Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 4)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
وہ کچن میں جب آیا تو سامنے حور کچن میں کچھ بنانے میں مصروف تھی۔۔
وہ لمحہ بھر اس کی پشت کو گھورتا رہا جہاں سلکی کمر تک آتے بار لہرا رہے تھے۔۔
وہ قدم چلتے فریج کی طرف گیا۔۔اور پانی کی بوتل نکالنے لگا۔۔
حور نے یک دم اس کی طرف دیکھا۔۔
شفی کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر گھبراہٹ نمودار ہوئی۔۔
وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔
شفی اسے کی حالت دیکھ مسکرایا۔۔۔
اس نے جلدی سے چولہا کم کیا اور کھانا ڈھک کر باہر نکلنے لگی کہ شفی کی آواز پر رکی۔۔
“حورین” شفی نے پکارا۔۔
وہ وہیں کھڑی رہی مگرپلٹی نہیں۔۔۔
“تم مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو؟ مجھے بات کرنی ہے تم سے” اس نے قریب آکر کہا
مگر وہ اسی طرف کھڑی گھبرا رہی تھی۔۔
دوپٹے کا کونہ انگلی پر لپیٹتی، نظریں جھکائے۔۔شفی کو وہ کسی معصوم بچی سے کم نہیں لگی۔۔
شفی اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“تم مجھے پسند نہیں کرتی؟” اس نے سنجیدگی سے کہا
“جی۔۔” اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر یک دم ہی جھکا گئی۔۔
“وہ۔۔۔مم۔۔مجھے۔۔مما بلا رہی۔۔ہیں” وہ کہتی تیزی سے کچن سے نکل گئی۔۔
اور شفی مسکرا دیا۔۔
کوثر بیگم کچن سے پانی کی بوتل نکا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھنے ہی والی تھی کہ رات کے اس پہر بھی اس کے کمرے کی لائٹ آن دیکھی تو رک گئی۔۔
کوثر بیگم چونکی۔۔اور اس کے کمرے کی جانب بڑھ گئی
انہوں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔۔
“پھر سے ناول پڑھ رہی ہے نور؟” انہوں نے تلخ لہجے میں کہا
“نہیں مما کل پیپر ہے” نور نے کہا
“ارے واہ آج تو میری بیٹی ناول کے بجائے پیپر کی تیاری کر رہی ہے” وہ خوش ہوئی
“اب ایسی بھی بات نہیں مما میں ہر وقت تو نہیں پڑھتی ناول” اس نے سادگی سے کہا
“یہی اچھی بات ہے تمہارے لیے۔۔ناول کا پیچھا چھوڑو۔۔اب تم بڑی ہوگئی۔۔کل کو تمہیں سسرال بھی جانا ہے کیا وہاں بھی ناول ہی پڑھتی رہو گی؟” انہوں نے سنجیدگی سے کہا
“میں شادی ہی ایسے بندے سے کروں گی جو ناول پڑھتا ہو” اس نے ایک دم کہا
“پھر تو تم بیٹھی ہی رہو۔۔کیونکہ ہر کوئی پاگل نہیں ہوتا تمہاری طرح” انہوں نے کہا۔۔
“اب تم پڑھائی کرو اور جلدی سوجانا۔۔” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔
اور وہ پھر سےکتابوں میں گم ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
وہ گہری نیند سورہاتھا جب الارم زور زور سےبجنے لگا۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر الارم بند کیا۔۔
پھر وال کلاک کو دیکھا۔۔
اور اس کی نیند غائب ہوگئی۔۔
“اوہ مائی گوڈ آج تو پیپر ہے” وہ کہتا اٹھ بیٹھا۔۔
اور جلدی سے اٹھ کر وارڈ روب کی جانب بڑھا۔۔
کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھسا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں بال خشک کرتا باہر نکلا۔۔تو بے دھیانی میں کسی سے ٹکراؤ ہوا۔۔
اس نے ایک دم سے نظر اٹھاکر دیکھا۔۔
سامنے بڑی بڑی آنکھیں لیے حور اسے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ اسے دیکھ چونکا۔۔
“تم یہاں؟”
“وہ۔۔میں۔۔آپ کو اٹھانے آئی تھی۔۔نانوبلا رہی ہیں۔۔” اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا
“اتنی صبح کیوں بلا رہی ہیں؟” وہ ڈریسنگ سے سامنے کھڑا بال بنانے لگا۔۔
“وہ آپ کا پیپر ہے۔۔اور آپ اٹھے نہیں تھے اس لیے” اس نے یک دم جواب دیا۔۔
“مگر میں تو اٹھا ہوا ہوں۔۔۔” اس نے مسکرا کر کہا۔۔
“ہاں۔۔جی” وہ کہتی کمرے سے باہر جانے لگی۔۔
“حور۔۔۔بھائی کو بھی اٹھانے چلی جاؤ۔۔وہ بھی لیٹ ہوجاتے ہیں” وصی نے شرارت سے کہا۔۔
اور اس کی بات میں چھپی شرارت کو وہ سمجھ نہیں سکی۔۔
“مگر میں۔۔۔” وہ چونکی
“مزاق کر رہا ہوں۔۔” وصی نے ہنس کر کہا۔۔
اور وہ بنا کوئی جواب دیے کمرے سے نکل گئی۔۔
وہ جب کالج پہنچا تو پیپر شروع ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا۔۔۔
اور اسے اپنا بلاک اور سیٹ نمبر ڈھونڈنا تھا۔۔
وہ جلدی سے لسٹ میں اپنا نمبر اور بلاک دیکھ کر سہڑھیاں چڑھنے لگا۔۔
اس کا بلاک اوپر تھا۔۔
وہ جلدی جلدی دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا پھر اپنا بلاک دیکھ اندر گھسا اور اپنی سیٹ پرجابیٹھا۔۔
تبھی ایک لڑکی وہاں آئی۔۔
“یہ میرا سیٹ نمبر ہے۔۔۔”
“آپ؟” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“اوہ.۔تم وہی بدتمیز لڑکے ہو نا جس نے میرا” وہ غصہ سے کہتی رکی۔۔
“اور آپ۔۔۔آپ یہاں بھی آگئی؟” وصی نے کہا
“دیکھو پیپر شروع ہونے والا ہے میری سیٹ سے اٹھو” اس نے کہا
“یہ میری سیٹ ہے” وصی نے کہا
“ارے تم تو کوئی بہت ہی بدتمیز ہو؟” اس نے کہا۔۔
اور اپنا گیٹ پاس نکال کر سامنے کیا۔۔
“دیکھو۔..” اس نے کہا۔۔
اور وصی نے جھٹ سے اپنے گیٹ پاس نکال کر دیکھا۔۔
اور دانتوں تلے زبان دبائی۔۔
“کیا ہوا؟” اس نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے دیکھا
“وہ کوئی جواب دیے بنا تیزی سے باہر نکل گیا۔۔
“کیوں نا حور اور شفی کی منگنی کی چھوٹی سی رسم کردیں” ددا نے کہا۔۔
اور پاس کھڑے شفی کو جھٹکا لگا۔۔
گر وہ اب ناخوش نہیں تھا۔۔
وہ حور کو ایکسیپٹ کر چکا تھا من ہی من..
مگر وہ اتنی جلدی یہ سب بھی نہیں چاہتا تھا۔۔وہ حور کو تھوڑا اور سمجھنا چاہتا تھا۔۔
“ہاں۔ جیابا ٹھیک کہ رہے ہیں۔۔تھوڑا انجوائے بھی ہوجائے گا۔۔” پھپھو نے کہا
“شفی دوبارہ جب چھٹی آئے گا۔۔تب رکھیں گے” ددو نے کہا۔۔
“ہاں۔۔وصی بھی فارغ ہوجائے گا پیپرز سے” ددا نے کہا
“اتنی جلدی کیا ہے ددا؟” شفی نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
“جلدی کہاں ہے۔۔۔اور صرف منگنی کر رہے ہیں شادی نہیں” ددو نے کہا
“تو منگنی بھی ہوجائے گی آرام سے ابھی حورپڑھ رہی ہے ویسے بھی” شفی نے کہا
“شادی اس کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگی ابھی بس چھوٹا سا فنکشن” ددا نے کہا۔۔
اور شفی مزید بحث نا کرسکا۔۔
اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا۔۔
وارڈ روب سے کپڑے نکالے اور چینج کرنےچلا گیا۔۔
تھوڑی دیر وہ فل تیار بلوجنس پر وائیٹ ٹی شرٹ پہنے خود کو آئینے میں دیکھ بال بنانے لگا۔۔
پھر پرفیوم سے خود کو نہلاتا۔۔۔مسکرایا۔۔
پھر جانے کے لیے مڑا۔۔
مگر کچھ سوچ کر ٹیبل سے گھڑی اٹھائی اور پہنی۔۔
پھر دوبارا آئینے ایک جھلک خود کو دیکھا۔۔۔
“واہ مسٹر شفی دارین کیا لگ رہے ہو” اس نے مسکرا کر کہا
اور باہر نکل گیا۔۔
تیزی سے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔۔
“کہیں جا رہے ہو؟” پھپھو نے پوچھا
“ہاں۔۔وہ میں بس مارکیٹ جا رہا ہوں۔۔” شفی نے کہا۔۔
“اچھا” پھوپھو نے مسکرا کر کہا
“آپ کو یا حورین کو کچھ کام ہو تو چل سکتی ہیں” شفی نے کہا۔۔
مگر دل دل میں وہ دعائیں ہی کر رہا تھا کہ پھپھو نا ہی چلیں بس حورین کو بھیج دیں۔۔
“مجھے تو کوئی کام نہیں۔۔حور کو بھی نہیں ہے” پھپھو نے کہتے ساتھ اس کے ارمانوں پر پانی پھیرا۔۔
“پھپھو” وہ جانے کے لیےمڑی ہی تھی کہ شفی نے پکارا۔۔
“ہاں” وہ پلٹ کر کہنے لگی۔۔
“ہو ۔۔سکتا ہے حور کو کام ہو۔۔” شفی نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
پھپھو اس کی بات سمجھتے ہوئے مسکرائی۔۔
وہ یک دم شرمندہ ہوا۔۔
“نہیں۔۔۔وہ مجھے لگا شاید۔۔۔” شفی نے کہا
“میں کہتی ہوں اسے چلی جائے گی تمہارے ساتھ” وہ کہتی وہاں سےچلی گئی۔۔
اور شفی خود پر ہنس دیا۔۔
وہ پیپر دے کر باہر نکلا تو۔۔سامنے گھاس پر بیٹھی لڑکی پر اس کی نظر پڑی۔۔
وہ غلطی کا احساس ہوا کہ و بار وہ اسی سے الجھا جب کہ غلطی بھی اسی کی تھی۔۔
وہ چلتا ہوا اس کے قریب گیا۔۔
“کیا ہوا پیپر اچھا نہیں ہوا؟” پاس بیٹھی لڑکی نے کہا
“اچھا ہوا” اس نے کہا
“پھر اداس کیوں ہے؟”
“مجھے کل ماڈل دینا تھا اور میرا ماڈل اس لڑکے نے توڑ دیا اب میں کیا دوں گی؟” اس نے کہا
“تو دوسرا لے آ”
“تجھے پتا بھی ہے کتنا مہنگا تھا وہ۔۔پھر سے کہاں سے پیسے لاؤں؟”
“تو۔۔اب کیا کرے گی؟”
پاس کھڑا وصی ان کی بات سن رہا تھا۔۔
“اگر میں دلوادوں نیا تو؟” وصی نے کہا
“وہ دونوں اسے دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“میں کسی کا احسان نہیں لیتی آئی سمجھ؟” اس نے غصہ سے کہا
“لیکن میں تو معافی مانگ رہا ہوں۔۔احسان تھوڑی نا کر رہا ہوں” وصی نے کہا
“مطلب؟”
“میں نے نقصان کیا تھا تو میں بھرو گان۔۔ اگر آپ نہیں لینا چاہتی تو میرے ساتھ چلیں اور دوسرا ویسا ہی ماڈل خرید لیں” وصی نے سادگی سے کہا
“ساتھ۔۔۔؟ اچھا تم بہانا بنا کر ساتھ لے جانا چاہتے ہو؟”
“کیا مطلب؟” وہ چونکا
“ہاں میں نے ناول میں پڑھا تھا وہ فواد محمل کو ایسے بہلا پھسلا کر لے جاتا ہے پھر بیچ دیتا ہے” اس نے کمر پر ہاتھ رکھ اکڑ کر کہا۔۔
“What?”
وصی اس کی بات سن دنگ رہ گیا۔۔
