Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 27)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 27)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ آنکھیں پھاڑے حیرانی سے حور کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
حور نم آنکھوں سے اسے تک رہی تھی۔۔
دلہن کے لباس میں حور کو دیکھ شفی کو ساری بات سمجھ آگئی تھی۔۔
اس نے گردن موڑ کر اپنے ساتھ کھڑے وصی کو دیکھا۔۔
“شفی میری بات۔۔” اس سے پہلے وصی کچھ کہتا شفی نے اس کی بات کاٹی۔۔
“تمہاری شادی حور سے ہورہی تھی؟”
شفی نے پوچھا۔۔
“ہاں۔۔۔مگر۔۔۔” وصی نے کچھ کہنا چاہا مگر شفی نے یک دم کلائی تھامی حور کی اور کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
“شفی۔۔۔” شائستہ بیگم نے اسے پکارا۔۔
تبھی وصی نے انہیں روک دیا
“پھپھو انہیں مت روکیں۔۔۔”وصی نے کہا۔۔
وہ بے سدھ وجود سے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔۔
البتہ نظریں شفی پر ہی تھی۔۔
شفی نے اسے کمرے میں لاتے ہی چھوڑا۔۔
“صرف اتنا سا انتظار کرسکی تم میرا؟”
شفی نے دہکتی آنکھوں سے پوچھا۔۔
مگر حور چپ چاپ نظریں جھکائے
رونے کا شغل پورا کر رہی تھی۔۔
“پتا ہے حور وہاں ایک پل ایسا نہیں تھا۔۔جب تمہیں یاد نا کیا ہو میں نے۔۔اور تم۔۔۔”
شفی نے اسے شانوں نے تھامتے ہوئے ہوئےکہا۔۔
مگر وہ اسی طرح خاموش تھی۔۔
“تمہاری خاموشی مجھے ہر بات کی وضاحت کر رہی ہے ۔۔شاید مجھے آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔
مگر تم ایسا نہیں سمجھنا کہ میں آگیا تو یہ شادی روک دوں گا۔۔۔نہیں۔۔یہ شادی نہیں رکے گی۔۔۔”
شفی یک دم اس سے دور ہوا۔۔
اور جانے کے پلٹا۔۔
تبھی حور کی آواز نے اس کے پاؤں روک دیے۔۔
“شفی۔۔۔” حور نے پکارا
وہ رک گیا مگر پلٹا نہیں۔۔
“خاموشیاں کبھی وضاحتیں نہیں کرتی۔۔”
حور نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
“میری منگنی بچپن میں ہی آپ سے ہوگئی تھی۔۔۔مجھ سے کسی نے پوچھا؟، پھر۔۔۔پھر جب میں نے اس رشتے کو قبول کر لیا تو آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔۔آپ نے جانے سے پہلے مجھ سے پوچھا؟۔۔۔اب میری شادی وصی سے تہ ہوئی۔۔۔مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا کہ میں کیا چاہتی ہوں۔۔۔؟
میری مرضی تو کبھی کسی نے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔” حور نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“اس رشتے میں میری مرضی نہیں تھی۔۔ہمیشہ کی طرح یہ رشتہ بھی مجھ پر تھوپا گیا تھا۔۔
میں نے آپ کے علاوہ کبھی کسی کے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔”
حور نے رورتے ہوئے کہا۔۔
اور شفی نے ضبط سے نم آنکھیں بند کی۔۔
وہ سادہ سے سوٹ میں سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
جب شفی سیڑھیا اترتا اس کے پاس آیا۔۔
“کب سے انتظار کر رہا ہوں۔۔۔شادی ہوجائے ایک بار پھر جتنا چاہو وقت ساتھ گزارنا۔۔۔”
وصی نے شرارت سے کہا۔۔
اور شفی اس کی بات کا مفہوم جان کر ہنس دیا۔۔
“چل اب جلدی تیار ہوجا۔۔مولوی صاحب تیرا نکاح کروانے سے پہلے ہی بھاگ جائے گا ورنہ ۔”
وصی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“وصی۔۔۔” شفی نے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
وہ شفی کی نظروں کو سمجھ گیا۔۔۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔۔
“حور صرف تیرے لیے بنی ہے۔۔۔میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ میں حور سے شادی کرلوں۔۔۔یہ تو وقت نے مجھے اور حور دونوں کو مجبور کردیا تھا۔۔۔
میں خوش ہوں۔۔۔میرے لیے سب سے بڑی خوشی ہے کہ تو واپس آگیا۔۔۔”
وصی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔
اور شفی اس کے گلے لگ گیا۔۔
سب کی موجودگی میں حور اور شفی کا نکاح ہوا۔۔
سب بہت خوش تھے۔۔
نکاح ہوتے ہی مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا۔۔
سب شفی کے گلے ملے اسے مبارک باد تھی۔۔
کتنی ہی دیر تصویروں کا شغل جاری رہا۔۔
سب نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویریں بنائی۔۔
رات کافی ہوگئی تھی۔۔
سارے مہمان آہستہ آہستہ چلے گئے تھے۔۔
وہ سب لاؤنج میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔۔
شائستہ بیگم اٹھ کر حور کے پاس چلی آئی۔۔
“حور۔۔۔” وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔
“جی مما۔۔” وہ سیدھی ہوئی۔۔
“تھک گئی ہو؟۔۔۔” انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“اس جیولری۔۔۔اور ہیوی ڈریس سے۔۔”
حور نے منہ بنایا۔۔
اور شائستہ بیگم ہنس دی۔۔
“حور۔۔۔تم خوش ہو۔۔۔؟”
شائستہ بیگم نے اچانک سوال کیا۔۔
اس نے یک دم انہیں دیکھا۔۔
پھر ہلکا سا مسکرائی۔۔اور اثبات میں سر ہلایا۔۔
شائستہ بیگم نے اسے پیار کیا۔۔
اور دروازہ بند کر کے چلی گئی۔۔
وہ پھر سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی۔۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب شفی کمرے میں آیا۔۔
اس کی نظر سامنے حور پر پڑی۔۔
جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سورہی تھی۔۔
معصومیت اس کے چہرے سےچھلک رہی تھی۔۔
دلہن کے روپ میں اس کا حسن اور بھی چمک رہا تھا۔۔
وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔۔
پھر قریب کھڑے ہوئے کھنکارا۔۔
کہ حور یک دم اٹھ بیٹھی۔۔
“کمال ہے یار تم تو میرا انتظار کرنے کے بجائے سو رہی ہو۔۔”
شفی نے شرارت سے کہا۔۔
اور اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔
وہ یک دم سمٹی۔۔
“ویسے تو ہمیشہ ہی پیاری لگتی ہو مگر آج کچھ زیادہ لگ رہی ہو۔۔”
شفی نے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اور وہ نظریں جھکائے مسکرا دی۔۔
“ویسے تو آج مجھے تمہیں کوئی گفٹ دینا چاہیے منہ دکھائی کا مگر اس وقت میرے پاس کچھ نہیں۔۔۔
ہاں ایک وعدہ ضرور ہے کہ تمہارے ہونٹوں سے یہ مسکراہٹ میں کبھی الگ نہیں ہونے دوں گا۔۔”
شفی نے مسکرا کر کہا۔۔
شفی نے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا۔۔
حور نے یک دم اپنا ہاتھ چھڑوایا۔۔
“وہ میں۔۔۔وہ واش روم۔۔۔”
اس نےگھبراتے ہوئے کہا
“جاؤ۔۔۔”وہ اس کی گھبراہٹ کو سمجھتے ہوئے مسکرا دیا۔۔
اور وہ اٹھ کر وارڈ روب سے کپڑے لیے واش روم گھس گئی۔۔
دروازہ بند کر کے اس کی جان میں جان آئی۔۔
اس نے ایک گہرا سانس ہوا میں خارج کیا۔۔
اور یک دم ہی اپنی گھبراہٹ کو نوٹس کر کے مسکرادی۔۔
وہ جب واش روم سے باہر آئی تو شفی حور کاموبائل ہاتھ میں لیے اس میں گم تھا۔۔
وہ آہستہ قدم چلتی بیڈ کے قریب آئی۔۔۔
شفی نے ایک ترچھی نگاہ اس پر ڈالی پھر واپس موبائل پر انگلیاں چلانے لگا۔۔
حور بنا کچھ کہے بیڈ پر چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔۔
شفی نے گردن موڑ اسے دیکھا۔۔
“حور۔۔۔”
شفی نے کہا۔۔
اور اس کی آواز سن کر حور نے آنکھیں میچ لی۔۔
جب کوئی جواب نا ملا تو شفی مسکرا دیا۔۔
پھر لیمپ بند کر کے لیٹ گیا۔۔
اس کے یہی خوشی کی بات تھی کہ حور اس کے پاس تھی
اس کی بیوی کے روپ میں۔۔
وہ دونوں بہت برے وقت سے گزرے تھے
وہ اسے سمجھتا تھا۔۔
وہ خود کو اور اسے کچھ وقت دینا چاہتا تھا۔۔
حور بہت گھبرائی ہوئی سی۔۔کم گو لڑکی تھی۔۔
وہ بچپن سے اسے ایسا ہی دیکھتا آیا تھا۔۔
اس لیے آج اسے اس کی گھبراہٹ کوئی نئی نہیں لگی۔۔
