Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 9)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
تھوڑی ہی دیر میں اسے پارسل مل گیا تھا وہ بے تابی سے اسے تھامے اپنے کمرے میں آئی۔۔
اور جلدی جلدی اسے کھولنے لگی۔۔۔
اس نے جیسے ہی کھولا حیران رہ گئی۔۔
ایک نہایت ہی خوبصورت سا ڈریس اس کے سامنے تھا۔۔
اس نے ڈریس اٹھا کر دیکھا۔۔
وہ ایک بلیک کلر کی فراک تھی جس پر ہلکا سا کام تھا۔۔
اس ڈریس کو دیکھ نور کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔
اس نے لمحہ بھر کچھ سوچا پھر سیل فون اٹھایا۔
اور وصی کا نمبر ڈائل کیا۔۔
دوسری ہی بیل پر کال رسیو ہوئی۔۔۔
“ہیلو وصی” نور نے کہا
“ہاں۔۔نور پارسل ملا؟” وصی کی مصروف سی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔
“ہاں۔۔مل گیا”
“کیسا لگا؟”
“بہت خوبصورت۔۔مگر مجھے کس خوشی میں دیا ہے؟” نور نے ہنس کر پوچھا
“ایک تو تم لڑکیوں کو کچھ دو بھی مسئلہ نا دو تو بھی مسئلہ” وصی نے کہا
“پھر بھی اب دنیا کا سب سے بڑا کنجوس انسان بنا مانگے کچھ دے رہا ہے تو پوچھنا تو بنتا ہے” نور ہنسی۔۔
“سب باتیں چھوڑو تم کل آرہی ہو نا۔۔۔یہی پہن کر آنا” وصی نے حکم دیا
“تم تو ایسے خوشی خوشی گفٹ بانٹ رہے ہو جیسے تمہاری منگنی ہو”
“میری بھی ہوجائے گی۔۔لڑکی تو ملے”
” مل جائے گی۔۔بس وہ اندھی ہو” نور نے شرارت سے کہا
“اندھی؟ کیوں؟”
“کیوں کہ تمہاری شکل دیکھ کر، حرکتیں دیکھ کر تو کوئی تم سے شادی کرے گی نہیں اندھی ہی کر سکتی ہے” نور نے چھیڑا۔۔
“اچھا۔۔تو میری شکل اچھی نہیں ہے؟”
“اب تم خود سچ بول رہے تو میں کیا بولوں” نور نے ہنس کر کہا
“مجھے کوئی نہیں ملی نا میں تم سے ہی شادی کرلوں گا” وصی نے ہنس کر اسے تپانا چاہا
“تم سے شادی۔۔۔اتنے برے دن نہیں آئے میرے۔۔۔” نور نے برا سا منہ بنایا
“اچھا پھر کس سے کرو گی شادی؟”
“میرے لیے تو کوئی ہیرو آئے۔۔جیسے ناولز میں ہوتا ہے۔۔۔وہ ہیرو اپنی ہیروئن۔۔۔۔” نور اپنی بات پوری کرتی اس سے پہلے ہی وص نے اس کی بات کاٹی۔۔
“اوہ سائیکو۔۔۔میں فون رکھ رہا ہوں۔۔مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں تمہاری ناولز کی ہیروئن اور ہیرو کی تعریف سننے کا ٹائم نہیں۔۔۔” وصی نے ٹوکا
“وصی تم” نور کچھ کہتی کہ فون بند ہوچکا تھا۔۔
“سڑیل”نور نے فون کو گھورا۔۔
پھر فون سائیڈ پر رکھ کر ڈریس کو پھر سے دیکھنے لگی۔۔
“ددو۔۔۔میری پیاری ددو” شفی نے ددو کو پیار کرتے ہوئے کہا
“کیا بات ہے آج اتنا پیار کیوں آرہا ہے؟” ددو نے پوچھا
“میں تو ہمیشہ سے پیار کرتا ہوں آپ کو” شفی نے انہیں کاندھوں سے تھامتے ہوئے کہا
“کرتے تو ہو مگر آج بات کچھ اور ہے” ددو نے کہا
اور شفی بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنسا
“کوئی بات نہیں ہے ددو” شفی نے ہنسی روکتے ہوئے کہا
“اچھا مان لیتی ہوں” ددو نے اس کا گال تھپتھپایا۔۔
“ددو آپ خوش ہیں؟” شفی نے پوچھا۔۔
“ہاں بہت خوش ہوں۔۔اور میرا بچہ؟” ددو نے پیار سے پوچھا۔۔
“یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے ددو۔۔” تبھی وصی لاؤنج میں داخل ہوا
“اس کے دل میں تو لڈو پھوٹ رہے ہیں۔۔لڈووو” وصی نے شرارت سے کہا
اس کی بات پر ددو ہنسنے لگی۔۔
“چھیڑ لے بیٹا میں نہیں چڑ رہا” شفی نے مسکرا کر کہا
“دیکھا ددو منگنی کی خوشی میں آج تو چڑنا بھی چھوڑ دیا۔۔۔کیا بات ہے” وصی نے کہا
“اچھی بات ہے اللہ ہمیشہ خوش رکھے میرے بچے کو” ددو نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا
“ددو مجھے تو کبھی ایسے پیار نہیں کرتی آپ؟” وصی نے منہ بنایا
“تو لائق ہی نہیں۔۔۔” شفی نے تپایا
اور ددو ہنسنے لگی۔۔
“تجھے بھی کردوں گی آجا” ددو نے پیار سے بلایا
اور وہ فوراً اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔۔
“میرا بچہ اب فوج میں جائے گا” ددو نے اس کی پیشانی چوما۔۔
“ددو۔۔۔” وصی نے چڑ کر انہیں انہیں دیکھا اور ددو کے ساتھ شفی کی بھی ہنسی نکلی۔۔۔
وہ بلیک ڈریس پہنے خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی۔۔
کھلے بال ہلکا سا میک اپ کیے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔
پھر ہیل پہنی اور روم سے نکل گئی۔۔
“مما۔۔۔میں جا رہی ہوں” نور نے کہا
“نور۔۔نومی کو بلا چھوڑ آئے گا” کوثر بیگم نے کہا
“ارے مما میں چلی جاؤں گی۔۔” نور کہا
“نہیں۔۔نومی کے ساتھ جا۔۔اور جب آنا ہو کال کردینا میں بھیج دوں گی نومی کو۔۔رات کا ٹائم ہے” کوثر بیگم نے حکم دیا
اور نومی کو اس کے ساتھ بھیج دیا جو اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔
وہ باہر گیٹ کے پاس ہی کھڑی تھی۔۔
اندر کی جلتی لائٹنگ باہر تک پھیل رہی تھی ۔۔
وہ بنا ہچکچائے اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔
اندر کافی لوگ تھے۔۔جن میں اسے وصی کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔۔
وہ یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔
تبھی وصی کی نظر اس پر پڑی۔۔
وہ بے ساختہ مسکرایا۔۔
اور چل کر اس کے قریب آیا۔۔
“ہے بیوٹیفل لیڈی۔۔۔بہت اچھی لگ رہی ہو” وصی نے مسکرا کر کہا۔۔
“تھینک گوڈ وصی تم آگئے۔۔میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں” نور نے سکون کا سانس لیا۔۔
“اندر آؤ” وصی نے کہا۔۔
اور وہ اس کے ساتھ چل دی۔۔
“ویسے بلیک کلر میں بہت خوبصورت لگتی ہو تم” وصی نے تعریف کی۔۔
“بٹرنگ” نور نے ہنس کر کہا
“ارے سچ میں۔۔۔” وصی روہانسی ہوا۔۔
“اسی لیے تو میں نے بلیک ڈریس بھیجا تھا۔۔۔” وصی نے کہا۔۔
“ہاں واقع بلیک میں اچھی لگ رہی ہیں آپ” اس بار آواز پیچھے سے آئی تھی۔۔
دونوں نے چونک کر دیکھا
“Congrats…”
نور نے اسے مبارک باد دی
“تھینک یو۔۔۔” شفی نے مسکرا کر کہا۔۔
وصی اس کی شرارت سمجھ گیا تھا۔۔
تبھی پھپھو نے شفی کو پکارا جو تھوڑی قریب ہی کھڑی تھی۔۔
“Excuse me”
وہ کہتا وہاں سے چلا گیا اور وصی نے سکون کی سانس لی۔۔
وہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی وہی ملٹی کلر کا لہنگا پہنے جو شفی نے اس کے لیے پسند کیا تھا۔۔
سلور کلر دوپٹہ جو یچھے جوڑے پر ٹکا تھا۔۔
کچھ کرل کیے ہوئے بال آگے کاندھے پر پڑے تھے۔۔
اس نے آئی لیش سے ڈھکی پلکیں اٹھا کر خود کو آئینے میں دیکھا۔۔وہ آج کچھ الگ ہی روپ دکھا رہی تھی۔۔
کوئی دیکھ کر نہیں کہ سکتا تھا وہ ایک سولہ کم عمر لڑکی ہے۔۔
بناؤ سنگھار نے اسے کچھ اور ہی بنا دیا تھا۔۔
تبھی شائستہ بیگم کمرے میں آئی۔۔
ان کی نظر جیسے ہی حور پر پڑی ان کے چہرے پر مسکان ابھر آئی۔۔
“ماشاءاللہ۔۔میری بیٹی تو آج واقع حور لگ رہی ہے” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
اور وہ مسکرا دی۔۔
انہوں نے اسے پیارکیا اور اپنے ساتھ لے جانے لگی۔۔
“تمہارا بھائی غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔” نور نے کہا
“کیا مطلب؟” وصی نے پوچھا
“مطلب وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم دونوں۔۔۔۔ یو نو گرل فرینڈ، بوئے فرینڈ۔۔۔” نور نے ہنس کر کہا
“گرل فرینڈ،بوئے فرنڈ تو ہم ہیں” وصی نے تصحیح کی
“میرا مطلب ہے وہ سمجھ رہے ہیں ہم ریلیشن میں ہیں دونوں۔۔ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔” نور نے سمجھایا
“ہاں۔۔وہ صحیح سمجھ رہا ہے۔۔۔” وصی نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“کیا مطلب۔۔” وہ چونکی
“ہاں میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔۔۔۔” وصی نے اسی انداز میں کہا
وہ ابھی بھی اس کے چہرے کو دیکھنے سے پرہیز کر رہا تھا۔۔
اس کی بات سن نور نے اسے بے یقینی سے دیکھا۔۔
“کک۔۔۔کیا؟” نور کی نظر اسی پر تھی۔۔
“کچھ نہیں وہاں دیکھو۔۔۔کتنی اچھی جوڑی ہے” وصی نے سامنے اشارہ کیا۔۔
نور اس طرف دیکھا۔۔
جہاں سے حور اور شفی چلتے آرہے تھے۔۔ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے۔۔کتنی ہی لائٹنگ نے انہیں گھیرا تھا۔۔
کتنے ہی لوگوں کی نظریں ان پر جمی تھی۔۔
حور نظریں جھکائے شفی کے ساتھ چل رہی تھی۔۔
شاید نظریں اٹھا کر لوگوں کی نظریں خود پر دیکھتی تو بھاگ جاتی واپس۔۔۔مگر اس وقت اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکان تھی۔۔
“واقع خوبصورت لگ رہے ہیں دونوں ” نور نے مسکرا کر کہا
“ہاں۔۔۔آؤ۔۔۔تصویر بنواتے ہیں” وصی نے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔اور اسے اسٹیج کے قریب لے گیا۔۔
جہاں ابھی ابھی حور اور شفی براجمان ہوئے۔۔
وہ اسٹیج کے قریب آیا تھا کہ کسی نے اسے پکارا
“ایک منٹ نور۔۔۔” وصی نے کہا۔۔
اور وہاں سے چلا گیا۔۔
تھوڑی دیر جب وہ واپس آیا تو۔۔رنگ کی ڈبی ہاتھ میں لیے تو وہاں نور نہیں تھی۔۔۔
“یہ کہاں گئی؟” اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔
“وصی۔۔۔” کسی نے اسٹیج سے پکارا۔۔اور وہ آگے بڑھ گیا۔۔
اس نے رنگ نکال کر شفی کو دی۔۔
شفی نے حور کا نرم و ملائل ہاتھ تھام کر اس کی انگلی میں ڈال دی۔۔
ایک الگ ہی خوشی تھی دونوں کے چہرے پر۔۔
پھر شائستہ بیگم نے رنگ نکال کر حور کی طرف بڑھائی۔۔
جسے حور نے پکڑنا چاہا مگر اس کے ہاتھ سے پھسلتی رنگ نیچے گر گئی۔۔
