Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 8)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
“اتنی مصیبت سے ڈریس پسند آیا” وصی نے کھانا کھاتے ہوئے کہا۔۔
“شفی کب تک آئے گا؟” شائستہ بیگم نے پوچھا
“کل آجائے گا” وصی نے جواب دیا
“پھر دو تین دن بعد کا فنکشن رکھ لیں گے” انہوں نے کہا
“ہاں۔۔” وصی نے مختصر کہا۔۔
تبھی کا فون بجا۔۔اس نے فون جیب سے نکالا۔۔
اسکرین پر شان کالنگ جگمگا رہا تھا۔۔
“ہیلو۔۔ہاں بول” وصی نے کہا۔۔
“ابے رزلٹ آگیا۔۔” شان کی آواز ابھری۔۔
“کیا۔۔تونے معلوم کیا؟” وصی نے پوچھا۔۔
“نہیں دیکھتا ہوں میں نے سوچا تجھے بتا دوں۔۔” شان نے کہا
“میرا نمبر معلوم ہے نا میرا بھی کر معلوم۔۔میں تھوڑی دیر آتا ہوں” وصی نے کہ کر فون بند کردیا۔۔
اور واپس جیب میں رکھا۔۔
“کیا ہوا؟” شائستہ بیگم نے پوچھا۔۔
“رزلٹ آگیا۔۔ابھی جا کر معلوم کرتا ہوں” وصی نے کہا۔۔
“اچھا کیا رزلٹ آیا آپ کا؟” حور نے یک دم پوچھا۔۔
“او پدی۔۔۔ابھی رزلٹ آیا ہے بتا تو رہا ہوں دیکھا نہیں میں نے” وصی نے ہنس کر کہا۔۔
اور حور پھر سے خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھ گئی۔۔
“وصی آگے کیا سوچا ہے تم نے؟” شائستہ بیگم نے پوچھا۔۔
“آگے سوچا نہیں ابھی شاید یونیورسٹی” وصی نے آخری لقمہ منہ میں ڈالا۔۔
“وصی ابا چاہتے ہیں تم فوج میں جاؤ”
“مگر میں جانا نہیں چاہتا پھپھو۔۔”
“تو ان کی خوشی کے لیے چلے جاؤ”
“جب میں وہاں رہ ہی نہیں سکتا تو جا کر کیا کروں گا؟”
وصی نے پوچھا
“وصی تم۔۔” پھپھو نے کچھ کہنا چاہا مگر خاموش ہوگئی۔۔
“آپ ٹینشن نہیں لیں میں انہیں خود سمجھا لوں گا” وصی اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“کہاں چل دیے؟” انہوں نے اسے اٹھتے دیکھ پوچھا۔۔
“ابھی تو دوست کی طرف جارہا ہوں رزلٹ معلوم کرتا ہوں پھر گھر” وصی نے بتایا
“اچھا۔۔جلدی چلے جانا گھر ابا غصہ ہوں گے” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
اور وہ خدا حافظ کرتا چلا گیا۔۔
وہ جب گھر آیا تو12 بج رہے تھے۔۔
پورے گھر میں خاموشی چھائی تھی۔۔
اس نے گہرا سانس لیا۔۔
اور گھبراہٹ کو دور کیا۔۔
وہ چپ چاپ دبے قدموں سے پنے کمرے کی جانب بڑھا ہی تھا کہ پیچھے آواز پر یک دم اچھلا۔۔
“کہاں تھے اتنی دیر؟” ددا کی آواز کانوں میں پڑی۔۔
“وہ۔۔۔وہ۔۔ددا۔۔میں شان کے پاس تھا۔۔” وصی نے کہا
“تو یہ ٹائم ہے واپس آنے کا؟ ” ددا نے غصہ سے کہا۔۔
“ددا دیر ہوگئی” وصی نے معصومیت سے کہا
“دیر ہوگئی تھی تو وہیں رہ لیتے” انہوں نے غصہ سے کہا۔۔
“ددا رزلٹ معلوم کرنے گیا تھا” وصی نے کہا
“کیا آیا ہے رزلٹ؟” انہوں تلخ لیجے میں پوچھا
“اے۔۔۔” وصی نے یک دم کہا
“یہی امید تھی تم سے۔۔۔اب رزلٹ آگیا ہتے نا تیاری پکڑو فوج کی” ددا نے غصہ سے حکم دیا
“ددا مجھے فوج میں نہیں جانا” وصی نے کہا
“فوج میں جانا پڑے گا۔۔ورنہ تجھے گھر سے نکال دوں گا۔۔آگ کردوں گا جائیداد سے۔۔”
“دڈا یہ کیا بات ہوئی؟” وہ لاچارگی سے کہنے لگا۔۔
“یہی بات ہے۔۔۔تیاری پکڑو بس” وہ کہتے وہاں سے چلے گئے۔۔
اور وصی انہیں جاتا دیکھنے لگا۔۔
صبح شفی پہنچ گیا تھا۔۔اور اپنے کمرے میں آرام کررہا تھا۔۔جبکہ وصی گھر کے کام دیکھ رہا تھا۔۔
دوسرے دن کا فنکشن رکھا گیا تھا۔۔
وصی لان میں کھڑا تھا ۔۔۔جب ددو وہاں آئی۔۔
“وصی” ددو نے پکارا
“جی ددو؟” وصی نے پوچھا
“شفی کو لے جا جا مارکیٹ۔۔اس نے تو کچھ نہیں لیا ابھی تک کل کیا پہنے گا؟” ددو نے کہا
“میں تو کہ رہا تھا مگر جناب نے کہا میں خود لوں گا” وصی نے بتایا۔۔
“چل اسے اٹھا اور لے جا ساتھ۔۔۔” ددو کہتی اندر چلی گئی۔۔
اور وہ شفی کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
دروازے پر دستک دی۔۔
جسے شفی نے فوراً ہی کھول دیا۔۔
“اٹھا ہوا تھا؟” وصی نے پوچھا
“ہاں۔۔۔” شفی کہتا اندر چلا گیا۔۔
“چل آجا تیار ہوکر مارکیٹ چلتے ہیں۔۔کل کے لیے کچھ لینا نہیں کیا” وصی نے کہا
“ہاں۔۔لینا تو ہے یار” شفی نے جواب دیا
“تو آجا جلدی تیار ہوکر۔۔۔” وصی کہ کر پلٹا۔۔
“اور ہاں۔۔۔اچھا سا تیار ہوجا حور کو بھی پک کرلیں گے” وصی نے کہا۔۔
اور شفی اس کی بات پر مسکرا دیا۔۔
“واہ واہ۔۔پہلے تو لوگ چڑ جاتے تھے۔۔اب مسکرا دیتے ہیں اچھی بات ہے” وصی نے شرارت سے کہا۔۔
“میں پہلے بھی نہیں چڑتا تھا” شفی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“چلو مان لیتے ہیں۔۔اب آپ باہر تشریف لے آئیں” وصی کہتا باہر نکل گیا۔۔
اور وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
وہ کچن ڈے نکل کر کمرے کی طرف جا رہی تھی۔کہ دروازہ بجا۔۔
انہوں نے جیسے ہی کھولا سامنے شفی اور وصی تھے۔۔
“اسلام علیکم پھپھو” دونوں نے سلام کیا
“وعلیکم السلام” انہوں نے خوش دلی سے جواب دیا۔۔
“کیسے ہو شفی۔۔؟” شائستہ بیگم نے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں پھپھو آپ کیسی ہیں؟” شفی نے مسکرا کر پوچھا۔۔
“میں تمہارے سامنے ہوں” پھپھو نے کہا
“اور حور کا بھی تو پوچھ۔۔” وصی نے اسے ٹوکا بدلے میں شفی نے اسے گھورا۔۔
اور شائستہ بیگم ہنسنے لگی۔۔
“وہ بھی ٹھیک ہے” انہوں نے خود ہی بتایا
“ہے کہاں وہ نظر نہیں آرہی” وصی نے کہا۔۔
“وہ گھر کے پچھلی طرف ہے۔۔میں بلاتی ہوں” شائستہ بیگم نے کہا
“ہم خود ہی بلا لیں گے پھپھو۔۔شاپنگ پر لے جانے آئے ہیں اسے” وصی نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“اچھا۔۔تب تک میں چائے بناتی ہوں” شائستہ بیگم نے کہا
“نہیں پھپھو۔۔کافی” شفی نے کہا
“اچھا کافی بنا لیتی ہوں” وہ کہتی کچن میں چلی گئی۔۔
اور وہ دونوں حور سے ملنے چل دیے۔۔
حور جھولا جھولنے میں مصروف تھی۔۔
لمبے سلکی بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔۔گلے میں دوپٹہ ڈالے، رسی کو دونوں اطراف سے تھامے وہ مانو ہوا میں اڑنے کا مزہ لے رہی تھی۔۔
ان دونوں کی نظر اس منظر پر ٹھہر گئی۔۔
“حور۔۔۔” وصی نے پکارا۔۔
جس پر وہ چونکی۔۔
اور پلٹ کر دیکھا۔۔
وہ انہیں ہڑبڑائی۔۔اور چلتے جھولے سے اترنے لگی۔۔
اس سے پہلے کہ وہ گرتی۔۔وصی نے آگے بڑھ کر اسے تھاما۔۔
اس نے بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر وصی کو دیکھا۔۔
وصی بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔
پاس کھڑا شفی مسکرا رہا تھا۔۔
اور قریب آکر کھنکارا۔۔
وصی یک دم پیچھے ہوا۔۔
“یہ کیا۔۔۔اس سین میں تو میرا رول تھا تیرا نہیں۔۔۔” شفی نے ہنس کر کہا۔۔
“فکر مت کر پوری عمر ہی تجھے اسے تھامنا ہے کیوں یہ مس حورین ہمیشہ گرتی پڑتی رہتی ہے” وصی نے شرارت سے کہا
اور دونوں ہنسنے لگے۔۔
حور نظریں جھکائے معصومیت کی حد پر تھی۔۔
ان لوگوں نے مارکیٹ پہنچ کر شفی کا ڈریس پسند کیا۔۔
شوز وغیرہ ہر چیز جب مکمل ہوگئی تو وہ لوگ آئسکریم کھانے کی غرض سے آگے بڑھے مگر ایک شاپ کے باہر شفی رک گیا۔۔
“کیا ہوا؟” وصی نے پوچھا۔۔
“حور تم نے ڈریس لے لیا؟” شفی نے حور سے پوچھا
“جی۔۔” حور نے نرم لہجے میں کہا
“ہاں لے لیا اس نے میرے ساتھ تو گئی تھی لینے۔۔۔” وصی نے کہا۔۔
“یہ ڈریس دیکھو۔۔۔کیسا ہے؟”شفی نے شیشے کی طرف اشارہ کیا۔۔
وہ ایک سمپل سا لہنگا تھا اورنج کلر کا، جس پر پنک کلر کی شرٹ اور سلور کلر کا دوپٹہ۔۔جس پر ہلکا سا کام تھا۔۔۔
وصی اور حور دونوں نے اس ڈریس کو دیکھا۔۔
“اچھا ہے مگر اس نے تو لے لیا نا؟” وصی نے کہا
“وہ پھر کبھی پہن لے گی۔۔چلو یہ خریدتے ہیں” شفی کہ کر اندر بڑھا۔۔
“یہ پاگل ہوگیا۔۔یہ ملٹی شیڈ لہنگا دلوائے گا اب منگنی کے لیے” وصی بڑبڑایا۔۔
“چلو بھئی اب آپ کے منگیتر کا حکم ہے تو لیتے ہیں” وصی کہتے ساتھ ہنسنے لگا۔
اور دونوں اندر بڑھ گئے۔۔
دو رنگ جانے پر ہی کال رسیو کرلی گئی۔۔
“ہیلو نور” وصی نے کہا۔۔
“کیا ہوا۔۔وصی خیریت ” نور نے کہا
“میں نے تمہیں بتایا تھا نا میرے بھائی کی انگیجمنٹ کا۔۔۔” وصی نے کہا
“ہاں کل ہے نا؟” نور نے پوچھا
“ہاں تم آرہی ہو نا؟”
“کوشش کروں گی۔۔”
“کوشش نہیں تمہیں آنا ہے۔۔۔” وصی نے تصحیح کی
“اچھا بابا آجاؤں گی۔۔” نور نے ہار مانی
“تھوڑی دیر میں شان پارسل لے کر آئے گا تمہارے پاس” وصی نے بتا
“پارسل کیسا؟” وہ چونکی
“سرپرائز ہے تمہارے لیے” وصی نے کہا
“کیا بات ہے بھئی مسٹر وصی کنجوسوں کے بھی کنجوس آج میرے لیے کیا بھیج دیا؟” نور نے طنز کیا
“نور۔۔۔تم لائق ہی نہیں۔۔۔” وصی نے کہا اور نور کا قہقہہ گونجا۔۔
