Sadgi Mera Akas By Isra Rao NovelR50471 Sadgi Mera Akas (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Sadgi Mera Akas (Episode - 2)
Sadgi Mera Akas By Isra Rao
“ددو ایک لڑکی ملی مجھے۔۔۔” وہ ریموٹ سے ٹی وی کو بند کرتے ہوئے ددو سے مخاطب ہوا۔۔
“کیا۔؟ دیکھ وصی ابھی تیری عمر لڑکیوں کے چکر میں پڑنے کی نہیں ہے” ددو نے ٹوکا
“ارے ددو پوری بات تو سن لیں۔۔۔وہ لڑکی کوئی پاگل تھی۔۔
پتا ہے درخت کے نیچے بیٹھی رو رہی تھی۔۔اور میں نے پوچھا کیوں رو رہی ہو تو کہتی عمر مر گیا۔۔۔اور بعد میں پتا چلا۔۔وہ عمر ناول کا ہیرو تھا۔۔۔جس کے مرنے پر وہ سائیکو ٹسوے بہا رہی تھی۔۔” وصی نے ہنستے ہوئے بات پوری کی۔۔
“ہیں۔۔ہیرو کے مرنے پر رو رہی تھی؟” ددو بھی حیران ہوئی۔۔
“ہاں۔۔ددو وہ لڑکی مجھے تو پاگل لگ رہی تھی۔۔میں تو چپ چاپ اٹھ کر آگیا۔۔” وصی نے کہا۔۔
اور ددو بھی ہنسنے لگی۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا کاندھے پر بیگ لٹکائے۔۔آہستہ قدموں سے چلتا ہوا یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔
مردانہ وجاہت، چوڑا سینا، چہرے پر سنجیدگی، ہلکی سی Beard, شرٹ کی بازو کو رول کیا ہوا۔۔ وہ لگ بھگ22 سال کا لڑکا تھا
وہ جوگرز کو آگے رکھتا چلتا جا رہا ٹھا۔۔
وہ لاؤنج کے دروازے پر پہنچا۔۔
جہاں سے وصی اور ددو کی زور زور سے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھی۔۔
اس نے جھٹ دروازہ کھولا۔۔
اور اندر بڑھا۔۔
وہ دونوں اسے دیکھ چونکے۔۔
“شفی۔۔۔” ددو کھڑی ہوئی۔۔
“سرپرائز ددو۔۔۔” وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا۔۔
“میرا۔۔۔بچہ۔۔کیسا ہے” انہوں نے اسے پیار کیا۔۔
“ہے برو۔۔۔” وصی آگے بڑھا اور گلے ملا۔۔
“تجھے تو کل آنا تھا آج ہی کیسے آگیا۔۔؟” ددو نے پوچھا۔۔
“آج نہیں آتا تو آپ کو سرپرائز کیسے دیتا؟” وہ بیگ سائیڈ پر رکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھا۔۔
“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔۔” ددو بھی اس کےپاس بیٹھی تھی
“کتنے دن کی چھٹی ملاحظہ فرمائی ہے آپ کے فوج والوں نے” وصی نے پوچھا۔۔
“تو کتنے دن میں بھگانا چاہتا ہے مجھے؟” اس نے الٹ سوال کیا۔۔
“نہیں میں کیوں بھگاؤں گا؟ وہ مجھے حور۔۔کو بتانا تھا۔۔” وصی نے ہنسی دبائی۔۔
“ددو۔۔یہ۔۔۔اسے سمجھا لو یہ پٹ جائے گا مجھ سے” وہ یک دم تپ گیا۔۔
“وصی۔۔۔” ددو نے گھورا۔۔
“کیا ددو۔ اس کی منگیتر ہے وہ۔۔ایک دن شادی بھی ہوجائے گی۔۔اس میں چڑنے کی کیا بات ہے؟” وصی نے کہا۔۔
“میں چڑ نہیں رہا” وہ روہانسی ہوا
“تم چڑ رہے ہو” وصی نے کہا
“چل ٹھیک ہے، جب تجھے پتا ہے میں چڑ جاتا ہوں تو کیوں تو چھیڑتا ہے مجھے؟” شفی نے کہا
“سچ بتاؤں؟” وصی اٹھ کر کھڑا ہوا۔۔
وہ اسے گھور رہا تھا۔۔
“مزہ آتا ہے” وہ کہتے ساتھ ہی باہر بھاگا اور شفی بھی اس کے پیچھے لپکا۔۔
اور ددو کے چہرے پر مسکان ابھری۔۔
وہ پانی کی باتل ہاتھ میں لیے کھڑی تا نہیں کن سوچوں میں گم تھی۔۔
کہ دروازہ بجا ۔۔اور اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔
وہ بوتل کو ٹیبل پر رکھ کر دروازے کی طرف بڑھی۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے وصی کھڑا تھا۔۔
“کیسی ہو حور؟” وہ کہتا اندر داخل ہوا۔۔
“جی۔۔ٹھیک ہوں” وہ سادگی سے کہتی آگے بڑھی۔۔
“پھپھو کہاں ہے؟” اس نے پھر پوچھا۔۔
“اندر ہیں روم میں۔۔میں بلاتی ہوں” وہ کہتی روم کی طرف بڑھی۔۔
اور وصی صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے براجمان ہوا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں شائستہ بیگم آگئی۔۔
“اسلام علیکم پھپھو ” وہ کھڑا ہوا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔کیسا ہے وصی؟ اور اماں ابا کیسے ہیں؟” وہ حال حوال لیتی بیٹھی۔۔
“سب ٹھیک ہیں ددا نے بلایا ہے آپ کو۔۔مجھے لینے بھیجا ہے۔۔” وصی نے کہا۔۔
“اچھا کیوں خیریت؟” انہوں نے پوچھا
“ویسے ہی۔۔بہت دن سے آپ نے چکر نہیں لگایا۔۔اور شفی بھی آگیا۔۔” وصی نے مسکرا کر کہا۔۔
“اچھا۔۔شفی آگیا؟ مگر اسے تو کل آنا تھا نا؟”
“جی۔۔کل ہی کا بتایا تھا ہمیں تو پر آج ہی ٹپک پڑے۔۔” وصی نے کہا۔۔
اور شائستہ بیگم ہنسنے لگی۔۔
“اچھا اب جلدی چلیں۔۔رات ہونے والی ہے۔۔ہمیں پلاؤ کھانی ہے آپ کے ہاتھ کی” وصی نے ہنس کر کہا
“ہاں ہاں کیوں نہیں اور آج تو شفی بھی آگیا۔۔ضرور بناؤں گی” شائستہ بیگم خوش ہوئی۔۔
“ہاں بھئی داماد کے لیے بنے گا ہم کس کھیت کی مولی ہیں” وصی نے شرارت سے کہا۔۔
“تمہارے لیے بھی بناتی ہوں اب ایسی بھی بات نہیں۔۔ڈرامے باز” انہوں نے اس کے گال کھینچے۔۔
“آہ۔۔پھپھو۔۔اب اپنی لاڈلی کو بھی بلالیں تیار ہوجائے۔۔” وصی نے گال سہلاتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں۔۔بس دس منٹ ابھی تیار ہوکر آتے ہیں ہم” انہوں نے کہا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
“اب یہ منٹ جانے کب ختم ہوں گے۔۔یا اللہ جلدی کردینا ختم” اس نے خود کلامی کی۔۔
“حور۔۔حور جلدی تیار ہونا ہمیں ابا کے گھر چلنا ہے وصی لینے آیا ہے” شائستہ بیگم نے بتا۔۔
” کیوں؟” اس نے پوچھا۔۔
“شفی آیا ہے” انہوں نے چہک کر بتایا۔۔
“مجھے نہیں جانا آپ چلی جائیں” اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“کیوں تم کیوں نہیں جارہی؟”
“مما پلیز” اس نے منت کی۔۔
“نہیں اکیلی کیسے رہو گی۔۔رات بھر۔۔۔اٹھو جلدی” انہوں نے اسے اٹھایا۔۔
اور وارڈ روب سے اس کے ڈریس نکالا۔۔
“یہ پہن لو۔۔” انہوں نے اس کی طرف بڑھایا۔۔
“مما۔۔” اس نے منہ بنایا
“جلدی جاؤ۔۔شاباش” انہوں نے زبردستی تھمایا۔۔
اور وہ اسے لے کر چینج کرنے چلی گئی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ تیار ہوکر باہر نکلی۔۔
وصی اپنے موبائل میں گم۔تھا۔۔
“چلیں” شائستہ بیگم نے کہا۔۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔
سامنے ہی شائستہ بیگم ہاتھ میں پرس لیے چادر پہنے کھڑی تھی۔۔
اور ان کے پیچھے وہ یلو اور وائٹ کلر کے کے کومبینیشن میں سادہ سی لیفٹی چٹیا بنائے۔۔گلے میں نیٹ کا دوپٹہ ڈالے۔۔واقع اپنے نام کی طرح لگ رہی تھی۔۔
وصی اسے دیکھ مسکرایا۔۔
“جی چلیں۔۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“میں تو کب سے انتظار کر رہا تھا۔۔” وہ باہر نکلتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ددو کیا بنا رہی ہیں ڈنر میں؟” شفی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“شائستہ آرہی ہے۔۔پھر بنائیں گے ۔۔تمہیں جو کھانا ہو بتا دینا۔۔آج وہی بنائیں گے” ددو نے کہا۔۔
“پھپھو آرہی ہیں؟” اس نے پوچھا
“ہاں وصی لینے گیا ہے۔۔” ددو نے بتایا
“ددو ایک بات کہوں؟” وہ صوفے پر لیٹتا ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کہو”
“کیا آپ نہیں لگتا یہ حور کے ساتھ زیادتی ہے؟” شفی نے سنجیدگی سے کہا
“کیسی زیادتی؟” ددو نے چونک کر پوچھا
“ددو۔۔حور سولہ سال کی بچی ہے اور میں بائیس سالہ۔۔۔ہمارا جوڑ نہیں ہے۔۔لیکن آپ لوگوں نے یہ زبردستی کا رشتہ ہم دونوں پر تھوپ دیا” شفی نے سنجیدگی کا اظہار کیا
“لڑکا تو بڑا ہی ہوتا ہے شفی۔۔اور وہ بچی نہیں ہے خیر سے اب کالج میں آگئی ہے۔۔” ددو نے کہا۔۔
“پھر بھی ددو۔۔”
“شفی۔۔۔ شائستہ اور حور کا ہمارے سوا ہے ہی کون۔۔اور گھر کی بچی اگر گھر میں ہی رہ جاتی ہے تو کتنی اچھی بات ہے۔۔” ددو نے سمجھایا
“تو وصی سے کیوں نہیں کردیتے۔۔وہ اس سے زیادہ بڑا بھی نہیں”
“تمہارے ماں باپ نے یہ فیصلہ کیا تھا بیٹا۔۔اور وصی۔۔وہ تو من موجی ہے کہیں کسی اور لڑکی کو پسند کر آئے تو ہم کیا کرلیں گے اور تم کیا کرلوگے” ددو نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔
“مگر ددو۔۔۔۔” وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وصی اندر داخل ہوا، شائستہ پھپھو اور حور بھی پیچھے ہی تھی۔۔
وہ یک دم اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“اسلام علیکم پھپھو” شفی نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔شفی کیسے ہو بیٹا؟” انہوں نے اس کو پیار کیا۔۔
“میں ٹھیک ہوں آپ بتائیں؟” شفی نے کہا۔۔
“تم نے ہمیں اچھا سرپرائز دیا۔۔کل کا کہا تھا اور آج ہی آگئے” انہوں نے چادر اتار کر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
حور بھی کونے میں بیٹھی رہی۔۔اس نے ایک غلط نظر بھی اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کو نہیں دیکھا۔۔
وہ سب لوگ باتوں میں لگے ہوئے تھے۔۔مگر وہ اسی طرح خاموش بیٹھی رہی۔۔
“کیسے کھلے یہ پزل؟” وہ سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔
“نور۔۔۔” کمرا کھول کر اس کا بھائی اندر آیا۔۔
“کیا ہے؟” اس نے بے رخی سے پوچھا۔۔
“مما بلا رہی ہیں۔۔۔” نومی نے کہا
“کیوں؟”
“پتا نہیں۔۔۔”
“تجھے سب پتا ہے۔۔”
“اب اس ناول کا پیچھا چھوڑ دے۔۔۔”
“ایسے کیسے چھوڑ دوں۔۔ایک تو پہلے ہی پریشان ہوں میں” اس نے اکتا کر کہا۔۔
“کیوں پریشان ہے؟”
“پزل بوکس نہیں کھل رہا ۔۔۔کوڈ کیا ہوگا۔۔۔؟” وہ پھر سوچنے لگی۔۔
“لا مجھے دکھا میں ہیلپ کرتا ہوں کون سا پزل ہے؟” نومی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
” میرے پاس ہوتا تو خود نہیں کھول لیتی” اس نے منہ بنایا
“تو کہاں ہے؟” اس نے پوچھا۔۔
“ناول میں ہے یار۔۔حیا کو کھولنا ہے وہ بوکس۔۔” وہ پھر سے سوچنے لگی۔۔
“کیا؟ تونے پھر ناول اسٹارٹ کرلیا۔۔؟”
“ہاں۔۔۔مگر یہ بوکس کیسے کھلے گا؟”
“مما۔۔۔مما۔۔نور پھر نہیں آرہی۔۔کہ رہی ہے میں ناول پڑھ رہی ہوں” نومی آواز لگاتا باہر نکلا۔۔
“اوئے۔۔نومی کے بچے۔۔۔” وہ کہتی پیچھے بھاگی۔۔
