Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 18)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 18)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا۔۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ہمت نہیں ہوئی ۔
تبھی ڈاکٹر حمنہ اندر داخل ہوئی۔۔
چہرے پر مسکراہٹ لیے۔۔
یونیفارم میں۔۔اسٹیتھوسکوپ گلے میں ڈالے۔۔
“کیسے ہیں مسٹر وصی دارین” حمنہ نے مسکرا کر پوچھا
“ٹھیک ہوں” وصی نے کہا۔۔
اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“آ۔۔ہاں۔۔ریسٹ کریں۔۔” حمنہ نے قریب آکر کہا۔۔
“نہیں مجھے۔۔جانا ہے” وصی نے کہا۔۔
“آئی تھنک آپ میں اتنی ہمت نہیں کہ آپ پھر سے بلا وجہ بھاگنا شروع کردیں۔۔۔۔” حمنہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔
وصی نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
“مطلب لمٹ ہے یار۔۔آپ کوئی پاگل واگل تو نہیں ہیں” حمنہ نے بے دھیانی میں ڈانٹا۔۔
“وصی بیٹھا ناگواری سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“شفی۔۔آگیا ہے ابھی ڈیوٹی پر ہے۔۔تھوڑی دیر میں آپ کے پاس آجائے گا۔۔کل سے آپ یہیں ہیں۔۔” حمنہ ہاتھ میں میڈیسن لیے معائنہ کر رہی تھی۔۔
“کل سے۔۔” وہ چونکہ۔۔
“ہاں۔۔کل سے میں نے انجیکشن دیا تھا شاید اس کے زیر اثر آپ سوتے رہے۔۔ ” حمنہ نے میڈیسن اور پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔۔
“جسے خاموشی سے وصی نے تھام لیا۔۔
میڈیسن لینے کے بعد حمنہ نے اس سے گلاس لے کر سائیڈ پر رکھا۔۔
“ویل۔۔سوئیں گے تو ابھی بھی آپ۔۔کیوں کہ ان میڈیسن میں سیڈیشن ہے۔۔” حمنہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
“مگر۔۔۔ڈاکٹر حمنہ۔۔” وصی نے کچھ کہنا چاہا۔۔
“نو آرگیوز۔۔۔پلیز۔۔۔اب آرام کریں اوکے۔۔” وہ کہتی مسکرا کر باہر نکل گئی۔۔
اور وصی ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔۔
وہ کھڑا کسی کیڈٹ سے بات کر رہا تھا جب اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔۔
سامنے ہی ڈاکٹر حمنہ کھڑی تھی۔۔اسے اپنی طرف دیکھتا پایا۔۔تو یک دم نظریں جھکا لی اور وہاں سے نکل گئی۔۔
شفی لمحہ بھر سوچنے لگا۔۔پھر یک دم اس کے دماغ میں آئیڈیا آیا اور حمنہ کے پیچھے لپکا۔۔
“ڈاکٹر حمنہ۔۔” شفی نے پکارا۔۔
وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“یس۔۔” حمنہ نے پوچھا۔۔
“وصی۔۔کی طبیعت کیسی ہے؟” شفی نے پوچھا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔میڈیسن کے زیر اثر سورہا ہے…..He perfectly alright “
حمنہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
“تھینک یو ” شفی نے کہا۔۔
“نو اٹس اوکے” وہ کہتی پلٹ گئی۔۔
“ڈاکٹر حمنہ۔۔I need your help۔۔” شفی نے سنجیدگی سے کہا
وہ اس کی بات سن پلٹی۔۔
اور اسے سوالیا نظروں سے دیکھا۔۔
فاروق صاحب بیٹھے کسی سوچ میں گم تھے جب شائستہ بیگم کمرے میں آئی۔۔
“ابا۔۔وہ۔۔” وہ کہتی کہتی رکی۔۔
“ابا۔۔میں دو دن سے نوٹ کر رہی ہوں آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں؟” شائستہ بیگم نے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“شائستہ میں چاہتا ہوں کہ شفی کے ساتھ وصی کی بھی شادی ہوجائے۔۔” فاروق صاحب نے کہا
“مگر ابا۔۔وصی تو چھوٹا ہے ابھی” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
“کوئی چھوٹا نہیں ہے۔۔۔۔” فاروق صاحب نے کہا
“لیکن لڑکی۔۔مجھے لگتا ہے ہمیں وصی سے بات کرنی چاہیے کیا پتا وہ کسی کو پسند کرتا ہو” شائستہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“نہیں۔۔تم لڑکی ڈھونڈو۔۔بس میں اسے خود منا لوں گا”
فاروق صاحب نے کہا
“چلیں۔۔جیسا آپ کہیں ابا۔۔” شائستہ بیگم سوچ میں پڑی۔۔
ڈاکٹر حمنہ بغور اسے سن رہی تھی۔۔
شفی نے اسے سارا پلان بتایا۔۔
اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔۔
شفی نے اس سے ہیلپ مانگی۔۔
“شفی۔۔آپ کسی اور سے ہیلپ مانگیں میں یہ کام نہیں کرسکتی۔۔” حمنہ نے صاف انکار کیا۔۔
“ڈاکٹر حمنہ آپ سمجھ نہیں رہی۔۔کتنے دن ہوگئے مگر میرا بھائی اس حادثے سے نہیں نکلا۔۔۔میں اسے اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔۔” شفی نے اداسی سے کہا
“مگر شفی محبت کوئی کھیل نہیں جو دل بہلایا جائے۔۔کسی کے جذبات کے ساتھ میں نہیں کھیلنا چاہتی۔۔” حمنہ نے کہا۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔وہ بس اس صدمے سے نکل آئے گا بس۔۔” شفی نے سمجھانا چاہا۔۔
“I agree with you but…. I can’t do this..plz try to another girl..”
حمنہ نے سنجیدگی کا اظہار کیا۔۔
“ڈاکٹر حمنہ پلیز۔۔بس تھوڑے ٹائم کے لیے۔۔” شفی نے اصرار کیا۔۔
“مسٹر شفی میری ڈیوٹی کا ٹائم ہوگیا۔۔بائے۔۔” وہ مسکراتی وہاں سے چلی گئی۔۔
اور شفی اسے جاتا دیکھنے لگا۔۔
وہ جب اندر داخل ہوا۔۔وصی گہری نیند سورہا تھا۔۔
وہ لمحہ بھر اسے دیکھنے لگا۔۔
پھر چیئر قریب کر کے بیٹھ گیا۔۔
“میں کیا کروں تیرے لیے یار۔۔میں تجھے ایسے نہیں دیکھ سکتا” شفی نے دل میں سوچا۔۔
“مگر تو فکر مت کر میں تجھے پھر سے ہنسنا سکھا دوں گا۔۔” شفی کی آنکھوں میں نمی امڈ آئی۔۔
تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔
اس نے فون نکال کر کال رسیو کی۔۔
“ہیلو۔۔اسلام علیکم ددا” شفی نے سلام کیا
“وعلیکم السلام۔۔وصی کیسا ہے اب؟” ددا نے فکرمندی سے پوچھا۔۔
“ٹھیک ہے ددا سورہا ہے” شفی نے جواب دیا
“میں نے کہا ہے شائستہ کو۔۔ وصی کے لیے کوئی لڑکی دیکھے۔۔جلد سے جلد رشتہ کردیں گے۔۔ہم بھی فرض پورا کریں اپنا تم دونوں کی شادی کر کے” ددا نے کہا ۔
“ہممم۔۔جی۔۔”شفی کی نظریں وصی کے چہرے پر جمی تھی۔۔
جہاں پہلے والے وصی کی جھلک تک نہیں تھی۔۔
وہ ہنستا کھیلتا وصی بہت بدل چکا تھا۔۔
ڈاکٹر حمنہ آج آپ کی ڈیوٹی کہاں ہے؟”
شفی نے کان سے فون لگائے پوچھا۔۔
“ہوسپیٹل میں۔۔۔” حمنہ نے ناسمجھی سے کہا
“ٹھیک ہے۔۔میں وصی کو بھیج دوں گا۔۔اسے وہیں روک لینا” شفی نے کہا۔۔
“وہ رک جائے گا یہاں۔۔؟” حمنہ نے پوچھا۔۔
“یہی تو آپ کا کام ہے آپ کو روکنا ہے اسے۔۔کچھ ٹائم سپینڈ کرنا۔۔” شفی نے شرارت سے کہا۔۔
“شفی۔۔آپ پاگل ہوگئے ہیں۔۔وہ نہیں رکا تو میں کچھ نہیں کرسکتی” حمنہ نے ہنس کر کہا۔۔
“کیا یار آپ اتنی بڑی ڈاکٹر ہیں ۔۔ آپ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔۔” شفی نے مسکرا کر کہا
“یہ آپ کو لگتا ہے شفی۔۔ویل بھیج دینا کوشش کروں گی” حمنہ نے کہا۔۔اور فون بند کردیا۔۔
اور شفی فون کو دیکھ ہنس دیا۔۔
