Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 34)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

رات کے چار بج رہے تھے جب حور کی آنکھ کھلی۔۔

اس نےاٹھنےکی کوشش کی مگر ہمت نہیں ہوئی۔۔

اس نے یہاں وہاں نظر دوڑائی۔۔

سامنے ہی وصی کرسی پر ٹیک لگائے آنکھیں موندے سورہا تھا۔۔اسے رات کا سارا منظر یاد آیا۔۔

وہ بمشکل ہمت کر کے اٹھی۔۔

“وصی۔۔۔” حور نے پکارا۔۔

اور وصی یک دم چونک کر اٹھا۔۔

“حور۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔؟”

وصی اٹھ کھڑاہوا۔۔

“جی۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔مگر آپ یہاں۔۔۔؟” وہ حیران ہوئی۔۔

“کل بارش میں بھیگنے سےتمہاری رات بہت طبیعت خراب تھی۔۔رات سے تم بےحوش تھی۔۔ میں تو پریشان ہی ہوگیا تھا۔۔۔” وصی نے گہرا سانس لیا۔۔

حور نے اس ات سن خود پر نظرڈالی۔۔

پھراسے یاد آیا کہ کل تو اسنے دوسرے کپڑے پہنے تھے۔۔اوراب وہ دوسرے کپڑوں میں تھی۔۔

وہ کل بارش میں پاگلوں کی طرح وصی کوڈھونڈ رہی تھی

اورپوری بھیگ چکی تھی۔۔۔۔

رات کاپورا واقع کسی فلم کی طرح اس کےسامنے آیا۔۔

“میں بے حوش تھی۔۔”وہ بڑ بڑائی۔۔

“تو میرےکپڑےکس نے چینج کیے؟”

اس نے جھرجھری لی۔۔

“تمہارے کپڑے ڈاکٹر حمنہ نے چینج کیے تھے۔۔تمہیں حوش ہی نہیں تھا۔۔اگر ایسے ہی رہنے دیتے تو تم بیمار ہوجاتی۔۔

اسی لیے میں نے ڈاکٹر حمنہ کو کال کرکے یہاں بلایا۔۔”

وصی نے تفصیل دی

“ڈاکٹر حمنہ۔۔؟” اسے ڈاکٹر حمنہ پھر سے یادآئی۔۔

“کیا ہوا؟” اسے پریشان دیکھ وصی نے پوچھا۔۔

“نن۔۔۔نہیں کچھ نہیں۔۔۔” اس نے یک دم کہا۔۔

اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

“کیا ہوا کچھ چاہیے تمہیں؟”

وصی نے پوچھا۔۔

“نہیں۔۔۔وہ واش روم۔۔۔۔” حور نے اشارہ کیا۔۔

پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“میں لے چلتا ہوں۔۔” وصی نے اسے تھاما ۔

“نن۔۔۔نہیں میں چلی جاؤں گی۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔”

حور ہچکچائی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“مسٹر شفی۔۔۔” ڈاکٹر حمنہ پاس سے گزرتے شفی کو پکارا۔۔

“اتنی صبح صبح۔۔۔نائٹ ڈیوٹی تھی کیا آپ کی آج؟”

ڈاکٹرحمنہ نےپاس آکر پوچھا۔۔

“جی ہاں۔۔ ابھی بس گھر ہی جارہا ہوں۔۔۔”

شفی نے مسکرا کر کہا۔۔

“گھر پر بیوی اکیلی۔۔”

ڈاکٹر حمنہ نے ہنس کر کہا۔۔

اس کی بات سن شفی بھی ہنس دیا۔۔

“بس کیا کریں۔۔۔فوجی بندہ بھی پھنس جاتا ہے۔۔

اسے دو مراحل میں فوج جوائن کرنے پر پچھتاوا ضرور ہوتا ہے۔۔” شفی نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔۔

“اچھا کون سے دو مراحل ہیں وہ۔۔۔؟”

ڈاکٹر حمنہ نے ہنس کر پوچھا۔۔

“ایک تو جب وہ ٹریننگ پر ہوتا ہے۔۔۔اور دوسرا جب اس کی نئی نئی شادی ہوتی ہے۔۔۔”

شفی نے بیچارگی سے کہا۔۔

اورحمنہ کا زور دار قہقہہ نمودار ہوا۔۔

شفی بھی ہنسنے لگا۔۔

“واقع بڑا ظلم ہے۔۔۔”

ڈاکٹر حمنہ نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا میں چلتا ہوں میری بیوی تو ناراض بیٹھی ہوگی۔۔”

شفی نے مسکرا کرکہا۔۔

اور وہاں سے نکل گیا۔۔

گھر پہنچا تو فجر کا وقت ہورہا تھا۔۔

اس نے دروازہ بجایا پھر رک کر کھلنے کا انتظار کرنے لگا مگر

کافی دیر کوئی نہیں آیا۔۔

“سورہے ہوں گے دونوں۔۔۔”

اس نے سوچا۔۔پھر جیب سے دوسری چابی نکالی۔۔۔

اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔

ٹھنڈ کافی ہورہی تھی۔۔

وہ جیکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

“میرا دوپٹہ۔۔؟”

وہ دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ اسے حور کی آوازآئی..

اس کے ماتھے پربل نمودار ہوئے۔۔

وہ جھٹکے سے دروازہ کھول اندر داخل ہوا۔۔

سامنے کا منظر دیکھ اس کےپاؤں تلےزمین نکل گئی۔۔

حور کھلے بالوں کے ساتھ بنا دوپٹہ کے کھڑی تھی۔۔اس نے ایک ہاتھ سے وصی کے کاندھے کا سہارا لیا ہوا تھا۔۔

اور وصی کے ہاتھ میں اس کا دوپٹہ تھا۔۔۔

دروازہ کھلنے پر دونوں نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔

سامنے شفی پھٹی پھٹی نظروں سے انہیں دیکھ رہاتھا۔۔

حور نے یک دم دوپٹہ وصی کے ہاتھ سے لے کر پہنا۔۔

“شفی۔۔۔” وصی نے نرم لہجے میں کہا۔۔

“واؤ۔۔۔تو میرے پیٹ پیچھے یہ سب ہورہا ہے۔۔۔”

شفی نے تالی بجاتے ہوئے کہا۔۔

وصی اور حور نے ایک دوسرےکو حیرت زدہ نظروں سے دیکھا۔۔

انہیں سمجھ نہیں آیا تھا کہ شفی کیا بول رہا ہے۔۔

“شفی حور کی کل طبیعت خراب تھی وہ بارش میں بھیگ گئی تھی۔۔” وصی نے اسے ساری تفصیل بتائی۔۔

“کہانی تو بہت اچھی بنائی ہے۔۔۔مگر یہ سب فلموں میں اچھا لگتا ہے رئیلٹی میں نہیں۔۔۔”

شفی قہر برساتی نظروں سے کہا۔۔

“شفی یہ سچ ہے۔۔۔” حور نے یک دم کہا۔۔

“اچھا تم وصی کے ساتھ گھومنے گئی تھی۔۔۔مجھے بتایا تم نے۔۔۔؟” شفی کے سوال نے اسے خاموش کروادیا۔۔

“اور کیا کہ رہے تھی کہ تم بھیگ گئی تھی۔۔۔اور پوری رات سے بے حوش تھی ۔۔۔”

شفی حور سے مخاطب تھا۔۔

“جی۔۔۔” حور نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“تو کپڑے تو گیلے نہیں ہوئے۔۔۔۔”

شفی نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔۔

“شفی۔۔۔تو یہ۔۔۔۔” وصی نے کچھ کہنا چاہا مگر شفی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔۔

“ہاں تو حور بی بی۔۔۔کپڑے دیکھ کر تو کہیں سے نہیں لگ رہا آپ بھیگی تھی۔۔”

شفی نے چبا کر کہا۔۔

“وہ چینج کر۔۔۔۔” حور اپنی بات پوری کرتی مگر شفی نے بات کاٹ دی۔۔

“چینج کیسے کیے تم تو بے حوش تھی۔۔۔؟”

شفی نے تلخ لہجے میں سوال کیا۔۔

حور حیرانی سے شفی کا انداز دیکھ رہی تھی۔۔

اسے اس کے سوال لمحہ لمحہ حیران کر رہے تھے۔۔

“یا پھر وصی نے۔۔۔۔” شفی نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی۔۔

“شفی۔۔۔” وصی چیخا۔۔۔

“ارے میرے بھائی تجھے غصہ کیوں آرہاہے۔۔۔؟

اس بے حودہ لڑکی سے تو مجھے امید بھی یہی تھی۔۔۔

مگر تو۔۔۔تو تو میرا بھائی تھا ایک اچھا اور سچا دوست۔۔۔

تونے ایسا کیا۔۔۔؟”

شفی کی آنکھوں میں نمی امڈ آئی۔۔۔

“کیا بکواس کر رہا ہے شفی تو۔۔۔؟”

وصی نے غصہ سے کہا۔۔

“وصی تو ایک بار کہ دیتا کہ میں خود ہی تم دونوں کے راستے سے ہٹ جاتا۔۔۔مگر یوں مجھے دھوکہ دینا میرے پیٹ پیچھے۔۔۔چھی”

شفی نے سر جھٹکا۔۔

اس کی بات سن وصی کی آنکھوں میں خون اتر آیا

اور وہ تیزی سے شفی کی طرف بڑھا۔۔

“زبان سمبھال کر بات کر شفی” اس نے شفی کو گریبان سے پکڑا۔۔

حور نے یک دم خوف سے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔

آنسوں اس کی آنکھ سے مسلسل بہ رہے تھے۔۔

“واہ آج تو میرے گریبان تک پہنچ گیا؟”

شفی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔۔

اوروصی کو فوراً اپنی غلطی کااحساس ہوا۔۔

اس نے شفی کے گریبان سے ہاتھ ہٹائے۔۔

“سوری۔۔معاف کرنا۔۔۔دیکھ۔۔۔ میں تجھے سمجھاتا ہوں۔۔

ہاں۔۔۔تجھے ہماری بات پریقین نہیں نا؟ حمنہ۔۔۔ڈاکٹر حمنہ سے پوچھ۔۔۔اسی نے حور کی حالت دیکھ اس کے کپڑے تبدیل کیے۔۔۔اور چیک اپ کیا۔۔۔میڈیسن بھی لکھ کر دی تھی۔۔۔” وصی نے جیب میں ہاتھ مار کاغذ نکالا۔۔

“یہ دیکھ۔۔۔” وصی نے اس کی طرف بڑھائی۔۔

مگر شفی اسی طرح کھڑا رہا۔۔

نا ہی وہ کچھ دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔

“دیکھ نا یار۔۔۔کیوں کر رہاہے ایسے تو؟”

وصی نے غصہ سے کاغذ زمین پر پھینکا۔۔

اور اپنے سر پر ہاتھ رکھ اپناغصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

“آپ غلط سوچ رہے ہیں شفی۔۔۔خدا کے لیے مجھ پرنہیں تواپنےبھائی پریقین کرلیں۔۔۔”

حور نے آگے بڑھ روتے ہوئے کہا۔۔

شفی مسلسل زمین کوگھور رہاتھا۔۔

“ٹھیک ہے تم لوگ کہ رہے ہو ناکہ ڈاکٹر حمنہ کوسب پتا ہے۔۔

تو اسی سےپوچھ لیتا ہوں۔۔” شفی نے سیل فون نکال کر حمنہ کا نمبر ڈائل کیا۔۔

بیل جا رہی تھی۔۔

۔۔

“ہیلوشفی۔۔۔” حمنہ کی آواز ابھری۔۔

“ڈاکٹر حمنہ کیا کل رات آپ میرے گھر آئی تھی؟”

شفی نے پوچھا۔۔

وصی اور حور دونوں کی نظریں شفی پر تھی۔۔

“نہیں۔۔کیوں؟” حمنہ نے فوراً کہا

شفی نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔

اسے جو امید تھی وہی جواب سننے کوملا تھا۔۔

اس نے اسپیکر آن کیا۔۔۔

“کیا کل آپ حور کا چیک اپ کرنے میرے گھر آئی تھی؟ “

شفی نے پھر پوچھا۔۔

“حور کاچیک اپ؟ نہیں۔۔۔میں نہیں آئی۔۔کیوں خیریت سب ٹھیک تو ہے نا شفی۔۔”

ڈاکٹر حمنہ نے نے کہا۔۔

جسے حور اور وصی دونوں نے سنا۔۔

اور ان کے حوش اڑے۔۔

شفی نے کال کاٹ دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شائستہ بیگم نماز پڑھ کر سیدھا کچن میں آئی۔۔

تبھی ان کے دماغ میں حور کا خیال آیا۔۔

“اس وقت تو اٹھ گئی ہوگی۔۔

فجر کے بعد کہاں سوتی ہے وہ۔۔”

شائستہ بیگم نے مسکرا کر خود کلامی کی۔۔

“کال کر کے دیکھ لیتی ہوں۔۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے کمرے کی طرف گئی۔۔

سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر حور کا نمبر ملایا۔۔

رنگ جارہی تھی مگر کوئی نہیں اٹھا رہا تھا۔۔

“شاید سوگئی ہوگی۔۔۔” شائستہ بیگم نے خود کلامی کی۔۔

اور فون واپس رکھ کر کچن میں آگئی۔۔

مگر آج انہیں حور بہت یاد آرہی تھی۔۔

اس وقت وہ ان کی ہیلپ کرواتی تھی ناشتے میں۔۔۔

شائستہ بیگم کو اس وقت حور بہت یاد آتی۔۔

کیوں کہ اکثر وہ اسی وقت خوب ساری باتیں کرتے تھے۔۔

ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرتے۔۔

شائستہ بیگم ایک ماں کے ساتھ حور کی دوست بھی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یہ ڈاکٹر حمنہ جھوٹ کیوں کہ رہی ہے۔۔۔کل رات یہ آئی تھی۔۔۔اس نے حور کا ٹریٹمنٹ کیا۔۔۔دوائیں دی۔۔یہ کیسے مکر سکتی ہے۔۔یہ۔۔۔”

وصی حواس باختہ بولے جارہا تھا۔۔

جیسے کچھ سمجھ نا پارہا ہو۔۔

“اور کتنا جھوٹ بولے گا وصی۔۔۔؟” شفی نے غصہ سے پوچھا۔۔

“میں جھوٹ نہیں کہ رہا۔۔۔خدا جانتا ہے شفی میں نے کبھی حور کو غلط نظر سے نہیں دیکھا۔۔۔”

وصی نے صفائی دینی چاہی۔۔

“بس کردے وصی۔۔۔اتنا گھٹیا کام کرتے تم لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہوا۔۔اور اب مجھ سے چھپا رہے ہو۔۔

آج میں ٹائم پر نا آتا تو کبھی تمہیں نا پکڑ پاتا۔۔”

شفی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

“اور تم ارے مجھے پہلے ہی بتا دیتی۔۔میں تم سے کبھی شادی نہیں کرتا۔۔مگر یو حرام رشتہ قائم کرتے تمہیں شرم نہیں۔۔۔”

شفی نے اسے شانوں سےتھام کر کہا۔۔

اور اس کی بات سن حور سرخ آنکھوں سے اسےگھورنے لگی۔۔

“بس کردو شفی۔۔۔اور کتنا گند اگلو گے آپ۔۔آپ کو میری اپنے بھائی پر یقین نہیں۔۔مگر اس پرائی لڑکی پر یقین ہے۔۔۔۔آپ کی سوچ کی گھٹیا ہے۔۔۔”

حور نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

اور بدلے میں شفی کا زور دار تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔۔۔

“شفی۔۔۔” وصی نے اسے جھٹکے سے حور سے پرے دھکیلا۔۔

شفی کی آنکھوں میں خون کی لہر اتر آئی۔۔

اور اس نے ایک زور دار تھپڑ وصی کے گال پر جھڑ دیا۔۔

“نکل یہاں سے ” شفی غرایا۔۔

“شفی۔۔۔تو۔۔۔” وصی نے کہا۔۔۔

“دفع ہوجا۔۔۔۔” اس نے ایک ایک مکہ وصی کی ناک پر رسید کیا۔۔۔وہ گرتے گرتے بچا۔۔۔

“شفی۔۔۔چھوڑ دو اسے۔۔۔” شفی دوبارہ وصی پر ہاتھ اٹھاتا اس سے پہلے ہی حور بیچ میں آئی۔۔۔

“سہی کہ رہی ہو قصور تو میرا ہے۔۔۔۔جیسے میں تمہاری محبت میں گرفتار ہوا۔۔۔یہ بھی ویسے ہی ہوا۔۔۔

مگر میں اپنی غلطی سدھار لوں گا۔۔۔۔”

شفی نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔

“حورین شفی دارین میں تمہارے نام سے اپنا نام الگ کرتا ہوں ۔۔۔میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔”

شفی جذبات میں بہتہ کیاکہ رہاتھا یہ ۔تھا۔۔وہ بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔

“شفی نہیں۔۔۔۔۔” وصی یک دم اس کی طرف لپکااور اسے روکنے کی کوشش کی۔۔

“طلاق دیتا ہوں۔۔۔” شفی نے وصی کے روکنے کے باوجود اپنا جملہ پورا کیا۔۔

اور حور ساکت کھڑی شفی بہتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔