Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 7)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

“شفی کے جانے کے بعد گھر بلکل خالی لگ رہا ہے” پھپھو نے کہا

“ہاں۔۔۔” ددو نے اداسی سے کہا

“وصی اب ہمیں بھی چھوڑ آؤ۔۔” پھپھو نے پاس بیٹھے وصی کو کہا۔۔

“جی پھپھو” وصی نے کہا۔۔

“حور جاؤ سامان اٹھاؤ” پھپھو نے کہا

“جی مما” وہ کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

“جا وصی سامان گاڑی میں رکھ ” ددو نے کہا۔۔

اور وہ اٹھ کر چلا گیا۔۔

“اماں اس کے بارے میں بھی سوچو اب” پھپھو نے کہا

“بس رزلٹ آئے پھر فوج میں بھیجتی ہوں اسے” ددو نے کہا

“وہ تو ٹھیک ہے، مگر یہ جائے گا؟” پھپھو نے ہنس کر کہا

“جائے گا کیوں نہیں اس کے اچھے بھی جائیں گے” ددا نے کہا۔۔

“دادا پوتا دونوں ضدی ہیں” ددو نے کہا۔۔

اور شائستہ بیگم ہنسنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

حور نے پہلے سے بیگ تیار کر لیا تھا۔۔

تھا تو ایک بیگ مگر وہی ہر بار کی طرح نانو نے بہت سی ضرورت کی چیزیں تھما دی اور سامان بڑھ گیا۔۔

شوہر کے آن ڈیوٹی انتقال کے بعد شائستہ بیگم کو پینشن اور بہت سی سہولت تھی۔۔

مگر پھر بھی اس کے ماں باپ نے اسے بہت سہارا دیا کبھی اکیلہ نہیں چھوڑا۔۔

فاروق صاحب کے دو ہی تو بچے تھے۔۔بیٹا اور بہو ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے تھے۔۔

اور پیچھے دو معصوم بچے چھوڑ گئے تھے۔۔

وصی اور شفی۔۔شفی اس وقت دس سال کا تھا اور وصی چھ سال کا جسے کوئی سمجھ نہیں تھی۔۔انہوں نے جب سے ہوش سمبھالا تھا ددا اور ددو کا پیار دیکھا۔۔

حور نے بھی جب سے حوش سمبھالا بس ایک ہی بات سنتی آئی اس کی منگنی شفی سے ہوچکی۔۔

چھوٹی عمر تھی خوش بھی تھی مگرآہستہ آہستہ اسے شفی کی نظر اندازی کو نوٹس کرنے لگی تھی وہ۔۔

اور سمجھنے لگی کہ شفی اسے پسند نہیں کرتا۔۔

مگر اس بار اسے شفی کا نیا ہی روپ نظر آیا۔۔شاید شفی نے اب اس کے اور اپنے رشتے کو ایکسیپٹ کر لیا تھا۔۔

وہ خوش تھی بہت شفی کا دیا سارا سامان اس نے بیگ میں خوشی خوشی رکھا جانے کتنی بار دیکھ چکی تھی۔۔

وہ کمرے میں سامان اٹھا رہی تھی۔۔

کہ وصی کمرے میں داخل ہوا۔۔

“او۔۔پدی سی ہو کہاں اٹھا لو گی یہ” وصی نے اسے بھاری بیگ اٹھاتے ہوئے دیکھ مزاق اڑایا۔۔

“اٹھا لوں گی” حور نے اہستہ سے کہا

“اچھا اٹھاؤپھر” وصی دونوں ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔

اس نے یک دم نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

وہ پھر سے بیگ اٹھانے لگی۔۔

جو واقع بھاری تھا۔۔

وصی اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔

پھر آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ بیگ لے لیا۔۔

“ویسے بتا رہے ہیں تم سے نا ہو پائے گا” وصی نے ٹون میں کہا۔۔

اور حور کی ہنسی نمودار ہوئی۔۔

وہ بیگ اٹھائے باہر نکلا۔۔حور بھی پیچھے چل دی۔۔

اس نے بیگ گاڑی میں رکھا اور ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔

شائستہ بیگم اور حور گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وقت یونہی گزرتا جا رہا تھا۔۔

نور کا پورا وقت بس ناول پڑھتے گزر رہا تھا۔۔

دوستوں سے بھی ملاقات نہیں ہو پاتی تھی پیپرز کے بعد۔۔

تھوڑا بہت کانٹیکٹ بس فون پر تھا۔۔

وصی سے بھی اب اس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔۔ اب بس رزلٹ کا انتظار تھا جو عنقریب تھا۔۔

رات بھی وہ کافی دیر تک ناول پڑھتی رہی جس پر کوثر بیگم سے اسے بہت ڈانٹ پڑی اور وہ ناول کا پیچھا چھوڑ سوگئی۔۔اور سوئی تو پھر ایسی کہ صبح دیر تک سوتی رہی۔۔

وہ بیڈ پر کمبل تان کر نیند میں گم تھی کہ فون بجنے لگا۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔۔

“ہیلو” نیند میں بوجھل آواز ابھری

“ہیلو نور۔۔۔۔۔” وصی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔

“وصی۔۔اتنی صبح صبح کال کیوں کی؟” اس نے پوچھا۔۔

“صبح صبح۔۔نور دوپہر ہورہی ہے۔۔۔” وصی نے کہا

“دوپہر۔۔؟” وہ چونکی۔۔

“ہاں۔۔۔”وصی نے بتایا

وہ یک دم اٹھی۔اور وال کلاک کو دیکھا دوپہر کا 1 بجا رہی تھی۔۔

“تم اب تک سو رہی تھی؟” وصی نے پوچھا

“ہاں۔۔رات ناول پڑھتے ٹائم کا پتا نہیں لگا تو صبح بھی آنکھ نہیں کھلی” اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔

“ناول۔۔ناول کا پیچھا چھوڑ دو اب میچور ہوجاؤ۔۔” وصی نے کہا

“واٹ ڈو یو مین۔۔۔میں میچور نہیں ہوں؟” اس نے پوچھا

“ہمممم نہیں” وصی نے سوچ کر جواب دیا۔۔

“آپ کو ایسا کیوں لگا مسٹر وصی دارین؟”

“بس باتوں سے حرکتوں سے”

“اچھا کون سی حرکتیں؟” نور نے پوچھا۔۔

تبھی باہر سے کاثر بیگم کی آواز آئی۔۔

“وصی میں بعد میں کرتی ہوں۔۔مما بلا رہی ہیں۔۔ناشتہ بھی کرنا ہے مجھے اوکے بائے” اس نے کہا

اور فون بند کر کے باہر نکلی۔۔۔

“جی مما” اس نے کہا۔۔

“تمہارے سارے ناولز کو میں کسی دن آگ لگا دوں گی۔۔رات رات بھر پڑھتی ہو اور پھر دن چڑھے سوتی رہتی ہو” کوثر بیگم نے سنانی شروع کی۔۔

“ارے مما میری آنکھ نہیں کھلی آپ اٹھا دیتی نا مجھے” نور نے کہا

“میں نے اب تھپڑ لگانا ہے تمہیں۔۔۔کتنی دیر سے دروازہ بجا رہی ہو کمرے کا مگر میڈم تو نیند پوری کر رہی تھی” انہوں نے غصہ سے کہا

اور نور شرمندہ ہوئی۔۔

“میں تو کہ دوں گی تمہارے پاپا کو بس ہوگئی پڑھائی اب لڑکا دیکھے اور ہاتھ پیلے کرے تمہارے۔۔تبھی یہ ناول کا پیچھا چھوٹے گا” ان کا غصہ پارے پر تھا۔۔

وہ کھڑی منہ بسورتے ان کی ڈانٹ سن رہی تھی۔۔

“اب جاؤ جلدی فریش ہوکر آؤ اور میرے ساتھ کچن میں ہیلپ کرواؤ۔۔اب کھانا بنانا سیکھو اگلے گھر جا کر یہ ناول کام نہیں آئے گی” انہوں نے تلخ لہجے میں کہا

اور وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“حور۔۔۔” شائستہ بیگم نے کچن سے اواز لگائی۔۔

“جی مما” وہ کچن میں داخل ہوئی۔۔

“تیار ہوجاؤ۔۔میں نے وصی کو بلایا ہے۔۔” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“کس لیے؟”

“مارکیٹ چلی جانا جو شاپنگ رہتی ہے پوری کرلو پھر شفی کے آتے ہی ابا فنکشن رکھیں گے ” شائستہ بیگم نے کہا

“آپ بھی چلیں نا؟” اس نے کہا

“نہیں مجھے ابھی بہت سے کام ہیں گھر میں پھر ٹائم نہیں ملے گا” انہوں نے کہا۔۔

“لیکن مجھے اگر سمجھ نہیں آیا تو؟”

“وصی ہے نا اس سے ایڈوائز لینا” انہوں نے کہا

“انہیں کیا پتا لیڈیز کی شاپنگ کا؟” حور نے کہا۔۔

“مجھے سب پتا ہے مس حورین” پیچھے سے وصی کی آواز ابھری۔۔

“آپ۔۔۔” حور چونکی

“اسلام علیکم پھپھو” اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔

“وعلیکم اسلام آگئے وصی۔۔۔” انہوں نے خوش ہوکر کہا۔۔

“جی پھپھو۔۔کیا بنا رہی ہیں؟” اس نے قریب آکر کہا۔۔

“پکوڑے ہیں کھاؤ” شائستہ بیگم نے اس کی طرف پلیٹ بڑھائی۔۔جسے اس نے تھام لیا۔۔

“تم باہر بیٹھو۔۔۔حور جاؤ تیار ہوجاؤ” شائستہ بیگم نے حور کی طرف دیکھا۔۔

“جی مما” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ تیار ہوکر آئی تو وصی صوفے پر بیٹھا پکوڑوں سے انصاف کر رہا تھا۔۔

اسے دیکھ مسکرایا۔۔

“چلیں؟” وصی نے پوچھا۔۔

“جی۔۔۔” اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔

اور وصی باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

حور بھی چپ چاپ جا کر گاڑی میں بیٹھی۔۔

اور وصی نے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔

“تو مس حورین شفی دارین۔۔۔آپ کو کیا شاپنگ کرنی ہے؟” وصی نے شرارت سے پوچھا۔۔

“مجھے۔۔وہ۔۔ڈریس اور۔۔میچنگ کی جیولری” حور نے آہستہ سے کہا۔۔

“اچھا۔۔ایک بات بتاو؟” وصی نے کہا

“جی۔۔” وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔

“تم اتنا آہستہ کیوں بولتی ہو؟” وصی نے اکتاہٹ سے کہا۔۔

“جی۔۔نہیں تو” اس نے کہا۔۔

“شفی سے بات کرواؤ؟” وصی نے یک دم کہا۔۔

“جی۔۔۔نن۔۔نہیں” وہ بوکھلائی۔۔

اور اس کی حرکت پر وصی کا قہقہہ گونجا۔۔

مزاق کر رہا ہوں” وصی نے کہا۔۔

اور وہ پھر سے نظریں جھکائے بیٹھ گئی۔۔

“ویسے چاہو تو۔۔۔کروا دوں گا” وصی نے کہا۔۔

“نن۔۔نہیں۔۔۔” اس نے معصومیت سے کہا۔

“چھا چلو مرضی ہے۔۔۔” وصی نے کہا۔۔

اور گاڑی ایک مال کے سامنے روکی۔۔

“چلو۔۔۔” وصی نے کہا اور دونوں گاڑی سے اترے۔۔

مال کے اندر داخل ہوئے۔۔

ڈریس خریدنے کی غرض سے شاپ میں داخل ہوئے۔۔

کتنے ہی ڈریس دیکھتے رہے مگر ان دونوں کو ہی سمجھ نہیں آئے۔۔

پھر ایک ڈریس دکھایا شاپ والے نے جو ان دونوں کو ہی پسند آیا۔۔ بلو کلر کا ڈریس جس پر گولڈن کلر سے باریک سے کام ہوا تھا۔۔گولڈن ہی دوپٹہ کے ساتھ وہ ڈریس دونوں کو ایک ہی نظر میں بھا گیا۔۔

“ہاں یہ پیک کردیں” وصی نے کہا۔۔

اور پیک کروا کر وہ لوگ شاپ سے باہر نکلے۔۔

پھر جیولری کی شاپ سے میچنگ کی جیولری لی۔۔

اور مال سے باہر نکل آئے۔۔

انہیں کافی دیر ہوگئی تھی۔۔

وہ گاڑی میں بیٹھے۔۔

وصی گاڑی اسٹارٹ ہی کرنے والا تھا کہ۔۔ایک فقیر نے گاڑی کے پاس آکر سدا دی۔۔

وصی نے والٹ نکالا اور کچھ پیسے نکال کر اس فقیر کو دیے۔۔

“اللہ جوڑی سلامت رکھے۔۔۔ہمیشہ خوش رکھے۔۔” وہ فقیر دعائیں دیتا چلا گیا۔۔

اور وصی اور حور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔