Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 30

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

وہ لوگ ان کے گھر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔!! اور اب کچھ ہی لمحوں میں ان دونوں کا نکاح بھی ہونے والا تھا۔۔۔۔۔

مہریں کو بالکل بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک ایسے لڑکے سے شادی کیسے کر لے جسے وہ مکمل طور پر جانتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔

مولوی صاحب بھی وہاں پر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔!! افنان نے اپنی ماں کو بہت سمجھایا کہ یہ سہی نہیں ہے لیکن نیلم نے اس کی ایک بھی نہ سنی تھی۔۔۔۔!!

”مولوی صاحب نکاح پڑھانا شروع کریں۔۔۔۔!!“

نیلم کے کہنے پر مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا تھا۔۔۔۔

”حسن بنت دانیال شاہ آپ کا نکاح مہریں بنت انوار احمد سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟“

قبول ہے۔۔۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔!!“

قبول ہے۔۔۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔

قبول ہے۔۔۔۔

اب مولوی صاحب مہرین کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔

”مہرین بنت انوار احمد آپ کا نکاح حسن بنت دانیال شاہ سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟“

قبول ہے۔۔۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔!!“

قبول ہے۔۔۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔

قبول ہے۔۔۔۔

اس کے بعد نکاح کی دعا پڑھائی گئی تھی۔۔۔۔ اس کے بعد مہرین کی رخصتی تھی۔۔۔۔۔ نیلم نے اسے پیار سے گلے لگانا بھی پسند نہیں کیا تھا۔۔۔۔

پھر وہ لوگ مہرین کو رحصت کرکے لے گئے تھے۔۔۔۔

دعا اور زاکوان کچھ دن گھومنے کے لیے اسلام آباد میں آئے تھے۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی زندگی میں بہت کچھ بدلنے والا تھا۔۔۔۔

وہ لوگ گھوم رہے تھے جبکہ شانزے کے کچھ ارادے اور ہی تھے۔۔۔۔۔۔۔

زاکوان گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ گاڑی کی سپیڈ نارمل ہی تھی۔۔۔۔!! دعا اس کے ساتھ ہی تھی۔۔۔۔ جب ہی پیچھے آتی ہوئی گاڑی نے انھیں ہٹ کیا تھا۔۔۔۔ اور سامنے سے آتے ہوئے گاڑی نے بھی انھیں ہٹ کیا تھا۔۔۔۔

جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔۔۔۔ اور انھیں میں سے کچھ کانچ کے ٹکڑے دعا کی گردن میں لگے تھے۔۔۔۔ جب کہ زاکوان کا سر سٹیرنگ سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔۔!!

ہسپتال کے بستر پر ایک دوسرے سے جدا وہ الگ الگ کمروں میں پڑے تھے۔۔۔۔ زاکوان کو اتنی چوٹ نہیں لگی تھی۔۔۔ جس قدر شدید زخم دعا کو آئے تھے۔۔۔۔!!

زاکوان کے موبائل سے کسی نے واسم کو فون کیا تھا۔۔۔۔

”سر آپ کا بیٹا۔۔۔ اور ان۔کے ساتھ ایک لڑکی ہوسپٹل میں ہیں۔۔۔ آپ یہاں آجائیں۔۔۔۔!!“

واسم نے جیسے ہی فون اٹھایا تھا۔۔۔ دوسری طرف سے برس نے اسے یہ بری خبر سنائی تھی۔۔۔۔

”کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ کہاں۔۔۔!!“

یہ سنتے ہی واسم کو لگا جیسے اس کا دل بند ہوگیا ہو۔۔۔۔۔!! اس نے فوراً سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔ جب۔کہ وہاں پر سب موجود تھے۔۔۔۔ جو اس کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے سمجھ گئے تھے کہ کچھ تو بری خبر ضرور ہے۔۔۔۔۔!!

اس کے پوچھنے پر نرس نے اسے ہوسپٹل کا نام بتایا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔۔

جبکہ اب اس کی طرف حیرانگی سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔۔۔

”کیا ہوا ہے واسم۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔؟؟”

ایلف نے اس کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فوراً سے کہا تھا۔۔۔۔!! جبکہ اس نے اگلی بات میں یہ بری خبر سب کو سنائی تھی۔۔۔۔۔

”وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ زاکوان اور د۔۔ دعا کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔۔۔۔!!“

یہ سنتے ہی سب حیران رہ گئے تھے۔۔۔۔ سب پر افسردگی کے اثرات مرتب ہوگئے تھے۔۔۔۔

”کیا۔۔۔!! یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔!! “

ایلف اپنے جگہ سے کھڑی ہوئی تھی یہ سن کر جب کہ اس کی طبعیت خراب سی ہوئی تھی۔۔۔۔ واسم نے اسے سنبھالا تھا۔۔۔۔

”میں ہوسپٹل جارہا ہوں۔۔۔۔!!“

اس نے کہا تھا۔۔۔ اور باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔ جب ہی ایلف کی آواز سن کر وہ رکا تھا۔۔۔۔

”میں بھی آپ کے ساتھ جاؤ گی۔۔۔۔!!” خو

یہ کہتے ہوئے وہ اس کے ساتھ باہر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ اسے گاڑی میں بیٹھاتا ہوا گاڑی کو ہوسپٹل کی راہ پر ڈال گیا تھا۔۔۔۔

”سوری تایا ابو۔۔۔۔ آپ کو اتنا پریشان کیا پر آپ کے بیٹے نے کوئی اور آپشن ہی نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔۔!!“

ان کو پریشانی سے جاتے ہوئے دیکھ کر چھپی چھپی مسکراہٹ کو دبائے پریشان سا منھ بنائے شانزے نے خود ہی الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔۔ جب کہ پاس کھڑی ملازمہ یہ سب سن چکی تھی اور کچن کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔ یہ سن کر تو وہ ساکت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ کہ کوئی اپنا ہی اپنوں کو کیسے مار سکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟

وہ دونوں ہوسپٹل پہنچے تھے۔۔۔۔۔! داخل ہوتے ہی وہ اکاؤنٹنٹ کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔ اس سے معلوم کرنے کے بعد وہ ڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔۔۔۔

جیسے ہی وہ کمرے کے پاس پہنچے تھے۔۔۔۔ وہاں ہر کوئی موجود نہ تھا۔۔۔۔ لیکن سامنے والے کمرے کے شیشے کے دروازے سے دیکھا تو سامنے ہی زاکوان کھڑا تھا۔۔۔۔ جو مشینوں سے گھرا ہوا تھا۔۔۔۔ اس کے سر پر شدید چوٹ لگی تھی۔۔۔۔۔ اگر وقت پر ہوسپٹل نہ لایا جاتا تو جان بھی جا سکتی تھی اس کی۔۔۔۔

اسے اس بستر پر یوں اس حالت میں دیکھ کر ایلف کا دل ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔!! ان دونوں کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔ ان کا دل ایسا تھا۔۔۔۔ جیسے دھڑک ہی نہ رہا ہو۔۔۔۔۔

”و۔۔۔۔ وا۔۔۔ واسم۔۔۔۔ دیکھیں نہ ا۔۔۔ اسے۔۔۔۔ زا۔۔۔ زاکوان کو۔۔۔ د۔۔۔ دیکھیں یہ تو کبھ۔۔۔ کبھی ات۔۔ اتنا چ۔۔۔چپ نہی۔۔۔ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔ و۔۔۔ وہ ت۔۔ تو ہم۔۔ ہمیشہ ب۔۔۔ بولت۔۔ بولتا تھا۔۔۔۔ مم۔۔۔ مسکراتا تھا۔۔۔۔ آ۔ آج ک۔۔ کیوں چ۔۔۔چپ ہے۔۔۔۔!!!! “

وہ ہچکونے لیتے ہوئے رو رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کے الفاظ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔

جب ہی واسم نے اسے اپنے سینے میں زور سے بھینچا تھا۔۔۔۔ کچھ ہی لمحوں میں انھیں دعا کا خیال آیا تھا۔۔۔۔۔

”واسم۔۔۔ دعا۔۔۔۔ دعا کہاں ہے۔۔۔۔؟؟“

ایلف نے اپنا سر اس کے سینے سے اٹھاتے ہوئے اسے کہا تھا۔۔۔۔ جب ہی آپریشن تھیٹر سے ایک ڈاکٹر نکلا تھا۔۔۔۔۔

”آپ ان پیشنٹز کے ساتھ ہیں۔۔۔۔!!“

ان دونوں کو وہاں دیکھ کر ڈاکٹر نے ان سے سوال پوچھا تھا جس پر واسم نے اپنا سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔

”آپ کے بیٹے کی تو طبعیت ٹھیک ہے۔۔۔۔ وہ جلد از جلد ریکوری کر لیں گے۔۔۔۔ لیکن جو پیشینٹ اندر ہیں ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے۔۔۔۔ ان پر گاڑی کے شیشے بہت سختی سے اپنا گھر کر گئے ہیں۔۔۔۔ ایسے کیسز میں صرف ا فیصد پیشنٹز کے بچنے کے بھی چانسز بھی بہت کم ہوتے ہیں۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ہم انھیں بچا پائیں گے۔۔۔۔ پھر بھی آپ دعا کریں ہم بھی اپنی پوری کوشش کریں گے۔۔۔۔!!“

یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر وہاں سے تو جاچکا لیکن انھیں بہت سدما پہنچا تھا۔۔۔۔۔ آج کا دن ان کی زندگی کا سب سے غمگین دن تھا۔۔۔۔!! پہلے میرین اور حسن اور اب یہ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *