Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 23)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 23)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
کتنے ہی دن گزر چکے تھے مگر شفی کا کچھ پتا نہیں لگا۔۔
سب کا خیال تھا کہ پاس بہتہ پانی شاید اسے بھی ڈبا لے گیا۔۔
اوروہ مر چکا۔۔
پھر بھی انہوں نے بہت کوشش کی مگر شفی کی لاش کا کچھ پتا نہیں لگا۔۔
وصی اب تھوڑا ٹھیک ہوگیا تھا۔۔
اور فاروق صاحب اسے گھر لے آئے تھے۔۔
مگر وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر لہراتا۔۔جب شفی اسے چھوڑ کر چلا گیا۔۔
وہ سارا دن بس اپنے کمرے میں رہتا۔۔
گھر والے بھی زیادہ اس کے سامنے کوئی بات نہیں کرتے۔۔
وہ لوگ جانتے تھے۔۔جتنا دکھ انہیں ہوا تھا شفی کے جانے سے۔۔اس سے زیادہ دکھ وصی کو ہوا۔۔
شفی نا صرف اس کا بھائی تھا۔۔
بلکہ ایک بہت اچھا دوست بھی تھا۔۔
جس کے ساتھ ہنسنا، کھیلنا، شرارتیں کرنا۔۔
سب اس کے سامنے کسی فلم کی طرح آرہا تھا۔۔
وہ سوچتے ہی۔۔نا چاہتے ہوئے رونے لگتا۔۔
اکثر گھر والے اسے روتا دیکھتے۔۔
اسے روتا دیکھ سب کے ضبط کیے آنسوں نکل جاتے۔۔
شاید وصی کے لیے یہ دکھ بہت بڑا تھا۔۔
وہ بہت مشکل سے نور کے دکھ سے نکل کر واپس زندگی میں لوٹ آیا تھا۔۔مگر شفی کے جانے بعد وہ سنجیدہ طبیعت کا مالک ہوچکا تھا۔۔
آسمان پر بادل چھائے تھے۔۔
سورج آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا۔۔
شام کا وقت اسے اکثر اداس لگتا۔۔
اور وہ لان میں آکر بیٹھ جاتی۔۔
وہ لان میں اداس بیٹھی تھی..
کتنی ہی دیر وہ بیٹھی رہی۔۔
سوچوں میں گم۔۔
شفی کے جانے کے بعد وہ اور بھی خاموش رہتی۔۔
کسی زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔۔
وہ اپنے دل کی بات کسی سے زیادہ شیئر نہیں کرتی تھی۔۔
وہ چپ چپ رہنے والی لڑکی تھی۔۔
مگر اب تو وہ تنہائی پسند ہوگئی تھی۔۔
شاید شفی کے جانےسے۔۔
وہ کسی سوچ میں گم تھی کہ بادل برسنے لگے۔۔
وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔۔
تبھی شائستہ بیگم وہاں آئی۔۔
“حور۔۔۔حور۔۔۔” انہوں نے پکارا۔۔
اور اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔۔
“جی۔۔جی مما” وہ ہڑبڑائی۔۔
اور ب اسے احساس ہوا کہ وہ بھیگ چکی ہے۔۔
“بھیگ کیوں رہی ہو بارش میں؟۔۔۔اندر آؤ۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی” شائستہ بیگم نے تیز لہجے میں کہا۔۔
“جی۔۔۔” وہ کہتی اندر کی جانب بڑھی۔۔
“جاؤ۔۔کپڑے بدل کر کچن میں آؤ۔۔”
وہ کہ کر کچن کی جانب چل دی۔۔
اور وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔
وہ گزر رہی تھی کہ اسے کراہنے کی آواز آئی وصی کے کمرے سے۔۔
“کہیں۔۔وصی کو کسی چیز کی ضرورت ہو”
وہ دروازے کے باہر کھڑی سوچ رہی تھی۔۔
پھر آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔
وصی واش روم کے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔۔
اس کے بازو کی پٹی لال خون سے بھری تھی۔۔
اور اس کے چہرے سے ہی پتا چل رہا تھا کہ اسے کتنی تکلیف ہے۔۔
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی۔۔
وصی نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
اس کے چہرے پر یک دم ناگواری اتری۔۔
جبکہ حور اس کے بازو کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ گھبرا کر یک دم اس کی طرف بڑھی۔۔
“یہ۔۔آپ کا۔۔خون۔۔” وہ پریشان ہوئی۔۔
“کس سے پوچھ کر اندر آئی ہو؟”
وصی نے کاٹ کھانے والی نظروں سےاسے دیکھا۔۔
وہ خاموش رہی۔۔
“کیا تمہیں اتنی تمیز نہیں کہ دروازہ نوک کر کے اندر آتے ہیں؟۔۔۔” وصی نے غصہ سے کہا۔۔
“وہ مجھے لگا آپ کو ضرورت ۔” حور نے سہم کر کہا۔۔
“جاؤ۔۔۔” وصی نے غصہ ضبط کرتے ہوئےکہا۔۔
“مگر۔۔۔یہ۔۔خون۔۔آپ۔۔”
“جاؤ۔۔۔” وہ زور سے چیخا۔۔۔
وہ یک دم سہمی۔۔اس کی آنکھوں میں آنسوں امڈ آئے ۔۔۔اور وہ پلٹ کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔۔
اس کے جانے کے بعد وصی کو احساس ہوا۔۔
“یہ کیا ہوگیا ہے تجھے وصی۔۔۔؟”
وصی نے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
وہ دوڑتی ہوئی کچن کی طرف بڑھی۔۔
آنسوں اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔
شائستہ بیگم کچن میں چائے بنا کر کپ میں انڈیل رہی تھی۔۔
“مما۔۔۔” حور کی بھری آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔
وہ یک دم پلٹی۔۔
“حور۔۔۔” وہ گھبرا کر اس کے پاس آئی۔۔
“مما۔۔۔مما وہ ۔۔” حور نے روتے ہوئے کہا۔۔
“کیا ہوا حور۔۔رو کیوں رہی ہے؟”
وہ پوچھنے لگی۔۔
“مما۔۔وصی۔۔۔کے بازوں سے خون نکل رہا ہے۔۔ “
حور نے انہیں ساری بات بتا دی۔۔
“میں دیکھتی ہوں۔۔۔”
وہ کہ کر کچن سے باہر نکل گئی۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا۔۔بیڈ پر ایڈ بوکس رکھے۔۔
ایک ہاتھ سے اپنی پٹی بدلنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
“وصی۔۔۔” تبھی پھپھو کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔
اور وہ اندر آئی۔۔
“وصی۔۔۔یہ۔۔کیسے کرلیا تم نے۔۔۔مجھے بلا لیتے۔۔۔ کوئی وزن اٹھا لیا ہوگا۔۔۔اس ہاتھ سے ابھی کام نہیں کرنا تمہیں۔۔”
وہ اس کے پاس بیٹھ کر بے جارہی تھی۔۔
“مجھے دیکھاؤ۔۔۔”
وہ اس کے بازو پر خود پٹی کرنے لگی۔۔
وہ خوموش رہا۔۔
“وصی۔۔۔تم نے کیا حال کرلیا۔۔ زخم بھرا نہیں ہے ابھی۔۔”
انہوں نے فکر ظاہر کی ۔
“زخم کبھی نہیں بھر سکتا پھپھو۔۔”
وصی نے نم آنکھوں سے کہا۔۔
“وصی۔۔۔کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔”
پھپھو نے اسے دیکھا۔۔
“پھپھو۔۔۔کاش اس دن شفی کی جگہ۔۔میں چلا جاتا۔۔
ان۔۔۔ان گولیوں کی بوچھاڑ۔۔۔۔”
وصی کی آواز بھر آئی۔۔
اور مزید اس سے کچھ کہا نہیں گیا۔۔
“وصی۔۔۔کیوں کہ رہا ہے ایسا۔۔۔کیوں کر رہا ہے ایسا۔۔کتنے دن ہوگئے تجھے۔۔مگر۔۔۔”
پھپھو نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں سمویا۔۔
“میں جب جب۔۔۔حور کو۔۔آپ کو، ددا، ددو۔۔آپ۔۔آپ سب کو اداس دیکھتا ہوں تو میرا دل کرتا ہے میں مر۔۔۔”
وصی کچھ کہتا اس سے پہلے ہی پھپھو نے ٹوکا۔۔
“وص۔۔۔نہیں۔۔۔اللہ کی یہی رضاتھی۔۔
اب بس۔۔اور نہیں کر ایسی باتیں۔۔ہم تجھے کھونا نہیں چاہتے”
پھپھو نے اسے گلے لگایا۔۔
اور کو ایک بار پھر سے دکھ نے رونے پر مجبور کیا۔۔
رات گہری ہوگئی تھی۔۔
مگر نیند اس کی آنکھوں سےکوسوں دور تھی۔۔
وہ بیڈ کراؤں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔
ہلکی روشنی کمرے میں چھائی تھی۔۔
بارش رک چکی چکی تھی۔۔
ٹھنڈی ہوائیں کھڑکی ے ٹکرا کر اندر آرہی تھی۔۔
کھڑی کے دروازے ہوا سے بج رہے تھی۔۔
وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس گئی۔۔
یک دم ہی ایک ٹھنڈے جھونکے نے اس کا اس کا استقبال کیا۔۔
چاند کی روشنی پھیلی تھی۔۔
اس نے چاند کی طرف دیکھا۔۔
جو اپنی روشنی کی بوچھاڑ کر رہا تھا۔۔
چاند کبھی بادلوں میں چھپ جاتا کبھی نکل آتا۔۔
وہ چاند پر نظر ٹکائے۔۔اپنی زندگی پر نظر ثانی کرنے لگی۔۔
شفی کی ایک ایک بات اس نے ان دنوں کئی بار سوچی تھی۔۔
“کیا میرے لیے میرے نصیب میں یہی تھا۔۔۔؟”
وہ سوچنے لگی۔۔
“میں اسے پسند نہیں کرتی تھی۔۔دور رہتی تھی۔۔
پھر وہ خود قریب آیا۔۔جب اسے جانا ہی تھا تو اتنا قریب کیوں آیا وہ۔۔۔کیوں مجھے سپنے دکھائے۔۔؟”
وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔
“میرے نصیب میں خوشیاں نہیں ہیں۔۔۔
اگر ہوتی تو پے میرے پاپا۔۔اور اب شفی بھی۔۔مجھے چھوڑ کر نہیں جاتے۔۔”
وہ خود کو کوسنے لگی۔۔
دو آنسوں اس کے گال کو بھگو گئے۔۔
