Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 37)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 37)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ نہا کر نکلی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
اس نے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔۔
“کیسی ہو ٹڈی۔۔۔؟”
وصی نے شرارت سے کہا۔۔
“ٹھیک ہوں۔۔” اس نے مختصر کہا۔۔
“یہ دیکھو میں برگر۔۔۔تمہارے لیے لایا ہوں۔۔”
وصی نے برگر اس کے سامنے کیا۔۔
“نہیں۔۔۔میرا دل نہیں کر رہا۔۔”
حور نے اترے ہوئے چہرے سے کہا۔۔
“کھانا تو پڑے گا۔۔۔” وصی نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔
“نہیں۔۔پلیز آپ لے جائیں۔۔”
حور نے پھر جواب دیا۔۔
“حور تم جانتی ہو۔۔ایسا کر کے تم ہم سب کو تکلیف دے رہی ہو۔۔نہیں کرو یار خود کو سزا کیوں دے رہی ہو۔۔؟”
وصی نے اس کے چہرے کو بغور دیکھا۔۔
“کیوں کہ اس سب میں میری غلطی تھی۔۔۔”
حور نے سر جھکائے کہا۔۔
“نہیں تمہاری غلطی نہیں تھی۔۔میری غلطی تھی ۔نا میں تمہیں لے جاتا اپنے ساتھ نا اس دن تم بے حوش ہوتی اور نا میں ڈاکٹر حمنہ۔۔۔۔” وہ کہتا کہتا رکا۔۔۔
“اس دن ڈاکٹر حمنہ نے جھوٹ کیوں کہا؟”
وصی کو جیسے کچھ یاد آیا۔۔
حور خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
“حور مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ڈاکٹرحمنہ نے ایسا کیوں کیا۔۔۔؟” وصی الجھا۔۔
“مجھے پتا ہے اس نے ایسا کیوں کیا”
حور نے یک دم کہا۔۔
“کیا مطلب۔۔۔؟” وصی نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
“آپ دونوں کی غیر موجودگی میں ایک دن حمنہ آئی تھی۔۔میرے پاس”
حور نے وصی کو اس دن کا سارا واقع بتایا۔۔
“تو اس لیے کیا حمنہ نے سب۔۔ مگر تم نے یہ بات پہلے جھے نہیں بتائی۔۔”
وصی نے اسے دیکھا۔۔
“نہیں۔۔میں نے اگنور کردی۔۔۔اور۔۔۔”
حور نے ہچکچا کر کہا۔۔
“اتنی بڑی بات اگنور کردی۔۔۔مجھے نہیں بتاتی شفی کو بتادیتی۔۔۔”
وصی نے تلخ لہجے میں کہا ۔
“وہ۔۔مجھے لگا کہ ان کی دوستی خراب ہوجائے گی۔۔۔وہ کیا سوچیں گے حمنہ کے بارے میں۔۔۔اسی لیے مجھے بہتر نہیں لگا بتانا”
حور نے معصومیت سے کہا۔۔
“یار۔۔۔۔حور تمہاری غلطی ہے تمہیں شفی کو سب بتانا چاہیے تھا۔۔اگر تم یہ بات پہلے ہی شفی کو بتا دیتی تو آج اتنی نہیں بڑھتی بات۔۔۔”
وصی نے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
“مجھے نہیں پتا تھا وہ ایسا کرے گی۔۔۔” حور کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔۔
وصی اس کی آنکھوں میں اترنے والی نمی کو نوٹس کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“خیر کوئی بات نہیں۔۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔۔اور میں کیوں بھول گیا کہ میں ٹڈی سے عقل کی امید رکھ رہا ہوں۔۔۔”
وصی نے جھک کر اس کے جھکے سر کو دیکھا۔۔۔
“اچھا۔۔۔یہ برگر کھا لینا۔۔میں دیکھو کل جانا ہے مجھے تیاری شیاری کرلوں۔۔”
وصی نے مسکرا کر کہا۔۔
تبھی پھپھو کمرے میں داخل ہوئی۔۔
“وصی۔۔۔میرے ساتھ آؤ۔۔۔”
پھپھو نے کہا اور باہر نکل گئی۔۔
وصی بھی ان کے پیچھے چل دیا۔۔
آج کافی ٹھنڈ تھی۔۔
اور صبح سے شفی کو احمد نہیں نظر آیا۔۔۔
تو شفی وجہ پتا کرنے اس کے پاس گیا۔۔
“کیا ہوا ہے آج نظر ہی نہیں آیا۔۔۔؟”
شفی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا۔۔
جہاں احمد کمبل تانے لیٹا تھا۔۔
“کچھ نہیں یار بس سردی لگ گئی۔۔”
احمد نے اکتا کر کہا
“اچھا۔۔۔تو میڈیسن وغیرہ لے نا۔۔۔”
شفی نے مشورہ دیا۔۔
“لی تھی یار فرق نہیں پڑا۔۔”
احمد نے کہا۔۔۔
“اچھا چل اٹھ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔”
شفی اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اور ہاتھ پکڑ اسےکھڑا کیا۔۔
اور وہ دونوں سیدھا ہسپتال پہنچے۔۔۔
جہاں ڈاکٹر حمنہ پہلے سے موجود تھی۔۔۔
شفی کو وہاں دیکھ فوراً اس کے پاس آئی۔۔
“شفی خیریت۔۔۔یہاں کیسے آنا ہوا؟”
حمنہ نے خوش دلی سے پوچھا۔۔
“احمد کی طبیعت سہی نہیں ہے اسی لیے آئیں ہیں۔۔”
شفی نے جواب دیا۔۔
“کیا ہوا احمد خیریت۔۔۔؟”
حمنہ احمد سے مخاطب تھی۔۔
“بس سردی لگ گئی ۔۔۔” احمد نے کھانستے ہوئے کہا۔۔
پھر ڈاکٹر حمنہ نے چیک اپ کے بعد۔۔۔
کچھ دوا لکھ کر اسے تھمائی۔۔۔
اور تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ لوگ باہر نکل آئے۔۔
اب اپنا خیال رکھنا۔۔۔لا مجھے دے۔۔۔میں دوا لیتا ہوں۔۔۔”
شفی نے اسٹور کے پاس رک کر کہا۔۔
اور احمد کی دواؤ کا کاغذ کھولا۔۔۔تو اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“وصی۔۔۔تمہیں اب یو حور سے ملنا نہیں تھا۔۔”
پھپھو نے کہا۔۔
“کیوں۔۔؟”
وصی نے حیرانی سے پوچھا۔۔
“وہ عدت میں ہے۔۔۔”
پھپھو نے بتایا۔۔
“تو کیا ہوا۔۔۔میں غیر تھوڑی نا ہوں۔۔”
وصی نے سادگی سے کہا۔۔
“تم غیر نہیں۔۔ مگر نامحرم تو ہو اس کے لیے۔۔۔
اسلام میں جس سے نکاح جائز ہو اس سے پردہ ہے۔۔”
شائستہ بیگم نے سمجھایا۔۔
وصی ان کی بات سن سوچ میں پڑ گیا۔۔
“اب جب تک عدت نہیں پوری ہوتی تم اس کے کمرے میں مت جانا۔۔” شائستہ بیگم نے تاکید کی۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتا اپنے کمرے میں آگیا۔۔
وہ گہری سوچ میں تھا۔۔
(تم غیر نہیں۔۔ مگر نامحرم تو ہو اس کے لیے۔۔۔
اسلام میں جس سے نکاح جائز ہو اس سے پردہ ہے)
پھپھو کی کہی بات اسے اب سمجھ آگئی تھی۔۔
“میں حور کے ساتھ اسی طرح رہتا تھا جیسے شادی سے پہلے۔۔کیوں کہ وہ میری کزن تھی۔۔۔مگر شفی بھی غلط نہیں۔۔۔میں نامحرم تھا حور کے لیے۔۔۔مجھے یہ بات سمجھنی چاہیے تھی۔۔”
وصی نے خود کلامی کی۔۔
اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں ڈوب گیا۔۔
جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں کہیں نا کہیں اسے اپنا قصور لگ رہا تھا۔۔
شفی نے گھر آتے ہی دراز سے وہ کاغذ نکالا جو وصی نے دیا تھا۔۔
پھر جیب سے وہ کاغذ نکالا جو آج حمنہ نے احمد کو دیا تھا۔۔
دونوں پر ہی دواؤں کے نام لکھے تھے۔۔
اور ہینڈ رائٹنگ بھی ایک جیسی تھی۔۔۔
اسے اس دن کا سارا واقع پھر سے یاد آگیا۔۔
“مگر اس دن اگر حمنہ آئی تھی یہاں تو پھر اس نے جھوٹ کیوں بولا۔۔؟”
شفی صوفے پر بیٹھا سوچنے لگا۔۔
“اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں ہینڈ رائٹنگ ڈاکٹر حمنہ کی ہی ہیں۔۔مگر اب مجھے جاننا یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر حمنہ یہاں آئی تھی تو اس نے صاف انکار کیوں کیا۔۔”
شفی الجھا۔۔
رات گھنی سیاہ ہوتی جارہی تھی۔۔
مگر شفی اسی طرح صوفے پر ٹیک لگائے بیٹھا۔۔
سوچوں کے سمندر میں غوطے لگارہا تھا۔۔
صبح صبح وصی ناشتہ کرتے ہی نکل گیا تھا
سب سے مل کر۔۔۔
سفر کے دوران بھی اس کے دماغ میں ساری سوچیں۔۔
ذخیرہ تھی۔۔
اب بس اسے انتظار تھا کہ کب وہ پہنچے اور ڈاکٹر حمنہ کو کھری کھری سنائے۔۔
آخر کو اس نے کتنی ہی زندگیاں خراب کردی تھی۔۔
اسکی ایک جھوٹی گواہی نے شفی اور حور کو دور کردیا تھا۔۔
اس کی ایک غلط بیانی نے دو بھائیوں کےبیچ دراڑ پیدا کردی تھی۔۔
“اس کے خود غرضی کے اس عمل نے شفی اور اس کی فیملی کو الگ کردیا تھا۔۔
مگر کہیں نا کہیں اس سب کا زمہ دار وصی خود کو بھی سمجھ رہا تھا۔۔
وصی نے پہنچتے ہی روم میں اپنا سامان رکھا۔۔
اور سیدھا ہسپتال پہنچا۔۔
اتنے لمبے سفر کے بعد بھی اسے تھکاوٹ محسوس نہیں ہورہی تھی۔۔
یا یہ کہیں کہ کرنا ہی نہیں چاہ رہا تھا۔۔
اس وقت اسے صرف ڈاکٹر حمنہ سے ملنا تھا۔۔
وہ ہسپتال کی سیڑھیاں تیزی سے پھلانگتا اوپر پہنچا۔۔
جہاں ایک بار پہلے بھی وہ حمنہ سے ملنے آیا تھا۔۔
وہ جانتا تھا کہ وہ یہیں ہوگی۔۔
وہ شیشے کا دروازہ کھول اندر داخل ہوا۔۔
مگر اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ حمنہ اس ڈپارٹمنٹ کے کس حصہ میں ہوگی۔۔
“ایکسکیوز می۔۔۔”اس نے پاس سے گزرتی ایک نرس سے پوچھا
“یس۔۔۔” نرس رکی۔۔
“کیا آپ بتا سکتی ہیں ڈاکٹر حمنہ کہاں ملیں گی۔۔؟”
وصی نے پوچھا۔۔
“جی وہ میٹنگ میں ہیں ابھی تو۔۔۔”
نرس نے جواب دیا۔۔
“کب تک فری ہوں گی۔۔؟” وصی نے پھر پوچھا۔۔
“کچھ پتا نہیں۔۔۔شاید پندرہ سے بیس منٹ۔۔۔”
وہ کہ کر چلی گئی۔۔۔
وہ جیسے ہی میٹنگ سے نکلی۔۔۔
آواز پر اس کے قدم رکے۔۔
“ڈاکٹر حمنہ۔۔۔” وصی کی گمبھیر آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔
وہ لمحہ بھر رکی پھر تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی۔۔
“کیوں بھاگ رہی ہیں آپ مجھ سے۔۔۔جہاں قصور ہوتا ہے خاموشی بھی وہیں ہوتی ہے۔۔۔”
وصی اس کے پیچھے لپکا۔۔
“ضروری نہیں ہے وصی۔۔جہاں قصور ہو وہاں ہی خاموشی ہو۔۔۔”
وہ کہتی اپنی کیبن میں داخل ہوئی۔۔
“مگر آپ تو قصور وار بھی ہیں خاموش بھی۔۔۔”
وصی نے تیکھے لہجے میں کہا۔۔
“میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ہاں میں نے صرف شفی سے محبت کی ہے۔۔اور محبت میں کچھ غلط نہیں ہوتا۔۔” حمنہ نے نرم لہجے میں کہا۔۔
“آپ نے جھوٹ بول کر دو زندگیاں خراب کردی۔۔۔
ایک فیملی سے ان کا جوان بیٹا چھین لیا۔۔
دو بھائیوں کی محبت نفرت میں بدل دی۔۔”
وصی نے تلخی سے کہا۔۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔یقین کرو وصی۔۔میں نے کبھی نہیں چاہا تھا۔۔کہ سب ہوجائے۔۔۔میں شفی اور حور کو الگ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔”
ڈاکٹر حمنہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“پھر کیوں اس دن آپ نے جھوٹ کہا۔۔
آپ کو پتا ہے۔۔۔میرا بھائی میرا اپنا سگا بھائی جو مجھ سے اتنا پیار کرتا تھا۔۔آج نفرت کرتا ہے۔۔مجھے اتنا گھٹیا سمجھ رہا ہے۔۔۔کہ۔۔۔کیوں کیا یار۔۔۔؟”
وصی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔
“میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔
میں شفی سے آج سے نہیں بہت پہلے سے محبت کرتی ہوں۔۔
مواقع ڈھونڈتی تھی اس سے بات کرنے کے۔۔مگر اس نے کبھی میری طرف نہیں دیکھا۔۔
پھر وہ ایک دن خود سے آیا میرے پاس۔۔۔
مگر اس بار بھی وہ تمہارے لیے میرے پاس آیا۔۔۔
اور میں انکار نہیں کرسکی۔۔
اسے جب جب میری ضرورت پڑی میں حاضر رہی۔۔۔
میں نے بہت چاہا ہے اسے۔۔۔
تو اس ناطے اسے میرا ہونا چاہیے تھا۔۔۔ناکہ حور کا”
حمنہ نے نم آنکھوں سے کہا۔۔
“آپ تو اسے ابھی چاہنے لگی ہیں۔۔۔حور وہ تو بچپن سے اس کی تھی۔۔۔اس کے نام پر بیٹھی تھی۔۔
شفی بھی اسے پسند کرتا تھا۔۔۔اور آپ نے اپنی ایک طرفہ محبت پر ان دونوں کو الگ کردیا۔۔؟”
وصی نے کرختگی سے کہا۔۔
“میں نے ایسا نہیں سوچا کہ میں انہیں کبھی الگ کروں۔۔۔مگر اس دن جب موقع خود میرے پاس چل کر آیا۔۔۔تو میں لالچ میں آگئی تھی وصی۔۔۔میں جانتی ہوں میں نے غلطی کی ہے۔۔۔مگر میں اتنی بری بھی نہیں۔۔۔”
حمنہ کی آنکھ سے دوآنسوں گرے۔۔۔
“ارے آپ کو اندازہ نہیں آپ نے کیا ہے۔۔۔وہ جو بچپن سے شفی کو پسند کرتی ہے چار دن ساتھ رہ کر عدت پوری کر رہی ہے۔۔۔صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔آپ نے اس معصوم کو طلاق کروا دی۔۔آپ کی وجہ سے آج بھی رو رہی ہے۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟ آپ کسی کا نقصان کر کے خوش رہ سکیں گی۔۔ہر آنسوں کا بدلہ آپ کو ایک دن چکانا ہوگا۔۔۔”
وصی نے تلخ لہجے میں اسے سنا رہا تھا۔۔
“جو دو بھائی ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔۔۔آج شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے۔۔۔صرف آپ کی وجہ سے۔۔
میرے بوڑھے ددا، ددو جن کا سہارا تھا شفی ان کا غرور۔۔۔
آج انہوں نے اسے خود سے دور کردیا۔۔۔کس کس بات کا قرض اتاریں گی آپ؟”
وصی نے چبا کر کہا۔۔
وہ خاموشی سے بھیگا چہرہ لیے اس کی بات سن رہی تھی۔۔
“یہ محبت نہیں ہوتی۔۔۔محبت دینے کا نا ہے چھیننے کا نہیں۔۔اور آپ نے حور سے شفی کو چھینا ہے۔۔۔”
وصی نے غصہ سے تیر برسایا۔۔۔اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔
مگر حمنہ کھڑی اپنے پیروں پر ساکت ہوگئی۔۔۔
