Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

💖💖💖💖💖..اسکو جب ہوش آیا تو پہلے تو اسکی کچھ سمجھ نہی آیا کی وہ کہاں ہے کچھ تو سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی کافی درد بھی محسوس کر رہی تھی جب دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو اسکو سمجھ آیا کی وہ ہسپتال کے روم میں ہے..
..اٹھ گئی تم اب کیسا محسوس کر رہی ہو…
.. کسی کی آواز اسکو اپنے بہت ہی قریب سنائی دی تھی..اسنے اپنے بیڈ کے برابر گردن موڑ کر دیکھا تو ایک شخص کو بیٹھے پایا..
..تم کل رات میری کار سے ٹکرا گئی تھی میں ہی تمھیں ہسپتال لے کر آیا ہوں تم کل سے بےہوش تھی اب جاکر تمھیں ہوش آیا ہے اس شخص نے تفصیل سے اسکو بتایا..وہ اسکی آنکھوں میں اپنے لئے سوالات دیکھ چکا تھا اس لئے اسکے پوچھنے سے پہلے ہی اسکو سب کچھ بتانا ضروری سمجھا تھا..
..اس شخص کی بات سن کر اسنے سکوں کا سانس لیا تھا یانی وہ خود کو بچانے میں کامیاب ہو گئی ہے اپنے اذّت بچانے میں اسنے دل ہی دل میں اللّه کا شکر ادا کیا تھا..اور کتنے ہی آنسو اسکی آنکھوں آنسو بہ نکلے تھے ….
..تم کون ہو اور رات کے اس وقت جنگل میں کیا کر رہی تھی اور جہاں تک مجھے لگتا ہے تم کسی سے اپنی جان بچا کر بھاگ رہی تھی…وہ سخص اسکو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا..اسکی حالت کو دیکھ کر وہ پہلے ہی سمجھ چکا تھا بس اس سے سننا چاہتا تھا…
…نہیں ایسی کوئ بات نہی ہے میں بس جنگل میں گم ہو گئی تھی اور کچھ رات کا وقت بھی تھا حیا نے جھوٹ بولا تھا وہ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے ڈر رہی تھی اگر اسنے یہ بتا دیا کی وہ کسی کا قتل کر کے آئ ہے تو شخس اسکو غلط نہ سمجھ لے…
دیکھو جہاں تک مجھے لگ رہا ہے تم گم نہی ہوئی تھی تم کسی سے بچ کر بھگ رہی تھی مجھسے جھوٹ مت بولو سب سچ بتا دو ہو سکتا ہے وہ لوگ پھر تمھیں دوبارہ پریشان کر سکتے ہے …ہو سکتا ہے میں کچھ مدد کر دوں تمہاری وہ شخص سہی ہی تو کہ رہا تھا اگر اسکے لوگ پھر اسکو مل گئے تو وہ کیا کریگی اور اسکی کون مدد کریگا ..اس شخص کی بات سن کر اسکی آنکھ سے آنسوں بہنے لگے تھے اور پھر وہ ساری بات اسکو بتا تی چلی گئی تھی اسکو اس بات کا اندازہ بلکل نہی تھا کی وہ اپنی کمزوری کس آدمی کو بتا رہی ہے پر وہ کیا کرتی بہت معصوم تھی وہ اسکو سھارے کی ضرورت تھی اور اس وقت اسکو وہ شخص اپنے لیے سہارے سے کم نہی لگا تھا…
…بہت افسوس ہوا تمہاری بات سن کر اور اب سے تم اکیلی نہی ہو میں ہوں تمہارے ساتھ تم میرے ساتھ چلو…حیا کی بات سن کر وہ شخص اس سے بولا ..
میں آپکے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں میں تو آپکو جانتی بھی نہیں ہو اور مجھے تو اپکا نام بھی نہیں پتا ہے …حیا نے بہت معصومیت سے اس سے پوچھا …جبکی حیا کی بات سن کر وہ شخص مسکراتے ہوئے بولا ..دلاور خان . 💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖اور پھر اسکی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہو گیا تھا وہ اس شخص کے ساتھ اسکے گھر چلی آئ تھی جسنے اپنا نام دلاور خان بتایا تھا اسنے بہت ہی چالاکی سے حیا کو اپنی باتوں میں فسایا تھا اور وہ اسکی باتوں میں آتی گئ ایک دن اسنے حیا کو بتایا کی کچھ لوگ اسکی اور اسکی بیٹی کی جان کے پیچھے پڑے ہے اور وہ چاہتا ہے کی وہ اسکی بیٹی کی جگہ لے اسکی بیٹی کا نام آیت ہے اور وہ لندن رہتی تھی وہ چاہتا تھا کی حیا اسکی بیٹی بن کر سبکے سامنے رہے جس سے اسکی بیٹی کو کوئ نکسن نہ ہو اور اسنے حیا سے وعدہ کیا تھا کی وہ اسکی بھی حفاظت کریگا دلاور نے بڑی ہی چالاکی سے حیا کو اپنی باتوں میں فسا لیا تھا اور وہ معصوم اسکی باتوں میں آتی چلی گئی تھی یہ جانے بنا کی اسکا یہ سب کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا ..
..حیا کو تو بس یہ لگتا تھا کی اس شخص نے اسکی جان بچائی ہے اور بدلے میں بس وہ اس سے تھوڑی سی مدد ہی تو مانگ رہا تھا اپنی بیٹی کے لئے اور پھر اسکے احسن کا سوچ کر اسنے حامی بھر لی تھی یہ جانے بغیر کی اسکو اس سے کتنا نقصان ہونے والا تھا..
.. پھر وہ دو سال تک لندن رہی تھی دلاور کی بیٹی کے پاس اسنے اپنی بیٹی سے حیا کے بارے میں جھوٹ بولا تھا کی وہ اسکے دوست کی بیٹی ہے اور حیا کو بھی آیت کو کچھ بھی بتانے سے منا کیا تھا کی وہ اپنے بارے میں اسکو کچھ بھی نہ بتایں کی وہ کون ہے اور کیوں دلاور نے اسکو اپنے ساتھ رکھا ہے اور وہاں کچھ وقت آیت کے ساتھ رہ کر ہی حیا کو لگا تھا کی وہ بہت ہی معصوم ہے اور وہ حیا کو اپنی عمر کی لگی تھی دونوں میں کافی اچھی دوستی بھی ہو گئ تھی اس سے ہی حیا پتا لگا تھا کی دلاور اچھا آدمی نہی ہے سب غلط کام کرتا ہے جسکی وجہ سے وہ اپنے باپ کو خاص پسند نہی کرتی تھی اسکی بات سن کر ایک بار پھر اسکو خود پر بہت رونا آیا تھا کی وہ پھر سے غلط لوگوں میں پھنس گئ ہے .پر دلاور خان کا اسپر احسان تھا جو اسکو اترنا تھا .وہ دوبارہ واپس نہیں آنا چاہتی تھی پر اسکو آنا پڑا تھا اور پھر اسکے ساتھ واپس آکر جو ہوا وہ اسکے لیے برداشت کرنا مشقل تھا اسکو لگ رہا تھا قسمت نے اسکو پھر وہیں لاکر کھڑا کڑ دیا تھا جہاں سے وہ بچ کر بھاگی تھی پر اس بار وہ اپنی اذّت اپنی آبرو کو نہی بچا سکی تھی..جب آذان غصّے میں دلاور خان کے لیے غلط الفاظ استمال کار رہا تھا اسکو لگا وہ اسکے بابا کو بول رہا ہے بس یہی وجہ تھی کی ایک دم اسکو غصّہ آ گیا تھا اور اسنے غصّے میں آذان کو وہ سب بول دیا تھا جو شید اسکو بولنا نہی چاہیے تھا اور یہ غلطی اس پر بہت بھاری پڑی تھی اس غلطی کی قیمت اسے اپنی اذّت گوا کر چکآئ تھی..
…اسکی آنکھوں سے لگاتار آنسوں جاری تھے اور حارث صرف اسکی شقل دیکھ جا رہا تھا اسکی داستان سن کر اسے اس وقت حیا پر بہت رحم آ رہا تھا جو بیس سال کی ایک چوٹی سی لڑکی تھی اور کتنی مشقلو میں اسکی زندگی گزری تھی اور جانے انجانے میں وہ بھی اس پر ظلم کر چکا تھا اسکے پاس معافی کے لیے لفظ بھی نہی تھے…اسنے حارث کو آذان کی زبردستی والی بات نہی بتائ تھی اس میں بتانے کی ہمّت ہی نہی تھی..
…ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا یہ تم بھی جانتی ہو کی یہ نہی ہوتا اگر ہمیں پتا ہوتا کی تم کون ہو..حارث کی آواز میں گہرا دکھ تھا …
..میں وعدہ کرتا ہو تمھیں اب کوئ تکلیف نہی ہوگی یہ ایک بھائ کا وعدہ ہے تم سے حیا کو خاموش دیکھ کر .. وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا اور ایک نظر اسکے جھوکے سر کو دیکھتا روم سے چلا گیا..
میں مانتی ہوں اس میں آپ کی کوئ غلطی نہی ہے پر میں اس ظالم کے ظلم کو کیسے بھول جاؤں جو اسنے مجھ پر کیا ہے مجھے کہیں کا نہی چھوڑا ہے.
اسکو اگر بدلہ لینا تھا تو دلاور خان سے لیتا ایک لڑکی کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے اسکو ذرا بھی رحم نہی آیا وہ اسکے ظلم کو یاد کرکے .پھر دوبارہ سے زور کتار رونے لگی تھی 💖💖💖💖
💖💖💖💖💖ہمیشہ کمزور لوگوں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے آخر بتایں مجھے جواب دے نہ خاموش کیوں ہیں آپ …
وہ اپنے سامنے خاموش بیٹھے سخص سے پوچھ رہی تھی..
..کیوں کی کمزور لوگوں کے پاس اتنی طاقت نہی ہوتی کی وہ مظبوط اور طاقتور لوگوں کا مقابلہ کر سکے اسنے بے بسی سے جواب دیا تھا..
..جب سے حارث اسکو حیا کے بارے میں سب بتا کر گیا تھا جب سے بس یہ دو آوازے اسکے کانوں میں گنج رہی تھی..
..سہی تو تھا ظلم ہمیشہ کمزور لوگوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے اور وہ بھی انجانے میں ایک کمزور اور بے قصور کے ساتھ ظلم کر
چکا تھا..
…حارث نے اسکو حیا کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا کی کیسے دلاور نے اسکا استمال کیا اور اسکی بے بسی کا فایدہ اٹھایا اپنے کام کے لیے پر ایک بات تھی جو اسنے آذان سے چھپا لی تھی اور یہ بات اسکو بتانا ضروری بھی نہی سمجھا تھا..
..نہی اگر وہ پہلے ہی سب کچھ بتا دیتی تو اسکے ساتھ ایسا نہی ہوتا وہ ایک طرح سے اسکی مدد کر رہی تھی اسکے دل نے خود کو سہی سبط کرنا چاہا تھا وہ اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہی تھا…
…اسکو یہ جان کر غصّہ تو بہت آیا تھا کی وہ دلاور کی بیٹی نہی ہے پر وہ اسکو اپنی ہار بھی نہی سمجھ رہا تھا کیوں کی اسکو لگ رہا تھا دلاور کا حیا کو اپنی بیٹی بنا کر یھا لنے کا کوئ مقصد ضرور ہے اور وہ یہ جان بھی لگا جلد ہی اتنا تو وہ لوگ جان ہی گیے تھے کی حیا دلاور کے بارے میں کچھ نہی جانتی ہے اور اب وہ اسکو چھوڑ بھی نہی سکتا کیوں کی حیا کا انکے ساتھ رہنا بھی ضروری تھا اور شاید کچھ اور وجہ بھی تھی.کچھ سوچ کر اسنے حارث کا نمبر ملایا تھا 💖💖💖💖💖