Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 12)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

تھوڑے فاصلےپر کھڑے میجر صاحب کسی کیڈیٹ سے بات کرنے میں مصروف تھے۔۔

وہ بھاگتا ہوا ان کے پاس گیا۔۔اور ان کی طرف اشارہ کرتے کچھ بتانے لگا۔۔

ان تینوں کے چہروں پر گھبراہٹ تھی مگر وصی اسی طرح مزے سے کھڑا تھا۔۔

وہ سینئر کیڈیٹ میجر کے ساتھ چلتا ان کے قریب آرہا تھا۔۔

“وصی اب کیا ہوگا؟” شان بڑبڑایا

“جو ہونا ہوگا میرے ساتھ ہوگا۔۔تو کیوں ڈررہاہے؟” وصی نے کہا

“تیرا دوست ہوں تیری فکر ہے مجھے۔۔”شان نےفکر سےکہا

“میری فکر مجھے نہیں تو تجھے کیوں ہورہی ہے؟” وصی نے اکتا کر کہا

“اسلام علیکم سر” باری باری سب نے میجر کو دیکھ سلام کیا

“سر آپ مجھے نکال دے دیں میں یہاں نہیں رہنا چاہتا” وصی نے جلدی سے کہا

“جانا چاہتے ہو؟ چلے جانا۔۔” میجر نے سنجیدگی سے کہا

“پہلے سزا کے لیے تیار ہوجاؤ” انہوں نے کہتے ہی پاس کھڑے سینئر کو اشارہ کہا۔۔

“انہیں لے جاؤ۔۔۔اور پوری رات پانی میں کھڑا رکھو تاکہ نیکسٹ ٹائم رول فالو کریں۔۔۔” میجر صاحب نے ایک سیکنڈ میں چاروں کے ہوش اڑائے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چاروں پانی میں آدھے ڈوبے کھڑے تھے۔۔

سردی بھی کافی تھی۔۔ٹھنڈ میں وہ چاروں ٹھٹر رہے تھے۔۔

اوراب تو حالت ایسی ہوگئی تھی کہ ان لوگوں کے دانت بجنے لگے۔۔

سردی کہ رہی ہو جیسے جنتی آج پڑنی ہے اتنی کبھی نہیں۔۔

وہ چاروں ٹھنڈے پانی میں کھڑے کانپ رہے تھے۔۔

“پتا نہیں میں فوج میں کیوں آگیا؟” ان میں سے ایک بڑبڑایا۔۔

اور اس کی بات پر وصی کی ہنسی نکلی۔۔

“ہنس مت سالے تیری وجہ سے ہوا ہے سب” شان نے غصہ سے وصی کو گھورا۔۔

“میں نے اپنا کہا تھا تم لوگوں کا کیا بگاڑ دیا میں نے؟” وصی نے کہا

“تونے لائٹ کیوں نہیں آف کی؟” شان نے غصہ سے پوچھا۔۔

“تونے ہی کہا تھا کہ کچھ ایسا کر تجھے یہاں سے خود نکال دیں یہ لوگ” وصی نے یاد دلایا

“اچھا تو تجھے یہی سوجی تھی۔۔اس میں تو اکیلا نہیں ہم سب پھنسے ہیں” شان نے کہا

“اور چل مجھے تو تیرے ساتھ دوستی کی سزا مل رہی ہے۔۔۔ان بیچاروں کا کیا قصور ہے؟” شان تلخی سے کہنے لگا۔۔

اور وصی کا قہقہہ گونجا۔۔

“ہنس لے بیٹا۔۔۔یہاں سردی میں حالت ٹائٹ ہوگئی۔۔۔” شان نے ناگواری سے کہا

“دیکھ۔۔۔سردی اور بے عزتی جتنی فیل کرے گا۔۔اتنی لگے گی” وصی نے شرارت سے کہا

“بے عزتی فیل کرنا تو اسی وقت چھوڑ دی تھی جب تجھ سے دوستی کی تھی” شان نے ناگواری سے کہا۔۔

“کم ہیئر بوئیز۔۔۔” تبھی وہاں میجر صاحب آئے۔۔

“یس سر” وہ لوگ جلدی سے باہر نکلے اور سیدھے کھڑے ہوئے۔۔

“یہ لاسٹ ٹائم تھا۔۔۔نیکسٹ ٹائم کوئی بھی رول توڑا تو سزا کے لیے تیار رہنا جو اس بھی بڑی ہوگی” میجر صاحب نے کرخت لہجے میں کہا۔۔

“ناؤ گو۔۔۔” انہوں نے سخت لہجے میں کہا

اس وقت فجر کا وقت ہونے میں ایک گھنٹہ تھا۔۔

وہ لوگ سردی سے کانپ رہے تھے۔۔

جب کمرے میں آئے۔۔

“فجر تو ہونے ہی والی ہے۔۔۔پوری رات۔۔۔اچھو۔۔۔” شان کو چھینک آئی۔۔

اور وصی کا قہقہ گونجا۔۔

“ہنس لے بیٹا اللہ پوچھے گا تجھے” شان نے رومال سے ناک صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

اسے سردی لگ چکی تھی۔۔۔

لگ تو وصی کو بھی رہی تھی۔۔ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات بھی وہ لوگ ٹھیک سے نہیں سوئے تھے اور پورے دن سے تھکا دینے والی ٹریننگ۔۔۔

ان سب کی حالت خراب ہوگئی تھی۔۔

بھاگ بھاگ کر اب تو ان کے پاؤں درد کر رہے تھے۔۔

وہ لوگ کھانے کی غرض سے میس پہنچے۔۔

اور جا کر ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔

“تو دیکھنا میری تو میت نکلے گی اس اکیڈمی سے۔۔۔زندہ تو یہ چھوڑیں گے نہیں مجھے” شان نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا

“اتنا ہی ڈر تھا تو آرمی کیوں جوئن کی تو نے۔۔” وصی نے کہا۔۔

“دماغ خراب ہوگیا تھا میرا۔۔۔” شان نے کہا۔۔

اور وصی کا قہقہ نکلا۔۔

“ہے یو۔۔۔” کرخت آواز پر وہ دونوں چونکے۔۔

سامنے ہی شفی کھڑا تھا۔۔۔

وصی کے چہرے پر ناگواری اتری۔۔

“وائے آر یو لافنگ؟” شفی سخت لہجے میں دھاڑا

“نتھنگ سر۔۔۔” شان اور وصی اٹھ کھڑے ہوئے۔۔

“سر ہم ہم تو بس کھانا کھانے آئے ہیں” شان نے کہا

“اوہ کھانا کھانا ہے۔۔۔اوکے ناؤ سیٹ ڈاؤن” شفی نے سنجیدگی سے کہا

“لسن۔۔۔ادھر دو پلٹ پائے کا سالن لے آؤ” شفی نے شرارت سے کہا۔۔

“پائے۔۔۔” وصی نام سنتے ہی اچھل پڑا۔

“ہاں کیوں۔۔۔پائے سے کوئی پرابلم ہے تمہیں؟” شفی نے ہنسی دباتے ہوئے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھا۔۔

“میں نہیں کھا سکتا” وصی نے کہا

“تم سینئر کی بات ماننے سے انکار کر رہے ہو؟” شفی نےتلخی سے پوچھا۔۔۔

شفی جانتا تھا وصی کو پائے کا سالن پسند نہیں۔۔۔

وہ سب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔۔

حور بس چمچ ہلا رہی تھی۔۔

پتا نہیں کن سوچوں میں گم تھی۔۔

“کیا ہوا حور؟” ثریا بیگم نے اسے نوٹس کیا

“جی۔۔۔کچھ نہیں۔۔نانو۔۔” حور بوکھلائی

“پھر کھانا ٹھیک سے کیوں نہیں کھا رہی؟” انہوں نے اسے ٹوکا

“کھا رہی ہوں نانو” حور نے کہا اور کھانے لگی۔۔

“یہ کہاں کچھ کھاتی ہے اماں۔۔۔کبھی کبھی تو بغیر ناشتے کے اسکول چلی جاتی ہے” شائستہ بیگم نے کہا

“کھانے کا دھیان رکھا کرو بیٹا” انہوں نے سمجھایا۔۔

“زبردستی کھلایا کرو۔۔کمزور ہوتی جا رہی ہے۔۔۔اور شفی کو دیکھو ماشاءاللہ صحت ہے۔۔” نونو نے کہا

“ہاہاہا جوڑ ہی نہیں بیٹھے گا پھر تو۔۔۔” شائستہ بیگم ہنسی۔۔

“ویسے شفی کی کال وغیرہ آئی؟ ” انہوں نے پوچھا

“ہاں اماں۔۔بتا رہا تھا وصی کا دل نہیں لگ رہا۔۔” شائستہ بیگم نے کہا

“ہاں۔۔میرے بچے کا دل نہیں لگ رہا کبھی دور رہا ہی نہیں۔۔میرا خود دل نہیں لگ رہا اس کے بغیر” نانوں نے اداسی سے کہا۔۔

لگ جائے گا کوئی بچہ تھوڑی رہ گیا اب” فاروق صاحب نے کہا۔۔

“بچہ ہی ہے” ثریا بیگم نے کہا۔۔

“ابا یہ سبزی لیں نا اچھی بنی ہے” شائستہ بیگم نے بات کو ٹالااس سے پہلے کہ ان کا جھگڑا شروع ہوتا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“بیڑا غرق ہو شفی تیرا” وصی نے پیٹ کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔

“ہاہاہا یار تیرا بھائی نہیں لگتا مجھے وہ تیرا دشمن لگتا ہے” شان نے ہنس کر کہا

“تو ہی تعریف کر رہا تھا۔۔۔” اس نے جل کر کہا۔۔

“میں تو اس کو نیک سمجھ رہا تھا۔۔۔” شان نے ہنس کر کہا۔۔

اور وصی کچھ کہنے کے بجائے واش روم بھاگا۔۔

جب سے اس نے زبردستی کھانا کھایا تھا۔۔

بار بار اسے الٹی آنے کو ہورہی تھی۔۔

یہ سزا اسے سب سے زیادہ مہنگی پڑی تھی۔۔

شفی کو معلوم تھا اسے پائے کے سالن سے چڑ ہے۔۔

اور اس نے تو ٹھان ہی رکھی تھی کہ اسے تنگ کرنا ہے بس۔۔

“وصی تو ٹھیک ہے؟” شان نے کہا۔۔

اسے الٹی کرتا دیکھ شان نے پوچھا۔۔

وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے پھر سے باہر آیا۔۔

“اس شفی کو۔۔۔میں۔۔۔نہیں چھوڑوں گا” وصی نے بمشکل کہا

“وصی تو ٹھیک ہے؟” شان نے پھر پوچھا۔۔

“ٹھیک رہنے لائق اس نے چھوڑا کہاں ہے مجھے۔۔۔” وصی کہتے ساتھ بیڈ پر لیٹا۔۔

اور شان کا قہقہہ نمودار ہوا۔۔۔

“ہنس لے۔۔۔بیٹا تیرا اور شفی کا وقت ہے سود سمیت بدلہ لوں گا” وصی نے کہا

“یہ لے پانی پی” شان نے پانی بڑھایا اس کی طرف۔۔

جسے اس نے غٹاغٹ پی لیا۔۔تو تھوڑا سکون ملا۔۔

“میں نہیں رہوں گا یہاں۔۔۔ میں بھاگ جاؤں گا” وصی نے کہا۔۔

“فلحال تو تو آرام کر” شان نے کہا اور لائٹ آف کردی۔۔

اس بار وہ ٹائم آوٹ کے بعد لائٹ آن کر کے رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔