Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 22)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

“وصی۔۔” شفی نے اسے پکڑا۔۔۔

“ٹھیک… ہوں۔۔۔”وصی نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔

اس کے بازو پر گولی لگی تھی۔۔

شفی نے اسے وہیں بیٹھایا۔۔

یک دم ہی سناٹا چھا گیا۔۔جیسے گولیاں چلنی کم ہوگئی۔۔

شفی چونکا۔۔

شفی اٹھ کر آگے بڑھا۔۔

وصی کو وہیں پہاڑ کی آڑ میں بٹھا کر۔۔وہ جائزہ لینے آگے چل دیا۔۔

درد سے وصی کی آنکھیں بند ہورہی تھی۔۔

اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔۔

وہ زبردستی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔۔

مگر اچانک ہی اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“پتا نہیں میرے بچے کیسے ہوں گے کیا حالات ہیں وہاں؟”

اماں نے فکر سے کہا۔۔

“سب ٹھیک ہوگا۔۔۔آپ پریشان نہیں ہوں۔۔

طبیعت خراب ہوجائے گی”

شائستہ بیگم نے انہیں تسلی دی۔۔

“اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے میرے بچوں کو ۔”

اماں دعا کرنے لگی۔۔

“آمین۔۔۔” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“حور۔۔۔” شائستہ بیگم نے پاس کھڑی حور کو مخاطب کیا۔۔

“جی۔۔” حور نے کہا

“پانی لے آکر اماں کے لیے۔۔۔” شائستہ بیگم نے کہا ۔

“جی۔۔” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔

وہ باہر نکلی تو فاروق صاحب فون پر بات کر رہے تھے۔۔

اور ان کے الفاظ سن اس کے پاؤں وہیں جم گئے۔۔

“وصی ہسپتال میں ہے۔؟”

فاروق صاحب نے چونک کر کہا۔۔

“وہ ٹھیک تو ہے نا؟”

انہوں نے پریشانی سے پوچھا۔۔

“ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں۔۔” فاروق صاحب نے کہ کر فون بند کردیا۔۔

وہ جیسے ہی پلٹے سامنے حور کھڑی تھی۔۔

انہیں سوالیاں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔

“نانا ابا۔۔۔کیا ہوا ہے وصی کو۔۔؟”

اس نے گھبراتے ہوئےپوچھا۔۔

“ٹھیک ہے وہبس گولی لگی ہے۔۔۔پریشانی کی بات نہیں۔۔۔”

انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔

اور اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔

مگر وہ وہیں ساکت کھڑی تھی۔۔

وہ قطرے آنکھ سے گرے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شان ہوسپٹل کے کوریڈور میں کھڑا تھا۔۔۔۔۔

جب فاروق صاحب اور سب وہاں پہنچے۔۔

“کیسا ہے وصی۔۔؟” فاروق صاحب نے پوچھا۔۔

“جی۔۔ٹھیک ہے۔۔گولی نکال دی ہے ڈاکٹر نے۔۔۔مگر اسے حوش نہیں آیا ابھی تک۔۔۔” شان نے کہا۔۔

تبھی سامنے سے آتے کرنل صاحب پر فاروق صاحب کی نظر پڑی۔۔

اور وہ ان کی طرف بڑھ گئے۔۔

ددو وصی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔

وہ دروازہ کھول کر اندر گئی۔۔

سامنے ہی وصی آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔۔

“وصی۔۔۔” ددو کی آنکھ بھر آئی۔۔

“اماں۔۔۔” شائستہ بیگم نے کاندھوں سے پکڑا۔۔

حور بھی ان کے پیچھے ہی کھڑی تھی۔۔

اس کی نظر وصی پر تھی۔۔

خون کی ڈرپ سے قطرہ قطرہ خون کے جسم میں اتارا جارہا تھا۔۔

بازو پٹیوں سے ڈھکا تھا۔۔

اور وہ زرد چہرہ لیے انکھیں موندے پڑا تھا۔۔

اس کی آنکھوں میں آنسوں ابلنے لگے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“تمہارے ابا کہاں چلے گئے؟”

ددو نے شائستہ بیگم سے کہا۔۔

“پتا نہیں اماں۔۔کرنل صاحب کے ساتھ گئے تھے۔۔”

شائستہ بیگم نے جواب دیا۔۔

“کتنی دیر ہوگئی۔۔میرے وصی کو حوش نہیں آیا۔۔”

ددو نے نم آنکھوں سے کہا۔۔

“آپ فکر نہیں کریں۔۔اللہ بہتر کرے گا۔۔ہمارے وصی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔”

شائستہ بیگم نے تسلی دی۔۔

“وصی کو حوش آگیا ہے”

ڈاکٹر حمنہ نے خبر دی۔۔

اور وہ لوگ۔۔وصی کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔

مگر حور اسی انداز میں بیٹھی رہی۔۔۔

پتا نہیں وہ کن سوچوں میں گم تھی۔۔

سر جھکائے بیٹھی اسے ارد گرد کی کوئی خبر نہیں تھی۔۔

“Excuse me..”

ڈاکٹر حمنہ نے کہا۔۔

مگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔۔

“Hello?”

ڈاکٹر حمنہ نے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا۔۔

“جج۔۔جی۔۔۔” وہ ہڑبڑائی۔۔

اور سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔

وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“ڈاکٹر۔۔۔وص۔۔وصی۔۔ٹھیک تو ہوجائے گا نا؟”

حور نے سوال کیا

“وصی ٹھیک ہے پریشان ہونے کی بات نہیں۔۔”

ڈاکٹر حمنہ نے مسکرا کر کہا۔۔

“حوش آگیا ہے وصی کو جائیں۔۔”

ڈاکٹر حمنہ نے روم کی طرف اشارہ کیا

اور وہ اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس نے آنکھیں کھولی تو سامنے ددو کا چہرہ دکھائی دیا

اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔

ساتھ ہی شائستہ بیگم کھڑی تھی۔۔

“وصی۔۔” ددو نے اس کے پیشانی کو چھوا۔۔

“ددو۔۔۔” وصی کی آواز ابھری۔۔

“ہاں میرے بچے۔۔” ددو نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔

“اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔تو بلکل ٹھیک ہے وصی۔۔” شائستہ بیگم نے کہا ۔

“ددو۔۔شفی۔۔شفی کہاں ہے؟”

وصی کےسوال پرسب چونکے۔۔

پاس کھڑی حور اس کے الفاظ سن چکی تھی ۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“دیکھیے میجرفاروق۔۔۔ہم کوشش کر رہے ہیں۔۔

باقی اللہ کی مرضی۔۔” کرنل صاحب نے کہا۔۔

فاروق صاحب کی پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔

“اگر ہم انہیں ڈھونڈ بھی لیتے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ زندہ ہوگا”

کرنل صاحب کے الفاظ فاروق صاحب کو ہلا گئے۔۔

“ہمت رکھیں فاروق صاحب۔۔آپ خود فوج کا حصہ رہ چکے ہیں۔۔ہمارے بہت سے سپاہیوں کے موقع پر شہادت نصیب کی۔۔۔ہمیں گرو ہے اپنے سپاہیوں پر جن میں شفی اور وصی۔۔بھی شامل ہیں۔۔”

کرنل صاحب کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔

وہ انہیں تسلی دے رہے تھے۔۔۔

مگر وہ خاموش تھے۔۔۔۔

وہ ایک مضبوط انسان تھے۔۔

اس کے بعد کرنل صاحب نے بہت کچھ کہا۔۔

جسے فاروق صاحب نے ہمت سے سنا۔۔۔۔