی آپکے حالات ٹھیک نہی ہے اگر کچھ بھی غلط کیا تو پھر آپکو ہی نکسان ہوگا بشر اسکو سمجھا رہا تھا….
…آیت نے اس پر دھوکے بازی کا کوئی کیس نہی کیا تھا پر آذان نے پولیس کو پہلے ہی سب کچھ بتا دیا تھا کی اسکو اپنے باپ سے خطرہ ہو سکتا ہے جس وجہ سے دلاور کو وارں کیا گیا تھا کی اگر اسنے کچھ بھی غلط کیا تو اسکے لئے اچھا نہی ہوگا….
…نہی بشر میں اسکو برباد کر کے ہی رہونگا اور جب تک میں چین سے نہی بیٹھنے والا ہوں دلاور پھر سے غصّے میں بولا تھا اسکا بس نہی چل رہا تھا کی اگر آذان اسکے سامنے ہوتا تو وہ اسکا قتل ہی کر دیتا….
..دلاور کی بات سن کر بشر خاموش ہو گیا تھا وہ کیا کہ سکتا تھا اتنا تو وہ اپنے مالک کو جانتا تھا کی جو وہ بولتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے 💖💖💖💖💖
………..
…………
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖…
…………
💖💖💖💖💖💖💖 صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو حیا کو بلکل اپنے قریب ہی سوتا پایا تھا اسکا چہرہ دیکھ کر اسکے ہونٹھوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی…
حیا اسکی طرف کروٹ لئے لیٹی ہوئی تھی ….اسنے ایک ہاتھ آذان کے سینے پر رکھا ہوا تھا …
….آج ایسا پہلی بار ہوا تھا کی جب وہ اٹھا تو حیا اسکو اپنے پاس سوتی ہوئی ملی تھی ورنہ اتنے دنوں سے تو جب وہ جاگتا حیا اسکو بیڈ تو کیا پورے روم میں ہی کہیں نظر نہی آتی تھی ….
..آج اسکو یوں سوتا دیکھ کر آذان کو بہت اچھا لگ رہا تھا یہ اسکو آج معلوم ہوا تھا کی وہ سوتے ہوئے اور زیادہ خوبصورت لگتی ہے….
….رات حارث کی کال آنے پر وہ سیدھا وقیل کے پاس گیا تھا فائل وقیل کو دینے کے بعد کچھ ہی دیر بعد حارث آیت کو اپنے ساتھ لے آیا تھا اور گھر پر کیا بہانہ بنا کر لایا تھا اس نے پوچھنا ضروری بھی نہی سمجھا تھا….
…آیت کے آنے کے بعد کام اور آسان ہوتا چلا گیا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا اتنے سالوں کی محنت آج پوری ہو گئی تھی وہ بہت خوش تھا اور یہ خوشی وہ حیا کے ساتھ شئر کرنا چاہتا تھا پر کچھ کام میں اتنی دیر ہو گئی تھی جب وہ گھر واپس آیا تو حیا سو چکی تھی اسکو سوتا دیکھ آذان نے اسکو اٹھانا مناصب نہی سمجھا تھا تو وہ بھی سونے کے لئے لیٹ گیا تھا…..
….آذان بس اسکو دیکھتا یہ سب سوچے جا رہا تھا جب حیا ہلکا سا کسمسائ تھی اسکو اٹھتا دیکھ کر آذان نے فورن اپنے آنکھیں بند کر لی تھی…..
….حیا کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو آذان کے قریب لیٹا پایا تھا ایک دم اسکو اپنے قریب دیکھ کر حیا ایکدم گھبرا کر اٹھی تھی پر آذان کو سوتا دیکھ کر کچھ پرسکوں ہوئی تھی..
…حیا آذان کو دیکھتی اسکی کل رات والی باتیں یاد کر رہی تھی ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹھوں کو چھوا تھا…
…کتنا کچھ بدل گیا تھا ایک رات میں وہ جو اسکو دور سے دیکھتے ہوئے بھی ڈرتی تھی آج اسکے اتنے قریب بیٹھی بس اسی کو دیکھ رہی تھی….
….تم کیا پورا وقت ایسے ہی دیکھتی رہوگی کچھ بولوگی نہی ایک دم آذان نے آنکھیں کھولتے ہوئے اس سے کہا تھا….
…حیا جو اسکو دیکھنے میں مگن تھی اسکی آواز سن کر سٹپٹہ گئی تھی …اسکو اپنی چوری پکڑے جانے پر بہت شرم آئ تھی…
..وہ تو سوچ رہی تھی آذان تو سویا ہوا ہے پر ایسا نہی تھا…
..بولو ناں میں انتظار کر رہا ہوں آذان اب اٹھ کر اسکے پاس ہی بیٹھ گیا تھا ….
…کیا بولوں حیا اسکی بات نہی سمجھی تھی کی وہ کیا سننا چاہ رہا ہے…
…وہی سب جو میں نے کل رات تم سے اپنی محبت میں کہا وہی سب میں اب تم سے سننا چاہتا ہوں آذان حیا کے مزید قریب ہوتے ہوئے بولا…
..وہ تو آپنے اپنی محبت میں بولا تھا نہ حیا کہا اور اس سے تھوڑا دور ہوئی تھی ..
…تو کیا تمھیں محبت نہی ہے مجھ سے آذان نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو پھر سے اپنے قریب کیا تھا…
….پتا نہی حیا نے چھوٹا سا جواب دیا تھا کیونکہ اسکو اب آذان سے بہت شرم آ رہی تھی جو اسکا بازو پکڑے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا..
…ٹھیک ہے تمھیں دو دن دیتا ہوں تم پتا کر لو ان دو دنوں میں اگر تم نے بتا دیا تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے اچھے سے پتا کرنا آتا ہے آذان نے اسکا بازو اپنی گرفت سے آزاد کیا اور بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا..
… وہ ابھی حیا سے زبردستی نہی کرنا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کی حیا خود سے اپنی محبت کا عتراف کرے …
…آذان کی گرفت اور اسکی بات سن کر حیا نے سکھ کا سانس لیا تھا ورنہ تو اسکی قربت سے اس سے بولا ہی نہی جا رہا تھا…
..اچھا سنوں آج ہم بی جان کے پاس جا رہیں ہے تیاری کر لو وہ واشروم میں جاتا جاتا رکا اور مڑ کر اسکو آج کے پلان کے بارے میں بتایا تھا …اور پھر واشروم میں گھس گیا تھا جبکی حیا اسکی بات سن کر پھر سے مسکرا دی تھی اسکا بھی بہت دل تھا بی جان کے پاس جانے کا اور آج آذان اسکو خود وہاں لے جا رہا تھا 💖💖💖💖💖💖
……
……
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖..
……..
💖💖💖💖💖کیا ہو رہا ہے ……ردا اور آیت جو لوں میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی ازلان کی آواز پر دونوں نے ہی ایک ساتھ مڑ کر پیچھے دیکھا تو ازلان ہاتھ میں شوپر لئے انکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھتا ہوا آ رہا تھا…..
..کچھ نہیں بس ایسے ہی باتیں کر رہے تھے …
……. ردا نے بھی مسکراتے ہوئے کہا ……..
…اچھا جی تم اپنی باتوں سے آیت کو بور کر رہی ہو ….ازلان نے شرارت سے ردا سے کہا جبکی اسکی نظرے آیت پر تھی….
….اچھا جی میں اپنی باتوں سےسب کو بور کرتی ہوں… …..ردا نے موزو غصے سے اسکی طرف دیکھا جو اپنے ہونٹھوں پر شرارتی مسکراہٹ لئے کھڑا تھا …..
….ارے میں تو مذاک کر رہا ہوں ….ازلان نے اسکی ناک دباتے ہوئے کہا جس پر ردا کے ساتھ ساتھ آیت بھی مسکرا دی تھی ……
…اچھا واسے یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے….
ردا نے شوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا…..
یہ میں تم دونو کے لئے لایا ہوں ….ازلان نے شوپر ردا کو دیا ..
…ارے واہ آئسکریم …ردا نے خوش ہوتے ہوئے کہا جس پر وہ ازلان مسکرا دیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ٹھنڈ کے موسم میں ردا کو آئسکریم کھانا کتنا پسند ہے…
…ویسے خیریت تو ہے نہ آج تم خد بنا کہے لے کر آۓ ہو ورنہ تو کتنی منّت کرنی پڑتی ہے تمہاری ردا نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا….
…بس آج میرا من تھا کی تمھیں خوش کر دوں تو لے آیا ازلان بات بناتے ہوئے بولا تھا اب وہ اسے کیا بتاتا کی وہ خوش تھا اور وجہ وہ پوچھتی جو وہ بتا نہی سکتا تھا….
….پر آیت سمجھ گئی تھی …وہ آج خوش کیوں ہے اور اسکی خوشی کی وجہ بھی….
حارث نے ازلان کو سب بتا دیا تھا یہ اسکے لئے بھی اتنی ہی خوشی کی بات تھی جتنی آذان کے لئے……
…..تم اکیلی مت کھانا آیت کو بھی دے دینا بھوکڑ ازلان پھر سے اسکو چھیڑتے ہوئے بولا تھا.
….اگر تم نا بھی بولتے تو بھی میں یہ سب کے ساتھ باٹنے والی تھی پر تم خوش مت ہونا تمھیں نہی دوں گی ردا نے اسکو زبان دکھا کر کہا تھا….
…پتا تھا مجھے اس لئے میں اپنے لئے بھی لے کر آیا ہوں اب اسکو چڑانے کی باری ازلان تھی جس پر ردا منہ بنا کر رہ گئی تھی…
….اسکے منہ بنانے سے ازلان ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا اس بات سے بےخبر کی آیت نے دور تک اسکو جاتے دیکھا تھا…..💖💖💖💖💖💖💖جاری ہے ….
