Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 40)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 40)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔
“حور۔۔۔” شائستہ بیگم نے پکارا۔۔
“جی مما۔۔۔”حور نے جواب دیا۔۔۔
“تونے شفی کو معاف دل سے کردیا ہے نا؟”
شائستہ بیگم نے پوچھا۔۔
“جی۔۔۔” حور نے مختصر کہا۔۔
“تو کیا تو اس سے پھر سے شادی بھی کرنا چاہتی ہے؟”
انہوں نے پھر سوال کیا۔۔
“اس بارے میں میں نے نہیں سوچا” حور نے معصومیت سے کہا۔۔
“مگر شفی نے سوچا ہے۔۔۔”
انہوں نے اطلاع دی۔۔
“کیا؟” وہ چونکی
“کہ تم سے پھر سے شادی ہوجائے۔۔۔اور اس کے لیے حلالہ لازم ہے۔۔۔تو اس نے۔۔۔”
شائستہ بیگم اپنی بات پوری کرتی کہ حور نے ٹوکا۔۔
“ایک منٹ مما۔۔۔غلطی شفی نے کی ہے۔۔۔تو حلالے کے لیے شادی میں کسی اور سے کیوں کر کے سزا بھگتوں۔۔۔؟”
حور نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“مگر حور۔۔۔” شائستہ بیگم نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
مگر وہ بنا کوئی بات سنے وہاں سے جا چکی تھی۔۔
وہ کچن سے نکلی تو اس کی نظر باہر لان میں کھڑے وصی پر پڑی۔۔۔
بے اختیار ہی اس کے قدم لان کی طرف بڑھ گئے۔۔
وہ اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا۔۔۔
“کیا کر رہے ہیں آپ؟”
حور نے نرم لہجے میں سوال کیا۔۔
وہ ایک دم پلٹا۔۔
“تمہارا انتظار۔۔۔” وصی نے ہنس کر جواب دیا۔۔
“میرا کیوں؟” حور نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
“کیوں کہ مجھے شادی میں جانا ہےکل۔۔۔۔اور میرے کپڑے پریس نہیں ہوئے۔۔”وصی نے شرارت سے کہا۔۔۔
“میں کردوں گی۔۔۔” حور نے مسکرا کر کہا۔۔
“ہائے کتنی کیوٹ ہو تم ٹڈی۔۔۔”
وصی نے خوش ہوکر کہا۔۔
“ایک بات پوچھوں؟”
حور نے کہا۔۔
“ہاں پوچھوں۔۔” وصی نے لاپرواہی سے کہا۔۔
“آپ مجھے ٹڈی کیوں کہتے ہیں۔۔۔جب کہ میرا قد اتنا بھی چھوٹا نہیں۔۔” حور نے معصومیت سے پوچھا۔۔
اوراس کی بات سن وصی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔۔
حور کنفیوز ہوئی کہ اس نے پتا نہیں کیا پوچھ لیا۔۔
پھربنا کچھ کہے تیز قدم اٹھاتی بھاگ گئی۔۔۔
وہ کھانے کے بعد سب کے لاؤنج میں بیٹھا تھا۔۔۔
“ددا میں پھر سے نکاح کرنا چاہتا ہوں حور سے”
شفی نے کہا۔۔
“تو نے کھیل سمجھا ہے شادی بیاہ کو۔۔جب دل کیا توڑ دیا۔۔جب دل کیا جوڑ لیا؟”
ددا نے غصہ سے کہا۔۔
“ددا میں نے غصہ میں سب کیا۔۔۔میں اب اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہوں۔۔۔”
شفی نے نرمی سے گزارش کی۔۔
“تو غصہ میں طلاق ہی دے دی۔۔تھوڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا۔۔۔عورت جذباتی ہوتی ہے۔۔وہ فیصلہ کرنے میں جلد بازی کرتی ہے۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے طلاق کا حق اسی لیے مرد کو دیاہے کیوں کہ اس میں برداشت ہوتی ہے۔۔۔سمجھ ہوتی ہے۔۔۔”
ددا نے تلخ لہجے میں سنائی۔۔
“ددا ہم جائز طریقے سے نکاح کریں گے۔۔۔اور۔۔۔”
شفی نے کچھ کہنا چاہا مگر ددا نے اس کی بات کاٹی۔۔
“جائز طریقہ۔۔یہ ہے ہے کہ تم جہالت عام کرو۔۔۔جاہلوں کی طرح تین طلاق دے کر فارغ کرو۔۔۔ طلاق دینے میں بھی جائز طریقہ اپناتے نا۔۔۔”
ددا آج تیش میں تھے۔۔
شفی خاموش بیٹھا سر جھکائے ان کی بات پر شرمندہ تھا۔۔
“اور یہ حلالے کے لیے تو وصی کا نکاح کروائے گا حور کے ساتھ۔۔۔منصوبے کے تحت۔۔کیا یہ جائز طریقہ ہے۔۔۔؟”
ددا نے کرخت لہجے میں پوچھا۔۔
“نہیں ددا۔۔۔یہ وصی نے خود کہا ہے کہ یہ مدد کرے گا میری۔۔۔میں نے نہیں فورس کیااسے۔۔۔وصی بتا۔۔۔”
شفی نے بوکھلا کر وصی کو اشارہ کیا۔۔۔
“جی ددا۔۔۔۔ددا چھوڑیں نے اب غصہ کم کریں۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔”
وصی نے پیار سے ددا کا ہاتھ تھاما۔۔
بھی حور لاؤنج میں داخل ہوئی۔۔۔
چائے کی ٹرے دونوں ہاتھوں میں تھامے۔۔
اور لاکر ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔پھر بنا کچھ کہے لاؤنج سے باہر نکل گئی۔۔
وہ روم کے باہر لگے اسٹینڈ پر استری کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ وصی تھوڑے فاصلے پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔
(نہیں ددا۔۔۔یہ وصی نے خود کہا ہے کہ یہ مدد کرے گا میری۔۔۔میں نے نہیں فورس کیااسے۔۔۔وصی بتا۔۔۔)
اسے شفی کا جملہ یاد آیا جو اس نے لاؤنج میں داخل ہونے سے پہلے دروازے پر سنا۔۔
وہ سوچ ہی رہی تھی کہ یک دم اس کا ہاتھ استری سے ٹکرایا۔۔۔اور اس کے منہ سے کراہ نکلی۔۔
“آہ۔۔۔۔” وہ اپنی انگلی چہرے کے سامنے کیے دیکھنے لگی۔۔جو جل چکی تھی۔۔۔
دور کھڑا وصی بھاگ کر اس کے پاس آیا۔۔۔
“کیا ہوا ہے دکھاؤ مجھے۔۔۔۔” وصی اس کا ہاتھ تھامے نظریں جھکائے دیکھ رہا تھا۔۔
جبکہ حور کی نظر اس پر ٹھہر گئی۔۔
“کیا۔۔۔۔ سوچ کیا رہی تھی۔۔۔جو بے دھیانی میں ہاتھ جلالیا۔۔”
وصی نے غصہ سے کہا۔۔
مگر وہ بنا کوئی جواب دیے اسے نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھی۔۔
“او ہو تم سے پوچھ رہا ہوں۔۔۔”
وصی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔۔
اور اس نے حواس میں آتے ہی فوراً ہاتھ پیچھے کھینجا۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں کچھ بھی نہیں۔۔۔وہ میں۔۔۔” وہ بوکھلائی۔۔۔پھر پلٹ کر تیزی سے نکل گئی۔۔
“حور۔۔۔” وصی نے پکارا جسے اس نے مکمل نظر انداز کردیا
تھا۔۔۔
وہ جلدی سے کمرے میں کمرے میں آئی اور دروازہ بند کیا۔۔
اس کی سانسیں پھول رہی تھی۔۔
“کتنا فرق ہے تم دونوں میں وصی۔۔۔کتنی پرواہ ہے تمہیں میری۔۔۔”
حور نے خود کلامی کی۔۔
“کیا وصی مجھ سے شادی کر رنے کے لیے رضامند ہے؟”
حور نے سوچا۔۔
“مگر وہ تو صرف حلالے کے لیے مجھ سے شادی کرے گا۔۔۔”
اس نے خود ہی تصحیح کی۔۔
“شفی تم وصی جیسے کیوں نہیں ہو؟”
اس نے ملامت کی۔۔
“یہ میں سوچ رہی ہوں۔۔۔؟”
اس نےاپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“نہیں۔۔۔۔ایسا کچھ مت سوچ۔۔۔یہ غلط ہے۔۔”
حور نے پھر سے خود سے جواب دیا۔۔
اور بالوں کو باندھتی واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
صبح کا وقت تھا۔۔ہر طرف ہلکی ہلکی دھند چھائی تھی۔۔
وہ حسب معمول۔۔نماز پڑھ کر کھڑکی پر آئی۔۔
اور پردہ ہٹا کر دیکھا۔۔
لان میں وصی اسی طرح کھڑا تھا۔
فون کان سے لگائے۔۔شاید کال پر بات کر رہا تھا۔۔
“انہیں سردی نہیں لگتی۔۔۔صبح صبح لان میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔پہلے تو سوتے رہتے تھے۔۔”
حور نے مسکرا کر خود کلامی کی۔۔
“شاید یہ آرمی جوئن کرنے کا اثر ہے جو جناب صبح صبح اٹھ جاتے ہیں۔۔”
جملہ پورا کر کے خود ہی ہنس دی۔۔
پھر پلٹ کر کمرے سے باہر نکلی۔۔
تیزی سے سیڑھیا اتر رہی تھی۔۔کہ نیچے کھڑے شفی پر اس کی نظر پڑی۔۔
جو سیڑھیوں کے برابر سے گزر رہا تھا مگر اسے دیکھ رک گیا۔۔
حور بھی اسے دیکھ ٹھٹکی۔۔
وہ لمحہ بھر سیڑھیوں پر رکی پھر پلٹ کر واپس اوپر جانے لگی۔۔کہ شفی کی آواز پر پھر سے رک گئی۔۔
“حور۔۔۔” شفی نے پکارا۔۔
“جی۔۔۔” وہ پلٹی۔۔
میری بات سنو۔۔” وہ سیڑھی چڑھتا اس کے پاس آنے لگا۔۔
اور حور نظریں چرانے لگی۔۔
“حور تم نے مجھے معاف کردیا۔۔۔تمہارا دل بہت بڑا ہے۔۔
میں اب بھی تم سے ہی محبت کرتا ہوں۔۔۔اور پھر سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔جو کہ حلالہ۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نا؟”
شفی نے اس کی جھکی نظروں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“جی۔۔۔” اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“تو میں یہ اعتبار کسی پر کر نہیں سکتا تو میں نے وصی کو منایا ہے اس کام کے لیے۔۔وہ تم سے شادی کرلے گا۔۔۔پھر اے دن طلاق دے دے گا۔۔۔تو اس طرح ہم پھر سے شادی کر سکتے ہیں۔۔۔”
شفی نے ساری تفصیل بتائی۔۔
حور خاموش رہی۔۔
“تو مجھے یہ پوچھنا تھا کہ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں۔۔۔؟”
شفی نے سوالیا نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
“نہیں۔۔۔۔” حور نے مختصر سی ہامی بھری اور تیزی سے اوپر چڑھتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
شفی اس کی رضامندی جان کر مسکرا دیا۔۔
خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔
اب سب ٹھیک ہورہا تھا۔۔
تبھی اس کا فون بجا۔۔
اس نے جیب میں ہاتھ فون نکالا۔۔۔اور کال رسیو کی۔۔
“ہیلو۔۔۔” شفی نے عادتاً کہا۔۔
اگلے لمحے وہ گھبرایا۔۔
“کیا؟” شفی نے حیرت سے پوچھا۔۔
“میں آرہا ہوں۔۔۔جی۔۔۔اوکے اللہ حافظ”
وہ کہتا پریشانی میں سیڑھیا اترتا۔۔لان کی طرف بڑھ گیا۔۔
جہاں وصی کھڑا تھا۔۔
“وصی۔۔۔” اس نے اس کے قریب آکر کہا۔۔
“ہاں۔۔۔” وصی نے پلٹ کر پوچھا۔۔
“وصی یار۔۔۔احمد کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔اور اس کی ڈیوٹی کشمیر میں لگی ہے۔۔۔تو وہ وہیں ہے۔۔۔ایک دو دوست بھی جارہے ہیں طبیعت معلوم کرنے۔۔۔تو مجھے نکلنا ہوگا۔۔۔
پتا نہیں کیسی طبیعت ہے اس کی یار۔۔۔پریشانی ہورہی ہے”
شفی نے اداسی سے کہا۔۔
احمد اس کا بہت اچھا دوست ہے یہ بات وصی اچھے سے جانتا تھا۔۔
“سب ٹھیک ہوگا انشاء اللہ تو فکر نہیں کر۔۔۔میں بھی چلوں کیا تیرے ساتھ؟”
وصی نے پوچھا۔۔
“نہیں تیرا یہاں ہونا لازمی ہے۔۔۔حور کو میں نے راضی کرلیا ہے۔۔اب تو ایک دن مقرر کر کے نکاح کر۔۔۔تجھ پر یہ زمہ داری چھوڑ کر جا رہا ہوں میں۔۔۔یہ کام لازم ہے۔۔”
شفی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“تو فکر نہیں کر۔۔۔سب بہتر ہوگا۔۔۔”
وصی نے اسے گلے سے لگایا۔۔۔
پھر شام تک وہ سب سے مل کر کشمیر کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔۔۔
وصی پر یہ زمہ داری ڈال کہ وہ حور سے شادی کرلے گا اور دوسرے دن اسے طلاق دے دے گا۔۔۔
اور وہ سکون سے سفر طے کرنے لگا۔۔
اس سوچ سے بے فکر کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔۔
