Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 5)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

“کیا۔۔۔کیا مطلب کیا ہے آپ کا میں آپ ایسا لگتا ہوں؟” وصی نے پوچھا

“ہاں۔۔۔تو میں یقین کیسے کروں آپ پر اور کیوں جاؤں آپ کے ساتھ؟” اس نے کہا

“تو مت جاؤ۔۔آپ ہی کا فائدہ تھا۔۔مجھے کوئی شوق نہیں آپ کو اپنے ساتھ لے جانے کا” وصی نے تلخ لہجے میں کہا

“کتنے کا تھا وہ بتا دو میں پیسے دے دیتا ہوں” وصی نے کہا۔۔

اور وہ کھڑی سوچنے لگی۔۔

“نہیں اس کا یہ مطلب نہیں تھا آپ تو برا ہی مان گئے۔۔” پاس کھڑی لڑکی نے آگے بڑھ کر کہا۔۔

“دیکھیے میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں میں بس ہیلپ کرنا چاہ رہا تھا۔۔وہ بھی اس لیے کہ میری غلطی کی وجہ سے یہ نقصان ہوا” وصی نے سمجھانا چاہا۔۔

“چلی جا ایسا لڑکا نہیں ہے یہ۔۔اور اگر نہیں لیا تو اتنے پیسے دوبارہ کہاں سے لائے گی کہ نیا خرید سکے” اس نے نور کو سائیڈ پر لے جا کر سمجھایا۔۔

“یہ جارہی ہے آپ کے ساتھ آپ پلیز اسے دلوا کر اس کے گھر ڈراپ کردیجیے گا” وہ کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔

اور نور وصی کے ساتھ چل دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“حور۔۔اٹھو جلدی” شائستہ بیگم نے کمرے میں آتے ہی کہا۔۔

وہ ہاتھ میں کتاب لیے کچھ پڑھ رہی تھی۔۔

ان کی بات پر حیران ہوئی۔۔

“کیا ہوا مما؟” حور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“تیار ہوجا جلدی باہر شفی کھڑا ہے انتظار کر رہا ہے۔۔”

“کہاں جانا ہے ؟”

“وہ مارکیٹ جا رہا ہے تمہیں ساتھ لے جانا چاہتا ہے”

“کیوں؟ مجھے کیوں؟”

“ایسے ہی گھومانے کے لیے۔۔جلدی تیار تیار ہوکر آ”

“مما مجھے نہیں جانا”

“میرے پاس منت کرنے کا ٹائم نہیں ہے حور۔۔میں کھانا بنانے جا رہی ہوں۔۔” وہ کہتی وارڈ روب کی طرف گئی۔۔

“یہ پہن کر آ جلدی۔۔” انہوں اسے ڈریس تھمایا

“مما۔۔۔” حور نے منہ بنایا

“حور اب تم بچی نہیں رہی۔۔۔ہر چیز کو سمجھا کرو۔۔” انہوں نے غصہ سے کہا۔۔

اور حور ڈریس پکڑ کر چینج کرنے چلی گئی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ باہر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔۔

کہ شائستہ کی آواز پر اٹھ کھڑا ہوا۔۔

“شفی۔۔ حور تیار ہے۔۔” پھپھو نے کہا۔۔

اور اس کی نظر برابر میں کھڑی حور پر پڑی۔۔

جو بلیک فراک پہنے گلے میں دوپٹہ ڈالے، لمبے بالو کو چٹیا بنائے، نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔وہ سادگی کو ہر روپ جھلکا رہی تھی۔۔بلیک رنگ اس کی گوری رنگت پر کھل سا گیا تھا۔۔

وہ چند لمحے اسے یونہی دیکھتا رہا۔۔

“چلیں۔۔۔” پھر مسکرا کہا

اور وہ اثبات میں سر ہلاتی اس کے ساتھ ہو لی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ گاڑی میں نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔

جب کہ شفی کی نظر بار ںار اس پر جا رہی تھی۔۔

“حورین” آخر شفی نے خاموشی کو توڑا۔۔

“جی” اس نے اسی انداز میں کہا۔۔

“تم اتنی کیوں رہتی ہو۔۔میں نے بچپن تمہیں ہمیشہ چپ ہی دیکھا ہے۔۔” شفی نے کہا

وہ خاموش بیٹھی اس کی بات سنتی رہی۔۔

“کچھ بولو گی نہیں؟” شفی نے گہری نظروں سے دیکھا۔۔

“نہیں” اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“کیوں۔۔؟” شفی نے پوچھا

دیکھو جو بھی زہن میں ہے دل میں ہے مجھ سے شئر کرسکتی ہو۔۔۔ہماری منگنی ہونے والی ہے” شفی نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“آپ۔۔۔میں نے۔۔۔مما کو منع کیا تھا۔۔” حور کی ہلکی سی آواز اس کے کانوں میں پڑی

“کیا منع کیا تھا؟” شفی نے پوچھا

“کہ۔۔۔آپ۔۔کو میں۔۔پسند نہیں۔۔۔وہ میری بات نہیں مان رہی” حور نے نظریں جھکائے کہا۔۔

میں نے کب کہا میں تمہیں پسند نہیں کرتا؟” شفی نے پوچھا۔۔

“وہ۔۔آپ۔۔” وہ نظریں جھکائے بول رہی تھی شفی کو قریب محسوس کرتی جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔۔

“بولو” شفی جو اس پر جھکا تھا اسے دیکھ ہنسنے لگا۔۔

“یار تم اتنا آہستہ بولتی ہو مجھے سنائی نہیں دیتا اس لیے قریب ہوکر سننے کی کوشش کر رہا تھا۔۔” وہ صفائی دینے لگا۔۔

مگر حور مزید گھبرا گئی تھی۔۔

تبھی شفی نے گاڑی روکی۔۔

اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

“چلو۔۔ شاپنگ کرتے ہیں” وہ کہتا گاڑی سے اترا۔۔

وہ بھی اتر گئی۔۔

وہ اسے لیے شاپنگ مال کے اندر داخل ہوئے۔۔

وہ دونوں سیڑھیاں چڑھتے اوپر گئے کہ سامنے سے وصی پر اس کی نظر پڑی۔۔

جو ایک لڑکی کے ساتھ چلتا جارہا تھا۔۔

“ایک منٹ یہاں رکو میں آتا ہوں۔۔” وہ کہتا تیزی سے بھاگتا اس کی طرف گیا۔

“وصی” وہ اپنی دھن میں چلتا جارہا تھا شفی کی آواز پر پلٹا۔۔

“شفی۔۔تو یہاں” وصی حیران ہوا۔۔

شفی نے جانچتی نظروں سے پاس کھڑی لڑکی کو دیکھا۔۔

“کیا بات ہے میرے بھائی دن بدل رہے ہیں” شفی نے ابرو اچکائی۔۔

“ایسی بات نہیں ہے شفی” وصی اس کی بات کا مفہوم جانتے ہوئے صفائی دینے لگا۔۔

“وہ تو دکھ رہا ہے میرے بھائی” شفی نے شرارت سے کہا۔۔

نور پاس کھڑی ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

“شفی۔۔تو غلط سمجھ۔۔۔۔”وصی نے کچھ کہنا چاہا۔۔

“ددا کو بتاتا ہوں بیٹا۔۔” شفی نے کہا۔۔

تبھی ایک بچہ ان دونوں کے پاس آکر رکا۔۔

“انکل آپ کی بہن بلا رہی ہے آپ کو” بچہ شفی سے مخاطب تھا۔۔

“بہن۔۔” شفی چونکا

“بہن کون؟” وصی نے کہا

“وہ وہاں کھڑی ہے” بچے نے اشارہ کیا۔۔

جہاں کچھ فاصلے پر کھڑی حور یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔

وصی نے اس طرف دیکھا۔۔

پھر زور دار قہقہہ اس کے حلق سے نکلا۔۔

شفی نے ناگواری سے اسے گھورا۔۔

“بہن۔۔۔۔” وصی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔۔

“یہ ہنسنے کی بات ہے” شفی نے کہا

“او۔۔بھائی تو اب شادی کرلے۔۔۔ورنہ۔۔کچھ ٹائم بعد حور کو تیری بیٹی سمجھیں گے لوگ” وصی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

شفی کو اس کی ہنسی سے چڑ ہورہی تھی۔۔

“یہ بہن نہیں ہے ان کی” نور نے پوچھا۔۔

“بہن نہیں۔۔۔ نصف بہتر ہے” وصی نے ہنسی روکی۔۔

“اور یہ کون ہے۔۔نصف بدتر؟” شفی نے چبا کر کہا

نور اس بار اس کا اشارہ سمجھ گئی تھی۔۔

“نہیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں” نور نے کہا۔۔

“بیٹا اب ددا کو جواب دینا۔۔” شفی کہتا پلٹ گیا۔۔

اور وہ دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وصی نے اسے ویسا ہی ماڈل دلا دیا تھا۔۔

اور اب وہ اسے اس کے گھر ڈراپ کرنے جارہا تھا۔۔

وہ خاموشی سے ڈرائیور کر رہا تھا۔۔

“تھینک یو” نور نے کہا

“کس لیے؟” وصی نے اسے دیکھا

“یہ دلوانے کے لیے” نور نے ماڈل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

“میں نے توڑا تھا تو مجھے ہی دلوانے تھا” وصی نے سادگی سے کہا

“ہمم۔۔۔وہ آپ کے بھائی تھے؟” نور نے پوچھا

“ہاں۔۔” وصی نے کہا

“اب وہ گھر جا کر بتائیں گے۔۔میرے بارے میں۔۔” نور نے کہا

“ہاں۔۔میں سمجھادوں گا۔۔” وصی نے مسکرا کر کہا

اور پھر سے ڈرائیو کرنے لگا

“ویسے آپ کو اب تو اعتبار ہوگیا ہوگا کہ میں ناول کا فواد اور آپ۔۔” وہ نام سوچنے لگا۔۔

“محمل” نور نے ہنسی دبائی

“ہاں محمل۔۔آپ محمل نہیں ہیں اور نا ہی میں نے کوئی بدتمیزی کی۔۔” وصی نے کہا

“سوری۔۔” نور نے اسے دیکھا۔۔

“اٹس اوکے۔۔” اس نے کہا اور گاڑی روکی۔۔

“گھر آگیا آپ کا” وصی نے کہا۔۔

“تھینک یو” نور نے کہا اور اترنے لگی۔۔

“مس نور” وصی نے پکارا

“جی۔۔” اس نے وصی کی جانب دیکھا۔۔

“دوستی کریں گی؟” وصی نے ہاتھ بڑھایا۔۔

لمحہ بھر نور اسے دیکھ سوچتی رہی پھر اس کے ہاتھ کو گھورا۔۔

اور جھٹ سے ہاتھ ملا لیا۔۔۔