Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 26)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 26)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ کمرے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی کہ شائستہ بیگم اندر آئی۔۔
ہاتھ میں ریڈ کلر کا ڈریس لیے۔۔
“حور۔۔۔یہ لو۔۔۔بیوٹیشن آگئی ہے۔۔”
انہوں نے بیڈ پر ڈریس رکھتے ہوئے کہا۔۔
“مما۔۔۔بیوٹیشن کو واپس بھیج دیں
میں خود تیار ہوناؤں گی”
حور نے سنجیدگی سے کہا
“کیوں؟۔۔۔حور میری بچی۔۔۔کیا بات ہے؟”
وہ اس کے قریب بیٹھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔
“کچھ نہیں۔۔”
حور نے سر جھکائے مختصر کہا۔۔
“تم وصی کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے جارہی ہو۔۔
سب کچھ قسمت پر چھوڑ دو۔۔انشاءاللہ تم وصی کےساتھ خوش رہو گی۔۔”
انہوں نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔
“تیار ہوجاؤ۔۔مہمان آنا شروع ہوگئے ہیں۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا۔۔
اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
وہ سادہ سے کپڑوں میں چادر اوڑھے چل رہا تھا
رات کا وقت تھا ہر طرف اندھیرا تھا۔۔
وہ چلتا ہوا گیٹ کے قریب آیا۔۔
گیٹ پر لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا
روشنی دور تک پھیل رہی تھی۔۔
جب اس نے گیٹ سے اندر قدم رکھا۔۔
تو اسے ہر طرف گہما گہمی نظر آئی۔۔
گھر کو ہلکا پھلکا سجایا گیا تھا۔۔
خاص خاص مہمانوں کو بلایا گیا تھا۔۔
وہ حیرت سے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔۔
پھر آہستہ قدم رکھتا اندر داخل ہوا۔۔
تبھی مہمانوں نے اسے گھیر لیا۔۔۔
ددا ددو سب بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے۔۔
کتنے دنوں بعد انہوں نے اسے دیکھا تھا۔۔
سب اسے بہت پیار کر رہے تھے۔۔
وہ بھی ان سے مل کر کب سے ضبط کیے آنسوں بہانے لگا۔۔
شفی نے انہیں بتایا کہ وہ کس طرح دشمنوں کی قید سے رہا ہوکر واپس آیا۔۔
اس نے کتنی ععزیتیں برداشت کی۔۔
اس کے بازوں جگہ جگہ سے جلے ہوئےتھے۔۔
مگر اس نے اف تک نہیں کی۔۔وطن کے لیے جان قربان کرنا۔۔۔
انہیں اچھے سے سکھایا جاتا تھا۔۔
“میرے بچے نے بہت ظلم سہے ہیں۔۔”
ددو نے اسے گلے لگایا۔۔
“ددو میں کچھ دن اور وہاں رہتا نا۔۔۔میں مر جاتا۔۔۔”
شفی نے نم آنکھوں سے کہا
“اللہ نا کرے میرا بچہ۔۔۔اللہ تجھے لمبی عمر دے۔۔”
ددو نے اسے پیار کیا۔۔
تبھی وصی اندر داخل ہوا۔۔۔
اور تیزی سے آکر شفی کے گلے لگا۔۔۔
دونوں کی آنکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے۔۔
“تو کہاں چلا گیا تھا یار۔۔مجھے چھوڑ کر”
وصی کی آواز بھر آئی۔۔
“پتا ہے وصی۔۔۔مجھے ایسا لگ رہا تھا وہاں۔۔۔ جیسے میں اب کبھی تم لوگوں سے مل نہیں پاؤں گا۔۔۔”
شفی نے نم آنکھوں سے کہا
“پتا ہے ددا۔۔۔دشمن ملک میں بھی ایک بھلے انسان نے میری مدد کی۔۔۔ہم جسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں نا۔۔۔اچھے انسان وہاں بھی ہیں۔۔۔شاید اگر وہ مجھے بھگانے میں مدد نا کرتا تو شاید میں آپ لوگوں کے بیچ نا ہوتا۔۔”
شفی نے بتایا۔۔
“اس شخص نے صرف ایک بات کہی کہ اگر دو ملکوں کی دشمنی کو پیار سے ختم کیا جاسکتا ہے تو ہمیں پیار بانٹنا چاہیے۔۔۔”
شفی نے کہا
“اللہ بھلا کرے اس شخص کا جس نے ہمیں ہمارا بچہ واپس لوٹا دیا۔۔”
ددو نے دعا دی۔۔
“ویسے یہ گھر کیوں سجایا گیا ہے۔۔ وصی کی شادی ہے کیا ؟” شفی نے وصی کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
وہ جو شیروانی پہنے بیٹھا تھا۔۔
یک سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
وہ آئینے کے سامنے بیٹھی خود کو گھور رہی تھی۔۔
ریڈ لہنگا پہنے وہ دلہن بنی بیٹھی تھی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اسکی شادی تھی۔۔
حور بیٹی اپنی زندگی پر نظر ثانی کر رہی تھی۔۔
کیا سب اس کے لیے اتنا آسان تھا۔۔؟
آج اسے ہمیشہ کے لیے وصی کا ہوجانا تھا۔۔
جس کے اس کا دل تیار نہیں تھا۔۔
مگر قسمت کو شاید یہی منظور تھا۔۔
اس نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔
دو قطرے آنکھ سے نکل کر گال پر پھسل گئے۔۔
تبھی کمرے میں ایک لڑکی نے آکر اسے شفی کے آنے کی خبر دی۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔۔
جیسے یقین ہی نا آیا ہو۔۔
لیکن جب اسے یقین ہوا کہ وہ سچ کہ رہی ہے تو۔۔۔یک اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“شفی۔۔۔” اس نے زیر لب کہا۔۔
پھر لہنگے کو دونوں ہاتھوں سے سمبھالتی تیزی سے باہر بھاگی۔۔
وہ سیڑھی اترتی نیچے گئی۔۔
لاؤنج کے بند دروازے پر آکر لمحہ بھر رکی۔۔
شاید وہ ڈر رہی تھی۔۔
کسی نے اس کے ساتھ مزاق نا کیا ہو۔۔
ڈرتی بھی کیوں نا۔۔قسمت نے واقع اس کے ساتھ مزاق ہی کیا تھا۔۔
وہ گہرے سانس خارج کرتی وہیں ساکت کھڑی تھی۔۔
پھر ہمت کر کے آہستہ سے دروازہ کھولنا چاہا۔
یک دم شفی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔
مگر اس کے سوال نے اسے چونکا دیا۔۔
“ویسے یہ گھر کیوں سجایا گیا ہے۔۔ وصی کی شادی ہے کیا؟”
اس کے سوال نے اس کے حوش اڑا دیے
“شفی وہ۔۔۔وصی کی شادی تھی۔۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا
“کیا۔۔۔؟ ارے واہ۔۔ویسے تو مانتا نہیں تھا شادی کے لیے۔۔
اور میرے بغیر دولہا بھی بن گیا۔۔؟ یہ غلط بات ہے۔۔”
شفی نے خفگی سے کہا۔۔
سب خاموش تھے۔۔
شاید سب شرمندہ تھے۔۔
“ویسے لڑکی کون ہے۔۔۔جس کی قت پھوٹ رہی ہے۔۔؟”
شفی نےشرارت سے پوچھا۔۔
یک دم وصی اٹھ کر اس کے قریب آیا
“تو کھڑا ہو۔۔” وصی نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
“کیا ہوا؟” شفی اٹھا۔۔
“میرے ساتھ آ۔۔۔” وہ اسے ہاتھ پکڑے دروازے کی طرف بڑھا۔۔
جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔
سامنے حور پر دونوں کی نظر پڑی۔۔
