Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 33)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 33)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
تھوڑی ہی دیر میں وصی تیار ہوکر آگیا۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھی انتظار کر رہی تھی۔۔
“چلیں۔۔” وصی نے قریب آکر کہا۔۔
وہ جنس پر وائٹ شرٹ اور لیدھرجیکٹ پہنے ۔۔۔جوگرز کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
حور مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“جی۔۔۔” حور نے مختصر کہا۔۔
اور اس کے ساتھ ہولی۔۔
بارش کا موسم ہورہا تھا۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں بل رہی تھی۔۔
آسمان پر گھٹا چھائی ہوئی تھی۔۔اور اس موسم میں اس شہر کے مناظر اور بھی خوبصورت دکھائی دے رہے تھے۔۔
وصی حور کو کتنی ہی جگہوں پر لے گیا گیا۔۔
شہر کی خوبصورت جگہیں دکھائی۔۔
حور واقع بہت خوش ہوئی۔۔
انہیں گھومتے گھومتے وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔۔
رات ہوچکی تھی جب انہیں گھر جانے کا خیال آیا۔۔
وہ دونوں سڑک پر چل رہے تھے ۔۔جب تیز جھونکے سے حور کے سر سے شال پھسل گئی۔۔
اور اس کے کھلے بال ہوا میں اڑنے لگے۔۔
اس نے یک دم پاس چلتے وصی کو پکڑا۔۔
“کیا ہوا حور؟” وصی نے اس کا ہاتھ اپنے کاندھے پر دیکھ پوچھا
“ہوا بہت تیز ہے” حور نے ہاتھ جلدی سے ہٹایا اور اپنی شال ٹھیک کرنے لگی۔۔
“ہاں۔۔مزہ آیا تمہیں؟” وصی نے مسکرا بن کر پوچھا۔۔
“ہاں بہت۔۔۔یہ شہر واقع خوبصورت ہے۔۔مگر یہاں سردی ہے”
حور نے کہا۔۔
اور وصی ہنسنے لگا۔۔
“م لڑکیوں کو سردی بہت لگتی ہے جںکہ سردی کو تو انجوائے کرنا چاہیے”
وصی نے ہنستے ہوئے ۔
“ہاں بھئی لگتی ہے۔۔سردی کوئی انجوائے کیا جاتا ہے؟”
حور نے منہ بنایا۔۔
تبھی وصی کا فون بجنے لگا۔۔۔
وصی نے کال رسیو کی۔۔
“ہیلو۔۔۔” وصی نے فون کان سے لگایا۔۔
“ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔” وصی بار بار بول رہا تھا مگر آوازٹھیک سے سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔
“کیا ہوا؟” حور نےپوچھا۔۔
“سگنل ڈروپ ہورہے ہیں یار۔۔۔شاید موسم کی وجہ سے۔۔”
وصی نے کال کاٹتےہی کہا۔۔
اس کا فون پھر بجنےلگا۔۔
“ایک منٹ یار۔۔۔” وہ کہ کر تھوڑے فاصلے پرجا کر بات کرنے لگا۔۔۔
تبھی بارش زوروں سےشروع ہوگئی۔۔
حور بھاگ کر سامنے کسی بند شاپ کے پاس کھڑی ہوئی۔۔تاکہ بارش سے بچ سکے۔۔
تبھی اس کے پرس سے فون بجنے لگا۔۔
اس نے نمالا تو شفی کا نمبر چمک رہا تھا۔۔
اس نے کالرسیو کر کان سے لگایا۔۔
“ہیلو۔۔۔”
حور نے کہا۔۔
“ہیلو حور۔۔۔سوری یار میں آج آنہیں سکا”
شفی نے کہا۔۔
“ہاں مجھے وصی نے بتایا کہ آپ رات دیر سے آئیں گے۔۔”
حور نے کہا
“ہاں سوری میں کل پکا تمہیں گھمانے۔۔۔”
اتنی بات پر کال منتقع ہوگئی۔۔
“ہیلو۔۔۔۔” حور نے کہا۔۔مگر کال کٹ چکی تھی
حور نے فون کو گھورا پھر پرس میں ڈال لیا۔۔
سردی سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔
بارش کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔۔
حور نے یہاں وہاں دیکھا
مگر وصی اسے کہیں نظر نہیں آیا۔۔
“وصی۔۔کہاں گئے۔۔”؟ وہ پریشان ہوئی۔۔
اس نے تھوڑا آگے جاکر دیکھا مگر وصی کہیں نہیں تھا۔۔
اب وہ گھبرانے لگی تھی۔۔
یک دم آنکھوں میں آنسوں امڈ آئے۔۔
وہ بھاگتی ہوئی آگے بڑھی۔۔
“وصی۔۔۔کہاں پیں آپ۔۔۔وصی۔۔۔”
وہ پاگلوں کی طرح بارش میں کھڑی بھیگ رہی تھی۔۔
آنکھوں سے آنسوں نکل کر بارش میں مکس ہورہے تھے۔۔
“وصی۔۔۔” وہ بارش میں پوری بھیگ چکی تھی۔۔
سردی سے کانپ رہی تھی۔۔مگر اس وقت اس پر صرف خوف طاری تھا۔۔
“حور۔۔۔۔” اسے اپنے پیچھے سے وصی کی آواز سنائی دی۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔۔وصی نے جلدی سےاس کا ہاتھ پکڑے اسے بارش سے نکالا۔۔
بھیگ کیوں رہی تھی؟” وصی نے پوچھا
“وصی۔۔۔۔آ۔۔آپ۔۔” یک دم ہی اس کی آنکھیں بند ہونے لگی۔۔۔
وہ گرتی اس سے پہلے ہی وصی نے اسے پکڑا۔۔
باہر بارش بند ہوگئی تھی۔۔
رات کے نو بج رہے تھے۔۔
سامنے حور بیڈ پر کمبل اوڑھےبے حوش لیٹی تھی۔۔
وصی پریشان تھا۔۔۔
اس نے جلدی سے ڈاکٹر حمنہ کو کال کر کے ںلایا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ پہنچ گئی تھی۔۔
“اس کو تو سردی لگ گئی۔۔بارش میں بھیگنے سے اسے بخار ہے بس پریشانی کی بات نہیں ۔۔۔” ڈاکٹر حمنہ نے چیک کرتے ہی کہا۔۔
“ہاں یہ بارش میں بھیگ گئی ہے۔۔۔”
وصی نے پریشانی سے کہا۔۔
“اس کے کپڑے بھی گیلے ہیں وصی۔۔۔وہ پوری نیلی پڑ چکی ہے۔۔چینج کرنے ہوں گے۔۔”
ڈاکٹر حمنہ نے کہا
“ہاں۔۔مگر یہ حوش میں نہیں ہے کیسے کرے گی چینج؟۔۔۔
حمنہ آپ کرسکتی ہیں۔۔پلیز یہاں اور کوئی اویلبل نہیں آپکے سوا۔۔۔”
وصی نے گزارش کی۔۔
“اٹس اوکے میں کردیتی ہوں۔۔”
حمنہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔
اماں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔
شائستہ بیگم نے انہیں دوا دی۔۔
“حور سے بات ہوئی تھی؟”
اماں نے پوچھا
“ہاں ہوئی تھی۔۔کہ رہی تھی گھومنے جاؤں گی”
شائستہ بیگم نے ہنس کر کہا
“اچھا خوش ہے نا وہ لوگ۔۔؟”
اماں نے فکرمندی سے پوچھا۔۔
“ہاں خوش تھی بہت۔۔” شائستہ بیگم نے بتایا۔۔
“اللہ ہمیشہ خوش و آباد رکھے دونوں کو۔۔”
اماں نے دعا دی۔۔
“آمین۔۔۔ویسے اماں اب ہمیں وصی کے لیے بھی لڑکی دیکھنی چاہیے۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا
“ہاں کہ تو سہی رہی ہو۔۔اب وصی کا بھی گھر بس جائے بس۔۔” اماں نے لیٹتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں آپ سوجائیں اب۔۔۔” شائستہ بیگم لائٹ آف کر کے کمرے سے نکل گئی۔۔
“میں نے کپڑے چینج کردیے ہیں۔۔۔”
ڈاکٹر حمنہ باہر صوفے پر بیٹھے وصی سے کہنے لگی۔۔
“یہ کچھ میڈیسن لکھ رہی ہوں۔۔۔تھوڑی دیر میں حوش بھی آجائے گا۔۔۔”
ڈاکٹر حمنہ نے دوا پرچی پر لکھ کر اسے تھمائی۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔” وصی نے شکریہ ادا کیا
“فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ٹھیک ہوجائے گی”
اکٹر حمنہ نے مسکرا کر کہا اور وصی کو تسلی ہوئی۔۔
ڈاکٹر حمنہ کے جانے کے بعد۔۔۔
وصی حور کے کمرے میں آگیا تھا۔۔جہاں حور ابھی بھی بے سدھ آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔
وصی نے ہیٹر آن کر دروازہ بند کیا تاکہ حور کو تھوڑی گرمائش محسوس ہو۔۔
وصی وہیں کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
” میری وجہ سے حور کی یہ حالت ہوئی ہے۔۔کاش کہ میں فون سننے نہیں جاتا۔۔”
وصی حور دیکھتے ہوئے سوچنے لگا
“لیکن یہ حور بھی پاگل ہے بارش میں بھیگنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔اتنی معصوم کیوں ہو یار تم۔۔۔؟”
وصی نے اس دیکھتے ہوئےکہا۔۔
یونہی بیٹھے بیٹھے اسے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔اور وہ جانے کب سوگیا اسے پتا ہی نہیں لگا۔۔۔
