Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 20)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 20)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
حور امتحان سے فارغ ہوچکی تھی۔۔
شفی اور وصی بھی گھرآئے ہوئے تھے۔۔
رات دیر سے پہنچنے پر وہ دونوں ہی سورہے تھے۔۔
شائستہ بیگم کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی۔۔
جب حور کچن میں آئی۔۔
“مما ناشتہ تو کرلیا سب نے پھر یہ۔۔” حور نے پوچھا۔۔
“شفی اور وصی آئے ہیں نا۔۔” شائستہ بیگم نے بتایا
“وہ لوگ کب آئے؟” اسے حیرانی ہوئی
“کل رات میں آئے تھے۔۔۔تمہارے سر میں دردتھا رات۔۔ دوا لے کر سوچکی تھی میں نے اٹھایا نہیں۔۔” شائستہ بیگم نے کہا
“حور یہ چائے دیکھنا میں ان دونوں کو اٹھا کر آتی ہوں” شائستہ بیگم نے کہا
“جی مما۔۔” حور نے مختصر کہا۔۔
اور شائستہ بیگم باہر نکل گئی۔۔
“کیا پھپھو چائے میں اتنا میٹھا تیز کردیا آج” شفی نے چائے کی سپ لیتے ہی کہا۔۔
“میٹھا تیز ہوگیا؟” وہ پوچھنے لگی۔۔
“ارے پھپھو۔۔آپ سمجھ نہیں رہی۔۔یہ ڈائریکٹ تو بول نہیں سکتا کہ شادی کروا دو۔۔۔یہ حور کے ہاتھ کی چائے پینا چاہتا ہے ساری زندگی۔۔”
وصی نے چھیڑتے ہوئے کہا۔۔
“میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔” شفی نے اسے گھورا۔۔
“تو بچپن سے پھپھو کے ہاتھ کا کھا رہا تب تو نقص نہیں نکالے۔۔یہ جان بوجھ کر رہا ہے پھپھو تاکہ آپ لوگ اس کی شادی کروادیں۔۔” وصی نے شرارت سے کہا۔۔
شائستہ بیگم ہنسنے لگی۔۔
تبھی وہاں حور آئی۔۔پلیٹ تھامے۔۔
“آئیے مس حور۔۔آپ ہی کا انتظار تھا۔۔” وصی نے اسے مخاطب کیا۔۔
“میرا۔۔۔کیوں۔۔؟” حور نے آہستہ سے کہا۔۔
“آپ کی شادی کی بات ہورہی ہے۔۔آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟” وصی نے شرارت سے پوچھا۔۔
“جی۔۔۔” حور چونکی۔۔
“وصی۔۔” شفی نے اسے ٹوکا۔۔
“کیا؟” وصی نے ابرو اچکائی۔۔
اور چپ چاپ تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔۔
“لو بھئی لڑکی کی بھی ہاں ہے۔۔پھپھو تیاری کریں” وصی پھپھو سے مخاطب تھا۔۔
“ہاں۔۔کرتی ہوں ابا سے بات” پھپھو نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
وہ سب لاؤنج میں بیٹھے۔۔
شفی اور حور کی شادی کی تاریخ فکس کر رہے تھے۔۔
“اگلے مہینے کی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔۔”
ددو نے کہا۔۔
“لیکن اماں۔۔ایک مہینے میں کیسے تیاری ہوگی؟”
شائستہ بیگم نے کہا
“ارے پھپھو سب ہوجائے گا۔۔آپ فکرنہیں کریں”
وصی نے جواب دیا
“اچھا تم لوگ تو چھٹی پوری ہوتے ہی چلے جاؤ گے پیچھے مجھے ہی تیاری کرنی ہے اکیلی کو” پھپھو نے کہا۔۔
“تو کیا ہوا۔۔ابھی کرتے ہیں نا تیاری۔۔جو رہ جائے گی وہ پھر کرلیں گے”
وصی نے تسلی دی
“اچھا۔۔پھر شام کو چلتے ہیں مارکیٹ” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
“ہاں۔۔یہ دولہے میاں بھی تو ہیں نا۔۔یہ کروائیں گے کام” وصی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“میں کوئی نہیں جارہا مارکیٹ۔۔” شفی نے کہا۔۔
“شادی اس کی ہے اور کام میں کروں۔۔منگنی میں بھی میں پھنسا تھا”
وصی نے گلہ کیا
“تو کیا ہوا۔۔ثواب ملے گا” شفی نے ہنس کر کہا۔۔
“تو بھی تھوڑا کما لے۔۔” وصی نے منہ بنایا
“تیری شادی میں۔۔۔ میں کروں گا نا”
شفی نے سادگی سے کہا۔۔
“میری ابھی نہیں ہورہی فلحال آپ اپنا سوچیں۔۔”
وصی نے ددو کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔۔
“اس کے بعد تیرا ہی نمبر ہے۔۔” ددو نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔
“ددو مجھے تو کبھی ایسے پیار نہیں کیا آپ نے۔۔” شفی نے خفگی سے کہا۔۔
“یہ چھوٹا ہے نا۔۔” ددو نے پیار سے کہا۔۔
مجھے تو بس پھپھو پیار کرتی ہیں۔۔” شفی نے کہا۔
“ساسو اماں جو ہیں تیری۔۔” وصی نے یک دم کہا۔۔
اور پھپھو کا ہاتھ اس کے سر پر لگا۔۔
“سدھر جا۔۔” پھپھو نے ہنس کر کہا۔۔
شفی اور حور کی شادی کی تیاریوں میں سب مصروف تھے۔۔
شفی بہت خوش تھا۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا۔۔کسی گہری سوچ میں تھا۔۔
جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔
“کم ان۔۔” شفی نے کہا۔۔
حور ہچکچاتی اندر داخل ہوئی۔۔
“یہ آپ کی چائے۔۔۔” اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔۔
“حور۔۔بیٹھو۔۔” شفی نے مسکرا کر کہا۔۔
“نہیں ۔وہ مجھے کچھ کام ہے ۔” حور نے نظریں جھکائے کہا۔۔
“بیٹھو تو سہی تمہیں کچھ دینا ہے۔۔” شفی نے کہا۔۔
اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔
وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔
شفی نے دراز سے ایک ڈبہ نکالا۔۔
اور اس کی طرف بڑھایا۔۔
حور نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
“پکڑو۔۔تمہارےلیے ہے” شفی نے مسکرا کر کہا
حور نے ہچکچاتے ہوئے ڈبہ تھام لیا۔۔
“کھولو۔۔” شفی نے کہا۔۔
اور وہ کھولنے لگی۔۔
سامنے ہی اس کے ایک خوبصورت موبائل تھا۔۔
اسے دیکھ حور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
“کیسا لگا۔۔؟” شفی کی آواز پر اس نے سر اٹھا کراسے دیکھا۔۔
“بہت اچھا۔۔” حور نے خوشی سے کہا۔۔
“وہ کیا ہے نا۔۔۔۔تم مجھ سے بات ہی نہیں کرتی۔۔میں وہاں تم یہاں۔۔اب اسی سے کام چلانا ہوگا” شفی نے شرارت سے کہا۔۔
اور وہ مسکرا کر سر جھکا گئی۔۔
“کرلوگی نا مجھ سے بات۔۔” شفی نے پوچھا۔۔
“مگر مجھے تو نہیں آتا یہ چلانا۔۔” حور نے معصومیت سے کہا۔۔
“میں سکھا دوں گا۔۔۔” شفی نے مسکراتے ہوئے اس کی معصومیت کو دیکھا۔۔
“بلکل بھئی۔۔۔یہ سکھانے میں بڑا ایکسپرٹ ہے۔۔” وصی کہتا کمرے میں داخل ہوا۔۔
اور وہ دونوں چونکے۔۔
“وصی۔۔۔تو کباب میں ہڈی ہی بنا کر۔۔۔” شفی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔
“میں تو وہ ہڈی ہوں جس کے بنا کباب بننا مشکل ہے۔۔بھول مت میں نے شادی کی بات آگے بڑھائی تھی۔۔”
وصی نے احسان جتایا۔۔
اور شفی کا قہقہہ گونجا
“حور اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔کہ وصی نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
“کہاں جا رہی ہو؟۔۔۔موبائل تو سیکھتی جاؤ”
وصی نے شرات سے کہا۔۔
اور اس کا ہاتھ چھوڑ شفی کے ساتھ مل کر ہنسنے لگا۔۔
حور لمحہ بھر اسے دیکھتی رہی۔۔
کتنے دن بعد وہ اسے ہنستا دیکھ رہی تھی۔۔
پھر سے اسی وصی کی جھلک نظر آرہی تھی۔۔جو کہیں گم ہوگیا تھا۔۔
پھر مسکرا کر باہر نکل گئی۔۔
“مما۔۔یہ دیکھیں۔۔موبائل۔۔”
حور نے کمرے میں آتے ہی کہا۔۔
شائستہ بیگم جو وارڈ روب سے کپڑے نکالنے میں مصروف تھی۔۔اس کے ہاتھ میں موبائل دیکھ چونکی۔۔
“یہ کہاں سے آیا۔۔” انہوں نے حیرت سے پوچھا۔۔
“یہ مجھے شفی نے دیا ہے۔۔اچھا ہے نا مما؟”
حور نے خوش دلی سے پوچھا
“ہاں۔۔اچھا ہے۔۔مگر تمہیں تو آتا ہی نہیں چلانا” شائستہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔
“اوہو مما۔۔۔سیکھ لوں گی۔۔چلاؤں گی تو آئے گا نا”
حور نے کہا۔۔
“اچھا۔۔۔جاؤ۔۔لان سے چائے کے کپ اٹھا کر کچن میں رکھو۔۔چائے پی لی ہوگی سب نے۔۔” شائستہ بیگم نے کام سونپا۔۔
“جی۔۔مما” وہ کہتی موبائل سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھ کر چلی گئی۔۔
اور شائستہ بیگم پھر سےکام میں مصروف ہوگئی۔۔
