Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 15)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
“تم جیسا کہو گی ویسا ہی بن جاؤں گا یار” وصی چیئر کھسکا کر اس کے قریب بیٹھا۔۔
نور نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
“مگر پلیز ناول پڑھنے کا مت کہنا۔۔۔۔۔” وصی نے منہ بنایا
“ٹھیک ہے مگر جیسا میں کہوں گی وہسا ہی کرو گے” نور نے انگلی دکھائی۔۔
“جو حکم۔۔۔” وصی نے سر جھکاتے ہوئے کہا
اور نور ہنس دی۔۔
اب تو ہاں کردو۔۔۔” وصی نے کہا
“ہاں۔۔۔۔” نور نے ہنس کر کہا۔۔
“سچ میں۔۔۔” وصی اچھلا۔۔
“آئی لو یو وصی۔۔۔مجھے پتا ہی نہیں چلا مجھے کب تم سے محبت ہوئی۔۔” نور نے سادگی سے کہا
اور اس کے کاندھے پر سر رکھ دیا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی جب دروازہ ہلکی سی دستک پر کھل گیا
اور شفی اندر داخل ہوا۔۔
وہ اسے دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“آ۔۔آپ۔۔۔یہاں” حور چونکی۔۔
“ہاں کیوں میں یہاں نہیں آسکتا؟” شفی نے پوچھا۔۔
“دیکھیں میں نے۔۔کچھ۔۔۔نہیں کیا وہ وصی نے ہی مرچیں ڈالی تھی۔۔۔۔” حور نے نظریں جھکائی۔۔
“مجھے پتا ہے یہ اسی کی حرکت تھی۔۔” شفی نے سنجیدگی سے کہا
“اصل میں مجھے کافی پینی تھی۔۔پھپھو اور ددو باہر گئی ہیں۔۔تم بنا دو گی؟” شفی نے مسکرا کر پوچھا
“جی۔۔جی بناتی ہوں” حور کہتے ساتھ باہر نکل گئی۔۔
اور شفی بھی اس کے پیچھے چل دیا۔۔
وہ کچن میں جا کر کافی بنانے لگی۔۔
شفی خاموشی سے پیچھے کھڑا ہوگیا۔۔
“کلاسس کیسی چل رہی ہے تمہاری” شفی نے پوچھا۔۔
“اچھی۔۔” حور نے مختصر کہا۔۔
“حور ایک بات پوچھوں؟” شفی نے اسے بغور دیکھا
“جی۔۔” حور نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“تم نے کبھی سوچا ہوگا میں اتنا بڑا ہوں تم سے اور تم چھوٹی ہو، گھر والوں نے زبردستی کیوں کیا رشتہ وغیرہ وغیرہ۔۔” شفی نے سینے پر ہاتھ باندھے اسے کھوجتی نظروں سے دیکھا
“نہیں۔۔۔آپ اتنے بڑے بھی نہیں ہیں۔۔اور ویسے بھی لڑکا بڑا ہوتا ہے” حور نے کہا
“اتنا بڑا تو نہیں ہوتا۔۔” شفی نے شرارت سے کہا
“کیوں نہیں ہوتا پانچ چھ سال کا فرق تو چلتا ہے۔۔اور ویسے بھی عمر سے کیا ہوتا ہے لڑکا اچھا ہونا چاہیے۔۔تو پھر۔۔” حور بے دھیانی میں بولتی چلی جارہی تھی۔۔
احساس اسے تب ہوا جب شفی اس کے قریب آکر کھڑا ہوا۔۔
اس نے یک دم نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
وہ آنکھوں میں شرارت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
حور نظریں جھکا گئی۔۔
“بولو۔۔میں نے پہلی بار تمہیں یو بولتے دیکھا ہے” شفی نے مسکرا کہا۔۔
اور وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی۔۔
“تمہیں پتا ہے حور۔۔تم بہت خوبصورت ہو۔۔اور جب تم بولتی ہو تو اور بھی پیاری لگتی ہو۔۔” شفی کی نظر اس کے جھکے ہوئے ٹکی تھی۔۔
“مگر پرابلم یہ ہے کہ تم بولتی ہی نہیں ہو” شفی نے ہنس کر کہا۔۔
“یہ آپ کی کافی۔۔” حور نے اس کی طرف کپ بڑھایا۔۔
جسے اس نے مسکراتے ہوئے تھام لیا۔۔
اور حور بنا کچھ کہے کچن سے نکل گئی۔۔
“پورا دن باہر گزار آئی اب کیا ضرورت تھی آنے کی؟” ددا نے ددو کو باہر سے آتا دیکھ کہا۔۔
“پورا دن کہاں سے ہوگیا۔۔بارہ بجے ہیں ابھی” ددو نے کہا
“ہاں تو دوپہر ہونے کو آئی ہے۔۔یہ کوئی ٹائم ہے” ددا نے غصہ سے کہا
“ہم کوئی سیر سپاٹے پر نہیں گئے تھے۔۔کسی کی طبیعت پوچھنے گئے تھے اب دیر تو لگ ہی جاتی ہے” ددو نے ناگواری سے کہا
“ہاں اور بس تمہیں بہانا مل گیا۔۔”
“تو خود چلے جاتے۔۔اب رشتے داری کو نبھانا بھی پڑتا ہے” ددو نے غصہ سے کہا
“تو کسی کے گھر جا کر بیٹھ ہی جاؤ۔۔وہ بھی تنگ ہوگئے ہوں گے”
ددا نے بھی تلخ لہجے میں کہا
“آپکو تو بہانا چاہیے بس لڑنے کا۔۔” درو نے کہا
“مجھے کوئی شوق نہیں تم سے لڑنے کا۔۔تم لڑ رہی ہو” ددا نے کہا
میں لڑ رہی ہوں۔۔اب آتے ہی کون سنانا شروع ہوا تھا؟”
ددو نے غصہ سے پوچھا۔۔
وصی جو صبح سے سورہا تھا ان کی لڑائی سے نیند ہمیشہ کی طرح پھر سے خراب ہوئی تو باہر نکل آیا۔۔
“یار ددا کیا ہوگیا۔۔ادھر وہ فوج والے سونے نہیں دیتے یہاں آپ” وصی نے کہا
“تو چپ کر۔۔۔۔شفی بھی تو ٹائم سے اٹھ گیا تو بھی اٹھ جاتا” ددا نے ٹوکا
“ددو دیکھ رہی ہیں نا آپ۔۔اب یہ میرے سونے پر بھی پابندی لگا رہے ہیں” وصی نے ددو کو دیکھتے ہوئےکہا۔۔
“ان کا تو یہی کام ہے سب پر روک ٹوک کرنا۔۔لڑنا جھگڑنا” ددو نے کہا۔۔
“اور تمہارا کیا کام ہے دوسروں کے گھر جا کر۔۔وہیں بس جانا” ددا نے الٹ کہا
اور دونوں میں پھر سے جھگڑا شروع ہوگیا۔۔
اور وصی تنگ آکر پھر سے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔۔
تیار ہوا اور گاڑی لے کر باہر نکل گیا۔۔
اس کا رخ نور کے کالج کی طرف تھا۔۔
“یہ وصی کہاں چلا گیا؟” شائستہ بیگم نے اس کی گاڑی کو گیٹ سے نکلتے ہوئے دیکھا۔۔
“گیا ہوگا کسی لڑکی سے ملنے۔۔” شفی نے ٹی وی پر نظریں جمائے ہوئے جواب دیا۔۔
“لڑکی کون؟” شائستہ بیگم بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
“بتایا تو تھا میں نے مال میں دیکھا تھا لڑکی کے ساتھ۔۔۔پھر منگنی والے دن بھی وہ آئی تھی۔۔” شفی نے ریموٹ سے آواز کم کرتے ہوئے کہا
“پھر تو مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے شفی” شائستہ ںیگم نے کہا
“کالا کچھ نہیں پوری دال کالی ہے۔۔بتا رہا ہوں میں نظر رکھ لو” شفی نے سنجیدگی سے کہا
“ہاں اگر پسند کرتا ہے تو بتائے نا پتا تو چلے ہمیں بھی کون ہے کیسی ہے؟” شائستہ بیگم نے کہا
پتا تو میں لگا ہی لوں گا” شفی نے کہا
“اچھا کھانا بن گیا؟” شفی نے پوچھا
“ہاں بس لگا رہی ہوں آجاؤ تم بھی” وہ کہتی اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔
۔۔ نور کاندھے پر بیگ لٹکائے۔۔
یونیورسٹی کےگیٹ سے باہر نکلی۔۔
سامنے ہی وصی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔۔
نور اس کے قریب آئی۔۔
“ہیلو مسٹر۔۔یہاں وہاں کیا دیکھ رہے ہو؟” نور نے پوچھا۔۔
“ظاہر ہے لڑکیاں” وصی پاس سے گزرتی لڑکیوں کو دیکھ کر شرارت سے کہا
“اوئے۔۔۔” نور اس کا گریبان پکڑتے ہوئے غرائی۔۔
اور وصی زور سے ہنسا۔۔
“مزاق کر رہا ہوں یار۔۔تمہارا انتظار کر رہا تھا۔۔” وصی نے کہا۔۔
“چلو پھر۔۔” وہ کہ کر آگے بڑھ گئی۔۔
“گاڑی میں بیٹھو نا۔۔۔” وصی نے اشارہ کیا
“بس آنے والی ہوگی میری۔۔”وہ چلتی جارہی تھی۔۔
وصی بھی اس کے ساتھ چل دیا۔۔
“مگر گاڑی میں کیوں نہیں جارہی؟” وصی نے پوچھا
“نہیں یار اچھا نہیں لگتا۔۔ہلے بھی تم چھوڑنے گئے تھے تو میری مما کو اچھا نہیں لگا۔۔لوگ باتیں بناتے ہیں” نور نے بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
اور بس کا انتظار کرنے لگی۔۔
وصی بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔
“لگتا ہے آنٹی سے بات کرنی پڑے گی مجھے” وصی نے کہا
“کیا بات؟” نور نے اسے یکھا۔۔
“یہی کہ میں اسے ڈراپ کردوں تو آپ اعتراض مت کریں۔۔۔آخر کو ایک دن میں نے ہی شادی کر کے لے جانا ہے اسے” وصی نے سادگی سے کہا۔۔
“ہاہاہا۔۔۔۔اچھا اور خود تم فوج میں چلے جاؤ گے۔۔۔پرمیشن لینے کا فائدہ۔۔مجھے تو بس میں جانے دو۔۔” نور نے ہنس کر کہا۔۔
“یار میں نہیں جا رہا واپس۔۔” وصی نے اکتا کر کہا
“کیوں؟” نور نے پوچھا۔۔
“مجھے پسند نہیں فوج۔۔” وصی نے ناگواری سے کہا
“لیکن مجھے پسند ہے اور میں چاہتی ہوں تم واپس جاؤ۔۔”
نور نے مسکرا کر کہا
“تم رہ لو گی میرے بنا؟” وصی نے پوچھا۔۔
“ہاں۔۔۔میں تمہارا بے تابی سے انتظار کیا کروں گی۔۔جب تم آؤگے تو سب سے پہلے میں تمہیں اسٹیشن پر کھڑی ملوں گی۔۔بانہیں پھیلا کر۔۔۔تمہارا انتظار کروں گی ” نور نے چہک کر اپنے خیالات بتائے۔۔
وصی لمحہ بھر اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھتا رہا۔۔
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھوئے اپنے لیے محبت دیکھ رہے تھے۔۔
تبھی بس آکر رکی اور ان دونوں کی نظروں کا تسلسل ٹوٹا۔۔
وہ بیگ کاندھے پر ڈالتی کھڑی ہوئے۔۔
“میری بس آگئی۔۔” نور کہتی جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ اسنے اپنے ہاتھ پر لمس محسوس کیا۔۔
“نور۔۔۔” وصی کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھا
اس نے پلٹ کر وصی کو دیکھا۔۔
جو محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“آئی لو یو۔۔۔” وصی نے نے کہتے ساتھ اس کے ہاتھ پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی۔۔
نور نے لمحہ بھر اپنی آنکھیں بند کی۔۔
نور کا دل نہیں کر رہا تھا۔۔وہ یہ لمحہ چھوڑ کر چلی جائے۔۔
مگر اس کی بس آگئی تھی۔۔
“آئی لو یو ٹو وصی۔۔۔نور کی زندگی وصی کے بنا ادھوری ہے۔۔” نور نے آہستگی سے کہا۔۔
وصی کھڑا مسکرانے لگا۔۔
اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
وہ ہاتھ ہلاتی بس میں چڑھ گئی۔۔
بس اسٹارٹ ہوتی وصی کی نظروں سے دور جانے لگی۔۔
اور وصی مسکراتا واپسی کے لیے پلٹ گیا۔۔
کہ یک ایک زار دار دھماکے کی آواز وصی کے کانوں کو چیرتی ہوئی گئی۔۔
وہ آواز اتنی تیز تھی۔۔مانو زمین ہل گئی۔۔
وصی نے پلٹ کر دیکھا۔۔جو اسے اپنے پاؤں سے زمین نکتی محسوس ہوئی۔۔
سامنے ہی ہر طرف آگ تھیجس بس میں نور چڑھی تھی اس بس میں بم بلاسٹ ہوا تھا۔۔۔
وصی کو اپنی آنکھوں کے آگے اندھیرا آتا دکھائی۔۔۔
