Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 17)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

مگر وصی۔۔کیا وہی تیرے لیے سب کچھ تھی ہم کچھ نہیں؟” شفی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے سمجھانا چاہا۔۔

“تم سب میرے لیے کیا ہو اس بات کا ثبوت میں خود ہوں۔۔۔سی۔۔۔میں زندہ ہوں۔۔ورنہ وصی مرجاتا۔۔” وصی نے ڈبڈباتی آنکھوں سے کہا

“وصی۔۔کیسی باتیں کر رہا ہے۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔یار کسی ایک کے جانے سے زندگی روک دی نہیں جاتی” شفی نے سنجیدگی سے کہا

“مجھے جانے ہے بس۔۔۔” وہ پھر سے بیگ پیک کرنے لگا۔۔

“وصی۔۔تو۔۔” شفی نے پھر کچھ کہنا چاہا

“ابھی مجھے جانے دے شفی۔۔پلیز” وصی نے بے بسی سے کہا۔۔

اور شفی نے اسے گلے لگا لیا ۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

۔۔

“کل شفی کو کیا ہوگیا تھا۔۔؟” حور کھڑی سوچ رہی تھی

۔۔

“حور۔۔۔وصی کا ناشتہ لگا دو۔۔میں اسے کمرے میں دے آؤں گا” شفی نے کہا۔۔

“جی۔۔۔” حور نے مختصر کہا پھر سے کام میں میں مصروف ہوگئی۔۔

“حور۔۔۔ایم سوری” شفی نے نرم لہجے میں کہا

“کس لیے؟” حور نے اسی انداز میں پوچھا۔۔

“کل میں نے کافی روڈلی بیہیو کیا..” شفی نے شرمندگی سے کہا۔۔

“نو اٹس اوکے۔۔” حور نے سادگی سے جواب دیا ۔

اور ناشتے کی ٹرے اس کی طرف بڑھائی۔۔

“تھینک یو” شفی نے ٹرے تھامی اور کچن سے باہر نکل گیا۔۔

اور حور ہلکا سا مسکرا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ وصی کو زبردستی ناشتہ دے کر سیدھا لاؤنج میں آیا۔۔

جہاں ددا ددو اور شائستہ بیگم بیٹھی تھی۔۔

“ددا۔۔وصی واپس جارہا ہے” شفی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

“مگر وہ جو اب آرمی میں واپس نہیں جانا چاہتا تھا” شائستہ بیگم نے کہا

“بس اب وہ وہی کر رہا ہے جو ہم چاہتے تھے۔۔” شفی نے سنجیدگی سے کہا

“مگر۔۔۔شفی وہ ایسے کیسے جا رہا ہے؟” شائستہ بیگم حیران ہوئی۔۔

“پھپھو اسے جانے دیں۔۔ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں نا۔۔” شفی نے کہا۔۔

تبھی لاؤنج کا دروازہ کھلا اور وصی اندر داخل ہوا۔۔

بلو جنس پر وائیٹ شرٹ پہنے جوگرز کے ساتھ۔۔

وہ ددو کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔۔

اور ان کے گلے میں بانہیں ڈالی۔۔

“وصی۔۔تو جا رہا ہے” ددو نے اس کے گال پر ہاتھ لگایا

“ہاں ددو۔۔۔مجھے وہاں کچھ کام ہے میں جارہا ہوں۔۔اور ویسے بھی آپ سب بھی تو یہی چاہتے ہیں نا کہ میں آرمی نا چھوڑوں۔۔تو میں چھوڑوں گا۔۔” وصی نے کہا۔۔

“اللہ کامیاب کرے میرے بچے کو۔۔” ددو نے دعا دی۔۔

“اچھا ددو۔۔میری ٹرین کا ٹائم ہوگیا۔۔” وہ نظریں چراتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔

اور سب سے مل کر چل دیا۔۔

سب نے اسے دعائیں اور پیار دے کر رخصت کیا۔۔

اس کے جانے بعد ددو اور شائستہ بیگم کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔

شفی جیسے ہی جانے کے لیے مڑا۔۔کسی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔

“کیا بات ہے؟” ددا نے پوچھا۔۔

“نہیں کچھ نہیں ددا” شفی نے کہا۔۔

“تو کل سے پریشان ہے۔۔اور وصی۔۔وہ بھی نظریں چرا رہا ہے۔۔آخر بات کیا ہے؟” ددا نے پوچھا

“نہیں ددا کوئی بھی بات نہیں” شفی نے سنجیدگی سے کہا

“تو سب سے جھوٹ بول سکتا ہے مگر مجھ سے نہیں اب بتا” ددا نے کہا

اور شفی نے ساری تفصیل ددا کو بتادی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ڈیوٹی جوئن کیے اسے آج دوسرا دن تھا۔۔

وہ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھا تھا۔۔

ہر طرف جیسے خاموشی تھی۔۔

شام کا منظر اسے بہت اداس لگ رہا تھا آج۔۔۔

سورج آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا۔۔

اور ٹھنڈ بڑھ رہی تھی۔۔

مگر وہ وہیں بیٹھا سوچوں میں گم تھا۔۔

(میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں وصی۔۔مجھے پتا ہی نہیں چلا کب مجھے تم سے محبت ہوئی)

نور کا جملہ اسے یاد آیا۔۔

“نہیں نور مجھ سے محبت نہیں کرتی تھی۔۔ورنہ۔۔ورنہ مجھے ایسے کبھی چھوڑ کر نہیں جاتی۔۔” وصی نے اداس لہجے میں خود کلامی کی۔۔

“وصی نے فون نکالا اور کانٹیکٹ بک سے اس کا نمبر نکال کر دیکھنے لگا۔۔

پھر ہلکا سا مسکرایا۔۔

اور ڈائل پریس کیا۔۔

نمبر بند جارہا تھا۔۔وصی نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔

دو آنسوں اس کے گال کو بھگو گئے۔۔

“تم بے وفا ہو نور۔۔کیسے تم مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔۔”

وصی نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“مما میں نے کھیر فریج میں رکھ دی تھی” حور نے پاس کھڑی شائستہ بیگم کو دیکھ کر کہا۔۔

“اچھا۔۔بس کھانا بن گیا۔۔شفی کو بتا دے حور کب سے انتظار کر رہا تھا۔۔” شائستہ بیگم نے مصروفیت سے کہا۔۔

“جی مما۔۔۔” وہ کچن سے باہر نکل گئی۔۔

شفی کے روم کے باہر کھڑی وہ سوچ رہی تھی کہ اندر کیسے جائے۔۔

ہمت کر کے اس نےدروازے پر نوک کیا۔۔

“کم ان۔۔۔” اندر سے اس کی بھاری آواز ابھری۔۔

وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔موبائل پر نظریں جمائے۔۔۔

“وہ۔۔آپکو مما بلا رہی ہیں کھانا لگ گیا ہے” حور نے آہستگی سے کہا۔۔

اور جانے کیےپلٹ گئی۔۔

“حور۔۔۔” شفی نے پکارا۔۔

“جی۔۔۔” حور نے پلٹ کر کہا

“میرے نا سر میں بہت درد ہے۔۔تم دبا دو گی؟” شفی نے شرارت سےکہا ۔

“جی۔۔۔” وہ چونکی

“جی۔۔۔ہاں۔۔بتاؤ؟” شفی نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔

وہ خاموش کھڑی رہی اس کی گھبراہٹ اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔

“بولو۔۔۔یار تم چپ کیوں رہتی ہو ہر وقت۔۔۔” شفی اکتاہا۔۔

اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔

“وہ میں۔۔۔میں مما کو بھیجتی ہوں۔۔” وہ کہ کر جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی۔۔

اور دروازہ کھول کرباہر نکل گئی ۔

اور شفی اس کے ردعمل پر زور سے ہنسا۔۔

وہ جاتے جاتے بھی اس کا قہقہہ سن چکی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ بلا وجہ ہی پریڈ گراؤنڈ میں دوڑ رہا تھا

(تم ناول پڑھتے ہو؟)

(میرا بہت لمبا پلان ہے۔۔مجھے بہت کچھ کرنا ہے ابھی لائف میں۔۔۔)

(میں چاہتی ہوں میرا نام ہو دنیا میں۔میری اپنی پہچان ہو)

(میرے ابھی اتنے برے دن نہیں آئے کہ تم سے شادی کرلوں)

(نور کی زندگی وصی کے بنا ادھوری ہے)

نور اس کے دماغ سے ایک پل کے لیے بھی نہیں نکل رہی تھی۔۔

کتنی ہی دیر ہوگئی تھی بھاگتے بھاگتے۔۔

وہ تھک چلا تھا مگر رکا نہیں۔۔

سوچیں مسلسل گردش کر رہی تھی۔۔

نور کی یادیں اس کے گرد گردش کر رہی تھی۔۔

یک دم اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔۔

اور وہ دھڑام سے نیچے گرا۔۔۔