Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 28)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

بارش ہونے کی وجہ سے ٹھنڈ ہوگئی تھی۔۔موسم خوشگوار تھا۔۔

فجر کی نماز ادا کر کے اس نے ایک نظر بیڈ پر گہری نیند سوئے ہوئے شفی پر ڈالی۔۔

پھر کھڑکی کی طرف چلی گئی۔۔

کھڑکی سےباہرجھانکنے لگی۔۔

تبھی اس کی نظر لان میں کھڑے وصی پر پڑی۔۔

جو بلاوجہ ہی یہاں وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔۔

شاید کسی گہری سوچ میں تھا۔۔

حور اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔۔جب اسے خود پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔۔

اس نے یک دم گردن موڑ کر دیکھا۔۔

شفی اس کےگرد بازو حمائل کیے۔۔اسے دیکھ رہا تھا۔۔

وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔

“یہاں کیا کر رہی ہو؟” شفی نے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔

وصی ابھی بھی وہیں تھا۔۔

شفی نے ایک نظر حور کو دیکھا۔۔

پھر بنا کچھ کہے وارڈ روب کی جانب بڑھ گیا۔۔

اپنے کپڑے لیے اور واش روم میں گھس گیا۔۔

حور خاموش کھڑی اسے دیکھتی رہی

پھر کمرے سے باہرنکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شائستہ بیگم ناشتہ بنانے میں مصروف تھی

جب حور کچن میں داخل ہوئی۔۔

“ارے تم اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی حور؟”

شائستہ بیگم نے اسے دیکھتے ہی ٹوکا۔۔

“بس ویسے ہی۔۔۔میں ہیلپ کرواؤں آپ کی؟”

حور نے قریب آتے ہی کہا۔۔

“نہیں میں کرلوں گی۔۔ابھی کل ہی تو شادی ہوئی ہے میری بیٹی کی۔۔”

انہوں نے پیار سے کہا۔۔

“تو کیا ہوا مما یہ گھر میرے لیے نیا تو نہیں ہے”

حور نے مسکرا کر کہا۔۔

“شفی اٹھ گیا؟”

شائستہ بیگم نے پوچھا

“جی اٹھ گئے”

حور نے جواب دیا

“اچھا۔۔۔بس بن گیا ناشتہ۔۔میں وصی کو بھی اٹھا کر آتی ہوں۔۔”

شائستہ بیگم نے کہا

“وہ بھی اٹھ گئے۔۔۔باہر لان میں دیکھا تھا میں نے”

حور نے کہا

“اچھا۔۔۔کیا بات ہے آج تو سب ہی ٹائم پر اٹھ گئے۔۔”

شائستہ بیگم نےہنس کر کہا۔۔

اور حور بھی مسکرا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ناشتہ کے بعد۔ وہ سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے تھے

“شفی پرسوں سے ڈیوٹی جوئن کرنی ہے۔۔

سب نے مل کر تیرے لیے پارٹی بھی رکھی ہے۔۔

تونے جو ملک کے لیے کیا، کتنا کچھ سہا۔۔

سب کو فخر ہے تجھ پر۔۔”

وصی نے خوشدلی سے کہا۔۔

“ہاں اللہ میرے پوتے کو خوب ترقی دے۔۔۔”

ددو نے شفی کو پیار کیا۔۔

“لیکن اتنی جلدی انہیں بتا دیتے نا شادی ہوئی ہے شفی کی”

شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“ارے پھپھو۔۔۔پارٹی وغیرہ رکھی ہے نا۔۔۔اس کا جانا لازمی ہے۔۔”

وصی نے کہا۔۔

“میری ددو کی دعائیں تھی۔۔”

شفی نے ددو کے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔

ددو بھی خوش ہوئی۔۔

“آج گھومنے چلتے ہیں۔۔۔” وصی نے یک دم مشورہ دیا۔۔

“کہاں؟” شفی نے پوچھا۔۔

“پارک وغیرہ اور بھی بہت سی جگہیں ہیں یار تو چل تو سہی۔۔۔”

وصی نے کہا۔۔

“اچھا چلو پھر۔۔۔”

شفی اٹھ کھڑا ہوا۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ گھومنے کی غرض سے نکل پڑے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

انہیں گھومتے ہوئے وقت کا پتا نہیں لگا۔۔

دوپہر کے تین بجے وہ لوگ ریسٹورنٹ کی جانب بڑھے۔۔

وصی نے گاڑی روکی اور سب لوگ اتر کر آگے بڑھے۔۔

تبھی حور کی نظر ایک فقیر پر پڑی جو چل نہیں سکتا تھا۔۔

حور نے کچھ پیسے پرس نکال کر اس فقیر کو دیے۔۔

جب پلٹی تو وہاں کوئی نہیں تھا وہ لوگ ریسٹورنٹ کے اندر چلے گئے تھے۔۔

وہ جلدی سے آگے بڑھی مگر یک دم کسی سے ٹکراؤ ہوا۔۔

وہ کوئی نوجوان لڑکا تھا۔۔

“سوری۔۔۔” حور نے کہا آگے بڑھنے ہی لگی تھی کہ اس نے راستہ روکیا۔۔

“ہے بیوٹیفل۔۔۔اب ٹکرا ہی گئی ہو تو اپنا نام بھی بتا دو۔۔۔”

اس لڑکے نے مسکرا کر کہا۔۔

حور یک دم گھبرا گئی۔۔

تیزی سے اس کی آنکھوں میں نمی امڈ آئی۔۔

“ہے پرنسس رو کیوں رہی ہیں۔۔۔میں تو صرف نام پوچھ رہا ہوں۔”

اس لڑکے نے کہا۔۔۔

“مجھے۔۔۔جانے دیں پلیز۔۔۔”

حور نے گھبرا کر کہا۔۔

اس کی آنکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ سب لوگ ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے ۔۔۔

تبھی وصی کا فون بجنے لگا۔۔

“آپ لوگ چلیں میں آتا ہوں۔۔۔”

وصی نے جیب سے فون نکالتے ہوئے کہا۔۔

وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔

“حور کہاں گئی۔۔؟”

شفی نے پوچھا۔۔

“شاید وصی کے ساتھ رک گئی ہوگی۔۔”

ددو نے کہا۔۔

وصی فون پر بات کر رہا تھا کے شیشے سے اس کی نظر باہر روڈ پر پڑی جہاں حور کھڑی رو رہی تھی۔۔

اور اس کے پاس ایک لڑکا کھڑا اسے کچھ کہ رہا تھا۔۔

یکدم اس کے چہرے کے رنگ بدلے وہ تیزی فون بند کر باہرکی جانب بڑھا۔

“تم کہیں شادی پر جارہی ہو۔۔۔؟”

اس لڑکے نے اس کے مہندی والے ہاتھوں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔۔

تبھی وصی نے اسے کالر سے پکڑ کر سامنے کیا۔۔

“تجھے میں بتاتا یہ شادی شدہ ہے یا نہیں۔۔۔”

وصی نے غصہ سے کہا

اور وصی کا ایک مکہ اس کے منہ کا نقشہ بگاڑ گیا

لوگوں نے اسے پکڑا۔۔۔

حور گھبرائی ہوئی کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔

تبھی شفی اور سب گھر والے بھی وہاں آن پہنچے۔۔

“کیا ہورہا ہے یہاں۔۔۔؟” ددا نے تلخ لہجے میں پوچھا۔۔

“ددا یہ لفنگا حور کو چھیڑ رہا تھا۔۔۔”

وصی نے غصہ سے کہا ۔

حور شائستہ بیگم کے پاس کھڑی رو رہی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“وصی پھر بھی تجھے ہاتھا پائی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔”

شفی نے کہا

“کیا ہوگیا ہے شفی؟ وہ آوارہ لڑکا حور کو چھیڑ رہا تھا اور تجھے مجھے ہی کہ رہا ہے کہ مجھے مارنا نہیں تھا۔۔۔

میرا بس نہیں چلا ورنہ اسے وہیں گاڑ دیتا میں۔۔۔”

وصی نے غصہ سے کہا۔۔

“ملک میں پتا نہیں ایسے پتا نہیں کتنے ہیں۔۔کس کس کو مارے گا؟”

شفی نے کہا۔۔

“ان کا پالا مجھ سے نہیں پڑا۔۔۔ویسے آج بات ہماری عزت پر آگئی تھی۔۔

حور کو کو تنگ کر رہا تھا وہ کسی پرائے کو نہیں۔۔۔

اور تو الٹا مجھے سنا رہا ہے”

وصی نے تلخ لہجے میں کہا

“تو۔۔۔وہ میری بیوی بھی ہے میری بھی عزت ہے۔۔۔

جب میں نارمل ہوں۔۔تو تجھے ہائپر ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔؟”

شفی نے کے جملے نے نا صرف وصی کو چونکایا۔۔

بلکے سب کو حیران کردیا تھا۔۔