Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sadgi Mera Akas (Episode - 1)

Sadgi Mera Akas By Isra Rao

آسمان پر گھٹا چھائی تھی۔۔کے بادلوں نے گھیرا ڈالا ہوا تھا۔۔

ہوا بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔۔

آسمان کو دیکھ پتا چل رہا تھا کہ آج بارش برسنے والی ہے۔۔

تبھی اسٹیشن پر ٹرین رکی۔۔

لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔۔

وہ ہینڈل کو پکڑتا۔۔۔کاندھے پر بیگ لٹکائے۔۔ٹرین سے اترا۔۔

اس نے یہاں وہاں نظر دوڑائی۔۔

داہنی طرف دور سے اسے اس کا عکس دکھائی دیا۔۔

جو سادہ سے کاٹن کے سفید جوڑے میں دوپٹہ کاندھوں پر ڈالے۔۔بال کھلے ہوا میں اڑ رہے تھے۔۔وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔۔

اسے دیکھ وصی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

وہ کاندھے سے بیگ اتارتا۔۔اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔

تبھی اس لڑکی نے اپنی بانہیں پھیلائے اپنی طرف بلایا۔۔

اسے دیکھ وصی کے جوگرز نے جنبش کی۔۔

اور وہ بیگ زمین پر رکھتے ہی تیزی سے بھاگتا اس کی طرف جانے لگا۔۔

وہ اسی طرح مسکراتی اس کے لیے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی۔۔

جیسے کتنی ہی دیر سے کھڑی اس کے آنے کا انتظار کر رہی ہو۔۔

اور دور کھڑی اس اپسرا کے عکس کو دیکھ اندھا دھند دوڑ رہا تھا۔۔

جیسے اس سے ملنے کو کچھ دن بھی صدیوں کی طرح تھے۔۔

اس کی محبت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔

وہ اس شدت سے بھاگ رہا تھا جیسے اس کی جدائی میں بہت تڑپا ہو۔۔ایک ایک پل سولی پر گزارا ہو۔۔

آنکھوں میں چمک لیے بھاگ رہا تھا۔۔

مگر وہ اسی پوزیشن میں کھڑی تھی۔۔۔

اور وہ چند ہی لمحوں میں بھاگتا وہ فاصلہ طے کر گیا۔۔

اس لڑکی کے قریب آکر ہانپتا ہوا رکا۔۔

نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

وہ ابھی بھی مسکرا رہی تھی۔۔

وصی کی آنکھ سے آنسوں گرے۔۔

جو محبت کی شدت اس کے دل میں تھی وہ آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔۔

وصی نے کانپتا ہوا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔

وہ اسے چھونا چاہتا تھا۔۔

مگر ڈر تھا کہیں اسے چھوتے ہی وہ غائب نا ہوجا ئے۔۔

اور ایسا ہی ہوا۔۔

وصی نے جیسے ہی اسے چھوا۔۔

وہ یک دم غائب ہوگئی۔۔اب وہاں کوئی نہیں تھا۔۔

بس وصی اور اس کے اندر پلتی تنہائی۔۔

“نور۔۔۔” اس کی زبان سے لفظ ادا ہوا۔۔

اور وہ اسے کھوجتا یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔مگر وہ نہیں تھی۔۔

چند لمحے وہ خاموشی سے وہیں کھڑا رہا۔۔۔

جانے اس کے دل میں کیا چل رہا تھا۔۔

“نور۔۔۔” وہ چیخنے کے ساتھ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔

پاس سے گزرتے لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔۔

مگر وہ سب کی نظر سے بے پرواہ شدت سے رو رہا تھا۔۔

باش بھی تیز رفتار سے شروع ہوگئی تھی۔۔

جیسے آسمان بھی اس کے ساتھ رو رہا ہو۔۔

اس کے آنسوں بھی بارش کے ساتھ صلح کرنے لگے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“حور بیٹا اٹھ جاؤ سکول بھی جانا ہے میری جان” شائستہ بیگم نے کمرے میں آکر کہا۔۔

“جی مما” وہ یک دم اٹھ بیٹھی۔۔

“دیکھو بیٹا آٹھ بجنے والے ہیں اور آج تمہارا پیپر ہے” انہوں نے کہا

“جی مما یاد ہے” وہ کہتی بیڈ سے کھڑی ہوئی۔۔

“ساری رات پڑھتی رہی ہو تبھی آنکھ نہیں کھلی تمہاری” انہوں نے کمبل سمیٹتے ہوئے کہا۔۔

وہ واش روم میں گھس گئی۔۔اور شائستہ بیگم کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ تیار ہوکر سکول جانے کے لیے ریڈی تھی۔۔

وہ جلدی جلدی ناشتہ کر رہی تھی۔۔

“آہستہ کرو حور۔۔ابھی ٹائم ہے” انہوں نے ٹوکا۔۔

“مما مجھے وہاں جا کر بلاک ڈھونڈنا پڑتا ہے روز” اس نے کہا۔۔

“بس آج آخری ہے پھر تو میری بیٹی کالج میں آجائے گی” انہوں نے خوش ہوکر کہا۔۔

“اچھا کل شفیع آنے والا ہے۔۔۔ہمیں چلنا ہے ابا کے گھر” شائستہ بیگم نے کہا۔۔

“مما آپ چلی جانا۔۔” اس نے ناگواری سے کہا۔۔

“ارے شفیع چھٹی آرہا ہے” انہوں نے کہا۔۔

“مما وہ نائٹ پاس ہی آتے ہیں۔۔۔اور ویسے بھی انہیں مجھ میں اور مجھے ان میں کوئی دلچسپی نہیں” حورین کہ کر کھڑی ہوئی۔۔

“حور….” انہوں نے پکارا مگر وہ ان سنی کرتی نکل گئی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

میرے پیپرز یہیں تو تھے۔۔۔ ؟” فاروق صاحب نے دراز کو ٹٹولتے ہوئے کہا۔۔

“میں کہ رہی ہوں یہاں نہیں رکھے تھے آپ نے” ساجدہ بیگم نے اکتاہٹ سے کہا۔۔

“میں نے یہیں رکھے تھے۔۔تم نے صفائی کرتے وقت اٹھائے ہوں گے” فاروق صاحب جھنجھلائے۔۔

“میں کیوں اٹھاؤں گی بھلا۔۔آپ کا دماغ اب کام نہیں کرتا” ساجدہ بیگم نے کہا

“میرا دماغ تم سے زیادہ کام کرتا ہے” وہ اونچی آواز میں کہنے لگے۔۔

“میجر صاحب اب آپ ریٹار ہوچکے اور آپ کا دماغ اب کام نہیں کرتا۔۔” انہوں نے پھر کہا۔۔

“میرا دماغ کام کرتا ہے۔۔۔تم لاپرواہ ہو” وہ غصہ سے بولے۔۔

“میں لاپرواہ ہوں؟….آج تک آپ کا گھر سمبھالا بچوں کو پالا اب پوتوں کی پرورش کی ابھی بھی۔لاپرواہ ہوں” وہ بھی غصہ کی انتہا پر تھی۔۔

“ہاں۔۔تو کون سا احسان کردیا” وہ بھی تن کر بولے۔۔

وہ دونوں زورو شور سے لڑنے میں مصروف تھے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ بستر پر اوندھا پڑا سورہا تھا۔۔

اور نیند میں خلل تب پڑا جب دادا اور دادی کے اونچا اونچا لڑنے کی آواز اس کے کانوں کو چیرتی ہوئی گئی۔۔

اس نے تکیے کو کانوں پر رکھ لیا۔۔

تاکہ نیند خراب نا ہو۔۔اور ان کی آواز نا آئے۔۔مگر ایسا ہوا نہیں ان کے مسلسل لڑنے کی آوازوں نے اس کی نیند کو رفوچکر کردیا تھا۔۔

کتنی ہی دیر وہ کبھی تکیے کو منہ پر رکھتا کبھی کانوں پر کبھی اس طرف کروٹ لیتا تو کبھی اس طرف۔۔

مگر نا ہی تو نیند آئی نا ان کے لڑنے کا شور کم ہوا۔۔

وہ جھنجھلا اٹھ بیٹھا۔۔

چہرے پر ناگواری کے تعصرات لیے۔۔

“یہ ددا اور ددو صبح صبح شروع ہوجاتے ہیں” وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔

اور پیر پٹختا کمرے سے نکلا۔۔

وہ دونوں ویا ایک دوسرے کو الفاظوں کی مار مار رہے تھے۔۔

ددا۔۔۔۔” وصی نے جھنجھلا کر کہا۔۔

اسے دیکھ کر بھی وہ دونوں لڑنے میں مصروف رہے ۔۔

“ہاں۔۔۔ہاں میرے گھر میں کوئی کمی نہیں تھی۔۔ٹرک بھر بھر کر جہیز لائی تھی” ددو نے غصہ سے کہا۔۔

“ہاں تو میں نے مانگے تھے کیا۔۔۔” ان دونوں کا ٹوپک کہاں سے کہا پہنچ گیا تھا۔۔

وصی کھڑا ان کی لڑائی دیکھ رہا تھا۔۔

“ددا۔۔آپ ابھی تین لاق بولیں۔۔۔اور چلتا کریں ددو کو” وصہ نے سنجیدگی سے مشورہ دیا۔۔

دونو نے رک کر اسے دیکھا۔۔

“میں کہ رہا ہوں طلاق بول دو تین بار۔۔۔فارغ کرو ” وصی نے پھر مشورہ دیا۔۔

“کیا؟ کمبخت تو مجھے طلاق دلوا رہا ہے؟ جیسا دادا ویسا پوتا” اماں نے ناگواری سے کہا۔۔

“جیسا دادا مطلب کیا ہے تمہارا۔۔بولو۔۔کیسا ہوں میں” وہ پھر شروع ہوگئے۔۔

“ددا میری بات مانو۔ تین طلاق منہ پر مارو۔۔۔بول دو۔۔۔بول دو طلاق۔۔طلاق۔۔۔طلاق۔۔ ” وصی بولتا جارہا تھا۔۔

“تو۔۔۔چپ کر۔۔۔” ددا دھاڑے۔۔

“کمبخت تو الٹے مشورے دے رہا ہے تجھے تو میں دیکھتی ہوں۔۔۔” ددو اس کے پیچھے لپکی۔۔اور وہ قہقہہ لگا کر کمرے کی جانب بھاگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

بارش کا موسم ہورہا۔۔کالی گھٹائیں چھائی تھی۔۔

چھٹی ہوئی تووہ بیگ کاندھے پر ڈالے کالج سے نکلا تھا۔۔کہ بارش شروع ہوگئی۔۔وہ سامنے درخت کی طرف بھاگا۔۔

اور اس کے نیچے رک کر کپڑے جھاڑنے لگا۔۔

جو ہلکے گیلے ہوگئے تھے۔۔بارش گرنے سے۔۔

تبھی اس کے کانوں میں رونے کی آواز آئی۔۔

جیسے کوئی لڑکی رو رہی ہو..

وہ چونکا۔۔یہاں اتنی بارش میں رونے کی آواز وہ بھی کسی لڑکی کی۔۔۔

اس نے نظر دوڑائی یہاں وہاں دیکھا۔۔

مگر کوئی دکھائی نہیں دیا۔۔

پھر اسے محسوس ہوا جیسے درخت کے پچھلی طرف سے آواز آرہی ہے۔۔

وہ گھوم کر درخت کی دوسری طرف گیا۔۔

اور دیکھ کر اسے جھٹکا لگا۔۔

ایک لڑکی درخت کے پاس گھاس پر بیٹھی۔۔بارش سے بے خبر رو رہی تھی۔۔

اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔۔

اور وہ بس روئے جا رہی تھی۔۔آنسوں بہ رہے تھے۔۔

وہ جھجھکتے ہوئے اس کے پاس گیا اور نیچے پنجوں کے بل بیٹھا۔۔

وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔گندمی رنگت تیکھے نین نقوش۔۔اور آنسوؤں سے دھلا چہرہ۔۔

وہ اس کی ہم عمر ہی لگ رہی تھی۔۔

“کیا ہوا۔۔آپ رو کیوں رہی ہیں؟” وصی نے ہمت کر کے پوچھا۔۔

“کیوں کہ وہ مر گیا” اس نے روتے ہوئے کہا

وصی کو یک دم جھٹکا لگا۔۔

وہ لمحہ بھر خاموش رہا۔۔

“کون؟” وصی نے پھر پوچھا۔۔

“اسے۔۔۔اسے۔۔۔ نہیں مرنا چاہیے تھا۔۔اسے کیوں مارا۔۔کیوں؟”

وہ سسکیوں سے رونے لگی۔۔

“ویسے مرنے والا آپ کا قریبی تھا۔۔آئی مین کون تھا وہ؟” وصی نے پھر پوچھا

” وہ مر گیا” وہ کہتی پھر سے رونے لگی۔۔

“کون۔۔۔؟”

“عمر جہانگیر۔۔۔” اس نے ہچکی لی۔۔

“دیکھو یہ اللہ کی مرضی ہوتی ہے۔۔موت زندگی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔۔آپ صبر سے کام لیں” وصی نے حوصلہ دیا۔۔

“نہیں یہ رائیٹر نے مارا ہے۔۔۔اسے نہیں مرنا تھا۔۔اسے کیوں مارا” وہ پھر رونے لگی۔۔

“رائیٹر۔۔کیا مطلب” اس نے حیرت سے پوچھا۔۔

“ناول کی رائیٹر۔۔اس نے ہیرو کو مار دیا اس نے عمر کو مار دیا” وہ دھ سے کہنے لگی۔۔

“تو آپ ناول میں ہیرو مرنے کے دکھ میں رو رہی ہیں؟” وہ بد مزہ ہوا۔۔

“ہاں۔۔” اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔۔

اور وصی کے حلق سے زوردار قہقہہ نکلا۔۔