Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 41)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

گھر والوں نے مل کر دو دن بعد کا دن نکاح کے لیے مقرر کیا۔۔

وصی اس وقت ددو کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔۔

“وصی کیا تجھے یہ سب سہی لگ رہا ہے؟”

ددو نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔۔

“کیا ددو؟” وصی نے حیرت سے پوچھا۔۔

“یہی جو شفی کر رہا ہے۔۔۔پہلے طلاق پھر حلالہ پھر شادی۔۔۔”

ددو نے ناگواری سے کہا۔۔

“میں کیا کہ سکتا ہوں ددو۔۔جب حور اور شفی کی یہی مرضی ہے تو پھر یہی سہی”

وصی نے کہا۔۔

“حور تو معصوم ہے جیسا کہ دو اسی پر ہامی بھر لیتی ہے مگر شفی وہ تو سمجھدارہے۔مجھے اس سے اس احمقانہ حرکت کی امید نہیں تھی۔۔”

ددو نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“چھوڑیں ددو۔۔۔”

وصی نے بات بدلی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“مما کیا بنا رہی ہیں آپ؟”

حور نے کچن میں آتے ہی کہا۔۔

“فلحال تو سبزی بنا رہی ہوں۔۔”

شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“مگر مما وصی نے تو اسپیگٹی کہا تھا”

حور نے یاد دلایا۔۔

“ہاں مگر ابھی ٹائم میرے پاس ٹائم نہیں۔۔۔میں کل بنا دوں گی اسے۔۔۔۔”

شائستہ بیگم نے کہا

“وہ برا منا جائیں گے نا ایسے۔۔”

حور نے فوراً کہا

“نہیں کچھ نہیں کہتا وہ” شائستہ بیگم نے لاپرواہی سے کہا۔۔

“اگر آپ بنا دیں گی تو کیا ہوجائے گا؟”

حور نے خفگی سے کہا۔۔

“حور۔۔۔کیا چل رہا ہے؟”

شائستہ بیگم نے اسے گھورا۔۔

“کیا؟” وہ حیران ہوئی۔

“حور تو اچھے سے جانتی ہے میں کیا پوچھ رہی ہوں”

شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“کیا کہ رہی ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔”

حور نے انجان بنتے ہوئے کہا۔۔

“حور تو وصی۔۔۔” وہ کہتے کہتے رکی۔۔

کچن کے دروازے سے اندر آتے وصی پر نظر پڑی۔۔

“کیا بن رہا ہے آج۔۔۔؟”

وصی نے اندر داخل ہوتے ہی کہا۔۔

“سبزی بن رہی ہے۔۔”

شائستہ بیگم نے مسکرا کر اطلاع دی۔۔

“میرے لیے تو اسپیگٹی بنا دیں۔۔۔مجھے نہیں کھانی سبزی۔۔۔” وصی نے منہ بنایا

“وصی بری بات ہے۔۔۔” شائستہ بیگم نے ٹوکا۔۔

“میں بنا دوں گی۔۔” حور نے نظر جھکائی۔۔

“یہ ہوئی نا بات۔۔۔دیکھا پھپھو۔۔۔دو دن بعد نکاح ہے۔۔۔

اور ابھی سے بیوی کی طرح فرمانبرداری کر رہی ہے۔۔”

وصی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

ور اس کی بات سن جہاں حور نے سر اسے دیکھا۔۔۔

وہیں شائستہ بیگم نے بھی چانک کر اسے دیکھا۔۔

ان دونوں کی نظریں خود پر دیکھ وصی نے ہنسی روکی۔۔

“مزاق کر رہا ہوں۔۔۔” وصی نے یک دم کہا۔۔

اور شائستہ بیگم مسکرا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

صبح سے وہ لوگ کام کر رہے تھے۔۔

نکاح کی ساری تیاری ہوچکی تھی۔۔

حور الماری کھول کر کھڑی تھی۔۔

اس کی نظر اس بلو سوٹ پر تھی جو اس نے وصی کے ساتھ جا کر لیا تھا۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر وہ سوٹ نکالا۔۔

اور اسے دیکھ مسکرادی پھر چینج کرنے چلی گئی۔۔

شائستہ بیگم جب کمرے میں آئی تو وہ بس چینج کر کے باہر ہی نکلی تھی۔۔

اسے دیکھ شائستہ بیگم چونکی۔۔

“یہ پہنو گی نکاح پر؟” شائستہ بیگم نے پوچھا۔۔

“جی۔۔۔کیوں اچھا نہیں ہے؟” حور نے پوچھا۔۔

“نہیں یونہی پوچھ رہی تھی۔۔” شائستہ بیگم نے بیگم نے جواب دیا۔۔

اور وہ آئینے کے سامنے بال بنانے لگی۔۔

“اچھا جلدی تیار ہوجا قاضی صاحب آنے والے ہیں۔۔۔”

شائستہ بیگم نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔۔

جہاں اداسی کا نام و نشان نہیں تھا۔۔

مگر انہوں نے اگنور کیا اور کمرے سے نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

قاضی صاحب آچکے تھے۔۔

وصی بھی سامنے کاٹن کا سوٹ پہنے۔۔۔ہاتھ میں ہمیشہ کی طرح پہنے جانے والی وہی سادہ سی گھڑی۔۔

وہ لوگ نکاح کے لیے تیار تھے۔۔

ددو نے شائستہ بیگم کو اشارہ کیا۔۔

اور وہ حور کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ان کی نظر حور پر پڑی۔۔

جو خود سے بھی بہت اچھا تیار ہوئی تھی۔۔

اس نیلے رنگ کے سوٹ میں وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی۔۔

شائستہ بیگم بنا کچھ کہے الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔

اورنیٹ کا دوپٹہ نکال اسے اوڑھایا جس سے اس کا گھونگھٹ ڈال دیا۔۔

حور بنا کچھ کہے مسکرا دی۔۔

اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“اب ٹھیک ہے۔۔چلیں؟” شائستہ بیگم نے پوچھا۔۔

“جی۔۔۔” اس نے مختصر کہا اور ان کے ساتھ ہولی۔۔

شائستہ بیگم نے اسے وصی کے برابر بٹھایا۔۔

حور کو یوں تیار دیکھ ددو کے ماتھے پر بل پڑے مگر انہیں نے نظر انداز کردیے۔۔

قاضی صاحب نے نکاح شروع کروایا۔۔

اور ان کے پوچھنے پر دونوں نے قبول ہے کی مہر لگائی۔۔

دستخط کیے۔۔۔

ساتھ بیٹھا شخص حور کا محرم بن چکا تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شائستہ بیگم نے حور کو وصی کے کمرے میں بٹھا دیا تھا۔۔

اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔

“حور۔۔۔” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“جی مما۔۔۔” حور نے مسکرا کر جواب دیا۔۔

“تو خوش ہے۔۔؟” انہوں نے پوچھا۔۔

“ہاں بہت۔۔” حور نے اسی ٹون میں جواب دیا۔۔

“کیوں۔۔؟” شائستہ بیگم نے سوال داغا۔۔

“کیا مطلب کیوں۔۔؟” وہ چونکی۔۔

“خوشی کی بھی کوئی وجہ ہوتی ہے حور”

شائستہ بیگم نے جتایا

“میری شادی ہوئی ہے۔۔۔”

حور نے سادگی سے کہا۔۔

“وہی شادی جو کل ٹوٹ جائے گی۔۔۔؟” شائستہ بیگم نے اسے یاد کروایا۔۔

یک دم اس کے ماتھے پر شکن آئی۔۔

“کیا چاہتی ہے تو حور۔۔۔؟” شائستہ بیگم نے پھر پوچھا۔۔

“وصی کو۔۔۔” حور نے فوراً بنا ڈرے جواب دیا۔۔

“کیا۔۔۔مگر حور۔۔۔۔؟” وہ حیران ہوئی۔۔

“مما جب آپ نے بچپن میں ہی میری منگنی شفی سے کردی تھی۔۔مجھے شفی نہیں پسند تھا۔۔۔پھر آہستہ آہستہ میں سمجھوتہ کرلیا۔۔میں شفی کوپسند کرنے لگی۔۔

مگر شفی سے شادی کر کے مجھے وہ خوشی محسوس ہی نہیں ہوئی۔۔۔آہستہ آہستہ وہ میرے دل سے اترتے گئے۔۔

اور اب۔۔مجھے نہیں پتا مما میں کیوں خوش ہوں۔۔۔”

حور نے سنجیدگی سے اپنے دل کی بات بتائی۔۔

“مما مجھے خود نہیں پتا کہ میں وصی کی طرف کیوں کھچتی چلی جا رہی ہوں۔۔۔کب میرے دل سے شفی اترے اور وصی نے گھر لیا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔مما کیا کروں۔۔۔؟”

حور نے شائستہ بیگم کا ہاتھ تھاما۔۔

اور شائستہ بیگم گہری سوچ میں ڈوب گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“فی کو بتا دیا ہے نکاح کا؟”

ددو نے پوچھا۔۔

“جی ددو۔۔۔ بتا دیا ہے”

وصی نے کہا ۔

“اچھا چل تو بھی آرام کرلے۔۔”

ددو نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا۔۔

“جی ددو۔۔۔پھپھو کہاں گئی۔۔۔؟” وصی نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔۔

“وہ تیرے کمرے میں ہی ہوگی۔۔حور کو چھوڑنے گئی تھی۔۔”

ددو نے جواب دیا۔۔

“میرے کمرے میں؟” وہ چونکا۔۔

“اس میں چونکنے والی کون سی بات ہے وصی۔۔؟”

ددو نے پوچھا۔۔

“حور میرے کمرے میں؟ مطلب ددو آپ لوگ جانتے ہیں نا شفی نے حلالے۔۔” وصی نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔

“تو شادی تو ہوئی ہے نا۔۔۔”

ددو نے اسے سمجھایا۔۔

“اچھا۔۔۔” وہ شانے اچکا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر وہ اندر داخل ہوا۔۔

شائستہ بیگم اور حور دونوں اسے دیکھ چونکی۔۔

“کیا ہوا۔۔۔بیوٹفل لیڈیز۔۔۔۔کوئی خاص بات چل رہی تھی کیا؟”

وصی نے ٹون میں پوچھا۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔

“نہیں کچھ نہیں۔۔۔” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

تھوڑی دیر یہاں وہاں کی بات کرنے کے بعد شائستہ بیگم وہاں سے چلی گئی۔۔

“ویسے حور ایک بات کہوں۔۔۔؟” وصی نے حور کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“جی۔۔” حور نے نظریں جھکائے مختصر کہا۔۔

“اچھی لگ رہی ہو۔۔۔” وصی نےپاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

اور حور مسکرا دی۔۔

“توتم مجھے پسند کرتی ہو۔۔؟” وصی نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔

اور اس کی بات سن حور نے یک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ان کی باتیں سن چکا۔۔۔