Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 35)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 35)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
“شفی تو پاگل ہوگیا ہے” وصی نے جھنجھوڑتے ہوئے غصہ سے کہا۔
“ہاں پاگل ہوگیا ہوں میں۔۔۔کیاغلطی تھی میری یہی کہ میں اس سے بے پناہ محبت کی ہے۔۔۔اور اسنے۔۔”
شفی کی آنکھوں سےآنسوں گرے۔۔
“مجھے آج سمجھ آیا۔۔۔اج تک تم مجھ سے کیوں بھاگتی رہی۔۔۔کیوں مجھے اپنے قریب تک نہیں آنے دیتی تھی۔۔
میں شایدایسا پہلا مرد ہوں جس نے آج تک اپنی بیوی کوہاتھ تک نہیں لگایا۔۔اوراپنے بھائی نے میری کے ساتھ۔۔۔”
شفی نے سرخ آنکھوں کے ساتھ کہا۔۔
“شفی بکواس بند کر ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تو میرابھائی ہے۔۔۔” وصی نے چیخ کر کہا۔۔
“ارے تجھے ہی کب ہے تجھے یاد ہوتا تو یو میرے پیٹ پیچھے ایسا گھناؤنا کھیل نہیں کھیلتا۔۔”
شفی نےچبا کر کہا۔۔
“تونے سہی نہیں کیا تو پچھتائے ایک دن جب تجھے سچائی کا پتالگے گا۔۔۔مجھے تو شرم آرہی ہے تیری سوچ پر۔۔۔
چلو حور۔۔۔” وصی نے غصہ سے کہا۔۔
اور حور کی طرف دیکھا۔۔جو بے آواز رو رہی تھی۔۔
“حور۔۔۔چلو۔۔” وصی نے کہا۔۔
“نہیں۔۔۔” حور کی آواز بھر آئی۔۔
“حور چلو یہاں سے۔۔۔”وصی نے پھر سے کہا۔۔
“نہیں۔۔۔میں نہیں جاوں گی۔۔۔” حور نے روتے ہوئے شفی کو دیکھا۔۔
جو منہ موڑے کھڑا تھا۔۔
“شفی۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔خدا کے لیے میرا یقین کریں۔۔”
حور روتے ہوئے منت کرنے لگی۔۔
“حور چلو یہاں سے۔۔۔” وصی نے اس کو بازو سے پکڑا۔۔
“شفی میں بے قصور ہوں۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں شفی۔۔۔میری بات سنیں۔۔۔مجھے شفی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔”
وصی اسے زبردستی لے جارہا تھا۔۔
مگر دور جاتے جاتے بھی شفی کے کانوں میں اس کی آواز پڑ رہی تھی۔۔
صبح سے ٹرائی کر رہی ہوں کال نہیں اٹھا رہی حور”
شائستہ بیگم فون کان سے لگائےلاؤنج میں داخل ہوئی۔۔
“مصروف ہوگی۔۔۔ہوسکتا ہے کہیں گھومنے گئے ہوں”
ددا نے کہا۔۔
ہاں اس نے بتایا تھا مگر کل گئے تھے وہ لوگ آج تو صبح سے بات نہیں ہوئی میری ۔۔”
شائستہ کو فکر ہوئی۔۔
“ہوسکتا ہے سوگئی ہوگی۔۔تو کیوں فکر کر رہی ہے؟”
ددو نے کہا۔۔
“وہ وصی اور شفی کے جانے کے بعد خود سے کال کر لیتی اور آج وہ کال ہی نہیں اٹھا رہی۔۔”
شائستہ بیگم نے کہا۔۔
“مس کال دیکھے گی تو خود ہی کرلے گی کال۔۔”
ددا نے کہا۔۔
“جی۔۔شاید۔۔” شائستہ بیگم سوچنے لگی۔۔
وہ وہیں کھڑا انہیں جاتا دیکھ رہا تھا کتنی ہی دیر یونہی ساکت کھڑا رہا۔۔
“حور۔۔۔تم کیوں کیا میرے ساتھ ایسا؟”
وہ وہیں زمین پر بیٹھا کسی بچے کی طرح رونے لگا۔۔
“میں نے کتنا چاہا تمہیں اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا حور؟”
شفی کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں گر رہے تھے۔۔
“میں تمہیں کبھی نہیں کروں گا معاف۔۔۔”
شفی نے اپنے سیدھے ہاتھ سے آنسوں صاف کیے۔۔۔
اور اٹھنے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر پاس زمین پر پڑے مڑے تڑے سےکاغذ پر پڑی۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کاغذ کو اٹھایا۔۔
اور اسے کھول کر دیکھا۔۔۔جہاں میڈیسن کے نام لکھے تھے۔۔
“کیا یہ واقع ڈاکٹر حمنہ کی ہینڈ رائٹنگ ہے؟”
اس نے خود سے سوال کیا۔۔
(میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔)
اس کے کانوں میں اپنا ہی جملہ ٹکرانے لگا۔۔
وصی مجھے جانا شفی کے پاس۔۔۔وہ۔۔۔وہ ایسا کیسے کرسکتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔میں۔۔۔نہیں”
حور نے وصی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی۔۔
“تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو وہ تمہیں نہیں رکھنا چاہتا اپنے ساتھ۔۔۔اس نے طلاق دے دی ہے تمہیں۔۔”
وصی نے رک کر اسے شانوں سے تھامتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا۔۔
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔شفی کو کہیں نا وہ میری بات سن لے۔۔۔بس
ایک بار۔۔۔” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔
وصی کو اس وقت حور کی حالت دیکھ بہت ترس آرہا تھا۔۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سب شفی کی سوچ تھی۔۔
“حور۔۔۔میری بات سنو۔۔حور۔۔۔”
وصی نے حور کو چھپ کروانا چاہا۔۔
“میں ہوں نا میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔شفی کو میں سمجھاؤں گا۔۔۔وہ اس وقت غصہ میں ہے۔۔۔”
وصی نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
مگر وہ مسلسل روئے چلی جارہی تھی۔۔
“میری طرف دیکھو حور۔۔۔میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔تھوڑا وقت دو بس۔۔۔”
وصی نے ور کو سمجھانا چاہا۔۔
جب کہ وہ اب خود کو کوس رہا تھا۔۔
کاش وہ حور کو گھومانے نا لے جاتا۔۔
“اس سب کا قصور وار میں ہوں۔۔”
وصی دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگا۔۔
وصی یوں بنا بتائے نہیں جاسکتا تھا۔۔۔
اس لیے اسے چھٹی لینی لازمی تھی۔۔
وہ اسے باہر کھڑا کر خود اندر بلا گیا تھا
وہ اکیلی بیٹھی تھی۔۔
رو رو کر آنکھیں سوج گئی تھی۔۔
مگر آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔
(میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔)
شفی کا پیار بھراجملہ اسے یاد آیا۔۔
اور وہ پھر سے گھٹنوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔
“بس یہی محبت تھی آپ کی شفی۔۔؟”
س نے دل میں کہا۔۔
(میں تمہیں طلاق دیتا ہوں)
اس کے کانوں میں جملہ ٹکرایا۔۔
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔شفی آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔۔میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔”
حور کی آنکھوں سے آنسوں قطرہ بہ قطرہ بہ رہے تھے۔۔
شائستہ بیگم رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھی۔۔
وہ صبح سے بہت پریشان تھی۔۔
اسے حور بہت یاد آرہی تھی۔۔
جب سے حور گئی تھی۔۔ایسا کوئی دن نہیں گزرا تھا جب وہ انہیں کال نا کرتی اور آج پورا دن گزر گیا تھا۔۔
مگر ان کی بات نہیں ہوپائی۔۔
وہ کچن سے نکل کر لاؤنج کی طرف بڑھ رہی تھی کہ سامنے گیٹ پر اس کی نظر پڑی۔۔
وہ رک کر دیکھنے لگی۔۔
اور انہیں کچھ لمحے لگے پہنچاننے میں کہ وہ وصی اور حور ہی تھے۔۔
“حور۔۔” انہوں نے زیرلب کہا۔۔اور باہر کی جانب بڑھی۔۔
“مما۔۔۔” انہیں یکھتے ہی حور دوڑتی ہوئی ان کی طرف بڑھی۔۔اور جھٹ سے ان کے گلے لگ شدت سے رونے لگی۔۔
“حور۔۔۔کیا ہوا؟” شائستہ بیگم اسے یوں اچانک دیکھ حیران ہوئی۔۔
اور اسپر یوں اس کا بے اختیار رونا۔۔
ان کا دل ڈوبا رہا تھا۔۔۔
“وصی۔۔۔کیا ہوا ہے یہ رو کیوں رہی ہے۔۔حور بتا تو سہی۔۔”
شائستہ بیگم پریشان ہوئی۔۔
وصی بھی سر جھکائے خاموشی سے کھڑا تھا۔۔
تبھی ددو اور ددا بھی وہاں آئے۔۔
اور انہیں ہوں اچانک دیکھ حیران ہوئے۔۔
“کیا ہوا یہ رو کیوں رہی ہے؟”
ددا نے پوچھا۔۔
“اندر چلیں۔۔۔بتاتا ہوں۔۔”
وصی نے کہا۔۔
اور سب اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔
وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔
وصی نے انہیں ساری تفصیل بتادی۔۔
رات گہری ہورہی تھی۔۔
مگر حالات کی طرح نیند بھی اس سے ناراض تھی۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔
حوراور اس کے ساتھ گزارے لمحے کسی فلم کی طرح چل رہے تھے اس کی آنکھوں میں۔۔جو شاید اب آنسوؤں سے بھری تھی۔۔
اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔۔
سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔
آنکھیں سرخ ہوچکی تھی۔۔
تبھی اس کا فون زور زورسے بجنے لگا۔۔
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔
فون بج بج کر بند ہوگیا۔۔۔
ساری باتیں باربار اس کے زہن میں گھوم رہی تھی۔۔
جو ہونا تھا وہ ہوگیا تھا وہ کچھ بھی بدل نہیں سکتا تھا۔۔
وہ گہری سوچوں کے سمندر میں ڈوبا تھا۔۔
کہ فون پھر سے بجنے لگا۔۔
اس بار اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔۔۔
اور بنا نوٹس کیے کہ کس کا نمبر ہے کان سے لگایا۔۔
“ہیلو شفی۔۔۔” ددا کی کڑک آواز اس کے حوش اڑا گئی۔۔
وہ یک دم سیدھا ہوا۔۔
“جی۔۔جی۔۔ددا۔۔” اس نے بھاری آواز میں کہا۔۔
“کل تو مجھے یہاں چاہیے ہے۔۔۔میرے سامنے۔۔۔”
ددا نے حکم سنایا فون بند کردیا۔۔
اور شفی کا حلق خشک ہوا۔۔
