Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 16)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 16)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ حواس کھوتا تیزی سے بھاگتا آگے بڑھا۔۔۔
کتنے ہی لوگ زخمی پڑے تھے۔۔
کتنے ہی مر چکے تھے۔۔
لوگوں کا رش لگ چکا تھا۔۔۔
وہ یہاں وہاں بھاگتا نور کو تلاش کر رہا تھا۔۔
“نور۔۔۔نور” وہ مسلسل چیخ رہا تھا۔۔
آنسوں اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔
اس کے حواس اس کے قابو میں نہیں تھے۔۔
کتنی ہی دیر وہ ڈھونڈتا رہا۔۔۔
مگر اسے نور کا نام و نشان نہیں ملا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ایمبولینس بھی آگئی تھی۔۔
زخمیوں اٹھایا جارہا تھا۔۔
وہ وہیں بیٹھا رونے لگا۔۔
اسے ایک پل میں اپنی دنیا تباہ ہوتی محسوس ہورہی تھی۔۔
روتے روتے ہی اس کی نظر پاس سے گزرتی ایک لاش پر پڑی۔۔
اسٹریچر پر لیتی اس بے حس و حرکت وجود پر اس کی نگاہ پڑی۔۔
ہاں وہ نور ہی تھی۔۔
وہ نور کو پہنچاننے میں دھوکہ نہیں کھا سکتا تھا۔۔
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔
شفی کھانے سے فارغ ہوا تو پھر سے ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا۔۔
ریموٹ ہاتھ میں تھامے۔۔اس کی نظریں ٹی وی پر۔۔
جس میں بار بار بم بلاسٹ کی نیوز دی جا رہی تھی۔۔
تبھی ددا بھی وہاں آکر بیٹھے۔۔
یہ کہاں کی نیوز ہے۔۔۔؟” ددا نے پوچھا۔۔
“ددا یہیں کی ہے۔۔ پتا نہیں کتنی جانیں گئی ہوں گی” شفی نے دکھ سے کہا۔۔
“حکومت کو دہشتگردی کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے” شائستہ بیگم جو ابھی ابھی وہاں آئی تھی کہنے لگی۔۔
“وصی۔۔کہاں ہے” ددو کو فکر ہوئی۔۔
“شان کے پاس گیا ہوگا” ددا نے کہا۔۔
“کافی دیر سے گیا ہوا ہے اب تک تو آجانا تھا شام ہورہی ہے کھانا بھی نہیں کھایا اس نے” ددو نے فکر ظاہر کی۔۔
“میں فون کرتا ہوں۔۔” شفی نے فون جیب سے نکالتے ہوئے کہا۔۔
ہاں بول جلدی گھر آئے” ددو نے کہا۔۔شفی مسلسل کال ملا رہا تھا مگر کال رسیو نہیں ہوئی۔۔
وہ جب گھر پہنچا تو رات ہورہی تھی۔۔
وہ مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوا۔۔
سامنے ہی شفی کھڑا تھا۔۔
“وصی۔۔۔کہاں تھا پورے دن سے پتا ہے کتنا پریشان ہوئے ہم شان سے بھی معلوم وہاں بھی نہیں تھا تو۔۔اوپر سے فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا۔۔” شفی اسے سنائے جارہا تھا۔۔
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔۔
شفی کی نظر اس کے چہرے پر پڑی۔۔
جہاں سنجیدگی تھی۔۔
آنکھیں بہت رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھی۔۔
“وصی۔۔تو رویا ہے؟” شفی نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا
وہ بنا کوئی جواب دیے کمرے میں چلا گیا۔۔
شفی اس کے پیچھے لپکا۔۔
“وصی۔۔بتا۔۔” شفی نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا۔۔
اسے وصی کی فکر ہورہی تھی۔۔
“وصی۔۔وصی۔۔” شفی نے پھر پکارا
وہ بنا کچھ کہے شفی کی طرف لپکا اور اسکے گلے لگ کر رونے لگا۔۔
اسے روتا دیکھ شفی پریشان ہوا۔۔
“وصی۔۔وصی کیا ہوا؟” شفی نے پوچھا
“مگر وہ بنا کوئی جواب دیے رو رہا تھا۔۔
“وصی۔۔۔کیوں رو رہا ہے بتا۔۔وصی۔۔” شفی اس سے بار بار پوچھ رہا تھا
“شفی وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔شفی۔۔” وصی کے رونے میں شدت آگئی تھی۔۔
اسے روتا دیکھ شفی کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔
“وصی۔۔کون۔۔۔ہوا کیا؟” شفی نے پوچھا
“نور۔۔۔نور مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئی۔۔اس نے وعدہ کرنے سے پہلے ہی توڑ دیا۔۔یار وہ بے وفا تھی۔۔” وصی نے اپنی ہتھیلی کی پشت سے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
“وصی۔۔کیا ہوا۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔یہاں بیٹھ تو” اس نے اسے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا۔۔
اور وصی اب کچھ سمبھل گیا تھا اس نے اسے ساری تفصیل بتائی۔۔
وہ وصی کے کمرے سے نکلا تو ددو کو سامنے سے آتے دیکھا۔۔
“وصی آگیا؟” ددو نے پوچھا
“ہاں ددو” شفی نے جواب دیا
“پوچھو تو یہ تھا کہاں پورے دن سے۔۔نا گھر کا حوش نا کھانے کا” ددو نے غصہ سے کہا۔۔
“ددو آپ چلیں رہنے دیں اسے ۔۔۔” شفی انہیں کاندھوں سے تھامتا لے جانے لگا۔۔
“لیکن مجھے۔۔۔” ددو نے کچھ کہنا چاہا۔۔
“صبح بات کرنا ددو وہ سوگیا۔۔” شفی نے انہیں سمجھانا چاہا۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ گھر والے وصی سے ملیں۔۔
اور اس کی حالت دیکھ انہیں دکھ ہو۔۔
وہ جانتا تھا وہ کس تکلیف سے گزر رہا ہے۔۔
وہ ددو کو ان کے کمرے میں بھیج کر کچن کی طرف آیا۔۔
تبھی اس کا ٹکراؤ ہوا۔۔
سامنے حور کھڑی تھی۔۔
“سوری۔۔” شفی نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وصی کا روتا چہرہ بار بار آرہا تھا۔۔
“کیاہوا؟” حور نے پوچھا ۔
“ہاں۔۔نہیں کچھ نہیں۔۔” شفی کہتا آگے بڑھ گیا۔۔
اور فریج سے پانی کی بوتل نکالی۔۔
“آپ پریشان لگ رہے ہیں” حور نے کہا۔۔
وہ پانی گلاس میں ڈال رہا تھا۔۔
“نہیں ہوں پریشان جاؤ سوجاؤ۔۔” شفی نے بے رخی سے کہا۔۔
حور کو اس کے لہجے سے دکھ ہوا۔۔
وہ بنا کوئی جواب دیے کچن سے نکل گئی۔۔
اور شفی کی نظروں میں پھر وصی کا چہرہ لہرایا۔۔
وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کی۔۔تو نور کا ہنستا چہرہ اس کی سامنے آگیا۔۔
اس نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔
ایک بار پھر سے اس کی آنکھوں میں نمی امڈ آئی۔۔
اور آنسوں رفطار سے اس کے گال پر لڑھک گئے ۔
(وصی کے بنا نور کی زندگی ادھوری ہے)
نور کا جملہ اس کے کانوں سے ٹکرایا
“وصی کی زندگی بھی نور کے بنا ادھوری ہے۔۔نور تم نہیں جاسکتی۔۔” وصی نے خود کلامی کی۔۔
“نور۔۔میں مرجاؤں گا پلیز واپس آجاؤ۔۔تم ایسے کیسے چلی گئی۔۔تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا وصی کیسے رہے گا”
وصی روتے ہوئے کہنے لگا۔۔
وہ پوری روتا رہا۔۔
نیند اس سے ناراض تھی۔۔
جیسے نور اس سے خفا ہوکر چلی گئی۔۔
ایک لمحہ تھا بس جس نے اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا تھا
اس سے وہ خوشی چھین لی گئی تھی۔۔جس کے بعد جینا اسے عذاب لگ رہا تھا۔۔
اس کا دل کر رہا تھا وہ بھی خود کو ختم کرلے۔۔
تبھی اس کے کانوں میں فجر کی آذان کی آواز آئی۔۔
اس نے اٹھ کر وضو کیا۔۔
نماز ادا کی۔۔
جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنسوں بہ نکلے۔۔
اس کے پاس الفاظ نہیں تھے۔۔
وہ کیا مانگتا۔۔
وہ جو مانگنا چاہتا تھا
وہ تو ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھی۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ جھکائے شدت سے رو دیا۔۔
اس کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگی۔۔
وہ سب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔۔
“وصی اٹھ گیا؟” ددو نے پوچھا
“نہیں۔۔اتنی جلدی کہاں اٹھتا ہے وہ” شائستہ بیگم نے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہا۔۔
“پتا نہیں کل پورا دن کہاں تھا نا کھانا کھایا۔۔اور رات کو بھی اپنے کمرے میں جا کر سوگیا۔۔” ددو نے کہا
“اس کے سر میں درد تھا ددو میں نے اسے دوا دے کر سلا دیا تھا” شفی نے سنجیدگی سے کہا
“اچھا مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔طبیعت تو ٹھیک ہے نا اس کی؟” ددو کو فکر ہوئی
“ہاں ددو وہ ٹھیک ہے۔۔میں اسے اٹھا کر آتا ہوں” شفی اٹھ کھڑا ہوا
“ناشتہ تو کرلے۔۔” شائستہ نے کہا
“آتا ہوں پھر کروں گا” شفی کہتا وصی کے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
اس نے دروازے پر دستک دی۔۔
تبھی دروازہ کھل گیا۔۔مطلب کہ وہ جاگ ہی رہا تھا ۔
“وصی۔۔آجا ناشتہ۔۔” شفی نے کہنا چاہا مگر وصی نے اس کی بات کاٹی
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔” وہ کہتا اندر مڑ گیا۔۔
شفی کی نظر سامنے بیڈ پر پڑی۔۔
جہاں اس کا بیگ پڑا تھا۔۔
“وصی۔۔یہ۔۔” شفی نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“میں واپس جارہا ہوں۔۔تم سب یہی چاہتے تھے نا کہ میں آرمی نا چھوڑوں۔۔میں نہیں چھوڑوں گا کبھی نہیں” وصی نے سادگی سے کہا
“مگر وصی۔۔ابھی چھٹی پوری نہیں ہوئی” شفی نے یاد کروانا چاہا
“میں جانتا ہوں۔۔مگر میرے بھائی۔۔میں کیا کروں میرا دل نہیں لگ رہا۔۔مجھے سکون نہیں مل رہا۔۔میری محبت تو اتنی کمزور ہے کہ میں مر بھی نہیں سکتا۔۔” وصی نے نم آنکھوں سے کہا۔۔
“وصی تو پاگل ہوگیا ہے۔۔” شفی نے اس کے قریب جاکر کہا۔۔
“ہاں میں پاگل ہوگیا۔۔نور کا مسکراتا چہرہ میری نظروں سے نہیں ہٹ رہا۔۔وہ۔۔۔وہ آواز۔۔وہ کتنی بھیانک تھی۔۔وہ آواز میری نور کو ساتھ لے گئی۔۔شفی” وصی نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔اور ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔
ایک آنسوں اس کے گال پر گرا۔۔
