Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 9

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

کیا مطلب۔۔۔!! اب تم مجھے بتاؤ گے کہ میری بیٹی کے لیے کیا سہی ہے اور کیا غلط۔۔۔۔۔!!

صدیق صاحب نے پیش میں آتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

جی انکل۔۔۔!! جہاں آپ غلط ہیں مجھے آپ کو بتانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔!!

زاکوان نے اتنا ہی کہا تھا کہ صدیق سے صاحب کو شدید غصہ چڑھا تھا۔۔۔۔ انھوں نے اسے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ ہوا میں لہرایا تھا۔۔۔۔

جب ہی کسی کی آواز نے اسے روکا تھا۔۔۔۔

رکو صدیق۔۔۔۔!! یہ آواز کسی اور کی نہیں۔۔۔۔ بلکہ راشدہ کی ساس اور جواد کی ماں کی تھی۔۔۔۔

اس لڑکے پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے حقیقت جاننا تمھارے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔

ان کی بات سن کر صدیق کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔

واسم اور ایلف بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔!! راشدہ اور جواد نے اپنی ماں کو دیکھا تھا کہ ایسا کیا سچ ہے جو انھوں نے صدیق صاحب کو بتانی ہے۔۔۔۔ کہیں ان کی حقیقت تو نہیں۔۔۔!! نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ !!! راشدہ نے دل میں ہی سوچا تھا۔۔۔۔

سچ۔۔۔!! اماں بی۔۔۔ کیسا سچ۔۔۔ ؟

صدیق نے ان سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ جس پر انھوں نے بغیر جواب دیے اس کے سامنے موبائل سے ایک ویڈیو چلائی تھی۔۔۔۔۔ جس میں اس کی بہن اور اس کا دیور جواد کچھ بات کر رہے تھے۔۔۔ جو صاف سنائی دی رہی تھی۔۔۔۔

(بھابھی میں یہ شادی نہیں کرسکتا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔ جواد نے چڑ کر کہا تھا۔۔۔)

(دیکھ جواد۔۔۔!! تجھے یہ شادی کرنی ہی ہوگی۔۔۔ دیکھ آدھی پراپرٹی میرے حصے آئے گی۔۔۔۔ اور باقی بھائی صاحب یعنی دعا کے پاس۔۔۔ تو اگر تو اس سے شادی کر لے گا تو ساری پراپرٹی ہمارے پاس آئے گی۔۔۔)

(پر آپ کو کیا لگتا ہے وہ ہمیں دے دی گی پراپرٹی۔۔۔!! بولیں۔۔۔ کوئی ننھی کاکی تو نہیں وہ۔۔۔۔!! )

(تو بس ایک بار شادی کر آگے بھائی صاحب اور اس کلموہی کو ہینڈل کرنا میرا کام ہے۔۔۔ تو بس ایک بار دعا سے نکاح کر۔۔۔۔)

( لیکن شادی کے بعد۔۔۔)

(شادی کے بعد چاہے تو اسے مارنا جو کرنا ہوا کرنا۔۔۔۔ لیکن بس یہ نکاح کر لے۔۔۔)

( ٹھیک ہے بھابھی۔۔۔ )

یہ سنتے ہی صدیق صاحب کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہورہا تھا کہ ان کی بہن انھیں اتنا بڑا دھوکا دے گی۔۔۔۔ کیسے ہوسکتا ہے یہ۔۔۔؟؟

انھوں نے غصے سے راشدہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جو شرمندگی کے مارے سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ جواد کے چہرے پر ہلکی سی شرمندگی تھی۔۔۔۔

دعا بھی بس ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ ایلف اور واسم بھی یہ سب دیکھ کر حیران تھے۔۔۔۔

اتنا بڑا دھوکا دیا تم نے مجھے راشدہ۔۔۔۔ میں نے تم پر یقین کیا اور تم نے کیا کیا ؟ تم میری بیٹی کو مارو گی۔۔۔۔ ہمم ارے جس کو میں نے اتنے نازوں سے پالا۔۔۔۔ تمھاری باتوں پر یقین کر کے میں نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔ جو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ شرم آنی چاہئیے تمھیں۔۔۔۔

آنکھوں میں درد لیے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے تھے۔۔۔۔

چٹاخ۔۔۔!! اماں نے آگے بڑھتے ہوئے جواد کے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا تھا۔۔۔۔ سب نے حیرانگی سے انھیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔

ویسے تو ماں ہوں پر تمھیں بیٹا کہتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے۔۔۔۔ دفع ہو جاؤ میری نظروں سے اور آئندہ مجھے شکل مت دیکھانا۔۔۔۔

اماں بی نے نظریں موڑتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

جس پر جواد وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ بھائی۔۔۔۔ صاحب۔۔۔!! راشدہ صدیق صاحب کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

راشدہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!! صدیق صاحب نے ناگواری سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ زاکوان دعا واسم ایلف سب خاموش تھے۔۔۔

بھائی صاحب۔۔۔!!

اس نے ایک بار پھر سے بات کرنا چاہی تھی۔۔۔۔۔

راشدہ چلی جاؤ اس سے پہلے کہ غصے میں میں کچھ کر بیٹھو۔۔۔۔!! انھوں نے کہا تو وہ نکلی تھی وہاں سے۔۔۔۔

جبکہ صدیق صاحب دعا کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔۔

دعا۔۔۔۔!! میری بچی۔۔۔!! مجھے معاف کر دینا۔۔۔بیٹا اپنے پاپا کو معاف کر دینا۔۔۔

انھیں اپنی غلطی کی شرمندگی اس قدر محسوس ہو رہی تھی کہ انھوں نے اس کے سامنے ہاتھ باندھے تھے۔۔۔۔۔

نہیں پاپا۔۔۔۔ آپ یوں ہاتھ کیوں باندھ رہے ہیں۔۔۔۔۔ معافی تو مجھے مانگنی چاہئیے غلطی تو میری بھی تھی نہ۔۔۔۔!!

دعا یہ کہتے ہوئے صدیق صاحب کے گلے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔ اور سب کے چہروں پر بے ساختہ مسکراہٹ چھاگئی تھی۔۔۔۔۔

زاکوان۔۔۔۔!! بیٹا تمھارا بہت بہت شکریہ۔۔۔ اور اماں بی آپ کا بھی۔۔۔۔ صدیق صاحب نے ان دونوں کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔

ارے نہیں انکل یہ تو میرا فرض تھا۔۔۔۔۔ زاکوان نے دعا کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔

اماں بی زاکوان کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔!!

دیکھو صدیق۔۔۔!! تمھاری بیٹی چاند کا ٹکڑا ہے۔۔۔۔ اور چاند جیسا خوبصورت شوہر ہی ملنا چاہئیے۔۔۔ جو یہ لڑکا زاکوان ہے۔۔۔۔ !!

اماں بی نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

تم دعا کا نکاح زاکوان سے کروا دو۔۔۔۔ اماں بی نے پیار سے کہا تھا۔۔۔۔

یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔۔۔۔صدیق صاحب کی بات سن کر سب خاموش ہوئے تھے۔۔۔۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔۔۔

پھر وہ ہلکا سا مسکرا گئے۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ میری ایک ہی بیٹی ہے اس کی شادی میں دھوم دھام سے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ یوں سادگی سے نہیں۔۔۔۔!!

یہ سنتے ہی سب مسکرا گئے تھے۔۔۔۔ !! ایلف ان کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

دیکھیں بھائی صاحب۔۔۔۔!! میں اپنے بیٹے زاکوان کا کے لیے آپ کی بیٹی دعا کا ہاتھ مانگتی ہوں کیا آپ کو یہ رشتہ منظور ہے۔۔۔۔

جی منظور ہے۔۔۔۔!! یہ جواب سن کر سب خوش ہوئے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ زاکوان کو تو یقین۔ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا یہ حقیقت میں ہورہا ہے۔۔۔۔۔!!

تو ابھی ہم رسم کر لیتے ہیں۔۔۔۔!! واسم نے کہا تھا۔۔۔۔ جی بالکل۔۔۔۔! صدیق صاحب نے انھیں اجازت دی تھی۔۔۔۔۔

جو سنتے ہی زاکوان نے دعا کو اور دعا نے زاکوان کو انگھوٹھی پہنائی تھی۔۔۔۔ جس پر سب نے تالیاں بجائی۔۔۔۔

امی۔۔۔!! سالار بھائی اور دارب بھائی کدھر ہیں۔۔۔۔۔؟ موبائل یوز کرتے ہوئے انائیرہ نے عالیہ سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔

دارب اور سالار۔۔۔!! دارب آفس میں ہے اور سالار کا پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔!!

عالیہ نے کہا۔۔۔۔ پھر یوں ہی وہ دونوں باتیں کرنے لگے۔۔۔۔۔

پھر انائیرہ کی نظر ان دو سامنے وجودوں پر گئی۔۔۔۔۔ ارے سالار بھائی۔۔۔۔ انائیرہ نے حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ اور کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔

جسے دیکھتے ہوئے عالیہ بھی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اس نے سالار کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھا تو حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ لڑکی زونی تھی۔۔۔۔

شاکرہ۔۔۔۔ سالار نے ملازمہ کو آواز لگائی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ ڈوری چلی آئی تھی۔۔۔۔

جی صاحب۔۔۔!!

شاکرہ اس لڑکی کو گیسٹ روم میں لے جاؤ۔۔۔۔۔!! حکم پاتے ہی شاکرہ اسے لے گئی تھی۔۔۔۔۔

مما۔۔۔۔! آپ بیٹھ جائیں میں آپ کو سب سچ بتاتا ہوں۔۔۔۔ مما۔۔۔۔ یہ لڑکی مصیبت میں ہے۔۔۔ اس کی جان خطرے میں ہے۔۔۔۔ اسی وجہ سے ہی میں اسے یہاں لے کر آیا ہوں۔۔۔۔ زاکوان نے بات مکمل کی تھی۔۔۔۔

لیکن کوئی رشتہ دار۔۔۔۔!! عالیہ نے کہا۔۔۔۔

رشتہ دار ہی تو جان کے دشمن ہیں۔۔۔۔۔ زاکوان کی یہ بات سن کر وہ حیران رہ گئی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *