Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 31)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 31)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
“گھر تو بلکل خالی ہی ہوگیا”
ددو نے اداسی کہا۔۔۔
“ہاں اماں۔۔تینوں ہی چلے گئے۔۔۔میرا تو بلکل ہی دل نہیں لگ رہا۔۔” شائستہ بیگم نے کہا۔
“میں تو کہ رہی تھی کچھ ٹائم کے بعد لے جائے حور کو ساتھ۔۔۔پتا نہیں اس بچی کا دل بھی لگے گا یا نہیں۔۔”
ددو نے فکرمندی سے کہا۔۔
“لگ جائے گا دل رہے گی تو۔۔۔ویسے بھی اماں یہی دن ہیں گھومنے پھرنے کے۔۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا
“ہاں کہ تو ٹھیک رہی ہو۔۔۔”
ددو نے سادہ لہجے میں کہا ۔
“اماں۔۔دوا لے کر سوجائیں اب آپ۔۔”
شائستہ بیگم نے اٹھ کر انہیں دوا دی۔۔
شفی آنکھیں موندیں سیٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔۔
پاس بیٹھا وصی بھی اپنے موبائل میں گم تھا۔۔
حور کی نظریں شفی پرتھی۔۔
“میرا کھڑوس ہسبنڈ۔۔۔۔”
حور نے مسکرا کر دل میں کہا۔۔
پھر اس کے کاندھے پرسر رکھ لیا۔۔۔
شفی فوراً آنکھیں کھول اسے دیکھا۔۔
اور مسکرا دیا۔۔
“مجھے پتا ہے آپ ناراض ہو۔۔۔جلد ہی تمہاری ساری ناراضگی ختم کردوں گی۔۔۔مگر میں کیا کروں۔۔۔جب جب آپ میرے قریب آتے ہو پتا نہیں کیا ہوجاتا۔۔۔”
حور نے دل میں سوچا۔۔اور آنکھیں موند لی۔۔
“بیسٹ کپل۔۔” وصی نے انہیں دیکھتے ہی بے ساختہ کہا۔۔
حورجواس کی آواز سن چکی تھی ہڑبڑا کر سیدھی ہوکربیٹھی۔۔
اور اس کی ہڑبڑاہٹ دیکھ وصی کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔
گھر پہنچے تو گھر تھوڑا گندا تھا۔۔۔
جاتے تو وہ لوگ بیٹھ گئے اور گھر کاجائزہ لیا۔۔
وہ دو کمروں کا گھرتھا۔۔
“دیکھو بھئی سفر کی تھکان تب ہی اترے گی جب آرام کریں گے۔۔تو میں تو سورہا ہوں۔۔”
وصی نے کہا۔۔ اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
“تم بھی آرام کرلو۔۔۔صفائی بعد میں کریں گے۔۔۔”
شفی نے حورکے قریب آکر کہا۔۔
“نہیں ایسے نیند آئے گی کیاگندے گھرمیں۔۔”
حور ےسنجیدگی سےکہا۔۔
“تو کیا صفائی کرنا شروع ہوجاؤ گی۔۔تھکی نہیں تم اتنے لمبےسفر سےبھی۔۔۔”
شفی نے ہنس کر کہا۔۔
“نہیں” حور نے مختصر کہا۔۔
“میں کروا دوں ہیلپ۔۔؟” شفی نے مسکرا کر پوچھا۔۔
“نہیں میں کرلوں گی۔۔۔” حور نے ہنس کر جواب دیا۔۔
“کروالو مدد اسی بہانے تمہارے ساتھ تو رہو گا ورنہ تو میری بیوی مجھے لفٹ نہیں کرواتی۔۔۔”
شفی نے خفگی سے کہا۔۔
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔” حور نے نظر جھکائی۔۔
“ابھا پھر کیسی بات ہے؟”
شفی نے قریب آکر کہا۔۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی مگر خاموش رہی۔۔
“میں تم سے بہت محبت کرتاا ہوں حور ۔۔”
شفی نے اس کاچہرہ اپنے ہاتھوں میں سمویا۔۔
حور نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
وہ آنکھوں میں محبت لیے اسے تک رہا تھا۔۔
چونکے وہ لوگ تب جب پیچھے سے وصی کے کھنکارنے کی آواز آئی۔۔
“کنوارہ ںچہ گھر میں ہے۔۔۔۔کچھ تو شرم کرو۔۔۔کیا اثر پڑے گا مجھ پر۔۔۔”
وصی نے شرارت سے کہا۔۔
حور ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی۔۔۔
“اس بچے کو میں سدھارتا ہوں۔۔۔۔”
شفی اس کے پیچھے بھاگا۔۔۔اور وہ سیڑھیا چڑھتا چھت پر۔۔
حور انہیں دیکھ مسکرا دی۔۔
![]()
پورے گھر کی صفائی کرکے وہ تھک گئی تھی۔۔
کھانا باہر سے آرڈر کرلیا تھا انہوں نے۔۔
کھانے کے بعدوہ آرام کی غرض سے کمرے میں آئی۔۔
وہ بیڈپر لیٹتے ہی سوگئی۔۔
تھکاوٹ کی وجہ سے اسے پتا ہی نہیں لگا۔۔
کہ اسے کب نیند آگئی۔۔
شفی جب کمرے میں آیا تو وہ گہری نیند سورہی تھی۔۔
وہ مسکرایا۔۔
پھرجاکر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
کہنی بیڈ پر جمائے سر اٹھائے اسےدیکھنےلگا۔۔
سفیدچہرے پر پر سکون نیند تھی۔۔
کھلے بال جو ایک طرف تکیے پر پڑے تھے۔۔
ایک دوآوارہ لٹیں جو اس کے چہرے کو چھو رہی تھی۔۔
شفی نے ہاتھ بڑھا کر ان لٹوں کو پیچھے کیا۔۔
“کتنی معصوم ہو تم یار۔۔۔”
شفی بڑبڑایا۔۔۔
اس نے حورکی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی۔۔
پورا دن کام کر کے وہ تھک چکی تھی۔۔
تبھی اسے گہری نیند سوتا دیکھ شفی کو ہنسی آئی۔۔
وہ دونوں ڈیوٹی پرچلے گئےتھے۔۔اور حور گھر میں اکیلی تھی۔۔
اس سارا کام کیا جو کل ادھورا رہ گیا تھا۔۔
کپڑے وغیرہ پریس کیے۔۔۔
ابھی وہ لچن کی طرف جا ہی رہی تھی کہ اس کافون بجنے لگا۔۔
اس نے ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا۔۔
اسکریں پر شائستہ بیگم کانمبر جھلملا رہا تھا۔۔
“اسلام علیکم مما” حور نے کال رسیو کرتے ہی خوش ہوکر کہا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔کیسی ہے میری بیٹی؟”
انہوں نے پیار سےپوچھا۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔آپ سب کیسے ہیں؟”
“ہم بھی ٹھیک ہیں۔۔۔دل لگ رہاہے؟”
“نہیں۔۔بلکل بھی نہیں۔۔بلاوجہ لائے ہیں شفی مجھے۔۔۔
خود تو دونوں ڈیوٹی پر چلے گئے۔۔میں اکیلی۔۔”
حور نے اداسی سے کہا۔۔
“حور اب تمہارے لیے وہ ڈیوٹی تونہیں چھوڑ سکتے”
شائستہ بیگم نے ہنس کر کہا۔۔
“تو پھر مجھے لائے کیوں۔۔پتا ہے مجھے آپ کی کتنی یاد آرہی ہے۔۔اس وقت میں نانو سےمالش کروا رہی ہوتی۔۔۔”
حور نے کہا۔۔اور شائستہ بیگم ہنس دی۔۔
پھر تھوڑی دیر یہاں وہاں کی باتیں کر کےفون بند کردیا اور کام میں مصروف ہوگئی۔۔
وہ دونوں کھڑے کوئی باتوں میں مصروف تھے۔۔
کہ ڈاکٹر حمنہ قریب آئی۔۔
“ہاؤ آر یو۔۔۔مسٹر شفی۔۔۔”
ڈاکٹر حمنہ نے شفی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“فائن۔۔۔واٹ اباؤٹ یو؟ شفی نے خوشدلی سے پوچھا۔۔
وصی خاموش کھڑا ڈاکٹر حمنہ کو نوٹس کر رہا تھا۔۔
“شفی آپ نے جو ہمارے وطن کے لیے کیا۔۔۔سلیوٹ ہے یار سیریسلی۔۔۔مجھے بہت خوشی ہوئی آپ کو دیکھ کر”
ڈاکٹر حمنہ نےمسکرا کر کہا۔۔
“ارے آپ۔۔کو اور بھی خوشی ہوگی یہ جان کر کہ شفی کی شادی ہوگئی۔۔”
وصی نے ہنسی دباتے ہوئےکہا۔۔
“واٹ۔۔؟” وہ چونکی۔۔
