Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 24)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 24)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
“اماں۔۔۔یہ لیں آپ کی دوا کا ٹائم ہوگیا”
شائستہ بیگم نے انہیں دوا تھمائی۔۔
“شائستہ میرے دل میں ایک بات ہے”
ددو نے انہیں گلاس تھماتے ہوئےکہا
“کیا بات؟”
شائستہ بیگم نے پوچھا
“اگر ہم وصی کی شادی حور سے کردیں تو۔۔؟”
ددو نے اپنے دل کی بات بتائی
“مگر اما یہ کیسے ہوسکتا ہے؟”
انہوں نے حیرت سے پوچھا
“کیوں نہیں ہوسکتا؟”
اماں نے حیرانی سےالٹ پوچھا
“اماں۔۔وصی۔۔ مانے گا۔۔؟”
شائستہ بیگم نے سوال داغا
“کیوں نہیں مانے گا؟۔۔۔میں منا لوں گی اسے۔۔تو اپنا بتا تجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔۔؟”
ددو نے پوچھا
“نہیں اماں۔۔۔مکھے کیا اعتراض ہوگا۔۔وصی اچھا لڑکا ہے۔۔
یہ الگ بات تھی کہ ہم نے ہمیشہ حور اور شفی کو ایک ساتھ دیکھنا چاہا تھا۔۔
مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔۔”
شائستہ بیگم نے اداسی سے کہا۔۔
“آپ وصی سے بات کر کے دیکھیں۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا
“ہاں میں کرتی ہوں۔۔۔”
اماں نے اثںات میں سر ہلایا۔۔۔
وصی کا بازوں اب ٹھیک ہوگیا تھا۔۔
دو دن بعد اسے ڈیوٹی جوئن کرنی تھی۔۔
وہ لاؤنج میں بیٹھا تھا۔
جب شائستہ بیگم کمرے میں آئی۔۔
“حور۔۔کہاں ہے؟”
ددو نے پوچھا۔۔
“کمرے میں ہے۔۔بخار ہے اسے۔۔کچھ کھا بھی نہیں رہی”
شائستہ بیگم نے فکرمندی ظاہر کی۔۔
“کمزور اتنی ہوگئی ہے۔۔کچھ کھاتی کہاں ہے یہ۔۔
پتا نہیں کیا ہوتا جارہا ہے”
ددو نے کہا
“پھپھو ڈاکٹرکے پاس بھیج دو۔۔”
وصی نے سنجیدگی سے کہا
“ہاں میں لے جاتی ہوں۔۔۔۔”
پھپھو اٹھ کھڑی ہوئی
“میں چلوں۔۔۔؟” وصی نے پوچھا
“نہیں میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں گی تم آرام کرو”
شائستہ بیگم نے مسکرا کر کہا اور باہر نکل گئی۔۔
“وصی ایک بات کہوں؟”
ددو نے کہا۔۔
جی ددو۔۔کہیں” وصی نے انہیں دیکھا۔۔
“وصی۔۔ تو جانتا ہے شفی کے جانے بعد۔۔حور بہت بدل گئی ہے۔۔ناہنستی ہے ، نا کسی سے بولتی ہے، نا کھاتی پیتی ہے ٹھیک سے۔۔۔۔” ددو نے اس کے چہرے پر نظریں ڈالتے ہوئے کہا۔۔
“ہمم۔۔۔سہی کہ رہی ہیں آپ۔۔”
وصی نے کہا
“وصی میں سوچ رہی ہوں۔۔۔حور کی شادی کر دینی چاہیے ہمیں۔۔۔ہوسکتا ہے وہ اپنی نئی زندگی میں مصروف ہوکر شفی کو بھلا دے۔۔” ددو نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“جی۔۔دیکھ لیں۔۔۔جو سہی لگتا آپ لوگوں کو۔۔”
وصی نے جواب دیا۔۔
“ہم چاہتے ہیں حور کی شادی تم سے ہوجائے۔۔”
ددو نے یک دم بم پھوڑا
“کیا؟” وصی چونکا
“ہاں ہم سب کی۔۔تمہارے ددا کی بھی یہی مرضی ہے۔۔
ہم نہیں چاہتے گھر کی بچی کہیں اور جائے۔۔”
ددو نے اسے سب کا فیصلہ سنایا۔۔
“نہیں میں نہیں کرسکتا۔۔۔”
وصی نے انکار کیا۔۔
“کیوں۔۔۔کیا تمہیں حور نہیں پسند؟”
ددو نے پوچھا
“پسند ناپسند کی بات ہی نہیں ہے۔۔میں نے حور کے بسرے کبھی ایسا سوچا ہی نہیں۔۔۔اور مجھے تو کسی سے بھی شادی نہیں کرنی۔۔”
وصی نے انہیں سمجھانا چاہا
“تو اب سوچ لے۔۔میں نہیں چاہتی حور کہیں اور جائے۔۔
اچھی طرح سوچ کر مجھے جواب دے دینا۔۔”
ددو کہ کر اٹھ کر باہر نکل گئی۔۔
اور گہری سوچ میں الجھ گیا۔۔
وہ چائے کا کپ ٹیبل پر رکھے۔۔
اسے گھور رہا تھا۔۔
کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا۔۔
ارد گرد سے لاپرواہ۔۔۔
تبھی گیٹ سے گاڑی اندر داخل ہوئی۔۔
اور اس کی سوچوں کا مہور ٹوٹا۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔
شائستہ بیگم کے ساتھ حور گاڑی سے اتری۔۔
اور چل کر اس کے قریب آئے۔۔
“کیا ہوا۔۔۔طبیعت کیسی ہے اب؟”
وصی نے پھپھو سے پوچھا۔۔
جبکہ۔ نظر اس کی اب حور پر تھی۔۔
زرد چہرے کے ساتھ۔۔۔دوپٹہ سر پر لیے وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔
چہرے پر تھکاوٹ کے آثار تھے۔۔
“ٹھیک ہے اب۔۔” پھپھو نے جواب دیا۔۔
“بیٹھ جاؤ حور۔۔” وصی نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔
“نہیں۔۔میں کمرے میں جارہی ہوں مما”
حور نے اسی انداز میں جواب دیا۔۔
اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔
“یہ بس ایسے ہی رہتی ہے
زیادہ بات نہیں کرتی کسی سے۔۔اپنے کمرے کی ہوکر رہ گئی۔۔” شائستہ بیگم نے وصی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اور خاموش رہا۔۔
وہ گہری نیند سورہا تھا کہ تیز تیز دروازہ بجنے سے
اس کی نیند ٹوٹی۔۔
وہ یک اٹھا۔۔۔
دروازہ ابھی بھی بج رہا تھا۔۔
وہ تیزی دروازے کی جانب بڑھا۔۔
اور دروازہ کھولا۔۔
سامنے شائستہ بیگم کھڑی تھی۔۔
“وصی۔۔حور کو پتا نہیں کیا ہوگیا۔۔”
شائستہ بیگم نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔
“کیا ہوا حور کو؟”
وہ پریشان ہوا۔۔
“پتا نہیں اٹھ نہیں رہی۔۔”
شائستہ بیگم نے نم آنکھوں سے کہا۔۔
وصی سنتے ہی حور کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔
حور بیڈ پر آنکھیں موندے بے سدھ پڑی تھی۔۔
وہ اس کی طرف بڑھا۔۔
“حور۔۔حور۔۔۔” وصی اس کا گال تھپتھپانے لگا۔۔
اس کے گال کو چھوتے ہی اسے گرمائش محسوس ہوئی۔۔
“اسے بخار ہے۔۔۔ہسپتال چلتے ہیں۔۔۔”
وصی نے کہا۔۔۔اور باہر نکل گیا۔۔
“دیکھیے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔۔
انہیں تیز بخار تھا۔۔کھانے پینے کا دھیان نا رکھنے کی وجہ بہت کمزوری آگئی ہے ان میں۔۔۔”
ڈاکٹر نے وصی کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
“جی ہم دھیان رکھیں گے۔۔”
وصی نے کہا۔۔اور ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
تبھی شائستہ بیگم وہاں آئی۔۔
“کیا کہا ڈاکٹر نے؟”
انہوں نے پوچھا۔۔
“نہیں کچھ نہیں بس کھانا پینا وقت پر نا لینے کی وجہ سے کمزوری ہوگئی۔۔”
وصی نے جواب دیا
“جب سے شفی گیا ہے نا حور کو پتا نہیں کیا ہوگیا۔۔
اب کوئی بچی تو نہیں ہے جو زبردستی کھلا دوں۔۔”
شائستہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“ہوجائے گی ٹھیک” وصی نے تسلی دی
“ہاں۔۔۔انشاءاللہ” شائستہ بیگم نے کہا۔۔اور وصی پلٹا ہی تھا شائستہ بیگم نے پکارا۔۔
“وصی۔۔۔” شائستہ سنجیدگی چہرے پر سموئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“جی پھپھو۔۔” وصی نے پوچھا
“تمہیں حور پسند نہیں۔۔؟” شائستہ بیگم نے سوال کیا۔۔
“میں نے ایسا کب کہا؟” وصی نے الٹ سوال کیا
“تو پھر۔۔۔؟” شائستہ بیگم نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔” وصی نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔
“میں جانتی ہوں نور کے بارے میں سب۔۔”
شائستہ بیگم کی بات پر وہ چونکا۔۔
“کسی کے جانے سے زندگی کو ختم نہیں کرتے وصی۔۔۔
جس جگہ تم کھڑے ہو آج اسی جگہ حور بھی کھڑی ہے۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا۔۔
وصی خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا
“وصی۔۔حور کی حالت سے تم واقف ہو۔۔
میں جانتی یہ تمہارے لیے آسان نہیں۔۔مگر تم ایک بار حور کی طرف دیکھو۔۔وصی میری بیٹی سے شادی کرلو۔۔۔”
شائستہ بیگم نے نم آنکھو سے کہا۔۔
اور وصی کے پاس شاید الفاظ نہیں تھے۔۔
