Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 13)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ چپ چاپ کمرے سے نکلا۔۔
باہر نکلا تو سامنے ہی دو کیڈٹس کھڑے تھے۔۔
وہ جھٹ سے دیوار کے پیچھے چھپا۔۔
پھر موقع دیکھتے ہی آگے بڑھا۔۔
تھوڑا آگے بڑھا تو وہاں بھی ایک کیڈٹ تھا۔۔
وہ اس کی طرف پشت کیے تھا۔۔
وہ جھک کر آہستہ قدم رکھتا۔۔گیٹ کی طرف گیا۔۔
یک دم ہی سامنے کوئی آیا۔۔
وصی کی نظر اس کے قدموں پر تھی۔۔
وصی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
شفی کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔
“کہاں جا رہے ہو؟” شفی نے مزے سے پوچھا
“مجھے یہاں نہیں رہنا” وصی نے تپ کر کہا
“تجھے کیا لگتا ہے تو یہاں سے بھاگ سکتا ہے؟” شفی نے پوچھا
“تو مجھے خود نکال دو۔۔۔کیوں زبردستی رکھا ہوا ہے؟” وصی نے کہا
“ٹریننگ پوری کرلے پھر چلے جانا۔۔۔اور واپس ہی مت آنا” شفی نے ہنسی دبائی
“جب مجھے رہنا ہی نہیں تو اتنی مشکل ٹریننگ کیوں کروں میں؟”
“ٹریننگ کے بعد ہی تو یہاں سے جا سکتا ہے۔۔پہلے تجھے جانے نہیں دیں گے” شفی نے کہا
“مگر۔۔۔”
“کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔۔آزادی چاہیے تو ٹریننگ پوری کر چپ چاپ۔۔۔” شفی نے سنجیدگی سے کہا
“ٹھیک ہے۔۔اس کے بعد مجھے یہاں سے جانے دو گے” وصی نے پوچھا۔۔
“ڈن۔۔۔” شفی نے مسکرا کر کہا۔۔
وصی جانے کے لیے پلٹا۔۔
“اب بھاگنے کی سزا تو بھگتی پڑے گی۔۔” شفی نے کہا
“فرمائیے کیا کرنا ہے؟” وصی نے ناگواری سے کہا۔۔
“پندرہ پش اپس لگاؤ۔۔۔پھر چلے جانا” شفی نے شرارت سے کہا
“بس پندرہ بیس لگاتا ہوں” وصی نے کہا۔۔
اور شفی کی ہنسی نمودار ہوئی۔۔
“چلا جا روم میں۔۔۔اس سے پہلے کہ سینئرز دیکھیں” شفی نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔
نور کو وصی سے بات کیے کتنے دن گزر چکے تھے مگر۔۔
وصی کی نا کال آئی اور نا وہ خود۔۔
وہ یونیورسٹی سے گھر اور گھر سے یونیورسٹی۔۔
اسے وصی کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔
شاید وہ بھی اس سے محبت کرتی تھی۔۔
وہ سیڑھیوں پر بیٹھی کسی سوچ میں گم تھی۔۔
جب نا وہاں آئی۔۔
“نور۔۔۔” حنا نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
“ہاں۔۔۔” نور ہڑبڑائی۔۔
“کہاں گم ہے؟” حنا نے پوچھا
“نہیں کہیں نہیں۔۔۔”
“پھر پریشان ہے؟”
“نہیں۔۔۔” اس نے مختصر کہا
“وصی کا فون آیا” حنا نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا
“نہیں۔۔۔” اس نے اداسی سے کہا۔۔
“تو اس سے پیار کرتی ہے” حنا نے کہا
“میں نے کب کہا؟” اس نے حنا کو گھورا۔۔
“محبت خود ہی ظاہر ہوتی ہے..اور تجھے دیکھ کر صاف پتا لگ رہا ہے کہ تو اس سے پیار کرتی ہے” حنا نے کہا
“نہیں ایسا کچھ نہیں۔۔وہ میرا بہت اچھا دوست ہے” نور نے تصحیح کی۔۔
“وصی۔۔اچھا لڑکا ہے نور۔۔خود کو اور اسے دھوکہ مت دے۔۔اپنے دل کی بات سن۔۔” حنا نے کہا۔۔
اور خاموشی سے سوچوں میں گم ہوئی۔۔
اکیڈمی کے شب و روز گزر رہے تھے۔۔
اور اب وصی نے ناچاہتے ہوئے بھی ٹریننگ پوری کرنی تھی۔۔
شفی حیران تھا وصی کی طرف سے کوئی شرارت کوئی۔۔
کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں ہوئی تھی۔۔
ان کا سیکنڈ ٹرم اسٹارٹ ہوچکا تھا۔۔
وصی کو کسی قسم کی چھٹی نہیں ملتی تھی
وہ جانتے تھے کہ وصی کو موقع ملا تو وہ بھاگ جائے گا۔۔
شفی کی سوچ تھی کہ وصی ٹریننگ کے بعد خود سے آرمی چھوڑ کر نہیں جائے گا
اسے دلچسپی ہوجائے گی
وہ یہ دن کبھی نہیں بھولے گا۔۔
شفی باقائدہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔۔
کتنا ٹائم ہوگیا تھا اسے گھر گئے۔۔۔
وصی کو شدت سے ددا ددو اور اپنی وہی آزادی کی لائف یاد آنے لگی۔۔
مگر وہ چپ چاپ رہ رہا تھا۔۔
یہاں کے رولز اور سختیوں کو کافی حد تک برداشت کرنے کی عادت ہوچکی تھی اسے۔۔
مگر اس کے دماغ میں وہی بات فٹ تھی کہ اسے ہمیشہ آرمی میں نہیں رہنا۔۔
حور کی وہی روٹین چل رہی تھی۔۔
کالج سے گھر شام میں ٹیوشن اکیڈمی اور پھر واپس گھر۔۔
اس کا دماغ بس پڑھائی کی طرف تھا۔۔
مغرب کا وقت ہورہا تھا جب وہ ٹیوشن کلاسس سے واپس آئی۔۔
واپس آتے ہی اس نے بیگ سائیڈ پر رکھا اور کچن کی طرف بھاگی۔۔
“مما۔۔۔” وہ کچن میں آئی۔۔
“آج پتا ہے سر اتنے خوش ہوئے مجھ سے میری اتنی تعریف کی۔۔” حور نے خوشی سے بتایا۔۔
“اچھا وہ کیوں؟” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
“مجھے سارے اینائن اور کیٹائن یاد تھے۔۔کیمسٹری میں۔۔
اور سر نے جوسوال دیے وہ میں نے جھٹ سے کرلیے۔۔” حور نے چہک کر بتایا۔۔
“اچھا واہ میری بیٹی تو ہوشیار ہے۔۔”شائستہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔
“چائے پیو گی؟” شائستہ بیگم نے پوچھا
“جی مما۔۔۔” حور نے کہا
اور شائستہ بیگم چائے بنانے لگی۔۔
“مما۔۔وصی کب آئے گا؟” حور نے پوچھا
“بس کچھ ہی دن میں۔۔۔ٹریننگ پوری ہوجائے بس۔۔” شائستہ بیگم نے کہا
“اچھا۔۔۔” حور نے سادگی سے کہا۔۔
اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی۔۔
نور اداس سی بیٹھی ناول کو ہاتھوں میں تھامے گھور رہی تھی۔۔
اسے وصی پل پل یاد آرہا تھا۔۔
“کیا میں بھی وصی سے محبت کرتی ہوں؟” وہ سوچنے لگی۔۔
“وصی۔۔کب آؤ گے یار۔۔” وہ بے بسی کی انتہا پر تھی
“ہاں شاید میں اس سے محبت کرنے لگی ہوں۔۔۔مگر میں اسے نہیں بتاؤں گی۔۔” نور نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا
تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔
اس نے دیکھا وصی کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔
“وصی۔۔۔” ایک خوشی کی لہر نور کے چہرے پر نمودار ہوئی
اس نے جھٹ کال رسیو کی۔۔
“ہیلو۔۔وصی” نور نے کہا
“ہیلو۔۔۔کیسی ہو نور؟” وصی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔
کتنے وقت کے بعد وہ یہ آواز سن رہی تھی۔۔
اس کی آنکھ سے دو آنسوں گرے۔۔اور وہ لمحہ بھر خاموش ہوگئی۔۔
“نور۔۔۔کین یو ہیئر می۔۔۔ہیلو” وصی کی آواز وہ چپ چاپ محسوس کر رہی تھی۔۔اس کا دل کیا کہ یہ آواز وہ سنتی چلی جائے۔۔
“ہیلو۔۔نور۔۔” وصی نے پھر کہا
“ہاں۔۔ سن رہی ہوں” نور نے کہا
“میری یاد آئی؟” وصی نے سوال کیا۔۔
“نہیں۔۔بلکل بھی نہیں” نور نے صفائی سے جھوٹ بولا
اور وصی کا قہقہہ اس کے کانوں کو چیرتا ہوا گیا
“جھوٹ بھی مہارت سے بولتی ہو۔۔۔خیر میں پرسو آؤں گا ٹریننگ ختم ہوگئی میری۔۔۔” وصی نے کہا۔۔
“اچھا۔۔مبارک ہو آرمی مین بن گئے ہو۔۔” نور نے کہا
“اب تو تمہاری امی سے تمہارا رشتہ مانگ سکتا ہوں نا؟” وصی نےہنس کر پوچھا۔۔
اور اس کے سوال پر نور خاموش ہوگئی۔۔
ددا نے اسے گلے سے لگایا۔۔
وہ اس پر فخر محسوس کر رہے تھے۔۔
ددا کے گلے لگ وصی کے کب سے ٹھہرے آنسوں روانی سے بہنے لگے۔۔
وہ اتنی سخت ٹریننگ پوری کر چکا تھا۔۔
مگر ان چند مہینوں میں اسے ان کی محبت اور شفقت کی شدت سے کمی محسوس ہوئی۔۔
ددا تو اسے دیکھ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔۔
انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کا وصی۔۔
جو آرمی کے نام سے بھی بھاگتا تھا۔۔
آج وہ بہترین بن چکا۔۔وطن کا جانباز چن لیا گیا۔۔
