Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 30)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 30)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
جانے رات کا کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی۔۔
اس نے نیم اندھیرے میں اپنے برابر دیکھا۔۔
مگر بیڈ پر حور نہیں تھی۔۔۔
وہ پریشان ہوا۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ آن کیا تو کمرے میں روشنی ہوئی۔۔
اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔تو زمین پر بیٹھی بیڈ پر سر رکھے وہ سورہی تھی۔۔
شفی نے نظر بھر اسے دیکھا۔۔
اسے تھوڑا اپنے کیے پر ملال ہوا۔۔
“یہ بچپن سے ہی ایسی ہے۔۔۔تو کیا نہیں جانتا تھا۔۔۔؟
تجھے اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔”
شفی نے دل میں سوچا۔۔
“یہ بھی تو مجھے غصہ دلوا دیتی ہے کبھی کبھی۔۔۔
تجھے بھی کیا ہوجاتا شفی۔۔۔
اسے کچھ وقت دینا چاہیے۔۔۔”
وہ سر پر ہاتھ رکھے بڑبڑایا۔۔
“حور۔۔۔حور اٹھو۔۔”
شفی نے اسے ہلایا۔۔
وہ ہڑبڑا کر جاگی۔۔۔
“اوپر لیٹو۔۔۔نیچے کیوں سورہی ہو۔۔۔؟”
شفی نے کہا۔۔
“وہ آپ نے….کہا جاؤ۔۔۔۔”حور نے کہا۔۔۔
“اوپر آؤ۔۔۔اٹھو۔۔”شفی نے پھر کہا۔۔
اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“یہاں آؤ۔۔۔” شفی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھایا۔۔
وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔
“سوری یار۔۔۔پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا۔۔۔”
شفی نے کہا۔۔
“آپ معافی کیوں مانگ رہے ہیں۔۔۔میری غلطی تھی۔۔”
حور نے نظریں جھکائے کہا۔۔
“اچھا سوجاؤ۔۔۔میری پرنسس”
شفی نے اس کا گال کھینچا۔۔۔
وہ مسکرا دی۔۔۔
شائستہ بیگم نے ناشتے کے بعد برتن سمیٹے۔۔۔
حور بھی کچن میں ان کی مدد کرنے چلی آئی۔۔
“مما میں کروا دیتی ہوں مدد۔۔۔”
حور نے کہا۔۔
“تم جا کر پیکنگ کرلو جو رہتی ہے”
شائستہ بیگم نے کہا۔۔
“میں نے کرلی تھی مما صبح۔۔۔نماز کےبعد مجھے کہاں نیند آتی ہے۔۔۔پھر میں نے پیکنگ کرلی۔۔۔”
حور نےبتایا۔۔
” ایک بار پھر دیکھ لو۔۔کوئی چیز رہ نا جائے۔۔۔گرم کپڑے بھی رکھ لینا۔۔”
شائستہ بیگم نےہدایت کی۔۔
“ہاں۔۔۔رکھ لیے۔۔۔بس شال نہیں رکھی۔۔”
حور نے سادگی سے کہا۔۔
“کیوں؟” انہوں نے پوچھا۔۔
“وہ پرانی ہوگئی تھی نئی میں نے لی نہیں تھی۔۔۔وہیں سے لے لوں گی۔۔”
حور نے کہا۔۔
“تو کل ہی تمہیں بتانا تھا نا میں مارکیٹ جا کر لے آتی۔۔”
شائستہ بیگم نےڈانٹا۔۔
“ارے۔فکر کیوں کر رہی ہیں؟۔۔۔اب ایسا تو نہیں ہے کہ وہاں کے بازاروں میں شال ہی نہیں ملے گی۔۔”
حور نے ہنس کر کہا۔۔
“ملے یا نہیں۔۔۔تمہیں اپنی پوری تیاری سے جانا چاہیے۔۔”
شائستہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“اچھا نا میں لے لوں گی وہاں جاتے ہی پہلے شال لینی ہےمیں نے۔۔”
حور نے مسکرا کر کہا۔۔
“ہاں۔۔یاد آیا۔۔۔وصی مارکیٹ جا رہا ہے اسے کہ دو وہ لے آئے گا۔۔” شائستہ نے جلدی سے کہا
“ارے مما آپ خوامخواہ پریشان ہو رہی ہیں۔۔۔”
حور نے اکتا کر کہا۔۔
“تم جاؤ۔۔۔کہ کر آؤ۔۔وہ چلا جائے گا ورنہ۔۔۔جلدی جاؤ”
شائستہ بیگم نے اسے زبردستی کچن سے نکالا۔۔
اور خود کام میں مصروف ہوگئی۔۔
“ویسے تو خوامخواہ لے جا رہا ہے۔۔۔کیسے کرے گا انتظام اتنی جلدی۔۔۔کوارٹر وغیرہ اتنی جلدی مل نہیں جائے گا؟”
ددو نے کہا۔۔
“ددو آپ فکر نہیں کریں سب انتظام ہوگیا۔۔
میں نے اپنے دوست کو پہلے ہی کہ دیا تھا۔۔گھر کا انتظام ہوگیا۔۔باقی کا انتظام بھی ہوجائے گا۔۔۔وصی بھی تو ہوگا میرے ساتھ۔۔۔سب ہوجائے گا”
شفی نے ددو کے ساتھ لگتے ہوئے کہا۔۔
“اچھا۔۔۔چلو جیسے تمہیں ٹھیک لگے۔۔۔آج کل کے بچے کہاں کسی کی سنتے ہیں۔۔”
ددو نے بیچارگی سے کہا۔۔
“ارے آپ کی تو سنتے ہیں۔۔۔آپ حکم کریں۔۔۔میں جاؤں گا ہی نہیں۔۔۔”
شفی نے ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔۔
“چلا جا میں کیوں روکوں گی۔۔۔اللہ خوش رکھے لمبی زندگی دے۔۔خوب ترقی دے۔۔۔”
ددو نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔
تبھی شفی کا فون بجنے لگا۔۔
حور نے ہلکا سا دروازہ ناک کیا۔۔۔
“کم ان” اندر سے بھاری آواز آئی
وہ دروازہ کھول اندر داخل ہوئی۔۔
وہ سامنے ہی۔۔۔ڈریسنگ کے آگے کھڑا۔۔آئینے میں خود کو نہارتا۔۔۔کنگھا کرنے میں مصروف تھا۔۔
“وہ۔۔مجھے۔۔” حور ہچکچائی۔۔
اس نے حور کو دیکھا
“کوئی کام ہے۔۔۔؟” وصی نے پوچھا۔۔
“ہاں۔۔۔آپ مارکیٹ جارہے ہیں مما نے بتایا۔۔۔تو۔۔۔۔”
حور نے ہچکچا کر کچھ کہنا چاہا۔۔
“ہاں۔۔جارہا ہوں۔۔کچھ منگوانا ہے؟”
وصی نے مسکرا کر پوچھا۔۔
“وہ مجھے شال منگوانی تھی۔۔۔”
حور نے کہا۔۔
“اچھا۔۔تو چلو میرے ساتھ۔۔۔اپنی پسند سے خرید لینا”
وصی نے یک دم کہا۔۔
“نہیں۔۔وہ مجھے کام ہے۔۔۔آپ لے آئیں۔۔میں لے لوں گی۔۔۔”
حور نے سادگی سے جواب دیا۔۔
“اچھا دیکھ لو بھئی۔۔۔پھر بوڑھی عورتوں کی طرح نقص نہیں نکالنا۔۔۔ہائے یہ تو ہلکے کپڑے میں ہے۔۔۔اس کا تو ڈیزائن ہی بیکار۔۔۔”
وصی نے ایکٹنگ کی۔۔۔
اور حور کا قہقہہ نمودار ہوا۔۔۔
وصی اسے ہنستا دیکھ خود بھی ہنس دیا۔۔
دروازے کے باہر کھڑے فون کان سے لگائے شفی کے کانوں سے حور اور وصی کے قہقہہ ٹکرائے۔۔
وہ حیران ہوا۔۔
آواز سامنے وصی کے کمرے سے آرہی تھی۔۔۔
اس نے فون بند کیا۔۔
اور چل کر قریب گیا۔۔
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔آپ کی پسند ہی میری پسند ہے۔۔۔”
حور کی آواز وہ صاف سن سکتا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے پلٹ گیا۔۔۔
اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
شام کا وقت ہوگیا تھا۔۔۔
سورج غروب ہونے کو تھا
وہ سب لان میں بیٹھے چائے کا لطف اٹھا رہے تھے۔۔
جانے کی ساری تیاری ہوچکی تھی۔۔۔
تبھی وصی چلتا ہوا آیا۔۔۔
اس کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھے۔۔۔
شاید وہ اپنے لیے کچھ شرٹس وغیرہ اور ضرورت کی چیزیں لینے گیا تھا۔۔
“اسلام علیکم”
وصی نے قریب آتے ہی کہا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔لے آئے سب؟”
ددا نے پوچھا۔۔
“جی ددا۔۔۔” وصی نے مسکرا کر کہا۔۔
“اور یہ میڈم آپ کے لیے۔۔۔”
وصی نے حور کو مخاطب کیا۔۔
اور شال نکال کر اس کی جانب بڑھائی۔۔
“تھینک یو۔۔۔” حور نے شال تھام کر کہا۔۔
شفی کی نظر انہی پر تھی۔۔
“دیکھ لو اچھی طرح۔۔۔بھئی اب مجھے تو ایسی ہی شاپنگ آتی ہے لیڈیز کی۔۔”
وصی نے شرارت سے کہا۔۔
“اچھی ہے۔۔”
حور نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
“چلو بھئی نکلنے کی کرو اب۔۔۔”
ددا نے کہا۔۔
اور وہ سب اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔۔
“تم نے شال منگوائی تھی؟”
شفی نے کمرے میں آتے ہی کہا۔۔
“جی۔۔” حور نے نظر جھکا کر جواب دیا۔۔
“تمہارے پاس شال نہیں تھی تم نے مجھے تو نہیں بتایا”
شفی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“وہ میرے پاس تھی شال۔۔مگر وہ پرانی تھی۔۔تو۔۔”
حور نے اسی انداز میں کہا۔۔
“تو وہاں جاکر لے لیتے اس میں کیا مسئلہ تھا”
شفی نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔۔
“وہ مما نے کہا۔۔پوری تیاری کر کے جانا۔۔۔اسی لیے”
حور نے معصومیت سے کہا
“تو مجھے کہ دیتی میں لا دیتا۔۔”
شفی نے پھر کہا۔۔
“وہ وصی مارکیٹ جا رہے تھے۔۔تو مما نے کہا۔۔۔”
حور نے سادہ ساجواب دیا۔۔۔
شفی نے ایک نظر اسے گھورا۔۔۔
وہ ابھی بھی دوپٹے کا کونہ ہاتھ میں پکڑے۔۔۔
نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔
“جلدی آجاؤ نیچے۔۔۔”
شفی نے بیگ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
رات گہری تھی۔۔۔ٹرین اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔۔
نیم اندھیرے میں وہ تینوں بیٹھے تھے۔۔۔
شفی نے ونڈ سیٹ پر بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا۔۔۔
حور اس کے برابر خاموش بیٹھی تھی
وصی بھی شفی کے بلکل سامنے بیٹھا تھا۔۔۔
مگر نظر شفی پر ہی تھی۔۔
وہ اسے کچھ پریشان لگ رہا تھا۔۔۔
“ایکسکیوز می”تبھی وصی نے برابر بیٹھا شخص
وصی سے مخاطب ہوا۔۔
“جی۔۔” وصی نے پوچھا۔۔
“یہ میرے ساتھ لیڈیز ہے۔۔اصل میں ان کو وومٹنگ ہو رہی۔۔۔تو کیا آپ وہاں جا کر بیٹھ جائیں گے۔۔۔ونڈ سیٹ چاہیے۔۔”
اس شخص نے کہا۔۔
“جی۔۔جی بلکل کوئی مسئلہ نہیں۔۔”
وصی نے خوش دلی سے کہااور اٹھ کر حور کے برابر بیٹھ گیا۔۔۔حور بھی خاموش بیٹھی رہی۔۔
شفی اسی طرح پھر سے باہر دیکھنے لگا۔۔
“اب تو الٹی نہیں آرہی ان محترمہ کو۔۔۔بس میری سیٹ ہتھیانی تھی” وصی نے حور کے قریب سرگوشی کی۔۔
اور حور نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔۔
