Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 6)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

“وہ بیڈ پر ساری چیزیں پھیلا کر بیٹھی تھی جو اسے شفی نے دلائی تھی۔۔

وہ پہلی بار بہت خوش ہوئی تھی۔۔

تبھی شائستہ بیگم اندر آئی۔۔

“حور آؤ چائے پی لو” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“دیکھیں نامما مجھے کتنا سارا سامان دلوایا ہے شفی نے” اس نے دکھاتے ہوئے کہا۔۔

“ارے ہاں۔۔اور ڈریس تو بہت پیارا ہے” انہوں نے پاس پڑے سمپل سے سوٹ کو اٹھا کر دیکھا۔۔

“ہاں۔۔”

“دیکھا شفی کتنا اچھا ہے میری بیٹی کا کتنا خیال کرتا ہے” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

وہ سارا سامان سمیٹنے لگی۔۔

“چلو آؤ سب مل کرچائے پیتے ہیں۔۔” شائستہ بیگم نے کہا

“جی مما” وہ اٹھ کر ان کے ساتھ چل دی۔۔

“حور۔۔ شفی اچھا لڑکا ہے” شائستہ بیگم نے کچن میں آتے ہی کہا۔۔

“جی مما” اس نے مختصر کہا

“تمہیں شفی کو اب سمجھنا چاہیے، جاننا چاہیے۔۔اب تمہاری منگنی ہونے والی ہے۔۔” شائستہ بیگم نے چائے کا برتن چولہے پر رکھتے ہوئے کہا۔۔

“مما مجھے شفی برا نہیں لگتا بس مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔۔” حور نے سادگی سے کہا

“ڈر کیسا۔۔؟” شائستہ بیگم نے پوچھا

“کہ وہ تھوڑے ڈانٹنے والے غصہ والے ہیں۔۔وہ مسکرا کر بھی کسی سے بات نہیں کرتے” حور نے دل کی بات بتائی۔۔

“اور مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھے پسند نہیں کرتے مگر۔۔” حور کہتی کہتی رکی۔۔

“مگر۔۔وہ تمہیں پسند کرتا ہے رائٹ” شائستہ بیگم نے بات مکمل کی۔۔

اور اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔

“وہ غصہ والا نہیں ہے حور۔۔۔بس وہ گم گو ہے بہت فضول نہیں بولتا وصی کی طرح۔۔” شائستہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا اور چائے کپ میں ڈالنے لگی

“ہے مما۔۔ان کے چہرے سے ہی لگتا ہے وہ غصہ والے ہیں۔۔ان کی ناک پر ہمیشہ غصہ رہتا ہے۔۔اور۔۔۔اور ان کی مونچھیں دیکھی ہیں۔۔۔سب سے خوفناک ہیں” حور نے جھرجھری لی۔۔

اور اس کی بات پر شائستہ بیگم ہنستی ہی چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کچن کے دروازے پر کھڑا حور کی باتیں سن رہا تھا اور بمشکل اپنی ہنسی روکتا جاکر لان میں بیٹھ گیا۔۔

اندر ہی اندر مسکرا رہا تھا۔۔

تبھی شائستہ بیگم چائے لے کر آگئی۔۔

اور سب اپنا کپ تھام کر باتوں میں مصروف ہوگئے۔۔

مگر شفی کا دماغ ابھی بھی حور کی باتوں میں تھا۔۔

تبھی وہاں حور آئی۔۔اور چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔

شفی کی نظر اسی پر تھی۔۔

وہ چائے پی رہی تھی۔۔

(اور ان کی مونچھیں دیکھی ہیں۔۔۔سب سے خوفناک ہیں)

شفی کو پھر سے حور کا جملہ یاد آیا۔۔

اور چائے اس کے گلے میں اور وہ کھانسنے لگا۔۔

“کیا ہوا شفی بیٹا ؟” پھپھو نے پوچھا

“نہیں۔۔۔ نہیں کچھ۔۔۔ نہیں ٹھیک ہوں” شفی نے سمبھلتے ہوئے کہا۔۔

وصی جو کب سے شفی کی ہر حرکت، مسکراہٹ اور حور کو گھورنا نوٹس کر رہا تھا۔۔ مزید چپ نا رہ سکا۔۔

“دو دل مل رہے ہیں مگر۔۔۔چپکے چپکے۔۔۔۔۔” وہ شفی کی طرف جھکتا گنگنانے لگا۔۔

شفی نے یک اسے دیکھا۔۔

اور اس نے شرارت سےابرو اچکائی۔۔

“ددا…..” شفی کی نظریں وصی پر ہی تھی۔۔

“ہاں۔۔۔بیٹا” ددا جو باتوں میں مصروف تھے شفی کی طرف متوجہ ہوئے۔۔

“ددا۔۔وصی کو آج میں نے مال میں دیکھا تھا۔۔۔” شفی نے مسکرا کر کہا

“شفی۔۔۔” وصی نے اسے گھورا۔۔

“ددا۔۔۔یہ لڑکی کے ساتھ تھا۔۔” شفی نے کہا

“کیا؟ لڑکی؟” ددا چونکے

سب نے ہی وصی کو دیکھا۔۔

“نہیں۔۔۔ددا یہ۔۔” وصی گھبرایا

“ہاں ہاں ددا سچی میں نے اسے دکھا ایک لڑکی اس کے ساتھ تھی اور ایسے ہنس ہنس باتیں کر رہا تھا توبہ توبہ” شفی نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔

“وصی یہ کیا سن رہا ہوں میں؟” ددا نے غصہ سے کہا

“نن۔۔۔نہیں ددا۔۔وہ لڑکی بس میری دوست تھی۔۔۔” وصی نے صفائی دی

“دوست۔۔دوست تو نہیں لگ رہی تھی مجھے وہ جس طرح تم ہنس رہے تھے اس کے ساتھ۔۔۔بہت ہنسی آرہی تھی نا تجھے” شفی نے چبا کر کہا

“ددا۔۔۔یہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔” وصی نے کہا

“اب تو اتنا بڑا ہوگیا کہ لڑکیاں گھوماتا پھر رہا ہے خاندان کی عزت کا کوئی خیال نہیں۔۔۔” ددو نے کہا

“یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے” ددا نے ددو کو گھورتے ہوئے کہا

“میں نے کیا کیا ہے اب؟” ددو روہانسی ہوئی۔۔

“تم نے اسے لاڈ پیار سے بگاڑا ہے۔۔۔انٹر کرنے دو اسے فوج میں ہی دھکا دینا میں نے اسے” ددا غرائے

“اس میں میرا کیا قصور ہے آپ کا پوتا ہے نظر آپ رکھ لو۔۔” ددو نے غصہ سے کہا

“ہاں میرا ہی پوتا ہے تمہارا کچھ نہیں لگتا۔۔” ددا نے کہا۔۔

“لو بھئی ہوگئے شروع” وصی نے کہا۔۔

“آپ دونو کیوں لڑ رہے ہیں۔۔؟” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ بات گھوم پھر مجھ پر ہی کیوں آجاتی ہے۔۔کام دادا پورا کریں قصور میرا۔۔” ددو بھی تیش میں آگئی۔۔

کتنی ہی دیر شائستہ بیگم چپ کرواتی رہی مگر ان کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔۔

“پھپھو وصی تو بھاگ گیا” شفی نے شرارت سے کہا۔۔

شائستہ بیگم نے یہاں وہا نظریں گھمائی مگر واقع وصی رفو چکر ہوچکا تھا۔۔

“تیری وجہ سے ہوا ہے سب” پھپھو نے اسے گھورا اور وہ ہنسنے لگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“مما ناشتہ جلدی مجھے دیر ہورہی ہے” نور نے پکارا۔۔

“ہاں ہاں یہ لے”کوثر بیگم نے ناشتہ سامنے رکھتے ہوئے کہا۔۔

“پیپر شروع ہوجائے گا” وہ جلدی جلدی کھانے لگی۔۔

“نور۔۔۔کل کس کے ساتھ گھر آئی تھی؟” کوثر بیگم نے پوچھا

“کس کے ساتھ؟” وہ چونکی

“کوئی لڑکا تھا۔۔پڑوس والی بینا بتا رہی تھی” انہوں نے کہا

“اوہ ہاں۔۔مما وہ میرا دوست ہے” نور نے چائے کی گھونٹ بھرتے ہوئے کہا

“ایسے کسی لڑکے کے ساتھ دوستی کرنا۔۔یہاں وہاں گھومنا یہ ٹھیک نہیں اب تم بچی نہیں رہی نور تمہارے پاپا کو پتا چلا تو پڑھائی بند کروا دیں گے” کاثر بیگم نے کلاس لگاتے ہوئے کہا

“مما۔۔وہ بس مجھے ماڈل دلوانے گیا تھا۔۔ایک تو یہ محلے ہی رپوٹرز نا لگانے بجھانے کا کام بخوبی انجام دیتی ہیں” نور نے برا سا منہ بنایا

“جب تم ایسے کام کرو گی تو وہ باتیں تو بنائیں گی نا۔۔” انہوں نے غصہ سے کہا

“ارے مما میں کہاں کسی کے ساتھ جاتی آتی ہوں بس کل ہی آئی وہ بھی اس نے مجھے ڈراپ کیا بس دیر ہوگئی تھی” نور نے صفائی دی

“پھر بھی نور تمہارے پاپا کو پتا لگا تو پتا بھی کتنا ناراض ہوں گے؟”

“وہ کراچی ہیں مما انہیں کون بتائے گا”

“جیسے کسی نے مجھے بتایا ویسے انہیں بھی لوگ بتائیں گے”

“ایک تو یہ لوگ۔۔دل تو کرتا ہے یہ سامنے کھڑا کر کے ان سب کی ٹانگوں پر ایک ایک گولی داغ دوں کم سے کم کسی کے مسئلوں میں ٹانگ تو نہیں اڑائیں گے” نور نے ناگواری سے کہا

“نور تم الٹی سیدھی باتیں کرو گی مگر غلطی کو نہیں سدھارو گی” وہ تپ کر کہنے لگی

“سمجھگئی مما آئندہ نہیں آؤں گی بس۔۔اب میں لیٹ ہورہی ہوں اللہ حافظ” وہ بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ حور وہاں سے گزرتی سیڑھی چڑھنے لگی۔

“حورین” شفی نے پکارا۔۔

“جی۔۔۔” وہ پلٹ کر کہنے لگی۔۔

“مجھے ایک گلاس پانی لا دو” شفی نے کہا۔۔

“جی” وہ اثبات میں سر ہلاتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔

فریج سے بوتل نکال کر پلٹی ہی تھی کہ برابر میں شفی کو دیکھ چونکی۔۔

“آپ۔۔۔” اس نے گھبرا کر کہا

“میں نے سوچا تم پانی لاو گی میں خود ہی آجاتا ہوں” شفی نے مسکرا کر کہا

“نہیں میں لے آتی۔۔۔یہ۔۔پانی” اس نے گھبرا کر بوتل آگے بڑھائی۔۔

نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھی۔۔

“ایسے پانی دیتے ہیں؟” شفی نے پوچھا

“جی۔۔۔نہیں سوری” وہ بوکھلائی اور گلاس میں پانی ڈالنے لگی۔۔

“اب تو تم عادت ڈال لو میرے سب کام کرنے کی” شفی نے شرارت سے کہا۔۔

“جی۔۔۔” وہ چونکی پھر گلاس اس کی طرف بڑھایا۔۔

“خیر تم جب بھی مجھ سے بات کرتی ہو نظریں شرم سے جھکاتی ہو یا تمہیں مجھ سے ڈر لگتا ہے؟” شفی نے گلاس ہونٹاں سے لگایا

اس نے یک دم چونک کر اسے دیکھا۔۔

“میری مونچھیں خوفناک ہیں نا” شفی نے کہا۔۔

اور وہ شرمندہ ہوئی۔۔

“دیکھو مونچھوں کے ساتھ تو کامپرومائز کرنا پڑے گا تمہیں۔۔کیونکہ میں تمہارے لیے ن کی قربانی نہیں دے سکتا” شفی نے مسکرا کہا

وہ خاموشی سے نظریں جھکائے سنتی رہی۔۔

“کل میں چلا جاؤں گا۔۔پتا نہیں کوئی مجھے یاد کرے گا یا نہیں؟” شفی نے کہا

“جی۔۔۔وہ۔۔” حور ہکلائی۔۔

“کیا وہ۔۔؟”

“وہ نانو آپ کو بہت یاد کرتی ہیں۔۔۔” حور نے کہا۔۔

“اور تم۔۔۔تم یاد نہیں کرتی ؟” شفی نے پوچھا۔۔

“میں۔۔نہیں میں تو نہیں کرتی۔۔میں بس اپنا سبق یاد کرتی ہوں” حور نے کہا اور وہاں سے تیزی سے بھاگ گئی۔۔

اور شفی کا قہقہہ گونجا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ پیپر کے بعد کینٹین کی جانب بڑھ گئے۔۔

“کل ڈانٹ تو نہیں پڑی آپ کو؟” نور نے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں تھوڑی سی ” وصی نے کہا

“میری وجہ سے آپ کو ڈانٹ پڑ گئی۔۔” نور نے کہا۔۔

“چھوڑو نور اسے تو عادت ہے روز کسی نا کسی بات پر پڑتی ہے ڈانٹ” شان نے کہا۔۔

اور وصی نے اسے گھوری سے نوازا

“تم کیا کھاؤ گی؟” نور نے پاس بیٹھی اپنی دوست حنا کی طرف دیکھا۔۔

“کچھ بھی۔۔” وہ کہنے لگی۔۔

“میں لے کر اتا ہوں۔۔برگر لے آؤ سب کے لیے؟” شان نے پوچھا۔۔

“ہاں۔۔۔” نور نے کہا

“تو آگے کا کیا پلان ہے؟” وصی نے نور سے پوچھا۔۔

“میرا بہت لمبا پلان ہے۔۔مجھے ابھی بہت کچھ کرنا ہے لائف میں میں چاہتی ہوں دنیا میں میرا نام ہو میری اپنی پہچان ہو۔۔” نور نے کہا

“اچھا واہ” وصی نے کہا

تبھی شاننے برگر ٹیبل پر رکھے۔۔

“آپ بتائیں۔۔آپ نے کیا سوچا؟” نور نے وصی کی طرف دیکھا

“کچھ سوچا نہیں ابھی ددا کہتے ہیں فوج میں چلے جاؤ لیکن مجھے نہیں پسند” وصی نے منہ بنایا

“کیوں نہیں پسند؟”

“بس مجھے فوج میں جانا نہیں پسند۔۔رولز کے مطابق زندگی جینا، ایک روبوٹ کی طرح لائف گزارنا مشکل ہے میرے لیے” وصی نے کہا۔۔

“اچھا پھر کیا پسند ہے آپ کو؟” نور نے پوچھا

“کچھ بھی مھر فوج نہیں” وصی نے کہا

“فوج میں جا کر اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کا موقع ملے گا آپ کو” حنا نے کہا

“اگر ملک کے لیے کچھ کرنا ہے تو میں کسی اور طریقے سے بھی کر سکتا ہوں”۔۔” وصی نے مسکرا کر کہا۔۔

“ہاں۔۔کرکٹربن جاؤ۔۔ریان حیدر بھی ایک کرکٹر ہی تھا میں تو بہت امپریس ہوئی تھی اس سے” نور نے کہا

“ریاں حیدر ؟” وصی نے پوچھا

“ہاں وہ ناول میں۔۔بڑا ہی اچھا ہیرو تھا وہ کرکٹر تھا۔۔ایسی ایسی پرفامنس دی اس نے۔۔میں تو فدا ہی ہوگئی” نور نے چہک کر کہا

“لو بھئی پھر شروع ہوگئی۔۔۔” حنا نے کہا۔۔

“آپ کو ناول پڑھنے کا اتنا کریز ہے” وصی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں۔۔۔” نور نے سادگی سے کہا

“پاگلوں کو ایسے ہی شوق ہوتے ہیں” حنا بڑبڑائی۔۔

اور نور نے اسے مکے سے نوازا

وصی نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔

اور مسکرانے لگا۔۔