Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 19)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 19)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ یہاں وہاں دیکھتا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔
سیکنڈ فلور پر پہنچ کر اس کا رخ سامنے کی طرف تھا۔۔
اس نے وہ شیشے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔
“مسٹر وصی۔۔” آواز پر وہ پلٹا۔۔
سامنے ہی ڈاکٹر حمنہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔
“کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی آپ کو یہاں آنے میں؟” حمنہ نے پوچھا۔۔
“نہیں۔۔یہ رپوٹس۔۔” وصی نے اس کی طرف فائل بڑھائی۔۔
“تھینک یو۔۔آئیں بیٹھیں نا” حمنہ نے کہا
“نو تھینکس۔۔میں اب چلتا ہوں۔۔” وصی نےسنجیدگی سے کہا۔۔
“ایسے کیسے آپ میرے کام کے لیے یہاں آئے اور ایسے ہی جارہے ہیں۔۔” حمنہ نے خوش دلی سے کہا۔۔۔
“نو اٹس اوکے۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔” وصی کہتے ہی مڑا۔۔
اور حمنہ کچھ کہ نہیں سکی۔۔
“ویسے ڈاکٹر حمنہ۔۔ایک بات کہوں مائنڈ تو نہیں کریں گی؟” وصی نے پوچھا
“نہیں ۔۔آپ کہیں” حمنہ نے کہا۔۔
“شفی کے ساتھ اگر آپ ریلیشن میں ہیں تو۔۔آپ لوگوں ایٹلیسٹ دنیا کو نہیں بتانا چاہیے” وصی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“کیا مطلب ہے آپ کا؟” حمنہ چونکی۔۔
“وہاں۔۔ سب کو شفی کہتا پھر رہا ہے آپ کو وہ پسند کرتا ہے اور سارا سارا دن آپ اور۔۔وہ۔۔۔کال پر۔۔۔” وصی نے شانے اچکائے۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔میں۔۔اس سے کال پر بات نہیں کرتی۔۔”حمنہ کو جھٹکا لگا۔۔
“لیکن وہ تو نمبر بھی دکھا رہا ہے۔۔” وصی نے بتایا
“ہاں۔۔میں نے بات کی ہے اسن سے مگر ہمارے بیچ ایسا کچھ نہیں۔۔” حمنہ نے صفائی دینی چاہی۔۔
“دیکھیے میں آپ پر یا شفی پر کوئی روک ٹوک نہیں کر رہا۔۔بس آپ ایک لڑکی ہیں۔۔اور میں نہیں چاہتا کسی لڑکی کی عزت پر انگلی اٹھے۔۔۔وہ میرا بھائی ہے مگر۔۔۔میں آپ کا بھی تو خیر خواہ ہوں۔۔” وصی نے سادگی سے کہا۔۔
حمنہ کے چہرے سے غصہ عیاں تھا۔۔
“اب میں چلتا ہوں۔۔برا مت مانیے گا۔۔ ٹیک کیئر” وہ کہتا پلٹ کر قدم بڑھانے لگا۔۔
“تو کیا سمجھتا ہے شفی اسے میرے پیچھے لگائے گا اور تو بچ جائے گا” وصی نے سیڑھیاں اترتے ہوئے خود کلامی کی۔۔
“اماں۔۔۔یہ دیکھیں۔۔یہ لڑکی کیسی ہے؟”
شائستہ بیگم نے تصویر دکھاتے ہوئے پوچھا
“ہاں۔۔ٹھیک ہے۔۔مگر دیکھ کر ہی پتا لگے گا۔۔”
اماں نے جائزہ لیتے ہوئے کہا
“کل چلتے ہیں دیکھنے۔۔” شائستہ بیگم نے کہا
“ہاں۔۔۔” اماں نے کہا
“اماں وصی سے بات کی۔۔؟” شائستہ بیگم نے پوچھا۔۔
“نہیں۔۔اس سے کیا بات کریں؟” اماں نے پوچھا
“اماں اس کے علم میں تو ہو ہم لڑکی دیکھ رہے ہیں۔۔اگر اسے اعتراض ہوا تو۔۔۔مجھے ایسا لگتا ہے۔۔” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
“ہممم میں شفی سے بات کرتی ہوں۔۔” اماں نے کہا
موسم آج بہت اچھا تھا۔۔
ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی
آسمان پر بادل چھائے تھے۔۔
وہ چائے کا کپ تھامے باہر آکر بیٹھ گیا۔۔
تبھی سامنے سے آتی حمنہ پر اس کی نظرپڑی۔۔
وہ تیور چڑھائے اس قریب آکر رکی۔۔
“مسٹر شفی مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی۔۔”
سینے پر ہاتھ باندھے وہ سامنے کھڑی تھی۔۔
“کیا ہوا؟” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“آپ نے مجھے خود کہا وصی سے اٹیچ ہونے کا اور کال بھی آپ ہی نے کی۔۔آپ مجھ سے کال پر بات کرتے ہیں یہ افواہ آپ نے سب میں پھیلا دی۔۔۔” حمنہ نے غصہ سے کہا
“میں نے ایسا کب کہا؟” شفی چونکا
“آپ نے وصی کو نہیں بتایا۔۔اور میرا نمبر بھی دکھایا۔۔” حمنہ نے تلخی سے پوچھا
“نو۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا” شفی نے صاف انکار کیا
“مجھے یہ سب وصی نے خود کہا ہے۔۔چاہو تو بلا کر پوچھو۔۔اس نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ مجھے لائق کرتے ہیں” حمنہ نے کہا
“نہیں میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔۔” شفی روہانسی ہوا۔۔
“اس نے ایسا کیوں کہا؟” شفی سوچنے لگا۔۔
“چلیں ٹھیک ہے آپ نے نہیں کہا بٹ میں۔۔اب آپ کے پلان کا حصہ نہیں۔۔آپ کوئی اورلڑکی ڈھونڈیں” ڈاکٹر حمنہ نے صاف گوئی کی۔۔
“مگر۔۔۔” شفی نے کچھ کہنا چاہا۔۔پر حمنہ نے بات کاٹ دی۔۔
“پلیز آئی کانٹ ڈو دس اینیمور۔۔۔” وہ کہتی وہاں سے نکل گئی۔۔
اور وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔۔
“کیوں کیسا لگا میرا پلان” وصی کی آواز پر وہ پلٹا۔۔
“وصی۔۔تو نے ڈاکٹر حمنہ کو کیا کہا ہے؟” شفی نے غصہ سے پوچھا
“کیوں۔۔پلان اچھا نہیں لگا۔۔؟” وصی نے مزے سے پوچھا
“وصی۔۔تو۔۔۔”
“شروعات تو نے کی۔۔کیوں میرے پیچھےلگایا تونے اسے؟” وصی نے سوال کیا
“میں نے تو تیرے لیے کیا تاکہ تو پھر سے پہلے والا وصی بن جائے۔۔” شفی نے کہا۔۔
“پہلے والا وصی اب کہیں نہیں ہے شفی۔۔” وصی نے سنجیدگی سے کہا
“وصی۔۔کسی کے جانے زندگی رک نہیں جاتی تجھے لائف میں آگے بڑھنا چاہیے۔۔ہمیں۔۔ہمیں پھر سے وہی وصی چاہیے جو ہنستا تھا۔۔کھیلتا تھا۔۔” شفی نے تلخی سے کہا
“مجھے تھوڑا وقت چاہیے یار۔۔” وصی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
“کتنا وقت۔۔؟۔۔۔ددو تیرا رشتہ ڈھونڈ رہی ہے” شفی نے کہا
“رشتہ؟”وہ چونکا
“ہاں۔۔۔تاکہ تو اپنی لائف میں مگن ہوجائے اور سب بھول جائے۔۔” شفی نے سمجھانا چاہا
“تم سب کو کیا لگتا ہے شفی۔۔میری شادی کردو گے تو میں نور کو بھول جاؤں گا۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا میرے بھائی۔۔میں نہیں بھول سکتا اسے” وصی کہ کر پلٹ گیا۔۔
شاید نور کے ذکر سے ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں امڈنے والے آنسوں وہ چھپانا چاہتا تھا۔۔
“مگر وصی۔۔ددو نے لڑکی دیکھ لی ہے۔۔ان کی خوشی کے لیے شادی کرلے۔۔” شفی نے کہا۔۔
“نہیں میں کسی کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتا۔۔آپ ددو کو منا کردیں مجھے شادی نہیں کرنی” وصی نے اسی انداز میں کہا
“آخر کب تک نہیں کرے گا؟” شفی نے پوچھا۔۔
“فلحال تو بلکل نہیں۔۔” وصی کہ کر وہاں سے نکل گیا۔۔
اورشفی سوچ میں پڑ گیا۔۔
پھر فون جیب سے نکال کر پھپھو کا نمبر ڈائل کیا۔۔
“ہیلو۔۔پھپھو” شفی نے کہا
“ہاں شفی کیسے ہو؟” پھپھو نے کہا
“ٹھیک ہوں۔۔پھپھو آپ لڑکی دیکھنے جارہے تھے نا؟”
شفی نے پوچھا
“ہاں۔۔جائیں گے۔۔کیوں؟” پھپھو نے پوچھا۔۔
“آپ منا کردیں۔۔مت جائیں۔۔وصی کسی صورت راضی نپیں شادی کے لیے۔۔” شفی نے ہار مانتے ہوئے کہا ۔
“مگر کیوں؟” انہوں نے حیرانی سے پوچھا
“بس پھپھو اسے کچھ ٹائم چاہیے۔۔ہمیں زبردستی نہیں کرنی چاہیے” شفی نے کہا
اور فون بند کر دیا۔۔
وقت ایسے ہی گزر رہا تھا۔۔
اسی روٹین میں۔۔
وصی پر کوئی خاص بدلاؤ نہیں آیاتھا۔۔
وہ اپنی زندگی اب اپنے مطابق جی رہا تھا۔۔
جہاں صرف نور کی یادیں تھیں۔۔
اس کی باتیں تھیں۔۔
وصی کی زندگی میں کسی دوسری لڑکی کے لیے جگہ نہیں تھی۔۔
شاید کوئی نور کی جگہ لے بھی نہیں سکتا تھا۔۔
وہ تھی ہی ایسی۔۔
سب سے الگ سب سے جدا۔۔
