Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 21)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

وہ لان میں بیٹھی موبائل ہاتھ میں پکڑے بیٹھی تھی۔۔

تبھی وصی وہاں آیا۔۔

وہ سر جھکائے موبائل پر انگلیاں چلا رہی تھی۔۔

“کیا ہورہا ہے؟” وصی کرسی کھسکا کر بیٹھا۔۔

وہ اس کی آواز پر چونکی۔۔

“جی۔۔نہیں کچھ نہیں” وہ بوکھلائی

“آگیا چلانا؟” وصی نے پوچھا

اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“لاؤ۔۔میں سکھاؤں۔۔” وصی نے ہاتھ بڑھایا۔۔

حور نے چپ چاپ اس کے ہاتھ میں موبائل رکھ دیا۔۔

“اگر کسی کا نمبر سیو کرنا ہوتو۔۔۔یہاں۔۔نمبر۔۔” وصی موبائل پر انگلی چلا رہا تھا۔۔کہ رک کر اسے دیکھا۔۔

حور اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“مجھے نہیں۔۔یہاں دیکھو” وصی نے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔۔

“جی۔۔وہ۔۔۔” حور نے نظریں جھکائی۔۔

“کیا وہ؟” وصی نے پوچھا۔۔

“وہ موبائل۔۔آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔میں کیسے دیکھوں؟” حور نے معصومیت سے کہا

اور وصی ہنس دیا۔۔

“یہ لو۔۔” وصی نے اس کی طرف بڑھا دیا۔۔

جسے اس نے خاموشی سےتھام لیا۔۔

“چلاتی رہو گی نا۔۔خود ہی آجائے گا۔۔بس ڈر کر مت چلانا کہ خراب نا ہوجائے۔۔۔پھر نہیں سیکھ پاؤ گی۔۔” وصی نے کہا۔۔

اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“اور ہاں۔۔۔فضول چیز کچھ بھی استعمال مت کرنا۔۔فیس بک، واٹس اپ۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔سمجھ رہی ہو نا؟” وصی نے پوچھا۔۔

“مجھے دکھاؤ۔۔۔میں نمبر سیو کرتا ہوں” وصی نے موبائل مانگا۔۔

پھر اس میں نمبر سیو کر کے اسے واپس تھما دیا۔۔

” میں نے۔۔اس میں نمبر سیو کردیے۔۔انجانے نمبر کی کال مت اٹھانا۔۔۔ٹھیک ہے معصوم سی گڑیا” وصی نے مسکرا کر کہا۔۔

اور وہ بھی مسکرا دی۔۔

تبھی شفی وہاں آیا۔۔

“وصی۔۔” شفی نے پکارا

“ہاں۔۔” شفی کی اواز پر وہ مڑا۔۔

“ہمیں واپس جانا ہے۔۔تیاری کر جلدی۔۔” شفی نےکہا۔۔

“کیوں؟” وصی نے حیرت سے پوچھا

اور شفی نے اسے تفصیل بتائی۔۔

انہیں فوری طور پر آنے کا آڈر ملا تھا۔۔

جنگ کے امکانات کی وجہ سے انہیں بلایاگیا تھا۔۔

جس کے باعث انہیں جلد از جلد نکلنا تھا۔۔

ان لوگوں نے تیاری کی۔۔۔اور سب کی دعاؤں میں وہ نکلنے کے لیے تیار تھے۔۔

وہ دونوں کاندھے پر بیگ ٹانگے کھڑے تھے۔۔

ددو نے انہیں پیار کیا اور ڈھیروں دعائیں دی۔۔

جاتے جاتے شفی کی نظر حور پر پڑی۔۔

لمحہ بھر اسے دیکھنے لگا پھر باہرنکل گیا۔۔

“اسمائل پلیز۔۔۔۔” وصی حور سے مخاطب تھا۔۔

وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔

“یہ ہوئی نا بات۔۔۔اللہ حافظ۔۔”

وصی سب کو خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دو دن ہوگئے تھے شفی اور وصی کو گئے۔۔

مگر ان سے بات نہیں ہوپارہی تھی۔۔

وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی گہری سوچ میں گم تھی۔۔

اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔۔

رات گہری ہورہی تھی

مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔

اسے وصی اور شفی کی فکر ہورہی تھی۔۔

وہ اداس بیٹھی تھی کہ اس کا فون بجنے لگا۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔۔

اسکرین پر شفی کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔

ایک مسکان اس لبوں کو چھو گئی

اس نے جلدی سے کال رسیو کی اور کان سے لگایا۔۔

“ہیلو۔۔” حور نے بےتابی سے کہا

“ہیلو اسلام وعلیکم۔۔”

شفی کی نرم آواز اس کے کانوں کو چھو گئی

“وعلیکم السلام۔۔کیسے ہیں آپ ٹھیک تو ہیں؟” حور نے سلام کا جواب دیا۔۔

“ہاں۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔تمہیں فکر ہورہی تھی؟”

شفی نے پوچھا۔۔

“یہ۔۔پوچھنے کی بات ہے؟” حور نے خفگی سے کہا۔۔

اورشفی کا قہقہہ گونجا۔۔

“فکر مت کرو۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔ہاں البتہ۔۔۔تمہاری یاد آرہی تھی۔۔” شفی نے کہا۔۔

وہ خاموشی سے سر جھکا گئی۔۔

“اچھا۔۔۔گھر میں سب کو بتا دینا۔۔وصی اور میں ہم دونوں ٹھیک ہیں۔۔فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔”

شفی نے کہ کر کال کاٹ دی۔۔

اور وہ فون کو دیکھ مسکرا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ہر طرف رونے کی آوازیں گونج رہی تھی۔۔

اس کے کانوں میں آوازیں پڑ رہی تھی۔۔

وہ اپنے کمرے سے نکل کر باہر آئی۔۔

آوازیں اور تیز ہورہی تھی۔۔

اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔

وہ گھبراتی۔۔آہستہ آہستہ سیڑھی اتر رہی تھی۔۔

وہ جیسے جیسے نیچے اتر رہی تھی۔۔

آوازیں اور تیز ہورہی تھی۔۔

سامنے ہی کوئی لیٹا تھا۔۔جس پر سفید چادر پڑی تھی

شائستہ بیگم۔۔۔نانو،۔۔۔۔اور کئی عورتیں رورہی تھی۔۔

وہ مرے قدموں سے آگے بڑھی۔۔

دل مانو پھٹنے کو تھا۔۔

وہ اس چادر کو گھور رہی تھی۔۔

تبھی اس کے چہرے سے کسی نے چادر ہٹائی۔۔۔

اسے چہرہ نظر آیا۔۔

اس نے دیکھتے ہی پوری قوت سے چیخ ماری۔۔۔

“شفی۔۔۔” وہ کہتے ساتھ اٹھ بیٹھی۔۔اور ساتھ ہی ایک بھیانک خواب اختتام کو پہنچا۔۔

اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔کوئی بھی نہیں تھا۔۔

نیم تاریکی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔۔

اور وہ بیڈ پر بیٹھی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔

اس کے ماتھے پر پسینہ چھلکنے لگا۔۔

اسے احساس ہوا یہ ایک خواب تھا۔۔

اس گہرا سانس لیا۔۔

دور کہیں سے آتی فجر کی آذان کی آواز اسے سنائی دی۔۔

وہ اٹھی اور واش روم گئی۔۔

وضو کیا۔۔اور جائے نماز بچھا کر نماز ادا کرنے لگی۔۔

دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنسوؤں کی قطار بندھ گئی۔۔

اس کے اس بھیانک خواب نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔

وہ آنسوؤں کے ساتھ وصی اور شفی کے لیے دعائیں کرنے لگی۔۔

ان کی سلامتی کے لیے دعا مانگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب کچن میں داخل ہوئی تو۔۔

شائستہ بیگم ناشتہ بنا رہی تھی۔۔

اسے دیکھ مسکرائی۔۔

“اٹھ گئی میری بیٹی۔۔۔” انہوں نے پیار سے کہا۔۔

“مما۔۔شفی کی کال آئی تھی۔۔وہ لوگ ٹھیک ہیں”

حور نےبتایا۔۔

“ہاں۔۔۔ابا کے پاس بھی آئی تھی۔۔اللہ کا کرم ہے۔۔” شائستہ بیگم نے مصروفیت سے کہا۔۔

“مما۔۔میں آج بہت برا خواب دیکھا”

حور نے اداسی سے کہا۔۔

“کیا خواب دیکھا۔۔؟” انہوں نے پوچھا۔۔

اور حور نے سارا خواب انہیں سنا دیا ۔

اور ایک آنسوں اس کے گال پرلڑھک گیا۔۔

“ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔وہ لوگ بلکل ٹھیک ہیں۔۔

اور جب ہم نے انہیں فوج میں بھیجا تھا تو کیا یہ پہلے نہیں سوچا تھا۔۔؟۔۔۔اگر وہ وطن کے یے اپنی جان دیتے ہیں توخوش قسمتوں میں آتے ہیں۔۔” شائستہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا۔۔

“اور پتا ہے حور۔۔۔جسے ہم خواب میں مرتے دیکھیں۔۔۔

اس کی زندگی بڑھ جاتی ہے۔۔سنا ہے نا؟”

انہوں نے پوچھا۔۔

اور حور نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“تو بس پھر۔۔فکر کس بات کی جب اللہ ان کے ساتھ ہے۔۔

بس دعا کرو۔۔” شائستہ بیگم نے اسے گلے سے لگایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کتنے ہی دن ہوگئے تھے۔۔ان لوگوں کو کسی قسم کی چھٹی نہیں دی جا رہی تھی۔۔ہر چھٹی منسوخ کردی گئی تھی۔۔

کتنے ہی دن ہوگئے انہیں۔۔ان وادیوں میں آئے۔۔

کتنے ہی دہشتگردوں کو انہوں نے مار گرایا تھا۔۔

یہ آج انہی دشمنوں کو مارنے آئے تھے۔۔جنہوں نے ان کے ملک کے کتنے ہی معصوموں کی جان لی تھی۔۔

یہ وہ پاکستانی جانباز تھے جو۔۔کفن سر پر باندھے۔۔دشمنوں سے لڑ رہے تھے۔۔

اس وقت ان دونوں کے خیالوں میں نا ددو،ددا،پھپھو،حور کوئی نہیں تھا۔۔

شفی وصی کے اندر وہ جذبہ دیکھ رہا تھا۔۔

جو شاید اس نے خود میں بھی نہیں دیکھا تھا۔۔

ابھی بھی وہ پہاڑوں میں چھپے دشمنوں پر گولیاں برسا رہے تھے۔۔

وصی کے کے سامنے نور کا چہرہ جھلملا رہا تھا۔۔

اور اس کے غصہ کو اور بھی ہوا دے رہا تھا۔۔

اس نے جانے کتنے ہی چھپے دہشتگردوں کو اپنا نشانا بنایا تھا۔۔

وہ جیسے گولی چلانے لگا۔۔ایک ہوا میں اڑتی گولی اسے لگی۔۔

اور وہ لڑکھڑایا۔۔

پاس کھڑے شفی کی کی نظر اس پر پڑی۔۔تو اس کے چہرے کا رنگ اڑا۔۔