Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 29)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

“شفی…کس طرح بات کر رہا ہے؟”

ددو نے غصہ سے ٹوکا۔۔

وصی سرخ آنکھوں سے شفی کو گھور رہا تھا۔۔پھر یک دم اٹھ کھڑا ہوا۔۔اور لاؤنج کا دروازہ کھول باہرنکل گیا۔۔

“شفی تجھے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی اس نے جو کیا تھا صحیح کیا تھا۔۔اور حور تیری بیوی ہے تو کیا اس کی کچھ نہیں لگتی؟”

ددو نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

“ددو میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔”

شفی کو شرمندگی ہوئی

“تیرا جو بھی مطلب تھا لہجہ بلکل ٹھیک نہیں تھا۔۔”

ددو نے غصہ سے کہا

اور شفی کو احساس ہوا کہ شاید وہ کچھ زیادہ بول گیا ۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شفی لان میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔۔ جب حور چائے کا کپ تھامے اس کی طرف آئی۔۔

“آپ کی چائے۔۔”

حور نے چائے ٹیبل پر رکھ دی۔۔

“تھینک یو۔۔۔بیٹھو”

شفی نے کہا۔۔

اور حور کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی۔۔

“تم میرے ساتھ چلو گی۔۔ایبٹ آباد میں ٹھنڈ ہوگی۔۔اسی لیے تم گرم کپڑے وغیرہ رکھ لینا۔۔”

شفی نے بے تاثر لہجے سے کہا۔۔

“مگر۔۔۔مما اور نانو۔۔”

حور نے ہچکچا کر کچھ کہنا چاہا۔۔

“میں کرلوں گا ان سے بات۔۔۔”

شفی نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔۔

اور حور خاموش ہوگئی۔۔

وہ بھی خاموشی سےچائے پینے میں مصروف تھا۔۔

“آپ پریشان ہیں کسی بات سے؟”

حور نے پوچھا۔۔

“نہیں۔۔”

شفی نے مختصر کہا۔۔

“ایک بات کہوں۔۔؟”

حور نے پوچھا۔۔

“ہاں۔۔بولو۔۔”

شفی نے اسے دیکھا۔۔

“وہ لڑکا مجھے چھیڑ رہا تھا۔۔اور میں گھبرا گئی تھی وہ تو سہی وقت پروصی آئے اور۔۔۔۔آپ کو وصی سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی”

حور نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“ہممم۔۔۔۔”

وہ سوچتے ہی گہرا سانس خارج کرنے لگا۔۔

اور خاموشی سے سوچ کو ٹٹولنے لگا۔۔

تبھی وصی گیٹ سے اندر آتا دکھائی دیا۔۔

“شفی آپ کو ایکسکیوز کرلینا چاہیے۔۔”

حور نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

پھر کپ اٹھا کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کپ کچن میں رکھنے آئی تو شائستہ بیگم برتن دھونے میں مصروف تھی۔۔

“میں کرتی ہوں مما۔۔۔”

حور نے قریب آکر کہا۔۔

“نہیں ابھی نہیں۔۔ابھی تو تمہاری مہندی بھی نہیں اتری۔۔۔”

شائستہ بیگم نے ہنس کر کہا۔۔

“پتا نہیں پھر آپ کی ہیلپ کب کروں گی۔۔”

وہ اداس ہوئی

“کیوں ایسے کیوں کہ رہی ہو؟ “

شائستہ بیگم نے چونک کر پوچھا۔۔

“وہ مما۔۔۔شفی چاہتے ہیں میں ان کے ساتھ جاؤں۔۔”

حور نے بجھے ہوئے لہجے میں بتایا۔۔

“اتنی جلدی۔۔۔سب انتظام کیسے کرے گا وہ۔۔؟”

وہ حیران ہوئی

“پتا نہیں مما۔۔۔میں نہیں جانا چاہتی۔۔”

حور نے منہ بنایا

“اگر وہے جانا چاہتا ہے تو پھر تم کیوں نہیں جانا چاہتی؟”

انہوں نے پوچھا۔۔

“میرا دل نہیں لگے گا۔۔آپ سب کے بنا۔۔”

حور نے کہا

“تو دل لگانا پڑے گا۔۔۔لڑکیاں سسرال بھی تو جاتی ہیں۔۔وہ ایک الگ بات ہے کہ تمہارا سسرال بھی یہی ہے”

شائستہ بیگم نے ہنس کر کہا

“مما۔۔مجھے نہیں جانا”

حور نے پھر کہا

“اچھا میں بات کرتی ہوں شفی سے۔۔

ویسے گھوم پھر کر آجانا۔۔اس میں کیا بڑی بات ہے۔۔”

شائستہ بیگم نے اسے تسلی دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ اندر کی جانب بڑھ رہا تھا تھا شفی نے پکارا۔۔

“وصی۔۔۔” شفی کی آواز پر وہ رکا۔۔

چہرے پر یک دم غصہ کے تاثر نمودار ہوئے۔۔

مگر وہ اسی طرح کھڑا رہا۔۔

“وصی۔۔۔سوری یار۔۔”

شفی نے معافی مانگی۔۔

وصی نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔

اس کا دل چاہ رہا تھا وہ شفی کو کھری کھری سنا دے۔۔

مگر وہ اپنے غصہ کو پی رہا تھا۔۔

“وصی میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔تو غلط سمجھ رہا ہے۔۔۔میں نے تو بس اتنا کہنا چاہا تھا کہ لڑنے سے مارنے سے ایسے آوارہ لڑکے نہیں سدھریں گے۔۔”

شفی نے جواب نا پاکر پھر سے تفصیلی بات کہی۔۔

“تو کیا کہنا چاہتا ہے میں سب دیکھ کر بھی چپ رہتا۔۔

ڈر کر بیٹھ جاتا۔۔

میں نے چوڑیاں نہیں پہنی تھی جو اپنے گھر کی عزتوں کو نا بچا سکوں۔۔۔اور تو کیا کہ رہا تھا وہ تیری بیوی ہے۔۔۔

اس لیے میرا کام نہیں تھا اس کے مسئلہ میں کودنے کا”

وصی نے پوچھا

“نہیں میں نے۔۔۔”

شفی کچھ کہتا کہ وصی نے اس کی بات کاٹی۔۔

“اگر میرا حق نہیں۔۔۔اور تو شوہر ہے حور کا۔۔۔ تو ون تیرا خولنا چاہیے تھا۔۔۔سب کچھ سننے اور دیکھنے کے بعد بھی تو خاموش رہا۔۔۔اگر تو کچھ کرتا تب میں سلام کرتا تجھے۔۔۔”

وصی نے چبا کر کہا۔۔

اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔

شفی کو اس کی باتیں چبھ گئی تھی۔۔

مگر وہ بات کو بڑھانا نہیں چاہتا تھا ۔

اسی لیے اس نے نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے کھانے کے بعد وہ کمرے میں آگیا تھا۔۔

اور اپنے نئے فون میں گم تھا جو وہ آج ہی لایا تھا۔۔

تبھی حور کمرے میں داخل ہوئی۔۔

وہ بالوں کو فولڈ کرتی ڈریسنگ کے سامنے گئی۔۔

شفی کی نظریں اسی پر تھی۔۔

“حور۔۔۔میں نے بات کرلی ہے پھپھو سے اور ددا سے بھی۔۔۔

تم اپنی پیکنگ کرلینا۔۔۔”

شفی نے کہا۔۔

“جی۔۔۔” اس نے مختصر کہا۔۔

“اچھا یہاں آؤ۔۔”

شفی نے اسے پاس بلایا۔۔

وہ آہستہ قدموں سے چلتی اس کے قریب آئی۔۔

“بیٹھو۔۔۔” شفی نے اسے ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھایا۔۔

“تم فکر نہیں کرو۔۔میں نے اپنے دوست کو کہ دیا ہے اس نے گھر کا انتظام کرلیا ہے۔۔تمہیں وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔

خوبصورت شہر ہے میں تمہیں پورا گھما دوں گا۔۔۔”

شفی نے پیار سے اس کے ہاتھ کو مضبوط کرتے ہوئے کہا۔۔

حور ہلکاسامسکرائی۔۔۔

اس کی مسکراہٹ دیکھ شفی کو بے اختیار اس پر پیار آیا۔۔۔

شفی نے اس کا ہاتھ لبوں سے لگایا۔۔

“وہ میں۔۔پیکنگ کرلیتی ہوں۔۔۔”

حور نے وہاں سے اٹھنا چاہا مگر شفی نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی اور اس کی کوشش کوناکام بنایا۔۔

“بعد میں کرنا۔۔۔”

شفی نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پرآتے بالوں کے پیچھے کیا۔۔۔

وہ مزید قریب آتا کہ حور تھوڑا پیچھے ہوئی۔۔۔

اس کی اس حرکت پرشفی کےچہرے پرناگواری اتری۔۔

اور وہ اپنا غصہ دلھا ہی گیا۔۔

“کیامسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔کیوں دور بھاگتی ہو تم۔۔۔؟”

وہ اسے شانوں سےتھام کر غصہ سے دھاڑا

حور کی بڑی بڑی آنکھیوں میں یک دم آنسوں امڈآئے۔۔۔

اسے روتا دیکھ شفی کا غصہ اوربڑھا۔۔

“جاؤ یہاں سے۔۔۔اٹھو۔۔۔”

اس نے غصہ سے کہا۔۔۔

حور سہم کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“شف۔۔۔شفی۔۔۔” اس نے ہچکی لی۔۔

مگر شفی نے مکمل اسے نظر انداز کرتے ہاتھ بڑھا کرلیمپ آف کیا۔۔۔

اور کروٹ لے کرسوگیا۔۔۔

حور کھڑی نیم اندھیرے میں اس کی پشت کو گھورنے لگی۔۔۔